ننگے پاؤں (3)


تختی کی گاچنی اور پہلا باغی

میری ماں نے لکڑی کی تختی پر گاچنی ملی اور سوکھنے کے لئے اسے دھوپ میں رکھ دیا۔ اگلے دن میں نے سکول میں داخل ہونے جانا تھا

جب میں ڈرا سہما سکول پہنچا تو سامنے سکول کیا تھا بس غالب کا معروف مصرع تھا
بے درو دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے

ریلوے لائن کے قریب، چار دیواری کے بغیر ایک میدان سا تھا جس کے آخر میں کچھ کمرے تھے۔ چاردیواری ہی نہیں تھی تو مجھ کجے کے بیٹھنے کے لئے بنچ کہاں آتا۔ جی ہاں میری گول مٹول صحت کی وجہ سے مجھے کجا بھی کہا جاتا تھا۔ یعنی ایک ایسا برتن جس میں عموماً گھی رکھا جاتا۔ بس ماسٹر جی کی ایک کرسی اور میز تھا اور ایک چھڑی۔ بچے بیٹھنے کے لئے اپنے اپنے گھر سے ٹاٹ یا پرانی چادر لے آتے۔ کچھ عرصہ بعد میونسپل کمیٹی نے، اس قطعۂ زمین کے سامنے کہ جسے سکول کہا جاتا تھا ایک اور قطعۂ زمین لیا اور عمارت کی تعمیر شروع کر دی اور میرے تیسری یا چوتھی جماعت تک پہنچتے پہنچتے وہ عمارت مکمل ہو گئی اور ایک دن میری جماعت کے بچے نئے سکول کے برآمدے میں کان پکڑے، مرغے بنے ہوئے تھے۔

یہ عجیب سزا تھی، وحشیانہ اور یہ مزید وحشیانہ ہو جاتی جب ماسٹر مرغا بنا کر کمر پر اینٹ رکھ دیتے یا کسی دوسرے لڑ کے کو اس کی کمر پر سوار کر دیا جاتا۔ مار نہیں پیار کا اصول کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا بلکہ پیار نہیں مار کے آہنی اصول پر عمل کیا جاتا۔ کئی باپ بھی استادوں کے پاس آتے اور کہتے ”ماسٹر جی کھل تواڈی تے ہڈیاں ساڈیاں۔ تسیں ایہنوں پڑھا دیو۔“

فیاض کالے نے البتہ ایک دن ہیڈ ماسٹر سے اس کی ساری مار پیٹ کا بدلہ لے لیا۔

2021 کا کوئی مہینہ تھا جب میرے ایم اے فلم اینڈ ٹی وی کے سٹوڈنٹس زینب عرشی اور محسن میرے بارے ایک ڈاکومنٹری بنانے کی غرض سے مجھے میرے پنڈ میاں میر لے گئے تو گلیوں سے گزرتے ہوئے میں ایک، صدی پرانے گھر کے سامنے کھڑا ہو گیا اور گھنٹی کا بٹن دبا دیا۔ اس امید پر کہ فیاض کالا باہر آ کر گلے لگے گا اور میں ماضی کی خوشبو میں نہا جاؤں گا مگر ایک نوجوان باہر آیا اور مجھے بتایا کہ وہ تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

اور وہ جو، اب اس دنیا میں نہیں ہے وہ میری زندگی کا پہلا باغی تھا۔ ہم پانچویں جماعت میں تھے اور فیاض کالا جماعت کا مانیٹر تھا۔ وہ کلاس میں ہیڈ ماسٹر کے سر میں مالش کرتا اور کندھے دباتا مگر پھر بھی مار سے نجات نہ ملتی۔ پھر وہ دن آ گیا۔ باغی کی بغاوت کا دن۔ بارش ہو کر ہٹی تھی اور سکول کا صحن پانی سے بھر پور تھا۔ ہیڈ ماسٹر کو گھر جانے کی جلدی تھی۔

فیاض نے اس کا حل یہ نکالا کہ کلاس سے دو بنچ اٹھائے اور سکول کے صحن میں پانی سے بنے تالاب کے شروع میں رکھ دیے۔ ہیڈ ماسٹر ایک بنچ پر کھڑا ہو کر دوسرے بنچ تک جاتا تو فیاض پچھلا بنچ آگے رکھ دیتا۔ جب ہیڈ ماسٹر سکول کے صحن کے درمیان پہنچا اور ایک بنچ سے دوسرے بنچ پر منتقل ہونے کے لئے پاؤں اٹھایا تو فیاض نے وہ بنچ غیر محسوس طریقے سے کھسکا دیا۔ اور ہیڈ ماسٹر پانی میں گر گیا۔ فیاض نے ہاتھ بڑھایا، ہیڈ ماسٹر نے تھاما، کچھ ہیڈماسٹر نے ہمت کی اور کچھ فیاض نے زور لگایا اور یوں وہ انہیں اٹھانے میں کامیاب ہو گیا۔ نتیجتاً فیاض ہیرو کے روپ میں ابھرا۔

پھر ایک منظر ایسا بھی میں نے دیکھا کہ اس کی اندوہناکی دل سے نہیں جاتی۔ ایک انتہائی شریف ماسٹر جی تھے جو اردو پڑھاتے تھے مگر ان کی اردو بس یونہی تھی۔ ایک دن انہوں نے بلیک بورڈ پر ”طے کرنا“ لکھتے ہوئے ’طیں کرنا ”لکھ دیا۔ اتفاقاً اسی لمحے ہیڈ ماسٹر کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس کی نظر پڑی تو کلاس روم میں آ گیا۔ لفظ کی تصحیح کی، استاد کی سرزنش کی اور چلا گیا مگر وہ شریف استاد“ ماسٹر طیں ”کے نام سے معروف ہو گئے۔

انہیں لسی پینے کا بے حد شوق تھا۔ سکول کا ایک بچہ ان کے لئے گھر سے پکی لسی لے کر آتا جو وہ چھپ کر پی لیتے۔ ایک دن انہیں کوئی اور جگہ نہ ملی تو وہ سکول کی ٹائلٹ میں جا کر پینے لگے۔ کچھ بچوں نے دیکھ لیا اور باقی بچوں کو بتا دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ سب مل کر شور مچانے لگے۔

” طیں لسی پی گیا، طیں لسی پی گیا“ اس دن کے بعد سے انہیں سکول میں کسی نے نہیں دیکھا۔ نہ جانے خود چھوڑ گئے یا نکال دیے گئے۔ مگر میں نے انہیں دیکھا۔ اور یہی وہ اندوہناک منظر تھا۔ میں نے انہیں میاں میر پنڈ کے قریب سے گزرتی ہوئی ریلوے لائن کے قریب بائیسکل پر گڑ رکھ کر بیچتے ہوئے دیکھا۔ اور میں بچہ ہوتے ہوئے بھی دکھی ہو گیا۔

جب میں نے پاکستانی فلم سلمیٰ دیکھی اور اداکار علاؤ الدین کو گول گپے بیچنے والے کے روپ میں یہ گانا گاتے ہوئے دیکھا

گول گپے والا آیا
گول گپے لایا
تو مجھے پرائمری سکول کے باہر گول گپے بیچنے والا بہت یاد آیا۔

سکول میں جب بروز جمعہ آدھی چھٹی ہوتی تھی اور سب بچے خوشیاں مناتے، گاتے باہر نکلتے
ادھی چھٹی ساری
ادھی چھٹی ساری
ماسڑ وچارا کی کرے
ٹھندا پانی پی مرے

اور باہر نکل کر گول گپے والے کے گرد ہو جاتے جو زمین پر کھٹے پانی کا گھڑا رکھے، ایک چھکو میں گول گپے اور ایک پیالے میں ابلے ہوئے سفید چنے ڈالے منتظر ہوتا۔ ان دنوں کھٹا واقعی املی سے بنایا جاتا تھا اور ٹاٹری کا تصور نہیں تھا۔ وہ گول گپے اصلی گول گپے تھے جن میں وہ اپنے انگوٹھے سے سوراخ کرتا، ان میں دو، دو دانے سفید چنوں کے ڈالتا، پھر ان میں کھٹا بھی خود ہی ڈالتا اور پلیٹوں میں رکھ کر بچوں کو دے دیتا اور بچے اپنے بچپن کی واحد عیاشی سے لطف اندوز ہوتے۔

وہ گول گپے آج کل کے گول گپوں کی طرح نہیں تھے کہ جن میں دنیا جہاں کی چیزیں ٹھونس دی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یقین کرو یہ گول گپے ہیں۔

ان دنوں جب میں یونیورسٹی میں میڈیا پڑھاتا ہوں تو سٹوڈنٹس مجھ سے پوچھتے ہیں کہ سر اس عمر میں آپ کی یادداشت اتنی اچھی کیسے ہے تو میں انہیں اپنے سکول کے زمانے میں لے جاتا ہوں جب ہمیں پہاڑے رٹائے جاتے تھے۔ یوں یاد رکھنے کی مشق بھی ہو جاتی اور حساب میں نمبر بھی اچھے آ جاتے۔

کلاس کے بچوں کی آمنے سامنے دو قطاریں بنا دی جاتیں اور اونچی آواز میں پہاڑے رٹائے جاتے
ایک قطار کے بچے کہتے۔
اک دونی دونی، دو دونی چار
اور دوسری قطار کہتی
تن دونی چھ چار دونی اٹھ
اور اس طرح پہاڑا آگے بڑھتا جاتا
ہمیں ڈیوڑھے اور ڈھائے کے پہاڑے بھی رٹائے گئے جو ابھی تک یاد ہیں
جیسے
اک ڈیوڑھا ڈیوڑھا دو دیوڑھے تن
یا ایک ڈھایا ڈھایا دو ڈھائے پنچ
بچوں نے تنگ آ کر اپنے پہاڑے بنا لیے جن میں ایک یوں تھا
اک ڈھایا ڈھایا
ڈھا کے بنایا
ڈھائے نوں ماری لت
ہو گئے پورے ست

انگریزی میں تو انہیں ٹیبلز کہتے ہیں مگر اردو میں انہیں پہاڑا کیوں کہا جاتا ہے۔ اس پر غور کرنے سے یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ انہیں یاد کرنا پہاڑ پر چڑھنے سے کم نہیں تھا۔

پہاڑ جیسی غربت اور صحرا
جب میرے ابا جی اس پہاڑ جیسی غربت سے تنگ آ گئے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب غریب نہیں رہنا۔

سیاست میں میرے ہیرو قائداعظم ہیں اور زندگی میں میرے ابا جی۔ جس طرح اگر قائد اعظم مسلسل جد و جہد نہ کرتے تو پاکستان کبھی نہ بنتا اسی طرح اگر میرے ابا جی پیہم محنت نہ کرتے تو ہماری زندگی بھی رل گئی ہوتی۔

وہ بہادر شخص جو میری حاملہ ماں کو پاکستان بننے سے کچھ دن پہلے امرتسر کے پنڈ بچی ونڈ سے اپنی بائیسکل پر بٹھا کر لاہور لے آیا۔ مٹی سے بنے گھر میں جس کی چھت پر بارش ایک دن برستی تو چھت کئی دن رستی، میں وہیں پیدا ہوا، میری ماں کے الفاظ میں ”تڑکے ویلے“

میں ماں باپ کی پہلی اولاد نہ تھا۔ پاکستان بننے سے پہلے شفیق پیدا ہوا تھا جو کچھ ہی دن جیا۔
میں ذرا سا بڑا ہوا تو انہوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرنا شروع کر دیا۔
اور پھر وہ صحرا تھا جس کے بارے میں شکیب جلالی نے کہا ہے
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے

اس صحرا میں خیمے تھے جن میں اس بہادر آدمی نے بودوباش کی۔ ’اختیار کی‘ اس لئے نہیں لکھا کہ اس کا اختیار تھا ہی نہیں۔ ان خیموں میں ابا جی دوسرے تارکین وطن کے ساتھ رہتے۔ پینے، نہانے اور وضو کے لئے انہیں ایک ڈرم ملتا۔ گرمی، سردی سہتے اور حقیقتاً خون پسینے کی کمائی ہماری غربت دور کرنے کے لئے بھیجتے۔

اور پھر مجھے وہ مزدور اچھی طرح یاد ہے جو ہمارے مکان کی کچی دیوار کو ’کہی‘ سے توڑ رہا تھا تاکہ وہاں پکی دیوار اٹھائی جا سکے۔ کچی دیواروں سے پکی دیواروں تک آنے میں کتنا خون پسینہ ایک ہوا ہو گا۔ اس کا احساس مجھے ان دن ہوا جب ابا جی نے میرے لئے بھی کویت جانے کا انتظام کیا۔ اپنے کفیل سے ویزا لیا اور ایک دن میں ایم اے پاس، پاکستان ٹیلی وژن کا پروڈکشن اسسٹنٹ اور شاعر، کویت آئل کمپنی کے مین سٹیم پاور سٹیشن میں مشین کے ایک پرزے کو صاف کر رہا تھا۔ ابا جی نے بھی کویت آئل کمپنی کے اسی ڈیپارٹمنٹ میں مشقت کی تھی اور ان کا ہندو فورمین رمیش میرے پاس کھڑا کہہ رہا تھا۔ ”میں نے رفیق سے کہا تھا یہ کام تمہارے اتنے پڑھے لکھے بیٹے کے لئے مناسب نہیں مگر اس نے تمہیں بلا لیا کہ آ جائے گا تو کوئی راہ نکل آئے گی۔ لیکن جب تک تم یہاں ہو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔“ سو میں کچھ نہ کچھ کرنے میں مصروف ہو گیا۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS