سندھ ہائی کورٹ کی پہلی خاتون جج ماجدہ رضوی سے ملاقات
پہلی بار میری ملاقات پاکستان کی ہائی کورٹ میں نامزد ہونے والی پہلی خاتون جج ماجدہ رضوی سے ”پناہ“ میں ہوئی تھی، یہ ادارہ کراچی میں واقع گھریلو تشدد کی ماری عورتوں اور بچوں کی عارضی تحفظ گاہ ہے۔ ماجدہ رضوی صاحبہ اس ادارے کے بانیوں میں شمار ہیں۔ کیونکہ میرا مقصد ”پناہ“ اور اس میں تحفظ لینے والوں کی تفصیل معلوم کرنا تھا۔ لہٰذا اس دن ماجدہ رضوی صاحبہ سے مختصر سی ہی بات ہو پائی۔
خوش قسمتی سے، مارچ 2023 میں ماجدہ رضوی صاحبہ سے تفصیلی گفتگو کا موقعہ مل گیا۔ اس ملاقات کا اہتمام عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر مہ ناز رحمن نے کیا۔ جس کے لیے میں ان کی ازحد شکرگزار ہوں۔
1937 میں ہندوستان میں پیدا ہونے والی ماجدہ رضوی کو 1994 میں سندھ ہائی کورٹ پاکستان کی پہلی خاتون جج ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے پاکستان میں بطور قانون دان پریکٹس کی، بحیثیت استاد ہمدرد لا کالج میں قانون پڑھایا اور کئی سال مقبول ہفت روزہ ”اخبار خواتین“ میں قانونی مشاورت پہ مبنی مضامین لکھے۔ اس طرح برسوں سے قانون ان کا اوڑھنا اور بچھونا رہا ہے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی انہوں نے اپنی خدمات کا سلسلہ رضاکارانہ بنیاد پہ جاری رکھا ہوا ہے۔ وہ مختلف بورڈز کی فعال ممبر ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ”میری کوشش ہے کہ جو اس ملک اور خدا نے مجھے دیا ہے اسے لوٹا سکوں۔“
ماجدہ صاحبہ سے ہماری یہ ملاقات سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے دفتر میں ہوئی جہاں وہ چئیر پرسن کے طور پہ کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے بہت گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا اور انتہائی خوشدلی سے ہمارے سوالات کے جواب دیے۔
سوال 1۔ ماجدہ صاحبہ اپنے تعلیمی اور خاندانی پس منظر کے سے کچھ بتائیں۔ وکالت کا شعبہ آپ کا خواب کیوں کر بنا؟
جواب: ہم سات بہن بھائی تھے۔ تین بہنیں اور چار بھائی۔ ہماری تربیت میں کوئی صنفی تخصیص نہ تھی۔ تعلیم کو بہت فوقیت حاصل تھی اور ابا تو خاص کر عورتوں کی تعلیم کے بہت خواہاں تھے۔ والد نے ایک بات ہمیشہ کہی کہ کچھ بھی ہو جائے جھوٹ نہ بولو۔
ہمارے خاندان میں ڈاکٹرز، اور انجینئرز ہیں۔ میں خود بچپن میں ای این ٹی اسپیشلسٹ بننا چاہتی تھی لیکن بڑے ہوتے ہوتے یہ شوق وکالت میں بدل گیا۔ ہمارے خاندان میں بس ایک ماموں تھے جو وکیل تھے۔ جن کا کالا گاؤن اور مقدمات بہت متاثر کرتے تھے۔ پھر میرے سامنے قائد اعظم کی متاثر کن شخصیت بھی تھی لہٰذا معاشیات میں گریجویشن اور پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کی ڈگری کرنے کے بعد ایس ایم لا کالج میں داخلہ لے لیا۔ میرے خاندان نے اس تعلیم کی مخالفت تو نہ کی مگر جب پریکٹس کا معاملہ آیا تو بھائی نے مخالفت کی۔ لیکن جب ایک بار کام کرنا شروع کر دیا تو پھر سب راضی ہو گئے۔ یہ شعبہ اتنا پسند ہے کہ میں اگر دوبارہ بھی پیدا ہوئی تو قانون ہی پڑھوں گی۔ مجھے حق کے لیے لڑنا بہت پسند ہے۔
