تیسری عالمی جنگ


کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ دراصل تیسری جنگ عظیم کا آغاز ہے۔ امریکہ میں 11 ستمبر کے حملوں کو دوسری جنگ عظیم میں پرل ہاربر پر ہونے والے حملے سے مماثلت دی گئی جس کے بعد امریکہ کو جنگ کا جواز مل گیا تھا۔ اگرچہ بہت سے لوگ اسے افسانہ قرار دیں گے لیکن پہلے یوکرائن روس اور اب فلسطین اسرائیل جنگ کے پس منظر تیزی سے بدلتے بین الاقوامی حالات کے تناظر میں، میں اسے ایک افسانوی حقیقت قرار دیتا ہوں۔

اس حقیقت سے انکار کبوتر کا بلی کو سامنے دیکھ کے آنکھیں بند کر لینے کے مترادف ہے۔ مصیبت نازل ہو چکی ہے اگرچہ آپ اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک ہتھوڑا آپ کے سر پر نہیں لگے گا۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر ایٹمی ہتھیاروں کی ترقی اور استعمال کے سبب یہ خطرہ ظاہر ہوا کہ تیسری عالمی جنگ کی صورت میں دنیا ان خطرناک ہتھیاروں کی بدولت صفحہ ہستی سے مٹ سکتی ہے اور انسانی تہذیب کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لہٰذا بعد میں مختلف ملکوں کے مابین ہونے والے تصادم کو فوجی کشمکش کا نام دیا جاتا رہا اور اب غیر علانیہ تیسری عالمی جنگ اپنے عروج پر ہے۔

اگرچہ اس کی تکنیک منفرد ہے لیکن درحقیقت اپنے اثرات کے لحاظ سے یہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ تازہ تنازعات اور جنگیں دنیا میں نئے بلاکس اور گٹھ جوڑ تشکیل دے رہے ہیں۔ حالیہ عشروں کی زیادہ تر جنگیں ترقی پذیر ممالک خاص طور پر مسلم ممالک کی سرزمین پر لڑی گئی ہیں یا لڑی جا رہی ہیں۔ ان جنگوں کا ایک مقصد یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی ترقی کو بریک لگائی جائے کیونکہ اگر یہ ترقی پذیر ممالک ترقی یافتہ ہو گئے تو ان نام نہاد مہذب اور ترقی یافتہ قوموں کے لئے تجارتی منڈیاں سکڑ جائیں گی اور ایسا وہ کسی طور برداشت نہیں کر سکتے۔

فلسطین میں جاری بربریت پر مغرب کی خاموشی اور انسانی حقوق کے بارے میں اس کے منافقت اور تضادات سے بھر پور رویے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ حیرت ہے کہ 21 ویں صدی میں بھی تہذیب کے عروج پر پہنچ کر انسان انسان کا گلا کاٹ رہا ہے، غربت اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے، امیر اور غریب میں فرق بڑھتا جا رہا ہے، انسان سوشل سٹیٹس کے چکرویو میں مزید دھنستا جا رہا ہے اور انسانوں کے درمیان واضح سماجی عدم رواداری دیکھی جا سکتی ہے۔

