طارق بلوچ صحرائی کی کتاب ”کتبے سے تراشی زندگی“ تعارفی مطالعہ
معاصر کہانی کاروں میں ایک اہم نام طارق بلوچ صحرائی کا ہے۔ صحرائی سے میری پہلی شناسائی ماریہ عروج کے سٹیٹس دیکھنے سے ہوئی جب وہ طارق بلوچ صحرائی کی مختلف کہانیوں سے چھوٹے چھوٹے اقتباسات کو اپنے واٹس ایپ کی زینت بناتی تھی۔ ماریہ گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی، فیصل آباد میں کیمسٹری کی سٹوڈنٹ تھی۔ سائنس کے مضامین اپنی جگہ لیکن لٹریچر سے بہت لگاوٴ رکھتی تھی۔ محترمہ کے سٹیٹس پر صحرائی کی تحریریں دیکھ دیکھ کے میری پیاس بڑھتی گئی اور بالآخر میری ملاقات طارق بلوچ صحرائی کی کتاب ”کتبے سے تراشی زندگی“ سے ہوئی۔
صحرائی عہد حاضر کا افسانہ نگار ہے۔ اس کی تحریروں کو افسانے کا نام دے یا انشائیہ کا، مضمون کہیں یا کالم، کچھ بھی کہہ لے لیکن لکھتا کمال ہے۔ بقول عطا الحق قاسمی کے کہ ”طارق بلوچ صحرائی ایک بڑا ادیب ہے“ ۔
صحرائی روحانیت کو مادیت پرستی پر ترجیح دیتا ہے۔ دینا میں مال و زر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں بذات خود انسان لیکن صحرائی محبت کو زندگی کی روح قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ سب کچھ یہی کا یہی دھرا رہ جائے گا سوائے اللہ اور رسول کی محبت کے کچھ کام نہ آئے گا۔
صحرائی کی تحریریں پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ وہ ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہے۔ کہانیوں میں لفظوں کی جادوگری کے ساتھ تخیل کا ایسا طلسم باندھتا ہے کہ انسان ایک ایک جملے کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے اور گھنٹوں گھنٹوں سوچتا رہتا ہے۔ صحرائی کی کہانیوں کا بنیادی موضوع معاشرتی اصلاح اور بے حسی کا خاتمہ کرنا ہے۔ جس طرح سورج کے نقاب اٹھاتے ہی چار سو روشنی پھیل جاتی ہے بالکل اسی طرح صحرائی نے بھی معاشرتی نا انصافیوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ طارق بلوچ صحرائی نے شب و روز کے مسائل کو اپنی کہانیوں میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
کتبے سے تراشی زندگی ڈیڑھ درجن افسانوں پر مشتمل ایک شاندار کتاب ہے۔ ہر کہانی اپنے اندر ایک الگ جہان آباد کیے ہوئے ہیں۔ صحرائی کے افسانوں میں جہاں آپ کو بے شمار ادبی اور اصلاحی پہلو دیکھنے کو ملے گے وہاں اپنی ذات کے اندر جھانکے کا موقع بھی ملے گا۔ آپ اپنی ذات کی اصل حقیقت جان کر اندر ہی اندر خاموشی کی آواز میں رو دیں گے کیوں کہ روتا انسان ہے جانور نہیں، جانور تو بس آنسووٴں بہاتے ہیں اور انسان روتے ہیں کیوں کہ انسانوں میں جذبات ہوتے ہیں۔
طارق بلوچ صحرائی نے اس کتاب کے صفحہ قرطاس پر اپنی کہانیوں کو ہیروں کی ماند اتارنے کی کوشش ہے اور کہانیوں کے ساتھ ساتھ اس کتاب کے آخر پر دو شخصی مضامین بھی تحریر کیے ہیں۔ ایک مضمون میں بابا جی عرفان صاحب کی کرامات کا بیان ہے کہ ان سے ملنے کے بعد آدمی آدمی نہیں رہتا بلکہ انسان بن جاتا ہے اور دوسرے مضمون میں ماں بولی کے لاڈلے شاعر اور ادیب پروفیسر جنید اکرام کا تذکرہ کیا ہے جو ماں بولی کو تنہا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ہے۔
