دیمک (افسانہ)
گرمی کی شدت ہو تو ہر انسان ہوا کے جھونکوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ گھر کا وہ کونہ ڈھونڈتا ہے جہاں ہوا کا گزر ہو۔ زینت بھی گرمی کو کم کرنے کی ناکام کوشش میں تھی کہ وہ حویلی کے بیرونی دروازے کے اوپر بنی بالکنی پر جا بیٹھی اور اس بالکنی کی بیرونی کھڑکیاں کھول دیں۔ ہوا کا گزر ہوا تو زینت نے سکھ کا سانس لیا۔
اس حویلی میں بہت سے گھر رہتے تھے۔ ہر گھر میں بیٹیاں بھی تھیں لیکن زینت سب سے زیادہ حسین تھی۔ جو بھی دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا تھا۔ یہ شاندار حویلی زینت کے والد کو برصغیر کے بٹوارے کے وقت ہجرت کے بعد ملی تھی۔ یہ تاریخی حویلی تھی گویا ایک شاہکار تھی۔ قلعہ نما اس حویلی کا بہت بڑا بیرونی دروازہ تھا جس کے دونوں طرف بڑے بڑے ہال نما کمرے تھے جن کے آ گے برآمدے اور وسیع صحن تھا۔ اسی جگہ گاؤں کا کوئی بھی مسئلہ ہوتا تو اس کے لیے پنچایت بیٹھتی تھی۔
زینت کا والد اگرچہ گاؤں کا نمبردار تھا اور گاؤں کی پنچایت کا سربراہ بھی تھا۔ لیکن انتہائی سادہ اور شریف انسان تھا۔ حویلی کا رہائشی علاقہ کچھ فاصلے اور اونچائی پر تھا۔ ساٹھ ستر سیڑھیاں چڑھ کر جانا پڑتا تھا۔ سیڑھیاں شروع ہونے سے پہلے ایک طرف میٹھے پانی کا کنواں تھا۔ جس کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا تھا۔ گرمیوں میں اس کا پانی نعمت سے کم نہ تھا۔ زینت اپنی سہیلیوں کے ساتھ اکثر یہاں آتی اور ٹھنڈے پانی کے بوکے نکال کر اپنے خوبصورت سفید پیروں پر ڈالتی تو ان کی چمک بڑھ جاتی۔ زینت اپنے پاؤں کو دیکھتی ہی رہتی اور دل ہی دل میں کہتی اللہ نے مجھے کتنا حسین بنایا ہے۔ مجھے تو کوئی شہزادہ ہی بیاہ کر لے جائے گا۔ زینت کے حسن کا چرچا پورے گاؤں میں تھا۔ لیکن تعلیم صرف پرائمری تک تھی۔
زینت بیس سال کی ہو گئی تھی اور خاندان کے ہر لڑکے کی خواہش تھی کہ کاش! اس کی شادی زینت سے ہو جائے لیکن ہر لڑکا معمولی شکل و صورت کا اور ان پڑھ تھا۔ والدین کی تمنا تھی کہ زینت کی شادی ایسی جگہ کی جائے جس کی ذات اور گھرانا اونچا ہو۔ کم از کم کچھ مربعے زمین بھی ہونی چاہیے۔ سینکڑوں رشتے آئے لیکن کوئی رشتہ ایک بھائی ریجیکٹ کر دیتا اور کوئی دوسرا۔ تینوں بھائی کسی بھی رشتے پر متفق نہ ہوتے۔ ایسے ہی سال ہا سال گزرتے گئے۔
ہر سال زینت کی عمر میں اضافہ کرتا گیا۔ ایک رشتہ کسی شہر سے آیا تھا۔ وہ پوری فیملی پڑھی لکھی تھی۔ جب زینت کو دیکھنے کے لیے آئے تو انھیں زینت بہت خوب صورت لگی۔ زینت کے گھر والے بھی یہاں مطمئن تھے کہ لڑکا خوبصورت بھی ہے۔ زمین کچھ کم ہے لیکن اچھی پوسٹ پر گورنمنٹ ملازم تھا۔ گھر بار بھی ٹھیک تھا۔ سب نے کہا یہاں اگر رشتہ ہو جائے تو اچھا ہے۔ زینت بھی بہت خوش نظر آئی تھی۔