لیکن یہ سارا کلچر ترقی یافتہ ممالک میں نظر نہیں آتا بلکہ صرف ترقی پذیر اور غریب ممالک میں ہی ہے کیونکہ سرمایہ دار ممالک نے صارف منڈیوں پہ اجارہ داری اور ان کا کنزیومر سٹیٹس قائم رکھنے کے لئے جان بوجھ کر تیسری عالمی جنگ کے لئے غریب اور ترقی پذیر ممالک کا انتخاب کیا ہے۔ ان ممالک کی شرح ترقی کی روک تھام کے لئے پراکسی وار، فرقہ واریت، قوم پرستی، صوبائیت، دہشت گردی کو فروغ دینا، نا اہل، مغرور اور بد دیانت قیادت اور افسر شاہی کو پروموٹ کرنا اور ان ممالک کو مختلف حیلوں بہانوں سے قرضوں کے چنگل میں جکڑنا اس تیسری عالمی جنگ کی خاصیت اور مقاصد کا حصہ ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں محض 8 نئے ممالک کا اضافہ ہوا جبکہ کئی دہائیوں سے جاری غیر علانیہ تیسری عالمی جنگ میں اب تک بیسیوں ممالک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں جن میں پاکستان کا دو لخت ہونا بھی شامل ہے۔ یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک سرمایہ داروں کے ایک عالمی نظریاتی مفاداتی ٹولے کو دنیا بھر میں غلبہ حاصل نہیں ہو جاتا۔ 1914۔ 18 تک لڑی جانے والی چارہ سالہ جنگ میں توقع کی گئی تھی کہ یہ آئندہ تمام جنگوں کا خاتمہ کر نے والی (War to end all wars) ثابت ہو گی لیکن 1939۔45 تک رہنے والی دوسری جنگ عظیم جبکہ 1947۔ 1991 کے دوران ہونے والی کولڈ وار نے اس نظریہ کو غلط ثابت کر دیا۔ امریکی میرین کارپس کے سابقہ میجر جنرل سمیڈلی بٹلر (Smedley Butler) جو امریکی فوجی تاریخ کے کامیاب ترین جرنیل ہیں جنھوں نے چائنہ، فرانس، وسطی امریکہ، کریبین اور دنیا کے بہت سے دیگر علاقوں میں امریکی فوجی مہمات کو سر کیا اور بعد میں اینٹی وار کارکن (Anti war Activist) کے طور پر مشہور ہوئے اپنی یادداشتوں (War is a racket) میں کچھ یوں رقم طراز ہیں : ”میں نے لیفٹیننٹ سے لے کر میجر جنرل کے عہدے تک اپنے 33 سال چار ماہ کے فوجی کیرئیر میں تمام اہم پوسٹوں پر کام کیا۔

اس دوران میرا زیادہ تر کام وال سٹریٹ، بینکوں اور بڑی کاروباری کمپنیوں کے مفادات کے لئے کام کرنا تھا۔ مختصر یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کے لئے ایک آلہ کار اور گینگسٹر کے طور پر میرا استعمال کیا گیا۔ امریکہ کے تیل کے مفادات کے لئے میں نے میکسیکو میں فوجی طاقت کے ذریعے سازگار حالات پیدا کیے۔ نیشنل سٹی بینک کی لوٹ مار کا راستہ ہموار کرنے کے لئے میں نے کیوبا اور ہیٹی میں کام کیا۔ وال سٹریٹ کے فائدے کے لئے میں نے وسطی امریکا کی کئی ریاستوں کو پامال کیا۔

نکاراگوا میں براؤن برادرز کے بینکنگ ہاؤس کے قیام کے لئے میں نے راستہ صاف کیا۔ امریکہ کی شوگر ملوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے میں نے کئی ریاستوں کو پامال کیا۔ ہنڈورس میں امریکہ کی فروٹ مارکیٹ کو فروغ دینے کے لئے کام کیا۔ چائنہ میں، میں نے امریکی سٹینڈرڈ آئل کمپنی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کام کیا۔ اس طرح دنیا کے تین بر اعظموں میں، میں نے امریکہ اور عالمی سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کام کیا۔

قومی مفادات کی آڑ میں لڑی جانے والی ان تمام جنگوں میں مجھے ہمیشہ یہ خدشہ اور شک رہا کہ میں ایک آلہ کار کے طور پر استعمال ہو رہا ہوں۔ اور اب مجھے واقعی ہی اس کا یقین آ گیا ہے۔“ بٹلر بعد میں امریکی جنگی پالیسیوں کے بہت بڑے نقاد کی حیثیت سے سامنے آئے اور ان جنگوں کے پس منظر میں عالمی سرمایہ داروں کے مفادات کو طشت از بام کرنے کے لئے آخر دم تک لڑتے رہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ روس کی کمیونزم تھی چنانچہ تیسری عالمی جنگ کا ایک حصہ تو روس کے انہدام کے بعد مکمل ہو چکا ہے، اگرچہ روس اب دوبارہ انگڑائیاں لینے کی کوشش کر رہا ہے لیکن افغانستان کی طرح یوکرائن میں دوبارہ سینگ پھنسا کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے چنگل میں بری طرح پھنس چکا ہے۔