صحرائی کی یہ کتاب افسانوی ادب کی ایک عمدہ مثال ہے چند کہانیوں کا تعارفی اور تنقیدی جائزہ پیش خدمت ہے۔
مذکورہ کتاب کی پہلی کہانی کا عنوان بھٹیارن ہے۔ کہانی ”بھٹیارن“ کا مرکزی کردار ایک اجنبی مسافر ہے۔ اجنبی مسافر حالات حاضرہ کی ایک جیتی جاگتی تصویر قارئین کی آنکھوں کے سامنے پیش کرتا ہے کہ کس طرح لوگ خدا سے دور حرص اور لالچ میں آ کر اپنے ہی گھر والوں کا لہو پی جاتے ہیں۔ مکرو فریب کے شیر نے انسان سے انسانیت چھین کر اسے حیوان سے بدتر بنا دیا ہے۔ اس کہانی کے بنیادی موضوعات میں ”مٹتی تہذیب، بھوک، معاشرتی نا انصافی، حرص اور لالچ ہیں۔ کہانی میں تاریخ اور عصر حاضر سے مختلف واقعات کو پیش کر کے قارئین کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خدا کو بھول جانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔
اقتباس ملاحظہ ہو:
” اے اجنبی مسافر تو اپنے زمانے میں واپس لوٹ جا اور ان کو بتا تم بدبخت رب کو بھول بیٹھے ہو وہ تو بے نیاز ہے، خدا نہ کرے، خدا نہ کرے اگر رب ذوالجلال بھی تم کو بھول گیا پھر کائنات کی کوئی چیز تم کو بچا نہ پائے گی، جب وہ بھلانے پہ آتا ہے تو دنیا کیا، اپنے کیا، اولاد کیا، تابوت بھی اپنے لاشے پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے“
عہد حاضر میں ہر دولت مند شخص فرعون کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کہانی میں بھی ”کرونا“ وبا کا ذکر کر کے ان درندہ صفات لوگوں کو خبر دار کیا گیا ہے کہ باز آ جائے ورنہ عنقریب خدا کا قہر برسے گا۔ اس طرح یہ کہانی ورق بہ ورق مختلف پیغامات قارئین تک پہنچاتے ہوئے اختتام کے سفر کو پہنچتی ہے۔
کہانیوں کے اس مجموعے میں دوسری کہانی ”قلی“ کے عنوان سے سامنے آتی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار باوٴ غفار نامی شخص ہے جس کو بچپنے سے ہی ریلوے اسٹیشن پر مڈ بھیڑ دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ ڈیم کے پلوں سے پانی کی روانی اس کہانی کے پلاٹ کی مثال ہے۔ اس کہانی کے بنیادی موضوعات میں ”جدائی، اداسی اور موت کی یاد دہانی کا تذکرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ مصنف نے بڑی فنکاری سے اپنے قارئین پر زندگی کی اصل حقیقت یعنی موت کو قلی کے ذریعے عیاں کرنے کی سعی کی ہے۔
جس طرح قلی سارا دن لوگوں کا سامان اٹھائے بھاگ دوڑ میں بسر کر دیتا ہے اور وقت شب اپنے محل غریب کا رخ کرتے وقت وہ سفید ٹوپی والی وردی اتار کر اپنا بوسیدہ لباس زین تن کیے گھر کو رواں ہوتا ہے تو اس کے ہاتھوں میں معمولی سی اجرت ہوتی ہے، بالکل! اسی طرح یہ زندگی انسان کے لیے اس دنیا میں عارضی سامان ہے، وقت نزع کی حالت میں سب کچھ یہی دھرا رہ جائے گا اور انسان قلی کی طرح اپنی اجرت ( اعمال) لیے اپنی سائے برابر زمین کا مالک ٹھہرے گا اور آخر اسی حقیقت کو عیاں کرتے ہوئے کہانی اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔
افسانہ ”مرنے سے پہلے“ ایک غریب انسان کی داستان ہے۔ کہانی کا پلاٹ مربوط اور سادہ ہے۔ مذکورہ افسانے میں غربت اور مفلسی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ منٹو لکھتا ہے کہ بھوک تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ منٹو کے اس قول پر یہ افسانہ پورا اترتا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار کسی جرم میں ملوث تو نہیں ہوتا لیکن اس کی ساری زندگی غربت کے سمندر میں غرق ہو جاتی ہے، جہیز اکٹھا نہ ہونے کے باعث اس کی بہن کے ہاتھ پیلے نہیں ہوتے اور وہ سسکتے ہوئے گاوٴں کی مختلف شادیوں میں گاتی نظر آتی ہے کیوں کہ بڑھاپا اس کی جوانی کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔
طارق لکھتا ہے کہ ”غربت اور بیماری دو سگی بہنیں ہیں اور اکثر دونوں اکٹھی پائی جاتی ہیں“ ۔ مفلسی کی داستان بھی بڑی عجیب ہے، انسان اپنی مرضی سے تو غریب اور بیمار پیدا نہیں ہوتا تو پھر ایسے انسان کو دوسرے لوگوں کی طرح زیست جینے کے حقوق کیوں نہیں دیے جاتے، اگر ایک شخص بے زبان پیدا ہوا ہے تو لوگ اسے کیوں اگنور کرتے ہیں؟ کیوں اس کی شادی نہیں ہوتی؟ ایک شخص پیٹ کے جہنم کو بھرنے سے تنگ ہے اور اس کی بہن کے ہاتھ اس وجہ سے پیلے نہیں ہو رہے کہ جہیز کا سامان نہیں ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ یہ دنیا غریب کو دو وقت کی روٹی دینا گوارا نہیں کرتی اور اگر مفلس کے برعکس معاملہ ہو تو لوگ لاکھوں کروڑوں اڑا دیتے ہیں، لوگ سوچتے ہیں کہ غریب سے کیا ملے گا امیر کے پاس دینے کو پھر بھی کچھ نہ کچھ ہے۔ آخر کہانی کا مرکزی کردار بیماری اور غریبی کے چنگل میں جینے کی آس لیے مر جاتا ہے
کہانیوں کے اس سفر میں ایک کہانی بعنوان ”درد کی خوشبو“ سے سامنے آتی ہے۔ کہانی کا آغاز تنہائی سے ہوتا ہوا ندامت پر انجام کو پہنچتا ہے۔ چند صفات پر مبنی اس کہانی میں باپ کی عظمت اور ماں کی مامتا کو بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح سات زمینوں اور سات آسمانوں کے اندر سے ماں اولاد کے دل میں چھپی بات کو جان لیتی ہے۔
باپ کے ہوتے ہوئے زندگی دھنک رنگوں، روشنیوں، اجالوں، جگنووٴں، تتلیوں اور چہچہاتے پرندوں کی ماند ہوتی ہے اور جب باپ جہان فانی سے پردہ کر جاتا ہے تو زندگی تیز ہوا میں جلتے ہوئے چراغ جیسی ہو جاتی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو۔
” یتیمی ایک ایسا ناکردہ گناہ ہے جو سزا کی سمجھ سے بھی باہر ہے گونگے اور بہرے حرف بھی روح کی حویلی میں چیخنے لگتے ہیں زندگی تیز ہوا میں جلتے ہوئے چراغ جیسی ہو جاتی ہے باپ کے جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ رویوں اور لہجوں کے ناخن اور ان کی کھرونچ کتنا درد دیتی ہے“
مذکورہ کہانی جہاں درد کی خوشبو سے بھری پڑی ہے وہاں درد کے ساتھ کہانی میں رومانیت کا پہلو بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں مرکزی کردار کو اپنے باپ کے مر جانے کا غم ہوتا ہے تو دوسری طرف محبوبہ کے گھر سے ہاں ہو جانے کی خوشی بھی ہوتی ہے۔ آخر اس خوشی اور غمی کی کشمکش میں کہانی اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔
اس افسانوی مجموعے کی کہانیوں میں کہانی ”کتبے سے تراشی زندگی“ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسے کتاب کا عنوان بنایا گیا۔ کہانی کا مرکزی کردار آذر نامی شخص ہے جو مجسمہ سازی کا شوقین ہے۔ ایسے مجسمے تراشتا ہے جن کو دیکھتے ہی گمان ہوتا ہے کہ یہ زندہ ہیں۔ مرکزی کردار آذر کے ساتھ اس کا دوست جلال خان کہانی کو روانی کے ساتھ آگے بڑھنے میں عمدہ کردار ادا کرتا ہے۔
کہانی ”کتبے سے تراشی زندگی“ کو فکری حوالے سے دیکھا جائے تو جھوٹ، حرص، خود غرضی، بے حسی اور چغل خوری کے کتبوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے کیوں کہ ایسے کتبوں سے تراشی گی زندگی میں مال و زر تو ہو سکتا ہے لیکن آرام و سکون اور خوشی نہیں ہوتی۔ اس دنیا میں سانسوں کی رسم جاری رکھنا والا زندہ کہلاتا ہے لیکن ہر سانس لیتی چیز زندہ نہیں ہوتی، موت بھی سانس لیتی ہے لیکن ہم اسے تو زندگی نہیں کہہ سکتے۔ میں نے اس بائیس سال کی زیست میں ایسے بہت سے مجسمے دیکھے ہیں جو بظاہر تو چلتے پھرتے نظر آتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں ان کی روح اجل کا نوالہ بن چکی ہوتی ہے۔ افسانہ ”مرنے سے پہلے“ سے اقتباس ملاحظہ ہو۔
” اس بار موت کے فرشتے کو بڑی مایوسی ہو گی کیوں کہ وہ ایک مرے ہوئے شخص کی جان نکالے گا“
مطلب یہ کہ زندگی سانسوں کی روانی کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی نام ہے زندہ دلی کا، زندہ دلی سے مراد اپنا حق خوشی خوشی دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دینا یہی تو اصل زندگی ہے۔ مختصر ظلم و ستم، خود غرضی، بے حسی اور جھوٹ کے کتبوں سے تراشی ہوئی زندگی میں سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن اس میں زندگی نہیں ہو سکتی اور اگر آپ حقیقی معنوں میں زندگی جینا چاہتے ہیں تو ازل سے ابد تک ہمیشہ رہنے والے رب کے ساتھ پختہ تعلق قائم کرنے سے میسر ہو گی۔
”بربادی کا حسن“ محبت میں جدائی کا شاہکار افسانہ ہے۔ اس کہانی میں بچھڑنے کے اصول بتائے گے ہیں کہ جانے والے کے لیے در کھولا رکھنا چاہیے، ہو سکتا ہے وہ جلد دستک دے اور انسان کو اپنے محبوب کے در پر دستک دیتے رہنا چاہیے کبھی نہ کبھی تو دروازہ کھولے گا اور اگر نہ بھی کھولا تو ملنے والی نامرادی کا درد آپ کو جینے کا سلیقہ سیکھا دے گا۔
مجموعی طور پر طارق بلوچ صحرائی کے فکر و فن کی بات کی جائے تو صحرائی بکھرے ہوئے خیالات و جذبات کو کہانی کی بحر میں یکجا کرنے کا کام کرتا ہے، مکمل افسانہ پڑھنے کے بعد قاری کے سامنے ایک ایسا پیراگراف آتا ہے جو ساری کہانی میں جان ڈال دیتا ہے اگر اس پیراگراف کو نکال دیا جائے تو باقی سب اضافی معلوم ہو گا یا ایسا کہہ لیں کہ کہانی اپنا حق ادا نہ کر سکے گی اور اگر فکر کی بات کی جائے تو زمانہ حال میں سچی بات کہنے کا سکوت ہے۔ لوگ سچی بات نہیں لکھتے لیکن جب لوگوں کو سچ بات کہنے کا فن آ جائے گا تو یقیناً طارق بلوچ صحرائی ایک بڑا ادیب ثابت ہو گا۔


