بلوچستان کے سیاسی تغیرات اور قومی قیادت کی ذمہ داری
وفاقی حکومت نے پیر کے روز بلوچ یکجہتی لانگ مارچ کے 290 گرفتار مظاہرین کو رہا دیا، وزارت داخلہ نے بتایا، مظاہرین کی رہائی کا فیصلہ بلوچ لیڈرز اور کابینہ کمیٹی کے مابین ہونے والے مذاکرات اور عدالتی فیصلہ کے مطابق کیا گیا۔ لانگ مارچ، سی ٹی ڈی کے ہاتھوں بلوچ نوجوان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے بعد 6 دسمبر کو تربت سے شروع ہو کر ہفتہ کی شام اسلام آباد پہنچا تھا۔ حیرت انگیز طور پر بلوچ ایشو دیرینہ پس منظر کا حامل ایسا پیچیدہ تنازعہ ہے جس نے بلوچستان کے قبائلی معاشرے کی تشکیل نو میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اس کشمکش کی ابتداء 1960 کی دہائی کے اواخر میں قائم ہونے والی بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن نے کی تھی، جس نے اپنی آغوش میں بہت سے بلوچ قوم پرست لیڈروں کو پروان چڑھایا، اسی تحریک کی بدولت زیادہ تر متوسط طبقے کے باصلاحیت نوجوانوں کو سیاسی مقام حاصل کرنے کا موقعہ ملا، ابتداء میں بلوچ سردار اسی تنظیم کی مخالفت اور حمایت سے سیاسی مفاد کشید کرنے میں سرگرداں رہے، اسی کارن یہ طلبہ تنظیم دھڑوں میں منقسم ہو کر بلوچ نیشنل موومنٹ، نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے محور میں گھومتی رہی۔
بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن چونکہ بالواسطہ قبائلی معاشرے پہ سرداروں کی گرفت کمزور کرنے کا وسیلہ بن رہی تھی اس لئے ابتداء میں اس تنظیم کو آزادانہ طور پر کام کرنے سے نہیں روکا گیا، جیسا کہ اس کی کثیر القومی اور بلوچ قوم پرستی کی نشاة ثانیہ کی مہمات سے واضح ہے۔ تاہم افغانستان میں روسی جارحیت اور بعد ازاں امریکہ کی طویل جنگ دہشتگردی کی حرکیات کی بدولت آج، BSOP بلوچوں کی سخت گیر مسلح تحریک بی ایل اے کا ایسا مہلک ونگ ہے جو سیکیورٹی فورسز اور گوادر پورٹ پہ کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو نشانہ بناتی ہے۔
تاہم بلوچستان میں مسلح گروپوں کی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کے پہلو بہ پہلو سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کے دراز ہوتے سلسلوں نے، پی ٹی ایم کی طرح، بلوچستان میں بھی متوازی سیاسی تحریکوں کو جنم دیا، ممکن ہے یہ پیش پا افتادہ بلوچوں کی قبائلیت کے جمود سے نکل کر فعال اور بیدار معاشرے میں ڈھلنے کی طرف قدرتی پیشقدمی ہو لیکن ہماری ریاست اس قسم کی تبدیلیوں کو ریگولیٹ کرنے کی بجائے طاقت کے ذریعے مطیع بنانے کے شوق میں ایک صحت مند سیاسی عمل کو سنڈروم بناتی رہی۔
بلوچوں کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کی روایتی لیڈرشپ بھی انہیں آزاد جمہوری معاشروں میں ڈھالنے کی بجائے قبائلی عصبیتوں کی تنگنائیوں میں مقید رکھنا چاہتی تھی، اسی مقصد کے حصول کی خاطر بلوچ سردار اپنی لوگوں کو تعلیم، صحت اور انفارمیشن تک رسائی سے روکنے میں مصروف رہے اور جب تک اسی قیمت پہ ہماری ریاست سرداروں کی نمائندگی قبول کرتی رہی، تب تک بلوچ سرداروں نے سمجھوتوں کے دروازے کھلے رکھے لیکن اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہد میں جب دور افتادہ منطقوں میں پھنسے بلوچوں کو انسانیت کے اجتماعی دھارے اور پر آسائش زندگی کی رعنائیوں کی چکاچوند دکھائی دی تو ریاست اور سرداروں میں لین دین کا کاروبار بتدریج ختم یا بہت کم ہو گیا، چنانچہ بلوچ سرداروں نے قبائلی معاشرے پہ گرفت مضبوط اور اپنی بارگیننگ پوزیشن بہتر بنانے کی خاطر مسلح جدوجہد کی راہ اختیار کر کے بلوچستان میں آزاد جمہوری معاشرے کا ارتقاء روکنا چاہا، اسی لئے آج وہاں نفرتوں کی بھڑکتے آتش فشانوں میں زندگی کے نفیس احساسات جل کر راکھ ہو رہے ہیں۔
1990 کی دہائی میں سیاسی عمل کے نتیجہ میں ابھرنے والے نمائندوں کی بدولت نسلی کشیدگی کافی حد تک کم ہوئی، وہاں کی علاقائی جماعتیں اہم سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے لگیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1988 کے انتخابات میں قوم پرست جماعتوں کے مجموعی ووٹ 47.8 فیصد تھے جبکہ 1990 کے انتخابات میں یہ بڑھ کر 51.74 فیصد تک پہنچ گئے، بلوچ قوم پرست لیڈرشپ نے 1997 کے انتخابات جیت کر بلوچستان میں حکومت بنائی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز جیسی ملک گیر جماعتوں میں بھی 26 بلوچ رہنما شامل تھے، اسی تلویث کی بدولت 1990 کی دہائی کے جمہوری وقفے کے دوران سویلین وفاقی حکومت کے ساتھ بلوچوں کے تعلقات خوشگوار ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پہ پورا صوبہ پرامن رہا لیکن اکتوبر 1999 کے مارشل لاء کے بعد بلوچستان کی سیاسی حرکیات میں نسلی تضادات پھر ابھر آئے، 2002 کے انتخابات کے ساتھ یہ مساوات اس وقت مزید بدل گئی، جب مقتدرہ نے انتخابات میں دھاندلی کر کے مذہبی جماعتوں کو تقویت بخشی، جس سے متحدہ مجلس عمل کو بلوچستان کے اقتدار پہ غلبہ ملا۔
عالم مبصرین نے حکومت کی مخالف جماعتوں کے مضبوط حلقوں کو کمزور کر کے ایم ایم اے کو تقویت پہنچانے کا الزام لگایا، امیدواروں کے لئے اہلیت کے معیار کو یونیورسٹی ڈگریوں سے مشروط کر کے (بشمول اکبر بگٹی) ایسے سرکردہ بلوچ رہنماؤں کو انتخابی عمل سے باہر کر دیا گیا جو پہلے صوبے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے تھے۔ اسلام آباد کے انتخابی جوڑ توڑ کا اسٹریٹیجک مقصد یہ تھا کہ امریکہ کی جانب سے طاقت کے بل بوتے افغان طالبان کی حکومت گرانے کے بعد افغانستان کی سرحد سے متصل دو صوبوں میں اٹھنے والے عوامی ردعمل کو روکنے کے لئے مذہبی جماعتوں کو اقتدار دے کر مذہبی جذبات کو کنٹرول کیا جائے۔
اسی حکمت عملی کے نتیجہ میں بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کی سیاست متاثر ہوئی، اپنے صوبے میں اختیار نہ ملنے کے باعث بلوچ قوم پرستوں نے جنرل مشرف کے انتخابی، سیاسی اور آئینی جوڑ توڑ کو مسترد کر دیا، یوں 2002 کے انتخابات میں دھاندلی تنازعہ کی طرف پہلا قدم ثابت ہوئی تاہم اختلافات پہ قابو پانے کی خاطر ستمبر 2004 میں بلوچ اپوزیشن کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی حکومت سے مذاکرات کے لیے سفارشات تیار کی گئیں لیکن صورت حال بدستور بگڑتی گئی۔
جنرل مشرف نے بلوچ مسئلہ کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لئے طاقتور مقامی حکومتیں قائم کیں جنہیں اگر آئینی تحفظ اور مجوزہ اختیارات و وسائل فراہم کر دیے جاتے تو بلوچستان کا ماحول نارمل ہو سکتا تھا لیکن مشرف حکومت کے کارندوں نے بلدیاتی نظام کو پنپنے دیا نہ بلوچ سرداروں نے اسے قبول کیا، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے منصوبہ کو بلوچ لیڈرشپ نے صوبائی خودمختاری کی نفی قرار دے کر مشتبہ بنا دیا، اسی نامطلوب سیاسی جوڑ توڑ کی بدولت اکبر بگٹی کی قیادت میں پہلی بار علانیہ طور پہ باغیانہ مزاحمت کی ابتداء ہوئی، جسے کچلنے کی خاطر ماورائے عدالت قتل، تشدد اور غیر قانونی گرفتاریوں کی گونج میں فورسز کے ہاتھوں اکبر بگٹی مارے گئے، جس سے تنازعہ مزید گہرا ہو گیا، یوں سب سے بڑا لیکن سب سے کم آبادی والا صوبہ بلوچستان آہستہ آہستہ انتشار کی طرف بڑھتا گیا لیکن انفارمیشن ٹیکنالوجی کی لہروں نے بلوچستان کے قبائلی ڈھانچہ پہ سرداروں کی گرفت کمزور کرنے کے علاوہ ریاستی مقتدرہ کے جابرانہ ہتھکنڈوں کو بھی بے نقاب کر دیا چنانچہ مسلح مزاحمت کاروں کی قوت کار کم ہونے کے ساتھ ساتھ ریاستی جبر کی شدت بھی کند ہونے کی وجہ سے مفاہمت کی دوطرفہ ضرورت پیدا ہو گئی۔
شاید انہی تغیرات کے نتیجہ میں بی ایل اے کے مشہور کمانڈر گلزار امام شنبے کی گرفتاری ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی، ریاست نے شنبے کو سزا دینے کی بجائے باوقار انداز میں جینے کی پیشکش کی جسے شنبے نے قبول کرتے ہوئے اپنے جانشین سرفراز بنگلزئی کو 70 ساتھیوں سمیت ریاست سے مفاہمت پہ قائل کر کے بند گلی میں پھنسنے کی بجائے زندگی کے خوبصورت امکان کو پکڑ لیا، لاریب فریقین کے لئے یہی درست راہ عمل تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ شنبے جیسے دیگر مزاحمت کار بھی صلح کے لئے تیار ہیں، چنانچہ اب گورنمنٹ کو آگے بڑھ کر انہیں گلے لگا لینا چاہیے۔
یہ بھی سچ ہے کہ حالات کے جبر نے مسلح تنظیموں کو کمزور کیا، بی ایل اے، بی آر اے اور بی ایل ایف جیسی تنظیموں کا مزاحمتی ڈھانچہ اس قدر کمزور ہو گیا کہ تینوں تنظیموں کو اپنی بقاء ممکن بنانے کی خاطر یونائیٹڈ بلوچ آرمی کے نام سے اتحاد بنانا پڑا۔ یہی تغیرات بلوچوں کو آزاد جمہوری معاشرے کے لئے سیاسی جدوجہد کی ایسی فضا فراہم کر رہے ہیں جس میں ڈاکٹر ماہ رنگ سمیت کئی سماجی کارکنوں کو آگے بڑھ کر قیادت کا خلا پر کرنے کا حوصلہ ملا ہے، بلاشبہ بلوچستان میں افراتفری کا خاتمہ صرف سیاسی حل سے ہی ممکن ہو گا۔


