الوداع، اے زندگی: ایک سچے واقعہ پر مبنی قصہ
غربت کے غموں کا مارا شاہد دوسری جماعت کا طالب علم تھا۔ ایک دن اس کے باپ نے کہا کہ وہ اسکول سے واپسی پر سیٹھ عابد کے گھر چلے جایا کرے۔ وہ جو فرمائیں ان کے کام کرے اور جب تک وہ چاہیں وہیں رہے۔ شاہد کے کلاس فیلوز اسکول سے واپس آ کر ہوم ورک کرتے اور گراؤنڈ جا کر کھیل کود میں خوب رنگ رلیاں منانے لگتے۔ لیکن شاہدا سکول سے واپسی پر سیٹھ عابد کے گھر چلا جاتا۔ ان کے گھر کے مختلف کام کاج کرتا، برتن دھوتا، بھینس کا گوبر صاف کرتا اور بچپنے کی غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ کھاتا۔ وہ رات گئے تھکا ہارا گھر آ کر سو جاتا اور صبح اٹھ کر اس کول چلا جاتا۔ وہ نہ جانتا تھا کہ اس ظلم و ستم کا کتنا معاوضہ اس کے باپ کو ملتا ہے۔
شاہد کی زندگی کے شب و روز یونہی گزرتے رہے۔ میٹرک کے بعد اسے ایک بڑے کریانہ سٹور پر ملازم کرا دیا۔ شاہد کو وہاں صبح سے شام تک سخت محنت کرنا پڑتی، البتہ دوپہر کو معیاری کھانا ملتا جو اسے اپنے گھرمیں میسر نہ تھا، کبھی کبھی غلطی پہ حاجی صاحب کے چانٹے بھی کھانے پڑتے تھے۔ یہیں ملازمت کرتے ہوئے وہ بچے سے کڑیل گبھرو جوان بن گیا۔ والدین نے سوچا کہ اب اس کی شادی ہو نی چاہیے۔ شاہد کی اچھی ملازمت اور اٹھتی جوانی کا سن کر کئی رشتے آئے لیکن وہ سب یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ باقی تو سب کچھ ٹھیک ہے لیکن رنگ ذرا سانولا ہے۔ جب آٹھ دس بار ایسا ہی ہوا تو شاہد کا دل چاہا کہ وہ گلی میں کھڑے ہو کر چیخ چیخ کر لوگوں کو پکارے اور انہیں بتائے۔ اگر اس کا رنگ سیاہی مائل ہے تو یہ رنگت اس نے تو نہیں بنائی، اسے اس جرم کی سزا کیوں دی جاتی ہے، جو اس نے نہیں کیا؟
لیکن وہ حالات کی نزاکت کے ہاتھوں چپ رہنے پہ مجبور تھا۔ بالآخر ایک غریب گھرانے میں رشتہ طے ہو گیا کیونکہ اس لڑکی کی رنگت شاہد سے میچ کرتی تھی۔ جلد ہی شادی ہو گئی اور شاہد کی زندگی میں پہلی دفعہ کچھ رنگین دن آئے، جو جلد ہی سنگین ہو گئے۔ چند ماہ بعد ہی گھر میں ساس بہو اور نند بھاوج کے جھگڑوں نے سر اٹھا لیا۔ ادھر یہ چپقلش بڑھتی گئی ادھر خاندان کی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا۔ شاہد دو بیٹیوں اور ایک بچے کا باپ بن گیا۔ گھر کا ذہنی سکون تو خانگی جھگڑوں میں برباد ہوا ہی تھا، اب معاشی بد حالی نے بھی ڈیرے ڈال دیے۔ بچوں کی وجہ سے اخراجات بڑھ گئے۔ شاہد کسی دوسری جگہ ملازمت تلاش کرنے لگا جہاں بہتر تنخواہ مل سکے۔
آخرکار اسے ایک بڑی کمپنی میں سیلز مین کی ملازمت مل گئی، جہاں تنخواہ کے علاوہ سیل پر کمیشن بھی ملنا تھا۔ وہ دور دراز کے علاقوں میں جا کر مال سپلائی کرنے لگا۔ دکانداروں نے خوب آؤ بھگت کی اور لاکھوں کا مال بعد فروخت ادائیگی کے معاہدے پر وصول کر لیا۔ شاہد خوشی خوشی کمیشن کی خاطر مال دیتا رہا۔ وہ وہیں ایک معمولی سی سرائے میں اک کمرہ لے کر رہنے لگا۔ اس کی غیر موجودگی میں بیوی پر ظلم و ستم کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے اور وہ الگ گھر لینے کا مطالبہ کر نے لگی۔ اپنے مطالبہ پر دباؤ ڈالنے کی خاطر وہ دونوں بیٹیوں کو دادی کے پاس چھوڑ کر اور بچے کو ساتھ لئے اپنے میکے چلی گئی۔ شاہد سوچ رہا تھا کہ ابھی وصولیاں ہوں گی تو نوٹوں کی ریل پیل ہو جائے گی اور وہ گھر جاکر سارے معاملات سلجھا لے گا۔
