نیا سال، نیا عزم
انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ وہ ہر نئی چیز کو بڑے جوش و جذبے اور بڑی احتیاط و فکر کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ پرانی چیز کے برتنے میں کوئی کمی رہ گئی ہو یا نئی چیز بڑی مشکل سے حاصل ہوئی ہو تو وہ اپنی یا دوسروں کی کمی کوتاہیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی چیز کے استعمال کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے، پروگرام تشکیل دیتا تاکہ نئی چیز کو زیادہ سے زیادہ کار آمد بنا سکے۔
نیا سال شروع ہونے کو ہے۔ قطع نظر اس بحث سے کہ ہمارا نیا سال قمری ہوتا یا شمسی، ہمیں اس سال کو اس انداز میں لینا ہے کہ مسلمان کا ہر نیا دن اک نیا عزم ہوتا ہے، ہر نیا سورج نئی امید لے کے آتا ہے۔ یہ نیا سال بھی نئے عزم، نئے خواب اور نئی امید کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔ اگر ہم اسے روز مرہ کے معمول کا حصہ سمجھیں گے تو سوائے اپنے نقصان کے کچھ اور نہیں کر سکتے۔ ہماری زندگی برف کی طرح ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ پگھل رہی ہے۔ ان گزرتے لمحات کو تھام کر کچھ کر گزرنے کا عہد ہی ان لمحات کو کار آمد بنا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے وقت گزرنے کے اس فلسفے کو ”تلک الایام نداولہا بین الناس“ کہہ کر سمجھایا ہے کہ جو کچھ چل رہا ہے، یہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ جو آسانیاں یا پریشانیاں میسر ہیں، یہ ابدی نہیں ہیں۔ جو خوشیاں یا مصیبتیں درپے ہوئی ہیں یہ سب وقت وقت کی باتیں ہیں۔ جدوجہد اپنا ثمر ضرور لاتی ہے بشرطیکہ وقت اور طریقہ اگر درست ہو۔ لہذا ہم اپنے عزم اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے حالات بدل سکتے ہیں۔
پاکستان کو پچھلے سال جن مسائل کا سامنا رہا ہے، ان میں سب سے بنیادی مسئلہ مہنگائی اور بے روز گاری کا ہے۔ نوجوان طبقہ اپنی ڈگریاں اٹھائے سربازار نوحہ کناں ہے۔ مزدور اپنے وسائل اور مسائل کو لیے سر پیٹ رہا ہے۔ مالدار طبقہ نئے ٹیکسز اور سبسڈی کے رونے رو رہا ہے۔ جہاں ان مسائل کی بنیادی وجہ پاکستان میں سیاسی و معاشی عدم استحکام ہے، وہیں اصل مسئلہ ہماری نیتوں کے فطور کا بھی ہے۔ ہمارا نوجوان ڈگریاں اٹھائے احتجاج کرتا تو نظر آئے گا، مگر عزت کے ساتھ کوئی ٹھیلہ یا ریڑھی لگاتے کہیں نظر نہیں آتا۔
ہمارا مزدور عزت کی تھوڑی روٹی کی بجائے ذلت کے امیری چاہتا ہے، جو اسے راتوں رات حاصل ہو جائے۔ ہمارا امیر طبقہ دن بدن مزید مالداری تو چاہتا ہے مگر اپنے مال میں سے حق داروں کا حق ادا کرنے سے بھاگتا ہے۔ حالاں کہ ہمارا مستقبل تو ہماری اپنی ذات سے جڑا ہے۔ جس کی اصلاح کے بغیر حالات کا دھارا بدلنا اور کامیاب ہونا ناممکن ہے۔
بزرگوں سے سنا ہے کہ خواجہ نظام الدین رحمہ اللہ اپنے متعلقین سے صحت نیت پر گفتگو فرما رہے تھے کہ: ان کے دور میں سرکاری طور پر ایک عہدہ ہوتا تھا، جس پر فائز شخص شیخ الاسلام کہلاتا تھا۔ وہ شخص دین کے معاملات میں بڑا ماہر سمجھا جاتا، اس کی رائے حرف آخر سمجھی جاتی۔ دربار شاہی میں اسے بڑی پذیرائی حاصل ہوتی تھی۔ اس کے لیے نوکر چاکر اور محافظین کا انتظام ہوتا تھا۔ اس دور کے ایک عالم کو اس عہدے کا لالچ ہوا تو اس نے اس عہدے کے حصول کے لیے بارہ سال روزے رکھے تاکہ اس کے زہد و تقویٰ کی شہرت دربار شاہی تک پہنچے اور اسے وہ مقام حاصل ہو جائے۔ خواجہ صاحب فرمانے لگے کہ اگر وہ شخص یہ سارے اعمال اللہ کی رضا کی خاطر کرتا تو نا جانے اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ کیا مقام پا لیتا۔ مگر حصول دنیا کی خاطر اپنی آخرت کے لیے کچھ نہ کر سکا۔ اس کی نیت کے فطور نے اسے اپنے رب سے دور کر دیا۔