سوال 2۔ آپ نے کب سے وکالت کا سفر شروع کیا۔ بحیثیت عورت وکیل سے جج بننے کا سفر آسان نہ رہا ہو گا۔ سب سے زیادہ مشکل مرحلہ کو بیان کرنا چاہیں گی؟
جواب: میں نے 1963 سے پریکٹس شروع کی۔ پدر سری معاشرے میں اس شعبہ میں آنا واقعی مشکل تھا۔ اکثر کلائنٹس کہتے کہ یہ لڑکی کیا کرے گی۔ جب پہلی بار یہ سنا تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ لیکن مجھے ججز کا بہت تعاون حاصل تھا۔ پھر جب ایک دفعہ کلائنٹس میں اعتماد پیدا ہو جائے تو مشکل نہیں ہوتی۔ مجھے اپنے آپ کو منوانے میں کچھ زیادہ دقت نہیں ہوئی۔
سوال 3۔ ایک اچھا وکیل بننے کے لیے کن باتوں کی ضرورت ہوتی ہے؟
جواب: اس کے لیے رجحان، محنت اور خاندان کی سپورٹ ضروری ہے۔ وکیل کو اچھا اور ٹو دی پوائنٹ بولنا بھی آنا چاہیے۔ ایک وکیل کو یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ پریکٹس شروع کرتے ہی کمائی شروع نہیں ہوجاتی۔ اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اگر آپ بیوی اور ماں ہیں تو دن کو کورٹ رات کو کیس کی تیاری کے لیے وقت چاہیے ہے لہٰذا خاندان کی سپورٹ ضروری ہے۔ میری ایک ہی بچی ہے لہٰذا اس کا مسئلہ ایسا نہیں رہا۔
سوال 4۔ عورتوں کے بنیادی اہم مسائل کے حوالے سے اپنا کچھ کام بتائیں جنہیں سب سے زیادہ قانونی مدد کی ضرورت ہے؟
جواب۔ گو میں نے 1963 سے پریکٹس شروع کی تھی لیکن 1961 میں فیملی لا آرڈیننس پڑھ کے یہ اندازہ ہوا کہ عورتوں کے لیے یہ سب کچھ کرنے کی خواہش تو میرے دل میں بھی ہے۔
فیملی لا آرڈیننس کی وجہ سے نکاح نامے پرنٹ ہوئے، اور ملک اور عورتوں کے لیے بہت بہتر ہوا۔ نکاح کے اندراج کا ڈیٹا تیار ہوا۔ کم از کم شادی کی عمر، دوسری شادی کی وجہ اور بیوی کا اجازت نامہ وغیرہ۔ ان سب قوانین کے معاشی پہلو بھی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج میں عورت کو طاقت ملے۔ ملک میں طلاق کم ہونے کی ایک وجہ عورت کی معاشی بیچارگی ہوتی ہے کہ وہ جائے تو جائے کہاں؟
میری پریکٹس میں بہت سارے فیملی کیسز آتے کیونکہ لڑکیاں مرد وکلا کے پاس جانے سے گریز کرتی تھیں۔ ایسی کافی خواتین میرے پاس آئیں۔ اس کے بعد میں نے لیاری اور کھڈا جیسے علاقوں میں قائم سوشل ویلفیر کے مراکز میں خواتین کو ان کے اور بچوں کے حقوق کے متعلق بتانا شروع کیا۔ ساتھ ہی اخبار خواتین میں عائلی قوانین پہ ہفتہ وار مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ میں انگریزی میں لکھتی اور مشہور صحافی فرہاد زیدی صاحب اس کا اردو میں ترجمہ کرتے۔ عورتیں خشک مضامین نہیں پڑھتیں لہٰذا میرا طریقہ یہ تھا کہ میں شروع میں ایک چھوٹی سی کہانی لکھتی اور اس میں پیش کیے مسائل کا حل قانون کے نقطہ نگاہ سے بتاتی۔ اس طرح میں نے فیملی قوانین، شناختی کارڈ، پیدائش اور موت کے سرٹیفیکٹ اور پاسپورٹ کیسے حاصل ہو، یہ سب معلومات بتائیں۔ عموماً یہ کام مرد کرتے ہیں لہٰذا عورتیں نابلد رہتیں۔
میری کوشش عورتوں میں خود انحصاری پیدا کرنے کی تھی۔ مضامین لکھنے کا یہ سلسلہ پانچ چھ سال جاری رہا۔ اس کے بعد اخبار جہاں اور ڈان اخبار کے لیے بھی لکھا۔ مجھے جمعہ کی صبح کو کالم دینا ہوتا تھا۔ کبھی ایسے بھی لکھا ہے کہ جمعرات کی آدھی رات کو کوئی موضوع ذہن میں آیا تو اس کو اسی وقت لکھا اور پھر سو گئی۔ ان مضامین کی وجہ سے اکثر کہا گیا کہ یہ تو عورتوں کو بگاڑ رہی ہیں۔
سوال 5۔ ان مضامین کا کچھ خاطر خواہ اثر ہوا؟
جواب۔ جی بالکل ہوا۔ میں جب مشہور قانون دان محترم خالد اسحاق صاحب کے ساتھ کام کر رہی تھی تو ایک دن انہوں نے مجھے بلایا کہ ایک عورت چارسدہ سے اپنا مقدمہ لے کر آئی ہیں۔ اس کے ہاتھ میں میرا مضمون تھا۔
سوال 6 : ملازمت کے دوران کن مسائل کا سامنا تھا؟
جواب: پہلے تو اپنے ہی حق کے لیے لڑنا پڑا۔ ہائی کورٹ میں خواتین کے لیے کوئی باتھ روم (بیت الخلا ) نہیں تھا۔ اگر کبھی ضرورت پڑتی تو جم خانہ جا کر وہاں کا باتھ روم استعمال کرتے۔ پھر بعد میں ایک باتھ روم بنا مگر اس کی بھی چابی نہیں ملتی تھی۔ مجھے اگر جانا ہوتا تو کسی کو باہر کھڑا کرتی۔ یہ تو خود اپنی بنیادی ضرورت تھی جس کے لیے انتظامیہ کو احساس دلانا پڑا۔
میں نے اپنا پہلا مقدمہ جسٹس فیروز نانا کے سامنے لڑا۔ جو ماہر تعلیم انیتا غلام علی کے والد تھے۔ میں نے جتنے بھی وکلا اور ججز کے ساتھ کام کیا مجھے ان کا تعاون حاصل رہا۔ میں ہائی کورٹ میں رشیدہ پٹیل اور مسز ناصر الدین کے بعد تیسری قانون دان تھی۔ مجھے اپنے کام کو منوانے میں کسی مشکل نہیں ہوئی۔
ڈسٹرکٹ کورٹ، کہ جہاں کرمنل اور چھوٹے مقدمات ہوتے ہیں، کے مقابلہ میں ہائی کورٹ میں زیادہ بہتر محسوس کرتی تھی۔
سوال 7۔ عموماً عورتوں کو کن قسم کے قانونی مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟
جواب۔ عورتوں کو گھریلو تشدد، طلاق، مہر کی بازیابی، بچوں کی قانونیت اور وراثت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ 1961 اور 1974 کے فیملی قوانین کے آنے سے عورتیں بھی اپنے حقوق کے لیے عدالت میں نظر آنے لگیں۔ جس پر یہ کہا گیا کہ یہ قوانین خراب ہیں جو عورتوں کو اتنی آزادی دے رہے ہیں۔
سوال 8۔ ہمارے یہاں کے پدرسری نظام میں عورتوں کے ساتھ تفریقی رویہ اور تشدد کا رجحان ہے۔ آپ نے اس سلسلے میں عورتوں کے قانون کی بالادستی کے لیے کیا کچھ کیا؟
جواب۔ میرے کئی فیصلوں کی اعلیٰ سطح پہ پذیرائی ہوئی۔ ایک مثال پی آئی اے کی شیریں دخت نامی ایک پارسی ائر ہوسٹس کی ہے جن کا مقدمہ پی آئی اے کی عورتوں کا مردوں کے مقابلے میں کم عمری میں ملازمت سے سبکدوشی کے حوالے سے تھا۔ اس زمانے میں پینتیس برس میں فضائی میزبان ملازمت سے زبردستی ریٹائرڈ کردی جاتی تھی۔ میں نے اس کی طرف سے کورٹ میں پٹیشن داخل کی۔ پی آئی اے کی طرف سے مقدمہ لڑنے والے وکیل فاروق نائیک نے کہا ہم عمر چالیس سال کر دیتے ہیں۔ مگر میرا کہنا یہ تھا کہ مردوں کے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ اور یہ آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ امریکن ائر لائنز میں تو پچاس سال کی عورت بھی فضائی میزبان ہوتی ہے۔ اور عمر کی وجہ سے خواتین ہی کو کیوں ریٹائرڈ کیا جاتا ہے۔ آپ ان کی وہی عمر رکھیں جو مردوں کی ہوتی ہے یعنی ساٹھ برس۔ یہ بطور جج میرا ابتدائی زمانے کا کیس تھا جو میں نے ساتھی جج اے آر قاضی کے ساتھ کیا۔ اس کی ججمنٹ میں نے لکھی اور یہ بات سپریم کورٹ میں بھی تسلیم کی گئی۔ اس طرح زبردستی ریٹائر منٹ کی بات ختم ہوئی۔ اب تو پی آئی اے میں لڑکیوں کی خاصی تعداد ہے۔
