ڈیجیٹل دور میں روحانی سکون و اطمینان کی راہ


آج ہماری تعلیم کا سب سے بڑا مقصد محض حصول علم ہے۔ عہدوں، درجات اور نمبروں سے ڈگریوں کی طرف منتقلی، جس کے بعد مالی کامیابی اور آسائشوں کی طلب نے ہمیں متنوع نظاموں، ان کے مقرر کردہ نصاب اور امتحانی طریقہ کار کی پابندیوں میں قید کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے، یہ حصول اکثر ہماری زندگیوں کا واحد ہدف ہو کر رہ گیا ہے، جو ہمارے لیے کامیابی اور مقصد کا تعین کرتا ہے، جیسا کہ نام نہاد ’تعلیم یافتہ‘ افراد کی زندگیوں میں ہم اکثر اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

اگرچہ بہت سی اقدار خاندان کی پرورش کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں، مگر تعلیم کو خود آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک آلہ کے طور پر بھی کام کرنا چاہیے۔ اسے افراد کی رہنمائی کے لیے استعمال کرنی چاہیے کہ کس طرح زندگی گزاریں، دوسروں کے ساتھ بات چیت اور چیلنجز کا سامنا کیسے کریں۔ اس کے بغیر کوئی سوال کر سکتا ہے کہ کیا کوئی شخص واقعی اپنی جسمانی شکل سے ہٹ کر انسانیت کو مجسم بناتا ہے۔ بحیثیت انسان محض وجود ناکافی ہے۔ کردار، اخلاق اور مثبت رویوں کا بھی مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ہماری تیز رفتار زندگیوں میں، جدید ’سوشل میڈیا‘ کی دراندازی نے ہمارے وقت کا ایک اہم حصہ ضائع کر دیا ہے۔ افسوس، آج خاندانوں کے ساتھ گزارنے کے لیے معیاری لمحات کی بہت کم گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ انسانی تعامل جذباتی بہبود کے لیے ضروری ہے، کیوں کہ اس کی عدم موجودگی مختلف جسمانی اور ذہنی عوارض کا باعث بن سکتی ہے، بلکہ اس پر تو اب باضابطہ تحقیقات آنی شروع ہو گئی ہیں کہ کیسے یہ لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کر کے اجیرن بنائے ہوئے ہے۔ ایسے میں ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ خاندان کے لیے وقت مختص کریں اور رشتہ داروں، عزیز و اقارب اور دوست و احباب کے ساتھ اجتماعات کے دوران مثبت سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔ خاص طور پر قابل ذکر سماجی بہتری میں حصہ ڈالنے یا دوسروں کو غیر رسمی طور پر تعلیم دینے کا موقع نکالیں۔

سماجی سطح پر، باہمی سیکھنے، مہارتوں اور تجربات کے تبادلے کی سہولت کے لیے باقاعدہ اجتماعات کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ یہ پلیٹ فارم دنیا میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان چیلنجوں کی تیاری کے لیے خاص طور پر قیمتی بن جاتے ہیں جو ہماری اجتماعی بقا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس سے آگے اخلاقی، سماجی اور تحریکی شعور کی تربیت اشد ضروری ہے۔

ان تحفظات میں سب سے اہم اس بات کو یقینی بنانے کا عزم بھی ہے کہ ہمارا کوئی بھی عمل دوسروں کو نقصان نہیں پہنچائے۔ اپنے حقوق کی وکالت کرتے ہوئے، یہ ضروری ہے کہ دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں، دوسروں کو دکھ یا تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔ قوانین و ضوابط اور اخلاقی اصولوں کی پابندی سب سے اہم ہے۔ دوسروں کو پیچھے دھکیلے بغیر ترقی کی کوشش کرنی چاہیے۔ تحمل اور برداشت کو غالب ہونا چاہیے۔

خود غرضی اور انا پرستی کے موجودہ ماحول میں عاجزی اور شائستگی کو فروغ دینے والی سرگرمیاں ناگزیر ہیں۔ اس طرح کے اقدامات ضروری نہیں کہ وسیع وسائل کا مطالبہ کریں۔ ایک وینچر شروع کرنے میں اخلاص ’حل‘ کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ ہمارے محلوں میں جہاں لوگ اکثر اوقات تفریح کے لیے گلیوں کے نکڑ، چوک چوراہوں یا دیگر اجتماعی جگہوں پر اکٹھے ہوتے ہیں، ایسے حلقوں میں باقاعدہ تعلیمی، ثقافتی اور یہاں تک کہ علمی سرگرمیاں کیوں نہیں شروع کی جاتیں؟ یہ تبدیلی زیادہ باخبر، مربوط، اور روشن خیال کمیونٹی کی پرورش کی جانب ایک بامعنی قدم ہو سکتی ہے۔

گزشتہ دنوں ابوالفضل جامعہ نگر اوکھلا دہلی میں مسجد اشاعت اسلام میں ایسے ہی ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا، جس کا نام تزکیہ نائٹ تھا، آج کل ہماری نشست و برخاست جس ماحول میں ہوتی ہے ایسی چیزیں بھی عجیب معلوم ہوتی ہیں، لیکن عشا کی نماز کے بعد اس محفل میں شریک ہوا تو دیکھا کہ بہت سے نوجوان اس میں شریک تھے، قرآن پاک کی تلاوت اور اس پر غور و خوض سے پروگرام کی ابتدا ہوئی، سوال و جواب کا سیشن چلا، چائے پانی کے بعد پھر نفس کی پاکیزگی کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور ایک بزرگ نے اخیر میں مختصر وعظ کے بعد نوجوانوں کو اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ مسجد میں ہی اجتماعی تہجد کا اہتمام کریں گے سب کو سونے کے لیے بھیج دیا۔

ایک ایسی دنیا میں جہاں ڈیجیٹل تعاملات اکثر ہمارے سماجی منظرنامے پر حاوی ہوتے ہیں، اس طرح کے روایتی اجتماع کا تجربہ جسمانی اجتماعات کی پائیداری اور اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ تزکیہ محفل خاص طور پر روحانی ترقی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حصول میں حقیقی دنیا کے روابط کی پائیدار قدر کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتی ہے۔

مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد آتا ہے جب دادا دادی، نا نا نانی کے ساتھ گھر کے تمام بچے اکٹھا ہو کر بیٹھا کرتے اور بڑے نبیوں، صحابیوں یا پھر بزرگوں کے قصے اور واقعات سنایا کرتے تھے، کچھ نہیں ہوتا تو دن بھر کی روداد ہی پوچھی جاتی کہ وقت کیسے گزارا؟ کیا اچھا کیا اور کیا نہیں وغیرہ۔ بعض گھروں میں ’تبلیغی نصاب‘ (فضائل اعمال) اور ’تفہیم القرآن‘ وغیرہ کے پڑھنے کا بھی اہتمام ہوتا تھا، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ چیزیں بھی محض قصے کہانیوں کی طرح بیان کرنے کے لیے رہ گئی ہیں اور ان کا وجود کہیں کھو گیا ہے۔

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے جب ہمارے آس پاس شعر و ادب کی محفلیں منعقد کی جاتی تھیں، جہاں لوگ اپنا کلام اور تخلیق پیش کرتے اور اس پر نقد و تبصرہ کیا جاتا تھا، افسوس اب اس طرح کی محفلیں بھی خال خال ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

