محترمہ کی شہادت، راحت فتح علی خان اور میں


یہی ستائیس دسمبر کی سرد شام تھی۔ میں اور آمنہ قریشی بطور پروڈیوسر چینل فائیو کے گراؤنڈ سٹوڈیو میں ”ففٹین منٹس چئیر“ کے خصوصی پروگرام کی ریکارڈنگ کر رہے تھے۔ آج کے پروگرام کے خصوصی مہمان راحت فتح علی خان تھے۔ لائٹنگ ریڈی تھی اور کیمرے پوزیشن پر تیار تھے۔ راحت صاحب تشریف لائے اور رسمی سے فارمیٹ کے تعارف کے بعد چند لطیف جملوں کا تبادلہ ہوا اور قہقہوں کے درمیان سٹوڈیو کے باہر ریڈ لائٹ آن کر دی گئی۔ کیمرے رول ہوئے اور دلچسپ سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔ بڑے لطیف ماحول میں ریکارڈنگ چل رہی تھی۔ میں آف کیمرہ سوال کرتا اور وہ آن کیمرہ تفصیلی جواب دیتے۔ اچانک غیرمتوقع طور پر سٹوڈیو کا دروازہ کھلا اور ہماری ٹیم کا ایک جوان ریکارڈنگ کی پرواہ کیے بغیر اندر داخل ہو کر چلایا ”تم لوگ ریکارڈنگ کر رہے ہو اور بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں گولی لگ گئی ہے“ ۔

سب ایسے خاموش ہو گئے جیسے سکتے میں آ گئے ہوں۔ خاموشی کا دورانیہ طویل ہوتا گیا۔ اس طویل ہوتے سناٹے کو بالآخر دبی دبی سسکیوں کی آواز نے توڑا۔ یہ سسکیاں راحت بھائی کی تھیں۔ ہم سب اس منظر سے دم بخود ہو گئے اور بالآخر خود کو کمپوز رکھنے اور راحت بھائی کو ریلیکس کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ ریکارڈنگ روک دی گئی۔ اتنی دیر میں خبر آئی کہ محترمہ زندہ ہیں مگر زخمی ہیں اور انہیں ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ سب کی سانس میں سانس آئی۔ اللہ خیر کرے گا کہتے ہوئے راحت بھائی کمپوز ہوئے اور یوں ریکارڈنگ دوبارہ شروع کر دی گئی۔

چند ہی جملوں کے بعد اندازہ ہوا کہ ماحول ناقابل واپسی طور پر سوگوار ہو چکا تھا اور سب کے چہروں پر وہ مردنی چھا چکی تھی جو سٹوڈیو کے ہر رنگ اور مہمان کے ہر لفظ سے جھلک رہی تھی۔ بے جان کیمروں کے سوا سب کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں اور گلے بولنے میں ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ چند منٹ کے اس مصنوعی ضبط کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب اچانک ایک سوال کا جواب دیتے مہمان کی آواز بھیگی، آنکھیں نم ہوئیں اور پھر بے اختیار راحت بھائی دھاڑیں مار کر رونے لگے۔

اس کے ساتھ ہی پوری ٹیم کا ضبط بھی جواب دے گیا۔ کوئی کھل کر تو کوئی ناکام ضبط کا سہارا لے کر رو رہا تھا۔ اسی لمحے وہ جوان دوبارہ سٹوڈیو میں داخل ہوا اور اطلاع دی کہ محترمہ کی شہادت کنفرم ہو گئی ہے۔ مینجمنٹ کی طرف سے حکم ہے کہ ریکارڈنگز روک دی جائیں اور کیمرے فوراً نیوز رپورٹرز کے لئے فری کر دیے جائیں۔ چونکہ عوام کا احتجاج شروع ہو چکا ہے اور خدشہ ہے کہ ملک تھوڑی دیر میں جام ہو جائے گا۔ لہٰذا نیوز اور رپورٹنگ کے علاوہ تمام سٹاف فوراً چھٹی کر لیں اور بروقت اپنے گھروں کو پہنچ جائیں۔

ہمارے دل اور قدم تو بوجھل تھے ہی مگر راحت صاحب اٹھنے سے انکاری تھے اور مسلسل ہتھیلیوں میں منہ چھپائے اپنا ناکام ضبط آزما رہے تھے۔ کافی دیر اور بڑی مشکل سے وہ سنبھلے مگر لگ رہا تھا کہ صدمے کی وجہ سے وہ ڈرائیونگ کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہیں ڈرائیور لینے کی آفر کی جو انہوں نے قبول کرنے سے معذرت کی اور پھر اچانک ہی تیزی سے سٹوڈیو سے نکل گئے۔ میں پیچھے پیچھے ان کو رخصت کرنے کے لئے پارکنگ تک آیا اور تب تک نم آنکھوں سے کھڑا دیکھتا رہا جب تک ان کی گاڑی مین سڑک پر موڑ نہیں مڑ گئی۔ یہیں اکیلے کھڑے مجھے یوں لگا جیسے محترمہ کی زندگی کی گاڑی بھی ایسے ہی چلتی ہوئی سیاست کا پروگرام ادھورا چھوڑ کر تاریخ کے امر دھارے پر موڑ مڑ گئی ہے جہاں میری طرح کروڑوں نم آنکھیں نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں الوداع کہنے پر مجبور ہیں۔

Facebook Comments HS