لیکن جب وہ وصولی کے لئے گیا تو معلوم ہوا کہ دکانداروں نے شاہد کی سپلائی کو مال مسروقہ جانا تھا۔ وہ سب مال بیچ کر ہڑپ کر چکے تھے۔ ان کا وتیرہ بھی بدل گیا تھا۔ وہ ایسی بے رخی سے بات کرتے جیسے جانتے نہیں۔ ان کے لہجے میں خوش دلی کی جگہ تلخی آ گئی تھی۔ ادھر کمپنی رقم کی وصولی پہ زور دینے لگی۔ اس صورت حال نے شاہد کو سخت پریشان کر دیا تھا۔
شاہد پر آنے والی حسب معمول وہ بھی اک غم کی رات تھی۔ وہ بستر پر سونے کے لئے لیٹا تو اندوہناک مسائل اور دکھوں کی اک فلم اس کے ذہن میں چلنے لگی۔
0 گھر سے دوری اور شریک حیات کی پریشانیاں
0 بچوں کی پراگندگی اور اہل خانہ کا وتیرہ
0 دکانداروں کا مال ہڑپ کر نا اور تلخ رویہ
0 کمپنی کا مال یا رقم واپس کرنے کا مطالبہ اور دھمکی کہ پولیس میں رپورٹ بھی کرائی جا سکتی ہے۔
یہ سب مسائل اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے اور آنکھوں سے مسلسل آنسو رواں تھے۔ پھر اسے ناداری میں گزرا ہوا بچپن یاد آنے لگا۔ غربت کے باعث تعلیم چھوڑنا، سیٹھ عابد اور حاجی صاحب کی ڈانٹیں، جھڑکیاں اور چانٹے کھانا۔ یہ سب مناظر اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے، گھنٹوں یونہی گزر گئے۔ نہ کوئی اسے دلاسا دینے والا تھا اور نہ کوئی پرسان حال تھا۔ آخر اس کی نظر کمرے کی چھت پر لگے سیلنگ فین پر پڑی۔ دفعتاً اسے خیال آیا کہ اس کا ایک ہی ہمدرد اور غمگسار ہے۔ جو اسے ان غموں سے نجات دلا سکتا ہے اور وہ ہے اس پنکھے سے لٹکا ہوا ”رسہ“ ۔ اگلے دن وہ بازار سے ایک مضبوط سا رسہ خرید کر لایا۔ اسے چوما، سلام کیا اور کہا۔
تم ہی میرے غمگسار اور دیوتا ہو۔ تم ہی مجھے دکھوں سے نجات دلا سکتے ہو۔ ”
پھر اس نے رسے کو پنکھے سے باندھا اور تھوڑی دور ہٹ کے بیٹھ گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے، یہ کرے یا نہ کرے۔ اسے اپنے بچوں کے معصوم سے چہرے اور شرارتیں یاد آتیں تو رسے سے دور ہٹ جاتا۔ پھر جب اسے ان دکھوں اور مصیبتوں کے پہاڑ نظر آتے جو اس کی زندگی پر وارد ہو چکے تھے۔ ان لوگوں کی بیوفائی کے وتیرے یاد آتے جن سے وہ جان و دل سے مخلص تھا، تو وہ رسے کے قریب ہو جاتا۔ گھنٹوں یہی ذہنی کشمش جاری رہی، وہ کبھی رسے کی طرف بڑھتا اور پھر پیچھے ہٹ جاتا۔ یہی سلسلہ جاری تھا کہ آخر غم جیت گئے اور جینے کی تمنا ہار گئی۔ وہ بڑبڑایا، بس یہی کافی ہے جتنا جی لیا۔ الوداع اے زندگی الوداع اور پھر وہ رسے پہ جھول گیا۔ بالا آخر رسے نے اس کی گردن کے گرد گھیرا تنگ کیا اور اسے زندگی کے غموں سے آزاد کر دیا۔
اگلے روز سرائے کے مالک کی اطلاع پر پولیس آئی اور دروازہ توڑ کر کمرے میں داخل ہوئی۔ شاہد کور سے سے آزاد کر کے بستر پر لٹا دیا۔ وہ آج زندگی میں پہلی بار بستر پر پرسکون لیٹا ہوا تھا۔ لیکن زندگی کہاں تھی؟ وہ تو موت کی گہری غار میں دفن ہو چکی تھی۔ وہ وہاں جا چکی تھی، جہاں سے کوئی واپس نہیں آ تا کہ وہاں کا حال سنائے۔ پولیس نے دیکھا کہ اس کے بستر پر ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں لکھا، مرزا غالبؔ کا یہ شعر پڑا تھا۔
؎زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے


