سیاہ رات میں خودکلامی


جنوری کا آفتاب طلوع ہوتا ہے، احساس گزرتا ہے کہ امید کی کرن آنگن میں اتر رہی ہے۔ منڈیر پہ اترتی، سرما کے سورج کی مدھم شعاع، رات کے ٹھنڈے اوس زدہ فرش پہ پڑتی ہے، گداز حرارت کی فرحت میں لطف کا سماں بندھ جاتا ہے۔ زندگی میں سنہرے خواب اور رومانوی آرزوؤں کی مہک زدہ فضا کے چھانے کا احساس ہوتا ہے۔ شب میں نیند کی بانہوں میں تسکین ملتی ہے اور دن کے اجالے میں اسیر خواب، تعبیر کو جانے والی عمودی راہ پہ سفر طے کرنے سے راحت کشید کرتے۔

رفتہ رفتہ سما بدلتا ہے، ایام کی تبدیلی کی خبریں لائے پرندے، گلشن میں دراز قد درخت کی سبز شاخ پہ بیٹھے چہکتے ہیں۔ زرخیز زمینوں پہ کاسنی جامہ اوڑھے ہوئے گندم کے خوشے کھلتے ہیں، جشن بہاراں کی علامات نمودار ہوتی ہیں۔ ایسے میں قفس کے اداس پرندے کھل کھلا اٹھتے ہیں۔

کبھی کبھی خیال آن پڑتا ہے کہ خارجی موسم کا داخلی موسم سے کیا رشتہ ہے کہ نکھری فضا میں، بارش کی ہلکی بوندوں میں، مسرت کی آبشار گرتی ہے اور بے آب و رنگ ہوا میں قوس قزح کی تمنا میں بکھرے اداس چہرے، اپنے اپنے غم کی کاٹ لیے لق و دق صحرا کی اجنبی فضا میں غبار کی گرد چھانتے ہیں۔ فیض صاحب نے داخلی و خارجی موسموں کے تعلق کا اظہار یوں فرمایا، ”ترا جمال نگاہوں میں لے کے اٹھا ہوں / نکھر گئی ہے فضا تیرے پیرہن کی سی۔“

جمال کے احساس کے ایام کا دورانیہ مختصر ہو چکا۔ ابھی بہار میں کھلنے والے گلوں پہ رنگ بھی نہیں آنے پاتا کہ سورج کی تپش سے ننھی کلیاں اور معصوم شگوفے مرجھاہٹ کی بے رحم وادی میں بغیر آہٹ کیے گر جاتے ہیں۔ اقتدار کے سنگھاسن پہ تکیہ کیے لطیف نکات اور، موسم کی تبدیلی کو بھلا کیوں کر سمجھیں کہ وہ تو موسموں پہ حکمرانی کا دعوی کرتے ہیں۔

شاخوں پہ زرد رنگ کی تہہ چڑھنے لگتی ہے گویا گرما کی آمد کی اطلاع ملتی ہے۔ اب کے برس، کینوس پہ عجب منظر اترا۔ جنوں کی حکایت ہے، کہاں تک بیان ہو گی، آپ بہتر جانتے ہیں۔ تخریب کاری میدانی بار میں سورج کی تمازت سے الجھاؤ کے شکار ذہن کا شاخسانہ تھی۔ کہساروں میں ارتعاش پیدا ہوا۔ موسم نے انگڑائی لی۔ مگر ایسا بھی موسم نہیں جس کے بارے میں ظہیر کاشمیری نے کہا تھا، ”موسم بدلا رت گدرائی، اہل جنوں بے باک ہوئے۔“

گرما کی طویل رت کے آغاز کے ساتھ تبدیلی نمودار ہوتی ہے، جس کی میعاد، عبوری حکومت کی میعاد کی طرح طول پکڑتی ہے۔ ماحول کی پیشن گوئی کرنے والے، امید افزا خبر نہیں دے رہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کا نوحہ لکھ رہے ہیں۔ 2023 کا سال، بس اسی مدوجزر سے عبارت رہا۔ پرندوں نے شہروں کے رخ سے اجتناب میں عافیت پائی۔ اب برس کی شام ہو رہی ہے تو عجب رت نے آن گھیرا ہے۔ ایک ورق الٹ رہا ہے۔ برسوں قبل جس سفر کا آغاز کیا تھا، اسے تنزلی کا خطاب ملا ہے۔

دلگیر روشنی کی تلاش میں نگاہیں، تاریک آسمان پہ مرتکز ہیں کہ چاندنی نہ سہی تو دل فزا تاروں کی مدھم سی جگمگاہٹ میں خود کلامی کا غوطہ لگایا جائے، برس کی رائیگانی کا اندازہ لگایا جائے۔ مگر جہاں آنکھیں اونگھ سے مخمور ہوں، وہاں جمود کی دھند چھا جاتی ہے۔ سال کا اختتام ہو رہا ہے، وقت پھسل رہا ہے، اور پرانی خو ہے کہ بدل نہ سکی، شب و روز بغیر خبر دیے گزر رہے ہیں، وہی شہزاد احمد صاحب کے الفاظ یاد آرہے ہیں، ”رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا۔“ جون صاحب نے منفرد وضع پائی تھی، 60 کی دہائی کے کسی برس کے اختتام پہ کہا تھا، ”وقت نہ شروع ہوتا ہے اور نہ ختم، وہ ایک آن ہے جو دوام میں پھیلی ہوئی ہے، وہ ایک دوام ہے جوآن میں سمٹا ہوا ہے، مگر پھر بھی ہم تقویم ماہ و سال کا ایک نیا ورق الٹ رہے ہیں۔“ اب معلوم نہیں کہ ہمارا وقت کون سا ہے۔

Facebook Comments HS