بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے ایچ ای سی کا نیا اقدام


نوجوان کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں پاکستان کی آبادی میں بھی نوجوانوں کی آبادی کی تعداد تقریباً 67 ٪ ہیں جو کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ ان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اور ان کی نا قابل یقین صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے مثبت مواقع فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ ماہرین عمرانیات کے مطابق نوجوانوں کے مسائل پر موثر انداز میں کام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ بے روزگاری، معیاری تعلیم کے فقدان، جرائم، منشیات اور مذہبی انتہا پسندی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

بدقسمتی سے حکومت پاکستان نے ابھی تک نوجوانوں کے لئے ایسی مخصوص پالیسیوں اور اقدامات پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی جہاں نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و قوم کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں۔ تعلیمی اداروں سے ڈگریاں لے کر در در کی ٹھوکریں کھانا، آسامیوں کی قلت، سفارش کلچر کے عروج، رشوت خوری کے گرم بازار نوجوانوں کو بے مقصد سرگرمیوں کی طرف لے جاتی ہے جو ان کے مستقبل کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

تاہم ہائر ایجوکیشن کمیشن کا GCF 1054 کے تحت ”تابناک مستقبل کی جستجو: نوجوانوں کی تربیت کا ایک تحقیقی پروجیکٹ“ کے نام سے نیا اقدام بلوچستان میں نوجوانوں کے لیے گیم چینجر کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ اقدام نوجوانوں کو اپنے آپ کو پہچاننے کے لئے ان کی صلاحیتوں کو نمایاں کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں نوجوان اپنے آپ کو ایکسپریس کر سکتے ہیں۔

قابل ٹرینرز کی رہنمائی کے تحت یہ نوجوانوں کو اپنے بارے میں جاننے کے لئے، تنازعات کو سمجھنے اور اپنے کیریئر کے انتخاب کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ورکشاپس، کمیونٹی ڈائیلاگ اور سوشل ایکشن پروجیکٹس کا انعقاد کرتا ہے جن کا حتمی مقصد نوجوانوں کی قیادت کو پروان چڑھانا اور معاشرے میں سماجی ہم آہنگی، رواداری، پرامن بقائے باہمی اور صنفی عدم مساوات کو فروغ دینا ہے۔ یہ ایک قابل ستائش عمل ہے جو ہمارے نوجوانوں کو با اختیار بناتا ہے اور انہیں مستقبل میں فعال شہری بننے کی ترغیب دیتا ہے۔

حکومت کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اس کامیاب ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے اس پروجیکٹ کو مزید وسعت دے کر اسے دوسروں صوبوں تک پھیلائے تا کہ انتہا پسندی، عدم برداشت، صنفی امتیاز اور متشدد رویوں کی ریشو میں کمی آئے۔

Facebook Comments HS

One thought on “بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے ایچ ای سی کا نیا اقدام

  • 31/12/2023 at 12:13 صبح
    Permalink

    Yes sir, you are right all the issues are here

Comments are closed.