یہ بات بھی طے ہے کہ روس بذات خود اب سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ بن چکا ہے اور اشتراکی نظریات ماضی کا قصہ بن چکے ہیں لیکن ہم مسلمانوں کی طرح روسی قیادت بھی شاید اپنے درخشاں ماضی کے سراب سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو درپیش دوسرا بڑا خطرہ اسلام سے ہے کیونکہ اسلامی ممالک ایک وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جن کے پاس دنیا کے بیش قیمت معدنی وسائل ہیں اور مسلمانوں کی افرادی طاقت بھی مسلمہ ہے۔

اس لیے تیسری عالمی جنگ کے اس دوسرے حصے میں کئی اسلامی ملکوں پر جنگ مسلط کی گئی اور کئی ایک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار بنایا گیا اور یہاں مزاحمت بھی نہیں ہو سکتی کہ فرقہ وارانہ اور سیاسی اختلافات کی بنیادوں پر مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لئے ایسی چالیں چلی جا رہی ہیں کہ مسلمان خود کو گاجر مولی کی طرح خود کاٹ رہے ہیں اور دنیا تماشا دیکھ رہی ہے۔ اگر کوئی مسلمان اب بھی طالبان، داعش، بوکو حرام اور اس قبیل کی دوسری جنگجو تنظیموں کو اسلامی دنیا کا محافظ سمجھے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

بیشتر اسلامی ممالک کو تباہ کرنے کے لئے اس کے نکمے اور مفاد پرست حکمران اور یہ نام نہاد جنگجو تنظیمیں ہی کافی ہیں کیونکہ ان دونوں کے سرپرست اعلیٰ یہ عالمی سرمایہ دار اور ادارے ہی ہیں۔ ایک کہاوت ہے کہ لوہا لوہے سے کاٹا جاتا ہے سو اگر ہم نے اپنا بچاؤ کرنا ہے تو ہمیں بھی تنازعات میں الجھنے اور اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے علم، ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم کا سہارا لینا ہو گا، خالی کفار کو بد دعا دینے اور فرشتوں کی نصرت پر معاملات کو چھوڑ دینے سے کام نہیں چلے گا۔ اس کے علاوہ ہمیں پر امن جدوجہد سے اپنے نظام کی خامیوں جیسا کہ کرپشن، سماجی

برائیوں، استحصال، اقربا پروری اور اجتماعی مفادات کی بجائے انفرادی مفادات جیسی سوچ پر قابو پانا ہو گا اور نالائق اور بد عنوان حکمرانوں سے پر امن سیاسی جدوجہد سے نجات حاصل کرنا ہو گی اور نظام کی خامیوں پر قابو پانے کے لئے فرسودہ اور سست افسر شاہی نظام کی بجائے فعال اور حقیقی معنوں میں عوام دوست نظام لانا ہو گا ورنہ ہم پکے ہوئے پھل کی طرح عالمی سامراج کی جھولی میں گر جائیں گے۔ ہمیں تیسری عالمی جنگ کے خاتمے اور اس کو ناکام بنانے کے لئے عالمی سطح پر مہذب دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا اور ہر طرح کی انتہا پسندی کو شکست دینا ہو گی ورنہ طاقت اور دولت کے نشے میں بدمست کچھ بددیانت ذہنی مریض دنیا کا امن تباہ و برباد کر دیں گے۔ بقول فرینک ہربرٹ: ”طاقت (Power) حاصل کرنے کے خواہش مند زیادہ تر ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ درحقیقت طاقت بددیانت نہیں بناتی بلکہ بددیانت لوگوں کے لئے طاقت میں مقناطیسی کشش ہوتی ہے۔“


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments