تھیوڈور ہرزل اور یہودی ریاست کا خواب


تھیوڈور ہرزل وہ پہلے یہودی تھے جنہوں نے یہودی ریاست کا خواب دیکھا تھا اور صیہونی تحریک کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

جب ہم تھیوڈور ہرزل کی سوانح عمری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ بداپست میں دو مئی اٹھارہ سو ساٹھ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان مذہبی تھا لیکن مذہب کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ ان کی والدہ انہیں جرمن ادب بھی پڑھاتی تھیں۔ ہرزل کو خود بھی سکول کے زمانے میں ادب سے کافی دلچسپی تھی۔ ہرزل کے خاندان نے اس وقت ویانا ہجرت کی جب ہرزل کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ ہرزل نے یونیورسٹی میں قانون کے شعبے میں داخلہ لیا۔ وکیل بننے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ معاشرے میں یہودیوں کے خلاف غصہ ’نفرت اور تلخی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ جب ہرزل کو یقین ہو گیا کہ وہ بطور یہودی وکیل کے کامیاب نہیں ہو سکتے تو انہوں نے وکالت کو چھوڑ کر لکھاری ہونے کی حیثیت سے زندگی کا آغاز کیا۔

ہرزل ایک مہم جو انسان تھے۔ انہیں سفر کا بہت شوق تھا اس لیے انہوں نے جوانی میں ہی بلجیم ’ہالینڈ اور جرمنی کی سیر کی۔ وہ مختلف ادیبوں سے ملے اور انہوں نے مختلف اخباروں میں لکھنا شروع کیا۔ اس دوران انہوں نے سٹیج کے لیے ڈرامے بھی لکھے جو کافی کامیاب ہوئے۔ اٹھارہ سو بانوے تک پہنچتے پہنچتے ہرزل ادبی حلقون میں ایک کامیاب جرنلسٹ اور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے جانے اور پہچانے لگا۔ اسی دوران انہیں پیرس میں ایک اچھی ملازمت مل گئی اور وہ وہاں منتقل ہو گئے۔

پیرس میں ہرزل نے یہودیوں کے حق میں مضامین لکھنے شروع کیے۔ انہوں نے ایک مضمون میں لکھا
’ یہودیوں کا مسئلہ ایک قومی یا مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے‘

اگلے چند سال ہرزل یہودیوں کے مسائل پر سنجیدگی سے غور بھی کرتے رہے اور مختلف ادبیوں اور دانشوروں سے تبادلہ خیال بھی کرتے رہے۔ آخر انہوں نے یہودیوں کے مسائل کا حل اپنی کتاب
THE JEWISH STATE
میں پیش کیا۔ اس کتاب کو دنیا بھر کے سیاستدانوں اور دانشوروں میں تقسیم بھی کیا گیا۔

پھر ہرزل بیمار ہو گئے۔ جوں جوں صیہونی تحریک زور پکڑتی گئی ہرزل کی بیماری بھی بڑھتی گئی۔ آخر تین جولائی انیس سو چار کو موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ مرتے وقت ہرزل کو بالکل اندازہ نہ تھا کہ ان کی وفات کے چوالیس سال بعد انیس سو اڑتالیس میں اس کی پیشین گوئی صحیح ثابت ہوگی اور دنیا کے نقشے پر اسرائیل کی صورت میں ایک یہودی ریاست معرض وجود میں آئے گی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تھیوڈور ہرزل کی کتاب۔ ایک یہودی ریاست۔ کے چند اقتباسات کا ترجمہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہمارے عہد میں یہودیوں پر جو مظالم کیے گئے ہیں ان سے مظلوم یہودی ایک دفعہ پھر بیدار ہو گئے ہیں۔ میں نے اس کتابچے میں یہودیوں کے بین الاقوامی مسائل کا ایک حقیقت پسندانہ حل پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