پھر فرمانے لگے کہ ہمارے یہاں دہلی میں ایک بابا جی چنے وغیرہ بیچا کرتے تھے۔ وہ ہر روز گھر سے سالن بنا کے لاتے اور بازار میں بیچتے۔ ہر کسی کو کچھ پیسوں کے عوض پلیٹ بھر کے سالن دے دیتے۔ کچھ تو انہیں کھرے پیسے دے جاتے اور کچھ چپکے سے کھوٹے پیسے پکڑا جاتے۔ بابا جی چپ چاپ پکڑ کر سالن کی پلیٹ تھما دیتے۔ لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ بابا جی کو کھرے کھوٹے میں فرق معلوم نہیں۔ وقت گزرتا گیا، جب بابا جی کی موت کا وقت آیا اور بستر مرگ پر موت کی سختیوں سے گزر رہے تھے تو اپنے اللہ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے، یا اللہ! میں نے سنا ہے کہ تو بڑا رحیم و کریم ہے، میں ساری زندگی تیرے بندوں سے کھرے، کھوٹے لیتا رہا۔ میں نے کبھی ان میں فرق نہیں کیا۔ میں نے بندہ ہو کے کبھی فرق نہیں کیا، تو تو رب ہے۔ آج تو بھی میرے ساتھ وہی معاملہ کرنا۔ میں کھوٹا سکہ ہوں، تو اسے قبول فرما لینا۔
خواجہ صاحب رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ دیکھو! اس بابے کا چھوٹا عمل جو اللہ کی رضا کی خاطر تھا، وہ اس شخص کے بارہ سال کے روزوں سے بہتر ہے جو دنیا کی شان شوکت کی خاطر تھے۔ آج کل ہم میں سے ہر کوئی ہر کام پیسے کی نیت سے کرتا ہے، حالاں کہ نیت خدمت کی ہونی چاہیے، پیسہ تو مل ہی جاتا ہے۔
لہذا ہمارے کرنے کا سب سے پہلا کام اپنے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے بہترین مستقبل کے لیے نیتوں کو درست کرنا ہے۔ کیوں اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہوتا ہے اور اسی سے ہمارے گولز اور مقاصد واضح ہو جاتے ہیں۔ دوسرا کام اپنے ماضی کو دیکھتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ جس شخص کا آج اس کے کل سے بہتر نہ ہو تو سمجھو وہ نقصان میں ہے۔ لہذا کل کو بہتر بنانے کے لیے اچھی منصوبہ بندی کے ساتھ محنت ضروری ہے کیونکہ زندگی جہد مسلسل اور محنت کا نام ہے۔
انسان منصوبہ بندی کر کے، اپنی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے، اس کے مطابق جدوجہد کرے گا تو وقت اور محنت رائگاں نہیں جائے گی۔ تیسرا کام چھوٹے قدموں سے آغاز کرنا ہے۔ یہی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں انسان کو بڑے قدم اٹھانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ ایک دم سے بڑا قدم اٹھانا بسا اوقات نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ انہی چھوٹے چھوٹے کاموں سے طبیعت اور مزاج میں تسلسل آتا ہے۔ اور مستقل مزاجی سے انسان کے لیے منزل پانا آسان ہو جاتا ہے۔ چوتھا کام ”کچھ کرنے کا عزم“ ہے۔ جب انسان کچھ کر گزرنے کا عزم کر چکا ہو تو کسی بھی مشکل، تنگی یا رکاوٹ سے گھبراتا یا لڑکھڑاتا نہیں، وہ تسلسل اور قوت ارادی کے ساتھ اپنی دھن میں مگن رہتا ہے اور بالآخر اپنی منزل پا لیتا ہے۔
آئیے! ہم بھی اپنے نئے سال کا آغاز خرافات و فضولیات سے کرنے کی بجائے نئے خواب، نئی امید اور نئے عزم سے کریں۔ نئے جذبے کے ساتھ، محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی نیتوں کو درست کریں۔ تاکہ دنیا کی کامیابی کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھلائی بھی ہمارا مقدر بن سکے۔


