ہیں پرانے وہی غم نئے سال میں


کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شے اتفاقاً ہمارے سامنے آجاتی ہے اور پھر ہماری زندگی کا معمول بن جاتی ہے۔ اور پھر وہ معمول روایت سی بن جاتا ہے۔

پرانی یعنی ”زمانہ قبل از سوشل میڈیا“ کی بات ہے۔ میں نے یورپ میں قیام کے دوران میں اپنا پہلا نیا سال دریائے رائن کے کنارے واقع خوب صورت تاریخی شہر کولون میں منایا تھا۔ یہ انیس سو نوے کی بات ہے۔ رائن کی لہروں میں آتش بازی کے رنگا رنگ عکس ابھرتے اور بکھرتے ہوئے دیکھنے کے بعد میں اپنے دوست اور وائس آف جرمنی میں اپنے ہم۔ کار امجد علی کے ساتھ دسویں منزل پر واقع اس کے اپارٹمنٹ پہنچا تو اس نے حسب معمول چائے تیار کی۔ دو بڑے مگ سامنے میز پر رکھے اور خود بھی صوفے پر آ بیٹھا اور ٹی وی کا ریموٹ اٹھائے میری طرف دیکھ کر بولا:

”آج اکتیس دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب ہے۔“
ہاں، ہے۔ تو کیا؟ ”میں نے استفسار کیا“

تو یہ کہ اب ہم ٹی وی پر وہ شو دیکھیں گے جو یہاں تقریباً سبھی گھرانے ہر سال دیکھتے ہیں۔ ”امجد نے جواب دیا۔“

ایسا کون سا شو ہے بھلا؟ ”میں نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے تجسس سے پوچھا۔“

یہ رہا وہ شو۔ بس چھوٹا سا ڈرامہ ہے۔ امید ہے تمھیں بھی پسند آئے گا۔ ”یہ کہتے ہوئے اس نے ٹی وی لگا دیا۔“

میں نے دیکھا کہ سکرین پر ایک بلیک اینڈ وائیٹ شو آغاز ہو رہا تھا۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ ڈرامہ یا تمثیلی خاکہ انگریزی میں تھا۔ جبکہ لگ بھگ سبھی انگریزی پروگرام اور فلمیں یہاں جرمن زبان میں دکھائی جاتی تھیں۔ تمثیل کے آغاز میں دو ایک منٹ جرمن زبان میں تعارف پیش کیا گیا اور پھر کھیل شروع ہو گیا۔ جس کا نام تھا:

Dinner for One OR 90th Birthday
یعنی ایک فرد کا عشائیہ یا 90 ویں سال گرہ

یہ تمثیلی خاکہ دو کرداروں پر مشتمل تھا۔ مس سوفی اور اس کا خانساماں جیمز۔ بس دو کردار اور کل اٹھارہ منٹ کا دورانیہ۔

کہانی کچھ یوں تھی کہ مس سوفی ہر سال کی طرح اپنی سال گرہ منا رہی ہے۔ آج اس کی 90 ویں سال گرہ ہے اور اس موقع پر اس نے ہر سال کی طرح اس بار بھی اپنے چار قریبی دوست عشائیے پر مدعو کر رکھے ہیں۔ وہ چار دوست جو دراصل اب دنیا میں نہیں رہے۔ لیکن مس سوفی اور جیمز نے ان کے لیے بھی کرسی میز سجا رکھی ہے جیسے وہ وہیں موجود ہوں۔ اس مزاحیہ تمثیل میں جیمز مس سوفی کے ساتھ ساتھ ان چار فرضی مہمانوں کی بھی تواضع کرتا بلکہ ان کے ساتھ مکالمہ کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ کھانے کے بعد وہ ان سب کو شراب کا جام بھی پیش کرتا ہے جو وہ مہمانوں کی طرف سے خود ہی پی جاتا ہے اور نشے میں دھت ہوجاتا ہے مگر ایسے میں لڑھکتے اور ڈگمگاتے ہوئے بھی اپنی خدمات انجام دیتا رہتا ہے۔ کھانے اور پینے کے دور سے پہلے اور ہر بار کچھ پیش کرنے سے پہلے جیمز اپنی مالکن مس سوفی سے دریافت کرتا ہے :

The same procedure as last year, Miss Sophie?
اور مس سوفی اسے ہر بار یہ جواب دیتی ہے :
Yes, the same procedure as every year, James

خانساماں جیمز نشے میں ہونے کے باوجود جس مضحکہ خیز انداز میں اپنی خدمات انجام دیتا ہے اور لہجے بدل بدل کر مکالمے ادا کرتا ہے وہ اس کھیل کی جان ہے۔

یہ واقعی ایک پر لطف خاکہ یا تمثیل ہے۔ 1990 میں پہلی بار دیکھنے کے بعد میرا یا ہمارے ننھے سے گھرانے کا بھی یہ معمول بن گیا کہ ہر سال اکتیس دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب یعنی

New Year Eve

پر ڈنر فار ون دیکھا جانے لگا۔ تب انٹر نیٹ عام نہ ہوا تھا اور یوٹیوب کی سہولت موجود نہ ہونے کے سبب میں نے یہ خاکہ جرمن ٹی وی سے ایک وی ایچ ایس ٹیپ پر محفوظ کر لیا تھا تاکہ پاکستان واپس جاکر بھی اس سے لطف اندوز ہو سکوں۔ نئی صدی کے آغاز پر کینیڈا آ کر بھی ابتداً اسی ٹیپ سے استفادہ کیا گیا اور پھر یہ کھیل یو ٹیوب پر بھی مل گیا اور آسانی کی صورت پیدا ہو گئی۔ اس سال بھی یہی کچھ ہو گا، روایت میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔

اسے کہتے ہیں مستقل مزاجی (مسکان)

اچھا، ”ڈنر فار ون“ کے سلسلہ میں ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ کھیل ایک برطانوی مصنف لوری وائلی کا لکھا ہوا ہے اور یہ پہلی بار 1934 میں لندن ہی میں سٹیج کیا گیا تھا مگر وہاں اسے خاطر خواہ قبولیت و شہرت حاصل نہ ہو پائی۔ اس کو شہرت جرمنی نے عطا کی جہاں 1962 میں اسے ٹی وی کے لیے ریکارڈ کیا گیا اور تب سے یہ باقاعدہ ہر سال دکھایا جاتا ہے۔ بلکہ اس کی شہرت تو بعد ازاں ناروے، سویڈن اور آسٹریلیا تک پہنچ گئی۔

یہاں کینیڈا میں میرے علاوہ اسے کتنے لوگ دیکھتے ہیں مجھے معلوم نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ کھیل یہاں نہ کینیڈا میں مقبول ہے اور نہ امریکا میں۔ مگر میں اچھے دنوں اور دوستوں کی یاد کی طرح اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے ہوئے ہوں۔ 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی شب ہم نئے سال کا کیک اور چائے، کافی سامنے رکھتے ہیں۔ اور کوئی نہ بھی ہو تو طاہرہ بیگم اور میں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں اور

The same procedure as every year
کہتے ہوئے اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ویسے تو وقت کے ساتھ ساتھ معمولات بدلتے ہی رہتے ہیں اور بدلنے بھی چاہئیں مگر میں سوچتا ہوں کہ ایک آدھ اچھا برا پرانا معمول بھی اگر برقرار رہے تو کیا مضائقہ ہے! ویسے ہر روایت مضر بھی تو نہیں ہوتی۔

نئے سال کے موضوع سے ہٹ کر ہم ارد گرد دیکھیں تو کبھی کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اتنا کچھ بدلنے کے باوجود کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ وہی وقت اور وہی اس کا کھیل:

وقت کا یہ کھیل کیسا کھیل ہے
بارہا لگتا ہے دہرایا ہوا

ایسے میں دھیان اگر وطن عزیز کی جانب چلا جائے تو وقت عجیب متحرک حالت میں ٹھہرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ منظر جامد ہے۔ بس نظر کو حرکت کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ شاید نظر کا دھوکا؟

optical illusion۔
سیاسی، انتخابی، عدالتی کوئی سا پہلو لے لیجیے ان میں تبدلی کے ہر فسانے کا عنوان کیا یہی نہیں ٹھہرتا:
The same procedure as every time.
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے قرطاس احساس پر غم کا رنگ بکھر جاتا ہے۔

ایک غم یا جانے کتنے غم! نئے غم یا پھر نئی ٹیسوں کے حامل وہی پرانے غم۔ عہد رفتہ و آئندہ میں فرق بھی ہو تو کیونکر! شعور کی صبح سے لے کر عمر کی اس ڈھلتی شام تک کیا ایک ہی منظر ہمارے سامنے نہیں رہا؟ ایک ہی کرب، ایک ہی غم۔ سال نیا ہو یا پرانا۔ غم وہی ہے :

اور اب، چلتے چلتے ایک غزل کے چند شعر بھی پڑھ لیجیے۔ شاید موضوع کی مناسبت کے سبب لطف دے جائیں :
۔
عہد رفتہ کا ماتم نئے سال میں
ہیں پرانے وہی غم نئے سال میں
موڑ پر وقت سے وقت مل جائے گا
اور بچھڑ جائیں گے ہم نئے سال میں
بھاگتے جا رہے ہیں ستارے ادھر
جا کے لیں گے کہیں دم نئے سال میں
اے مرے دل! ہو تم اتنے بے تاب کیوں
کیا ملیں گے نئے غم نئے سال میں؟
(حامد یزدانی)
۔ ۔
”ہم سب“ کو نیا سال مبارک ہو۔

Facebook Comments HS