میں نے 1971 کی جنگ کے بعد اورنگی میں کام کیا تھا جہاں عورتوں کے لیے ہر تین چار جھگیوں کے بیج ایک واش روم بنوایا تاکہ خواتین پردے کے اندر رہ کے اپنی ضرورت پوری کر سکیں۔
سندھ ہیومن رائیٹس کمیشن میں آنے سے پہلے میں نے نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (قومی کمیشن برائے وقار نسواں ) میں کام کیا۔ جہاں 1979 میں جنرل ضیا کے دور میں اسلامی شریعت کے تحت نافذ ہونے والے حدود قوانین کے خلاف جنگ لڑی۔ میں نے یہ کام اس وقت کیا جب کوئی حدود قوانین کو ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہ تھا۔ 2003 میں اس کی رپورٹ پیش کی۔ پھر پورے حدود کے قوانین تقریباً ختم ہوکے ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2006 آیا۔ جو میری پہلی نمایاں کامیابی تھی۔ یہ کام مشکل تھا لیکن اس کا فائدہ خواتین کو ہوا۔ پہلے اسّی ( 80 ) فی صد عورتیں جیل میں زنا کیس کے حوالے سے آتی تھیں۔ ویمن پروٹیکشن کے قانون کے تحت وہ رہا ہوئیں۔ کیونکہ قانون میں تبدیلی کے بعد ان کی ضمانت ہونے لگی۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ لوگوں کو نہ قانون کا پتہ ہے اور نہ ہی ذرائع کا۔ اثر و رسوخ والوں کے پاس ذرائع ہیں اور قانون کا بھی علم ہے جبکہ عام طبقہ اس سے واقف نہیں۔ قانون ہونے کے ساتھ اس کا نفاذ ضروری ہے۔ قانون کے تحت سب برابر ہیں۔ اور قوانین عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہیں۔
سوال 9۔ کیا کبھی کسی مظلوم مرد کا بیوی کے ہاتھوں تشدد کا کیس لڑا ہے؟
جواب: جی ہاں ایک بہت شریف مرد کا گھریلو تشدد کا کیس تھا اس کی بیوی بہت موٹی اور طاقتور تھی اور اسے بہت مارتی تھی۔ اس کے بچے بھی باپ کی طرف تھے۔ تاہم عموماً مرد بیویوں پہ تشدد کرتے ہیں۔ لیکن وہی تشدد کرنے والے مرد جب کورٹ میں آتے ہیں تو اتنے شریف اور میٹھے لہجے میں بات کرتے ہیں کہ کوئی ان کا اصل جان ہی نہ سکے۔
سوال 10۔ ہیومن رائیٹس کمیشن کیا کام کرتا ہے؟
جواب: مختصراً اًس کمیشن کا فریضہ انسانی حقوق کی پاسداری ہے۔ اس کا مقصد جنس، نسل، عقیدہ یا مذہب، ڈومیسائل، معذوری، سماجی اقتصادی حیثیت، اور جنسی شناخت یا واقفیت کی بنیاد پر کسی امتیاز یا امتیاز کے بغیر قوانین کو لاگو کرنا اور ان کو انصاف دلانا ہے۔ خاص کر کمزور یا پسماندہ گروہوں پر جیسے خواتین، بچے، نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے ارکان، مزدور، کسان اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار۔ اس کے تحت ہم عورتوں بلکہ کمزور مرد، ٹرانس جینڈر اور غربت کے مارے لوگوں کو بچاتے ہیں۔ اس کا مینڈیٹ بڑا ہے جس میں ماحولیات اور جی ڈی پی وغیرہ بھی شامل ہے۔
سوال 11۔ کراچی میں قائم ”پناہ“ شیلٹر کے قیام کا محرک کیا ہے۔ اس سلسلے میں پناہ گزیر عورتوں کو کس حد تک قانونی اور دوسری مراعات حاصل ہیں؟
جواب: ہمارے سماج میں ایسی بے سہارا عورتوں کے لیے شیلٹر کا مطالبہ عرصے سے تھا کہ جنہیں کھڑے کھڑے مار پیٹ اور تشدد کے بعد گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔ پہلے یہ آرگنائزیشن کے طور پہ اپریل 2001 میں رجسٹر ہوئی جس میں اس کے چھ فاؤنڈنگ ممبران تھے۔ جو اس وقت اس کے ٹرسٹی تھے اور آج بھی ہیں۔ اس ادارے میں قانونی اور سماجی تربیت اور دوسری ضروریات کو نظر میں رکھا جاتا ہے۔ ”پناہ“ ان تشدد کا شکار پریشان حال عورتوں کے لیے سہارا اور ایسی پرسکون جگہ ہے جہاں انہیں سخت حفاظتی نظام کے تحت رکھا جاتا ہے۔ یہاں الارم سسٹم، سی سی ٹی وی کیمرہ اور گاڑیوں کی ٹریکنگ کا نظام ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی حفاظت، قانونی رضاکار، طبی اور نفسیاتی معالجہ کے لیے عورتوں کی مدد دی جاتی ہے۔ ان خواتین کے ساتھ کبھی ان کے بچے بھی ہوتے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کی تعلیم اور مختلف قسم کے تربیتی کورسز کے علاوہ گیمز، آرٹ تھرپی اور یوگا وغیرہ کی بھی سہولت ہے۔ ”پناہ“ میں ان کے قیام کی مدت کم ازکم تین ماہ ہوتی ہے جو انفرادی ضرورت کے مطابق بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ عورت اپنی صلاحیتوں پہ انحصار کر کے اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونا سیکھ لے۔
ہمارے ادارے میں ایسے بارسوخ گھرانے کی عورتیں بھی ہوتی ہیں کہ جنہیں ان کی جائیداد سے محروم کرنے کے لیے تشدد کر کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔ انہیں نشہ کا عادی کر دیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرنے والے ان کے اپنے قریبی رشتہ دار ہی ہوتے ہیں۔
سوال 12۔ 1994 میں اپنے جج کے عہدے پہ فائز ہونے کی اطلاع پہ آپ کے کیا تاثرات تھے؟
جواب: مجھ سے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کا نام ہائی کورٹ کے جج کے لیے بھیج رہے ہیں۔ یہ میرے لیے بہت مسرت کی بات تھی۔ ساتھ ہی مجھ سے یہ بھی کہا گیا کہ شیروانی پہنی ہوگی۔ اس زمانے میں جیکٹ کے بجائے شیروانی لباس تھا۔ جو اگلے دن کے لیے آرڈر کیا گیا۔ اکثر لوگوں نے کہا شیروانی کے ساتھ سر پہ دوپٹہ پہنا کریں یا ساری کا پلو سر پہ ڈالا کریں۔ مگر میں نے کہا میں جیسی پہلے تھی ویسے ہی رہوں گی۔
سوال 13۔ آپ کا کام سخت محنت طلب ہے۔ آپ اپنی تفریح اور سکون کس میں ڈھونڈتی ہیں؟
جواب: میں ہمیشہ سے اس بات کی قائل ہوں کہ گھر نہ بیٹھا جائے بلکہ کچھ نہ کچھ کام کرتے رہنا چاہیے۔ مجھے فلاحی کاموں میں سکون ملتا ہے۔ مثلاً میں ادیب رضوی کے گردے کی تبدیلی یا کڈنی transplant کے علاج کے ادارے SIUTکے ساتھ منسلک ہوں۔ ان کے قوانین بنوائے اور نافذ کیا۔ مجھے باغبانی کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے۔ میرے پاس مختلف رنگوں کے چار سو گلاب کے پودے تھے۔ اب تو اپارٹمنٹ میں رہتی ہوں، جس میں پچاس ساٹھ گملے ہیں۔ والنٹیر کاموں، گملوں کی دیکھ بھال اور دوسرے کاموں میں وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ میری ایک ہی بیٹی ہے اسے اور اس کے تینوں بچوں کو بھی فلاحی کاموں سے دلچسپی ہے اور اب تو وہ خود کماتے ہیں اور اداروں کو عطیات دیتے ہیں۔ ان کا یہ عمل میرے لیے اطمینان کا باعث ہے۔
اس سوال کے جواب کے بعد ہم نے شکریہ کے ساتھ ماجدہ رضوی صاحبہ سے اجازت طلب کی۔