یہ حلقے مکالمے، سیکھنے، سمجھنے اور مثبت تبدیلی کو ابھارنے کے لیے طاقتور پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس کے برعکس، ’واٹس ایپ، ‘ فیس بک، یا ’یوٹیوب جیسے پلیٹ فارموں میں مکمل طور پر ڈوبے ہوئے افراد خود کو اسکرین کے مجازی دائرے تک محدود کرلیتے ہیں۔ اس ڈیجیٹل تنہائی سے آزاد ہونا اور حقیقی دنیا کے حلقوں میں فعال طور پر مشغول ہونا بہت ضروری ہے جو بامعنی مکالمے اور ذاتی ترقی کو فروغ دیتے ہیں، بصورت دیگر، ہم مایوس کن تصور کے شکار ہونے کا خطرہ مول لیتے ہیں کہ ہماری پوسٹوں اور تحریروں کو دوستوں کی متوقع تعریف و ستائش نہیں مل رہی ہے، جس سے احساس کمتری اور ادھورے پن کا احساس جنم لیتا ہے۔

یہ تمام کوششیں ہمارے اجتماعی مزاج میں ’درد سری‘ کی ایک منفرد شکل میں حصہ ڈالتی ہیں۔ اس کا علاج بامعنی انسانی رابطوں کے ذریعے خود اطمینانی حاصل کرنے میں مضمر ہے۔ اگر ہم ان جذبات کو خلوص دل سے، ذاتی فائدے کے بغیر، صرف اور صرف معاشرے کی بہتری کے لیے پیش کریں، تو ایسی تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لینے سے ہمیں حقیقی اندرونی اطمینان حاصل ہو سکتا ہے۔ کسی بچے، نوجوان یا طالب علم کو ہماری رہنمائی کی بنیاد پر اپنے اخلاق کو بہتر بناتے ہوئے دیکھنا ہماری محنت کا حقیقی پھل اور کامیابی بن جاتا ہے۔

اس کو آسان بنانے کے لیے، یہ ضروری ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اپنی کمیونٹیز میں ایسے حلقے قائم کریں جو ہماری دلچسپیوں اور محبتوں کے مطابق ہوں۔ یہ حلقے ایسی جگہیں مہیا کرتے ہیں جہاں دوست کھلی بحث میں مشغول ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر لوگوں، خصوصاً نوجوانوں کی اخلاقی، سماجی اور مثبت سیاسی سوچ کی تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں صحت مند مکالمے اور بحث و مباحثے کے لیے پلیٹ فارم کی تشکیل بہت ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ہی، ’اسکرین‘ کے زیر تسلط ’مصنوعی‘ اور ’غیر حقیقی‘ دنیا کی قید سے خود کو آزاد کرنا ہمیں اپنے قریبی ماحول میں آزادانہ سانس لینے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تبدیلی ہمیں حقیقی انسانی تعاملات کا مزہ لینے اور زندگی کے جوہر کا حظ اٹھانے کے قابل بناتی ہے۔ ان کوششوں کے ذریعے ہی ہم ڈیجیٹل قید سے آزاد ہو کر اپنے آس پاس کی دنیا کے مستند تجربات سے دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔

آئیے ہم اجتماعی طور پر اسکرینوں اور الگورتھم کی حدود سے آزاد ہوں، اور اس کے بجائے، اپنے ارد گرد متحرک سماجی حلقے تشکیل دیں۔ حقیقی گفتگو، ہنسی اور مشترکہ لمحات سے گونجنے والے یہ حلقے انسانیت کے جوہر کو دوبارہ دریافت کرنے کی کلید رکھتے ہیں۔ ڈیجیٹل دائرے سے باہر نکل کر اور اپنے فوری ماحول میں فعال طور پر مشغول ہو کر، ہم نہ صرف اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ حقیقی اور بامعنی رابطوں کی طرف ایک اجتماعی تحریک میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ان دائروں کو ترتیب دیتے ہوئے، ہم ایک زیادہ خوشحال، باہم مربوط اور مستند وجود کی طرف سفر شروع کر سکتے ہیں، جہاں انسانی تعامل کی گرمجوشی پکسلز کی چمک سے کہیں آگے ہوتی ہے اور جس سے خود کو اطمینان اور روح کو سکون ملتا ہے۔

Facebook Comments HS

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah