نظری تصوف : اک تعارف (3)


گزشتہ دو مضامین میں ہم نے تصوف کی تحریک کا مسلم دنیا میں آغاز اور گیارہویں صدی عیسوی تک اس کے ارتقاء اور پھیلاؤ پر بات کی تھی۔ جس میں یہ دیکھا تھا کہ کیسے اخلاق اور روحانیت سے متعلق صوفیوں کے ہاں پہلے عملی اور بعد ازاں علمی پہلوؤں کی طرف پیشرفت ہوئی۔ ابن خلدون کے مطابق گیارہویں صدی سے صوفیوں نے اپنے خفیہ نظریات کو زیادہ زور و شور سے عام کرنا شروع کیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے تصوف کی کتابوں کا انبار لگنا شروع ہو گیا۔

اس کی بڑی وجہ اس عہد کی سب سے اہم اور مشہور شخصیت ابو حامد محمد ابن محمد الطوسی الغزالی (متوفی 1111 ء) ہیں۔ وہ خراسان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نے بھی ان کی ابتدائی تعلیم میں دیگر دینی علوم کے علاوہ چند صوفیاء کی خدمات بھی حاصل کیں۔ یوں غزالی کے بچپن ہی میں ان کا تعارف تصوف سے ہو چکا تھا۔ گیارہویں صدی کی آخری دہائی میں انہیں بغداد کے مدرسہ نظامیہ میں تدریس کا موقع ملا۔ غزالی نے مختصر عرصے میں تمام دینی علوم کے ساتھ ساتھ عقلی علوم میں بھی بہت قابلیت اور شہرت حاصل کی۔ یہیں غزالی نے ابن سینا اور الفارابی کے راستے یونانی فلسفے اور خاص طور سے ان کے تصور علم و مابعدالطبیعات پر تنقید کی جسے اپنی مشہور زمانہ تصنیف ”تہافۃ الفلاسفہ“ میں شائع کیا۔

مسلم دنیا کا یہ عظیم نابغہ اپنی زندگی کے دوسرے دور میں حقیقت کی تلاش کے ذرائع یعنی حواس خمسہ اور عقلی استدلال وغیرہ کے بارے میں تشکیک کا شکار ہو گیا اور مدرسہ نظامیہ میں اپنے تمام تدریسی فرائض سے دستبردار ہو کر دس سال یقینی علم کی تلاش میں نکل گیا۔ غزالی کا یہ تشکیک کا سفر انہی کی ایک اور تصنیف ”المنقذ من الضلال“ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جس میں غزالی نے متکلمین کو ناکافی اور فلاسفہ (جن میں دہریت، طبیعات، اور الہیات شامل ہیں ) کو زندیق و کافر قرار دیا۔

مثلاً، ریاضی کے بارے کہتے ہیں کہ اس میں یہ آفت ہے کہ جو شخص اس میں غور و فکر کرتا ہے وہ پھر سوال کرتا ہے اور آخر عقلیات اور فلسفے سے متاثر ہو کر کافر ہوجاتا ہے (المنقذ من الضلال، صفحہ 37، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز، لاہور) ۔ بہرحال، غزالی نے حواس خمسہ اور ان کی بنیاد پر قائم ہونے والے عقلی استدلال کو یقینی علم کے لئے ناقابل اعتبار قرار دینے کے بعد بالآخر صوفیاء کے طریقہ علم کو معتبر اور مکمل قرار دیا۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں،

”عقل جن معاملات کو حق سمجھتی تھی ان کی تو قطعاً کوئی بنیاد ہی نہیں اور شاید یہی وہ حالت ہے جس کا دعوی صوفیاء کرام کرتے ہیں۔ جیسے کہ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ مقام حال پر ہوتے ہیں اور حواس سے بے نیاز ہو کر اپنے من میں ڈوب جاتے ہیں تو وہ ان احوال کا مشاہدہ کرتے ہیں جو معقولات سے مختلف ہوتے ہیں“ (المنقذ، صفحہ 27) ۔

انہوں نے اس نکتہ نظر سے اسلام کا ازسرنو مطالعہ اپنی مشہور زمانہ تصنیف

”احیائے علوم الدین“ میں پیش کیا۔ غزالی کی کتب میں ”منہاج العابدین“ اور ”کیمیائے سعادت“ وغیرہ اہل تصوف کے ہاں آج بھی انتہائی مقبول ہیں۔

غزالی پر مشرق و مغرب میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور اس میں جدیدیت پسند حضرات زیادہ تر انہیں مسلم دنیا میں علوم کے زوال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جس کے جواز میں عقلی و حسی علوم اور قوانین علیت وغیرہ پر ان کی تنقید کو پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں اس سے زیادہ نقصان غزالی کے نظری تصوف اور اس کی بنیاد پر قائم تصور علم سے ہوا ہے جو سراسر جہل مرکب ہے۔ اور یہ وہ جہت جس پر ابھی تک بہت کم لکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ غزالی نے یقینی علم کے امکان کو قطعاً رد نہیں کیا بلکہ علم کے عمومی ماخذات یعنی حواس خمسہ اور مشاہدات کی بنیاد پر قائم ہونے والے عقلی استدلال کو غیر معتبر اور ناکافی قرار دیا ہے۔

اس سے بڑھ کر انہوں کشف و الہام اور مشاہدہ حق جیسی اصطلاحات جو اہل تصوف کے ہاں رائج تھیں انہیں ایک مسلم قانون یا شریعت میں جگہ فراہم کرنے کا جواز پیدا کیا ہے۔ اگر غور کیجئے تو واضح ہو گا کہ صوفیاء کی خفیہ تحریک جسے عام مسلم سماج میں ابھی کھلم کھلا پذیرائی نہیں ملی تھی اور خاص طور سے متکلمین جو تصوف کے نظریات یا اصطلاحات کو اسلام کی تشریح و تفسیر میں استعمال کرنے سے کتراتے تھے، غزالی کے بعد انہیں بھی ہمت ہوئی اور صوفیوں کی قطاریں لگ گئیں اور حتی کہ مدارس میں تصوف کے نظریات کو دیگر علوم کے برابر جگہ دی گئی۔ قرآن کی عرفانی تفاسیر کی گئیں۔ این میری شمل کے مطابق غزالی نے تصوف اور شریعت کا نکاح پڑھوا کر تصوف کو مسلم سماج میں قانونی حیثیت دلوائی ہے (شمل، اسلام کی روحانی جہات، 2011 ) ۔

چونکہ ہمارا مدعا تصوف کے تصور علم کا تعارف اور اسکے نظری پہلوؤں کے جائزے کے متعلق ہے لہذا ہم اب ان دو بڑے صوفیاء کا ذکر کریں گے جنہوں نے غزالی کے بعد تصوف کو زیادہ نظریاتی اور فلسفیانہ انداز سے پیش کیا۔ ان میں سے ایک شہاب الدین سہروردی (متوفی 1191 ) ہیں جنہیں ’المقتول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ اکثر انہیں صوفی سلسلہ سہروردیہ کے بانی شہاب الدین سہروردی (متوفی 1240 ) سے گڈمڈ کر دیا جاتا ہے۔ ان کا ذکر یہاں اس لیے ضروری ہے کیونکہ انہوں نے بھی علم حضوری و اشراقی کو اصل علم قرار دیا۔ نظری تصوف میں ان کے نظریات کو ”حکمت الاشراق“ اور خود سہروردی کو ”شیخ الاشراق“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف کے قریب ہنری کاربن نے فلسفہ اشراق پر بے حد کام کیا جس کے بعد سے ان کے کام کو مستشرقین میں بہت پذیرائی ملی۔

تیرہویں صدی عیسوی کا سب سے اہم نام محی الدین محمد ابن علی ابن العربی (متوفی 1240 ء) ہے۔ بچپن میں، ان کے والد انہیں اپنے دوست ابن رشد سے ملنے لے گئے۔ ابن عربی نے اس ملاقات میں ہونے والی گفتگو کا سرسری ذکر کیا ہے جس میں انہوں نے فلسفی کو عقلی ادراک کی حدود کی وضاحت کی تھی۔ ہنری کو ربن نے اس واقعہ کو اسلام اور مغرب کے درمیان راستوں کی علامتی علیحدگی کے طور پر لیا ہے کیونکہ مغربی مفکرین نے جلد ہی ابن رشد سے متاثر ہو کر عقلی راستہ اختیار کر لیا (کوربن، ابن عربی کا تخلیقی تصوف، اشاعت 1969 ) ۔

ابن عربی کو اہل تصوف کے ہاں ”الشیخ الاکبر“ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کثیر تعداد میں کتب اور رسائل لکھے اور تصوف کے مشہور نظریہ ”وحدت الوجود“ کے موجد قرار دیے گئے۔ اگرچہ انہوں نے خود یہ اصطلاح استعمال نہیں کی لیکن بعد ازاں ان کے نظریات اسی سے مشہور ہوئے۔ ان کی مشہور کتب میں ”فصوص الحکم“ اور ”فتوحیات مکیہ“ نظری تصوف کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ ابن عربی نے فلاطینس اور دیگر نو افلاطونی فلاسفہ کے ساتھ ساتھ قدیم ہندی فلسفے کو اپنے نظریات کا حصہ بنایا۔ جہاں کہیں ضرورت پڑی انہوں نے اپنی طرف سے نئی نئی اصطلاحات بھی متعارف کروائیں جن پر آج تک خود اہل تصوف میں بے حد اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابن عربی نے اپنے زمانے کے جہل مرکب یعنی فیثا غورثیت، الکیمی، علم نجوم اور علم ابجد وغیرہ کو بھی مقدس قرار دیتے ہوئے اپنے نظریات میں شامل کیا۔

ابن عربی سے شروع ہونے والے نظریہ وحدت الوجود نے دنیا بھر میں بے حد مقبولیت پائی۔ جنوبی ایشیاء میں خاص طور سے اپنشدوں کی بدولت یہاں کے کلچر اور مزاج میں سریانی عقائد اور وحدت الوجود رچا بسا ہوا تھا اس لیے یہاں کے بیشتر صوفیاء اسی نظریے سے وابستہ رہے ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے کہ شیخ احمد سرہندی کا نظریہ وحدت الشہود، اصل میں وحدت الوجود ہی ہے۔ شیخ سرہندی کا ابن عربی سے اختلاف نہایت معمولی ہے اور دونوں کا نظریہ علم ایک ہی ہے جو مسلم سماج کے لئے تباہ کن ہے۔ اگرچہ مشہور ہے کہ ابن تیمیہ نے ابن عربی کی تکفیر کی لیکن انہوں نے بھی عبدالقادر جیلانی اور فضیل بن شاذان جیسوں کو اچھا صوفی قرار دیا۔ یعنی وہ بھی پوری طرح تصوف کی گرفت سے آزاد نہیں ہو سکے تھے۔

اب ہم آخری اہم ترین مسلم صوفی کی طرف آتے ہیں جو ابن عربی کے نظریات سے بے حد متاثر تھے۔ سترہویں صدی عیسوی کے یہ مشہور مسلم مفکر صدر الدین شیرازی المعروف ملا صدرا ( متوفی 1640 ء) ہیں جنہیں ’صدر المتالہین‘ بھی کہتے ہیں۔ ان کا فلسفہ مسلم دنیا میں ”الحکمت المتعالیہ“ کے نام سے مشہور ہے جس کے بنیادی تصورات میں اصالت وجود اور عرفانی علمیات شامل ہیں۔ ملا صدرا، شیخ احمد سرہندی کے ایرانی معاصر ہیں اور سرہندی کے برعکس مورخین نے ملا صدرا کے بارے بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملا صدرا نے کثیر تصانیف چھوڑی ہیں جو ہندوستان کے دارالعلوم فرنگی محل تک کے درسی نصاب کا حصہ بنیں۔ یاد رہے کہ ملا صدرا اور شیخ سرہندی دونوں بیکر، گیلیلیو، ڈیکارٹ، کپلر اور نیوٹن وغیرہ کے معاصر ہیں مگر یہ لوگ مغرب میں ہونے والی تحقیقات سے بالکل لاعلم رہے۔

ملا صدرا کی سب سے مشہور تصنیف ”اسفارالاربعہ“ ہے جو ابن عربی کی تصانیف کی طرح خالص تصوف کی کتاب تو نہیں لیکن انہوں نے اس میں ابن عربی سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے کا اردو ترجمہ 2018 میں حق پبلیکیشنز نے لاہور سے ”فلسفہ ملا صدرا“ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ اس کتاب کے مقدمے میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہیں الہام کیا گیا ہے کہ جو کچھ انہیں عطا ہوا ہے وہ لکھ دیں۔ وہ لکھتے ہیں،

”حق تعالی نے مجھے الہام فرمایا کہ جس جرعے سے میں خود فیضیاب ہوا ہوں اس کی تقسیم ان پیاسوں میں بھی کردوں جو علم کے طالب ہیں۔ میں آخر میں اللہ تعالی سے مغفرت کا طلبگار ہوں کہ اپنی عمر کا بڑا حصہ میں متفلسفہ اور علم کلام کے ارباب جدال کے آراء و خیالات کی جستجو میں ضائع کیا“ (اسفار، جلد دوم، صفحہ 11۔ 12 )

اس کتاب میں ملا صدرا نے ’حکمت‘ کو سب سے اعلی علم قرار دیا ہے کیونکہ وہ ”وجود بالذات“ کا مطالعہ کرتی ہے (یہ وہی ارسطو اور فلاطینس کی میٹافزکس میں سپریم یا پرائمری وجود والی بات ہے ) ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملا صدرا نے چند قدیم یونانی فلاسفہ کو اولیائے الہی سے تشبیہ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابن عربی کے مانند ان کا بیشتر کلام بھی اہل یونان کے فرسودہ خیالات پر مشتمل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کتاب میں فلسفے کا تصوف سے باقاعدہ نکاح پڑھا گیا ہے مگر مقدمے میں دونوں کو برا بھی کہا گیا ہے، ملاحظہ ہو:

”تمہیں چاہیے کہ عام صوفیوں میں جو جاہلوں کا طبقہ ہے ان کے خرافات میں مت پھنسنا اور اہل فلسفہ کی تو کسی بات پر اعتماد نہ کرنا، کیونکہ وہ ایک گمراہ کن فتنہ ہے“ (اسفار، جلد دوم، صفحہ 14 )

یہاں جہلاء صوفیوں کی مذمت کی بات ہے جبکہ صوفیوں میں کسی کو جہل مرکب کا شکار نہیں کہا گیا۔ جہلا صوفی تضاد بیانی ہے۔ بہرحال، چونکہ یہ تمام خیالات نظری تصوف کے افسانوں اور نو افلاطونی فرسودہ خیالات کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے، نہ کہ انہیں ٹھوس مشاہداتی اور تجرباتی بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا، اس لئے یہ نظریات جدید دنیا میں بہت جلد بری طرح باطل ثابت ہو گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں سے کچھ مسلم نوجوانوں نے شاید ایران میں اسلامی انقلاب کے مشاہرین یعنی خمینی و مطہری و طباطبائی وغیرہ سے متاثر ہو کر یا مستشرقین میں ابن عربی اور ملا صدرا کے متعلق پیدا ہونے والی بے جا دلچسپی اور نتیجتاً مکتب روایت کے زیر اثر شائع ہونے والے کام یا صرف سوشل میڈیا پر موجود جاہلانہ مباحث کے باعث ملا صدرا اور ان کے فلسفہ حکمت متعالیہ کو دوبارہ جدید دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ قرار دینا شروع کر دیا ہے اور کچھ تو معذرت خواہانہ انداز میں قدیم یونانی فلاسفہ کو جدید سائنسی علوم کے مقابلے میں لے آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید انہوں نے خود ملا صدرا کے افکار کا جد ید سائنس سے موازنہ نہیں کیا۔ ایسے لوگ سائنسی طریقہ کار سے ناواقفیت کی بنا پر نظری تصوف جیسے ’جہل مرکب‘ کو علم بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے مسلم دنیا کا علمی جمود کم ہونے کی بجائے مزید گہرا ہو گا۔

Facebook Comments HS