تشدد آمیز سیاست


 

کسی بھی نوعیت کے مسئلے، کسی بھی نظریے یا مطالبے کے حصول کے لئے چاہے اس کا تعلق علاقائی، نسلی، لسانی یا مذہبی ہو اگر تشدد کا سہارا اختیار کیا جائے چاہے اس میں سیاسی رنگ کی آمیزش جتنی مرضی کرلی جائے اس کی مذمت اور اس سے دوری اختیار کرنا معاملہ فہمی اور درست رویہ ہوتا ہے کیوں کہ جب تشدد کا راستہ چن لیا جاتا ہے تو اس میں لامحالہ ریاستی اہل کاروں سے لے کر عام معصوم شہریوں کے خون سے زمین سرخ کردی جاتی ہے اور اگر ایسی کسی تحریک کو کسی بھی قسم کی مدد چاہے وہ صرف تحریر و تقریر تک ہی محدود کیوں نہ ہو فراہم کی جائے تو ان بے گناہ افراد کے قتل کی ذمہ داری سے استثنا حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔

پھر آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں وہ سیاسی عمل کا زمانہ ہے اس میں اس کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے کہ دنیا کو تشدد کے حق میں کسی بھی دلیل سے قائل کر لیا جائے۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں سیاسیات کی پروفیسر ایریکا چینووتھ نے اس حوالے سے بہت زبردست تحقیق کی ہے انہوں نے سیاسی مطالبات کو حاصل کرنے کی غرض سے چلنے والی پر تشدد تحریکوں اور عدم تشدد کا راستہ چننے والی سیاسی جماعتوں کا بہت گہرا مطالعہ کیا اور ”وائے سول ریزسٹنس ورکس دی اسٹریٹجک، لاجک آف نان وائلنٹ کانفلکٹ“ کے عنوان سے اپنی تحقیق کو کتابی شکل دی۔

اس تحقیقی کتاب کو مرتب کرتے ہوئے پروفیسر ایریکا چینووتھ نے انیس سو سے لے کر دو ہزار چھے تک چلنے والی تین سو تئیس تحریکوں کو ایک سو ساٹھ سوالات کو ترتیب دے کر ان کا مطالعہ کیا، ان کو جانچا اور اپنا نظریہ صرف پیش ہی نہیں کیا بلکہ ثابت بھی کیا کہ تشدد آمیز سیاسی تحریکوں کے مقابلہ میں عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحریک اس موجودہ دور میں کامیاب رہی ہے اور ان تحریکوں کے کامیاب ہونے کی چار وجوہات کو بیان کرتے ہوئے وہ ایک اہم ترین وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ ان تحریکوں نے اس کے باوجود کے ان پر تشدد ہوا خود تشدد کا راستہ جذبات کی رو میں بہہ کر اختیار نہیں کر لیا بلکہ عدم تشدد پر ثابت قدمی سے ڈٹے رہے کیوں کہ وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اگر انہوں نے اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے تشدد کا راستہ اختیار کر لیا تو ریاستی اداروں کے لئے یہ بہت آسان ہو سکے گا کہ وہ اس کو کچل ڈالنے کے لئے جوابی تشدد کا طریقہ کار کو اختیار کر لے۔

پروفیسر ایریکا چینووتھ نے جنوبی افریقہ کی جد و جہد آزادی کی کامیابی کے حصول کی بنیادی وجہ اس رویہ کو قرار دیا ہے کہ جو سیاہ فاموں کی جانب سے سفید فام کاروباری افراد کے ساتھ اختیار کیا گیا تھا کہ ان کی مصنوعات کا سیاہ فاموں نے بائیکاٹ کر دیا تھا وہ سفید فاموں کے کارخانوں میں ملازمتیں کرتے رہے، ان سے تنخواہیں وصول کرتے رہے مگر مصنوعات کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے نتیجہ کے طور پر سفید فام کارخانے داروں کو زبردست معاشی نقصان کا سامنا کرنا شروع ہو گیا اور اس نقصان سے بچنے کے لئے سفید فام تاجروں اور کارخانے داروں کی با اثر تعداد نے سیاہ فاموں کے مطالبات کی حمایت کرنا شروع کردی اور پھر وہاں کی سفید فام حکومت کے لئے یہ دباؤ برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔

افریقن نیشنل کانگریس کی یہ بہت سوچی سمجھی اور عرق ریزی سے تیار کردہ حکمت عملی تھی جو مقصد کے حصول کے لئے تیر بہدف رہی۔ جہاں کہی بھی مطالبات کے حصول کے لئے عدم تشدد کا راستہ برقرار رکھا گیا وہاں پر ان ممالک کی نسبت جہاں پر تشدد آمیز سیاست رہی جمہوری تسلسل دس گنا زیادہ رہا اور جمہوریت چاہے لولی لنگڑی ہی کیوں نہ ہو اس کے ثمرات ضرور معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس ساری گفتگو کی وجہ یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں بلوچستان سے مارچ کرتے ہوئے افراد اسلام آباد آئے مجھے کہتے ہوئے خوشی نہیں ہو رہی ہے مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ ایک ڈرامہ کرنے کی کوشش کی گئی. آخر بار بار ایسے اقدامات کرنے کے باوجود وہ مسائل حل تو کیا ہوتے کم بھی کیوں نہ ہو سکے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور میری رائے میں یہ مسئلہ اس لئے بگڑتا ہی جا رہا ہے کہ ان مطالبات کی آڑ میں تشدد کا طریقہ کار اختیار کر لیا گیا اور جہاں تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے مشکل میں پڑنے لگے تو انہوں نے عورتوں بچوں کو آگے کر دیا تا کہ کسی بھی طرح ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں۔

بلوچستان پر بات کرتے ہوئے یہ بات واضح رہے کہ میں اس وقت کسی مطالبہ کے حق بجانب یا غلط ہونے پر بحث نہیں کر رہا ہوں بلکہ مطالبات کے حصول کے لئے اختیار کیے گئے طریقہ کار کو زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔ اور یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں تک کے بار بار قتل کو صرف نظر کر دینا کسی بھی باشعور شخص کے لئے ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔ جو کچھ ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں کیا گیا اسی طرح کا اقدام ماما قدیر کی سرکردگی میں بھی کیا گیا تھا مگر انہی ماما قدیر نے جب کلبھوشن یادیو کا معاملہ سامنے آیا تو اس کے حق میں اور اس کی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے میڈیا پر آ کر ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا

اب کوئی الٹا بھی کھڑا ہو جائے تو بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے معاملہ سے کسی بھی طرح بلوچستان کے معاشی یا سیاسی حقوق جڑے ہوئے تھے۔ یہ دو ریاستوں کا باہمی معاملہ تھا مگر اس میں بھی کود گئے اب اس کے بعد ایسی کسی تحریک کو صرف بلوچستان میں کسی نا انصافی کے تصور کے تحت تک محدود رکھنا ممکن نہیں رہتا ہے۔ بر سبیل تذکرہ بیان کرتا چلوں کہ اس سب کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کا امکان ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ نو منتخب حکومت سی پیک کو دوبارہ سے مزید متحرک کر دیں گی اور اس فعالیت کو روکنے کی غرض سے بلوچستان میں مذہبی و علاقائی دہشت گردی اور بے چینی کو فروغ دینے سے اس فعالیت کی راہ میں روڑے اٹکا دیے جائے گے اور یہ صرف الزام ہی نہیں یہ لوگ تو مودی کو راکھی باندھنے کی خواہش کا سوشل میڈیا پر کھل کر اظہار کرتے رہے ہیں جبکہ مودی بھی لال قلعہ سے تقریر کرتے ہوئے بلوچستان کو چھیڑتا رہا ہے۔ ان تمام واقعات کو صرف کسی پولیس مقابلہ تک محدود کر دینا خلاف عقل ہو گا۔

 

Facebook Comments HS