محبت کا لوک گیت: امروز
امروز بھی چلا گیا، اسے جانا ہی تھا اور آخر کیوں نہ جاتا؟ امرتا نے اس کے ساتھ وعدہ جو کیا تھا کہ ”میں تینوں فیر ملاں گی“ ۔ اب امرتا اور امروز اس دنیا سے پار کہیں اوپر والی جنت میں دوبارہ مل چکے ہیں۔ عاشق سے اگلے درجے پر بھی اگر کوئی لفظ ہے تو اس کا پہلا حقدار بھی امروز ہی ٹھہرے گا۔ امروز نے امرتا کے ساتھ محبت نہیں، پرستش کی تھی۔ ان میں شادی بیاہ جیسا کوئی دنیاوی رشتہ نہیں تھا۔ وہ دونوں پریم کے رشتے کے ساتھ ہی چالیس سال اکٹھے زندگی گزار گئے۔ دھرم چاریوں نے ان کے اس غیر مذہبی رشتے پر بہت تنقید کی، بہت کچھ لکھا اور بولا مگر ان کی سچی پریت کے سامنے وہ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور سارے ایک ایک کر کے اپنی موت آپ مر گئے۔ بس پیار محبت اور عشق کرنے والے زندہ رہ گئے۔
فروری 2008 میں جب میں نے عاشقوں کی اس جنت میں اپنا پیر رکھا، تب تک امرتا کو اپنے حوض خاص دہلی والے گھر کو الوداع کہے تین سال ہو چکے تھے اور امروز اس گھرمیں امرتا کی یادوں کے دیپ جگائے بیٹھا تھا۔ امروز نے میرے ساتھ، اپنے اور امرتا بارے ان تین دنوں میں کھل کے باتیں کیں۔ ساحر لدھیانوی کے ساتھ امرتا کی پریت بارے بھی بات ہوئی، امرتا، ساحر، امروز کی یہ تکون بہت گنجل دار محبت کی ایک میوزیکل چیئر تھی جس کے آخر میں ایک بندے کو کھیل سے باہر ہونا ہی تھا۔ پیار کی ونجھلی والا میوزک تھما تو ساحر کی بجائے امروز کرسی پر بیٹھا نظر آیا۔ امرتا نے محبت کے اس دیوتا کے گلے میں اپنے عشق کی مالا ڈال کے سوئمبر رچایا۔ پھر امروز نے بھی امرتا کو اپنے عشق کی دیوی جان کے اس کے چرنوں میں اپنا تن من دھن سب کچھ وار دیا، سبھی کچھ ہار دیا۔
امروز کہنے لگا کہ میں روز دیکھتا تھا کہ امرتا بسوں، رکشاؤں میں دھکے کھاتی ریڈیو پر اپنا پروگرام کرنے جاتی ہے۔ میرا دل کڑھتا تھا اور مجھے اکساتا کہ تو امرتا کے لئے کچھ کر۔ میں ان دنوں میں شمع رسالے کی نوکری کرتا تھا اور میرے مالی حالات بھی گزارے لائق کافی اچھے تھے۔ میں نے کجھ پیسے جوڑ جمع کر کے اک موٹر بائیک لے لیا اور امرتا کو بولا اب تو میں تیرا ڈرائیور بن کے تجھے کام پر چھوڑ آیا کروں گا اور واپسی پر لے بھی آؤں گا۔ امرتا نے یہ سن کے میرے منہ کی طرف دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں سے میرا شکریہ ادا کیا۔ اب میں روز امرتا کو اپنے موٹر بائیک پر بٹھا لے جانے لگا۔ مجھے پتا تھا کہ امرتا ساحر کو پیار کرتی ہے اور اکثر بے خیالی میں اوہ میرے پیچھے بیٹھی میری کمر پر اپنی انگلیوں سے ساحر ساحر لکھتی رہتی۔ بلھے شاہ جی نے فرمایا تھا!
رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
سدو نی مینوں دھیدو رانجھا ہیر نہ آکھو کوئی
امروز جی کے ساتھ کی ہوئی ساری باتیں، پاکستان آنے کے بعد میں نے کتابی شکل میں ”امروز: محبت دا لوک گیت“ کے نام سے چھپوا دی اور یادوں کی سوغات کی صورت میں امروز جی کو دہلی والی امیہ کنور جی کے ہاتھ پہنچائی اور امروز جی نے کتاب چوم کر میرا شکریہ ادا کیا۔ مجھے یوں لگا کہ میری محنت اور سفر کی ساری قیمت وصول ہو گئی۔
امروز جی سے میرا رابطہ پاکستان واپس آنے کے بعد بھی جاری رہا۔ میں اپنا خط لکھ کے امرتا کے پوتے کو ای میل کر دیتا اور وہ پرنٹ نکال کر امروز جی کو دے دیتا، پھر ان کا جواب بھی سوہنے، خوشخط نستعلیق شاہ مکھی میں لکھا ہوا میرے تک بذریعہ ای میل پہنچ جاتا۔ کبھی کبھار فون پر بھی بات کر کے ان کی آواز سن لیتا۔ مگر آج یہ سارے رابطے ٹوٹ گئے ہیں۔ امروز جی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے یقین ہے کہ کی بے چین روح اب شانت ہو گئی ہو گی، امرتا جی نے اپنی باہیں پھیلائے اپنے جیون ساتھی کا استقبال کیا ہو گا۔ ایسی مثالی عاشق جوڑیاں جہاں میں بہت کم ہیں۔