میں یہودی ریاست کے تصور کو ایک تحریک بنانا چاہتا ہوں۔ اس تحریک میں یہودیوں کے دکھ اور درد ایسا جذبہ پیدا کریں گے جو اس تحریک کو منزل تک پہنچانے میں کامیاب ہوں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم ایک دن یہودیوں کے مسائل کا حل تلاش کر کے رہیں گے۔ ایک یہودی ریاست اب پوری دنیا کے یہودیوں کے لیے ناقابل تردید ضرورت بن گئی ہے۔ اسی لیے وہ قائم ہو کر رہے گی۔ یہ وہ ریاست ہوگی جس میں یہودی آزادی ’خوشی اور عزت کی زندگی گزار سکیں گے۔ اگر آج کی نسل نے میرے خیالات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو مجھے قوی امید ہے کہ کل کی نسل اس پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ میری نگاہ میں ایک یہودی ریاست یہودیوں کا حق ہے۔

جب میں یہودیوں کے مسائل پر غور کرتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ بہت سے یہودی اپنے دشمنوں کی طرح یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ وہ جن ممالک میں رہ رہے ہیں وہ ان ممالک کی حکومتوں اور لوگوں کے رحم و کرم پر ہیں اور اگر انہوں نے ان کا ساتھ نہ دیا اور خیال نہ رکھا تو وہ بھوک سے مر جائیں گے۔ اس خیال سے واضح ہوتا ہے کہ ہم کس حد تک خود فریبی کا شکار ہیں اور اپنی طاقتوں سے کس قدر نا آشنا ہیں۔

ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لیے دوسروں کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنی مشکلات کا حل خود تلاش کرنا ہو گا۔ ہم صدیوں سے نفرت کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔ ہم جس نئے شہر یا ملک میں جاتے ہیں تو لوگ ہم سے تعصب کرنے لگتے ہیں۔ میرے نزدیک ہمیں اس مسئلے کا بین الاقوامی حل تلاش کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں ہمیں آزاد خیال اور مہذب قوموں سے تعاون کی درخواست کرنی پڑے گی۔

اگر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ظلم و تشدد نفرت اور تعصب سے ہمیں کرہ ارض سے نیست و نابود کر دیں گے تو یہ ان کی خوش فہمی ہے۔ ہم صدیوں سے مصائب برداشت کرتے آئے ہیں اور اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک ہم اپنے لیے ایک نئی ریاست نہ پالیں۔

بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہودی دنیا میں جہاں جہاں آباد ہیں وہ مقامی لوگوں سے شادیاں کر کے ان میں مدغم ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہم آج بھی ایک علیحدہ قوم کی طرح اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ اور وہ لوگ اور قومیں جو اسے دبا دینا چاہتے ہیں اسے اتنا ہی مضبوط بناتے ہیں۔ کیونکہ جس چیز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ اتنی ہی شدت سے دوبارہ ابھر کر آتی ہے۔ وہ شناخت جو دو ہزار سال سے نہ دبائی جا سکی آئندہ بھی نہ دبائی جا سکے گی۔ یہودی نہ پہلے کبھی دوسروں قوموں میں مدغم ہوئے تھے اور نہ ہی آئندہ ہوں گے۔

یہودی ایک طویل مدت سے ایک خواب دیکھتے آئے ہیں جس کا اظہار ان کی گفتگو میں
"اگلے سال یروشلم میں ملیں گے”
سے ہوتا ہے۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس خواب کو شرمندہ تعبیر کریں۔ تاکہ ظلم کی یہ لمبی رات ختم ہو اور ہم سکون کی زندگی گزار سکیں۔

مجھے اس بات کا احساس ہے کہ وہ یہودی جو اپنی انفرادی زندگی میں کامیاب ہو گئے ہیں وہ اس تصور یا ریاست کے حق میں نہیں ہوں گے کیونکہ ان کا رشتہ یہودی قوم سے کافی حد تک کٹ چکا ہے لیکن یہ ریاست ان یہودیوں کے لیے دارالامان ہوگی جو آج بھی ذلت ’رسوائی اور محرومی کی زندگی گزار رہے ہیں یہ ریاست عام یہودیوں کو ذلت اور خواری کی زندگی سے نجات دلائے گی اور ان کے لیے ایک عزت و آبرو کی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گی۔

ہم اس تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک سوسائٹی قائم کریں گے جس کا نام
THE SOCIETY OF JEWS
ہو گا۔ یہ تنظیم وہ نقشہ بنائے گی جس پر سفر کرتے ہوئے ہم اپنی منزل تک پہنچیں گے۔ وہ تنظیم ہر مرحلے کی ضروریات اور تقاضوں کا خیال رکھے گی اور ماہرین سے ان کی خدمات حاصل کرے گی۔

مجھے اس حقیقت کا بھی احساس ہے کہ بعض یہودی اپنی ناگفتہ بہہ صورت حال کے اتنے عادی ہو گئے ہوں گے جیسے بعض قیدی قید میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد آزاد ہونا نہیں چاہتے۔ وہ یہودی ریاست میں نہیں جانا چاہیں گے لیکن مجھے امید ہے کہ ان گھرانوں کے نوجوان ہماری تحریک میں پورے جوش و خروش سے شامل ہوں گے اور اپنے مستقبل کو سنوارنے کی حتی المقدور کوشش کریں گے۔

یہ حقیقت ہم سب پر واضح ہے کہ آج کل یہودی دنیا کے جس شہر یا جس ملک میں بھی رہ رہے ہیں وہ اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ وہ نہ صرف یہ کہ فوج اور سیاسی کارروائیوں میں حصہ نہیں لے سکتے بلکہ روزمرہ کے کاروبار میں بھی ان کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ آپ کو دنیا کے ہر کونے میں اس قسم کے پوسٹر ملیں گے
DON ’T BUY FROM JEWS
یہودیوں سے تعصب اور نفرت کی وجوہات صرف انفرادی اور نفسیاتی ہی نہیں ہیں بلکہ معاشرتی ’اقتصادی اور سیاسی بھی ہیں۔ یہ مسئلہ صرف مذہبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کا ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔ اس رویے نے یہودیوں کی نفسیاتی اور سماجی زندگی کو بہت متاثر کیا ہے۔ بہت سے یہودیوں میں اس تعصب اور نا انصافی کے خلاف غصے اور نفرت کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں جو ان کی زندگی میں زہر گھولتے رہتے ہیں۔ بعض یہودی تو اپنی شناخت کھو کر دوسری قوموں میں مدغم بھی ہو جانا چاہتے ہیں تا کہ اس عذاب سے چھٹکارا پائیں لیکن بدقسمتی سے وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہو پائے اور تاریخی‘ سیاسی اور معاشرتی عوامل نے انہیں اپنی شناخت کھونے نہیں دیا۔ اگر ہم نہ بھی چاہیں تب بھی ہمارے دشمنوں نے ہم سب یہودیوں کو ایک ہی زنجیر میں باندھ رکھا ہے۔

میں نے یہودیوں کے بین الاقوامی مسائل کا جو حل سوچا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ اگر ہمیں کرہ ارض پر اتنا علاقہ مل جائے جس میں ایک ریاست قائم کی جا سکے تو اس کے بعد ہم اپنے مسائل کا حل خود تلاش کر لیں گے۔

یہ حل بہت سادہ ہے اور اس حل کو عملی جامہ دو تنظیمیں پہنائیں گی
THE SOCIETY OF THE JEWS
اس حل کے نظریاتی اور سیاسی حصے کا خیال رکھے گی اور
THE JEWISH COMPANY
اس کے اقتصادی پہلو پر نظر رکھے گی تا کہ رخصت ہونے والے یہودیوں کی دولت اور کاروبار محفوظ رہے اور نئی ریاست میں پہنچنے والے یہودیوں کو اقتصادی تحفظ مہیا کیا جا سکے۔

یہ تبدیلی بتدریج ہوگی اور یہ کوشش کی جائے گی کہ ہجرت کرنے والے افراد اور خاندانوں کو کم از کم مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔

میری یہ تمام یہودیوں سے درخواست ہے کہ ان میں سے جو بھی اس ریاست کے حق میں ہیں وہ ہماری تنظیم میں شرکت کریں اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں ہماری مدد کریں۔

ہمیں دنیا کے کسی حصے میں ایک علیحدہ ریاست چاہیے چاہے وہ فلسطین میں ہو یا ارجنٹینا میں۔ ہم ان دونوں مقامات میں سے کسی ایک کو قبول کر سکتے ہیں۔ ہم جہاں بھی جائیں گے محنت کریں گے اور اس علاقے کی اقتصادی اور معاشرتی زندگی کے معیار کو بہتر بنائیں گے۔

مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ اس مسئلے کا حل ایک سال کا نہیں ہے اس میں کئی سال بلکہ کئی دہائیاں بھی لگ سکتی ہیں لیکن ایک دفعہ یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا تو آہستہ آہستہ دنیا بھر کے یہودیوں کو ایک گھر مل جائے گا۔ ایسا گھر جس سے وہ سینکڑوں سالوں سے محروم رہے ہیں۔ وہ ہر ملک میں بے گھری اور جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ دو ہزار سال میں کسی قوم یا کسی ملک نے انہیں سینے سے نہیں لگایا اور بے گھری ان کا مقدر بن چکی ہے۔

جب ہمیں ایک گھر مل جائے گا اور ہم ایک یہودی ریاست قائم کریں گے تو پھر ہمیں ان تمام مسائل کا حل اور ان تمام سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہو گا جو ایک نئی ریاست کو درپیش ہوتے ہیں۔

میرا یہ یہودیوں کے مسائل کا حل کوئی پتھر پر لکیر نہیں ہے یہ ایک تصور ہے ایک خواب ہے ایک خیال ہے اور مجھے امید ہے کہ باقی صاحب فکر اس پر غور کریں گے تا کہ ہم یہودیوں کے مسائل کا اجتماعی حل تلاش کر سکیں۔

مجھے یہ یقین ہے کہ ہم ایک دن کرہ ارض پر ایک یہودی ریاست قائم کر کے ہی دم لیں گے۔ چاہے وہ ارجنٹینا میں ہو یا فلسطین میں۔ اس ریاست کے قیام کے بغیر دنیا بھر کے یہودی آزادی ’عزت اور خوشحالی کی زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ اس ریاست سے صرف یہودی ہی خوش نہ ہوں گے بلکہ ساری دنیا بھی ایک بہتر دنیا ہوگی۔

۔ ۔ ۔

میں اگلا کالم میناچم بیگن پر لکھ رہا ہوں جنہوں نے تھیوڈور ہرزل کے یہودی ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے اور اسرائیل بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

نوٹ : بعض ماہرین سماجیات اور نفسیات کا موقف ہے کہ اسرائیل وہ قوم ہے جس میں ایک نسل کے مظلوم اگلی نسل کے ظالم بن گئے۔ اب وہ فلسطینیوں پر وہی مظالم ڈھا رہے ہیں جو ان پر یورپی قوموں نے ڈھائے تھے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

One thought on “تھیوڈور ہرزل اور یہودی ریاست کا خواب

  • 31/12/2023 at 9:22 صبح
    Permalink

    ‘ بعض ماہرین سماجیات اور نفسیات کا موقف ہے کہ اسرائیل وہ قوم ہے جس میں ایک نسل کے مظلوم اگلی نسل کے ظالم بن گئے۔ اب وہ فلسطینیوں پر وہی مظالم ڈھا رہے ہیں جو ان پر یورپی قوموں نے ڈھائے تھے۔’

    آپ نےفلسطینیوں پر مظالم کو ایک موقف کی طرح بیان کیا ہے۔ یہاں آپ بھی بایئڈن کی طرح حقیقت سے انکار کر رہے ہیں جبکہ کچھ مضامین میں آپ ان مظالم کو ایک حقیقت کے طور پر بیان کر چکے ہیں۔

Comments are closed.