لڑکے کی والدہ نے کہا تھا:
”ماشاءاللہ آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے۔ شہزادی ہے۔ کتنی تعلیم ہے؟“
زینت کی والدہ نے کہا تھا:
”میری بیٹی نے پرائمری پاس کی ہے۔ بہت سمجھدار ہے۔ گھر کے سارے کام کرنا جانتی ہے۔“
لڑکے کی والدہ نے تعلیم سنی تو خاموش ہو گئی تھی۔ گویا وہ اپنے بیٹے کے لیے خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ بہو چاہتی تھی۔ یہاں بھی رشتہ نہ ہو سکا۔ ایک دن زینت آئنے کے آ گے کھڑی اپنے حسن کو دیکھ رہی تھی۔ بالوں میں کنگھی کرتے کرتے دیکھا تو بالوں میں چاندی نظر آ نے لگی تھی۔ اس کی غزالی آنکھوں میں موتی چمکنے لگے تھے۔ وقت گزرتا گیا رشتے کی تلاش جاری تھی کہ زینت کا ایک رشتہ دار جو بچپن ہی سے اسے چاہتا تھا۔ اس نے بھی رشتہ مانگا بہت چاہت کا اظہار کیا۔ لیکن یہ لڑکا زینت کے گھر والوں کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ زینت کی والدہ اب تھک چکی تھی۔ وہ سوچتی تھی کہ زینت کی عمر زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ اسی رشتے دار کے ساتھ زینت کی شادی کر دی جائے۔ زینت کی ماں نے بیٹے کو کہا تھا:
”بیٹا میں کہتی ہوں اسی سجاول سے ہی رشتہ کر دیتے ہیں۔ اگر یہ رشتہ ہاتھ سے نکل گیا تو شاید پھر کوئی نہیں آئے گا۔“ زینت کے بھائی نے والدہ سے کہا تھا:
”نہیں بے بے، سجاول کا زینت کے ساتھ جوڑ نہیں ہے۔“
”بیٹا، مجبوری ہے۔ کیا کریں اگر اعلی رشتہ نہیں مل رہا تو۔“ ماں نے کہا تھا تو بھائی نے جواب دیا تھا:
”بے بے حلال نہ ملے تو حرام نہیں کھا لیتے۔ خاندانی وقار کا سوال ہے۔ اس کنگلے سجاول کے پاس ہے کیا۔ چند ٹپے زمین نہ کوئی شکل نہ عقل۔ بے بے میں اپنی بہن کا رشتہ اس سے ہر گز نہ کروں گا۔ یہ میرا آ خری فیصلہ ہے۔“ سب خاموش ہو گئے تھے جب زینت کے بھائی نے دو ٹوک فیصلہ سنا دیا تھا۔
زینت جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا تھا اس کی پریشانی بڑھتی جاتی تھی۔ زینت کی حویلی میں جتنی ہم عمر لڑکیاں تھیں اور کچھ اس چھوٹی عمر کی بھی تھیں، سب اپنا گھر بسا چکی تھیں۔ زینت کی رعنائی اور حسن کو جیسے دیمک لگ گئی ہو۔ اس کی ہنسی اور شوخی پر بھی اداسی کی بوندیں پڑ چکی تھیں۔ چالیس سال تک پہنچ چکی تھی۔ بالوں کا رنگ بدل چکا تھا۔ والدہ ابھی بھی چاہتی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہو جائے۔ اس نے رشتہ کروانے والیوں سے بھی کہہ رکھا تھا۔
ایک دن ایک رشتہ کروانے والی رشتہ لے کر آئی اور کہا تھا:
”زینت کے لیے بہت اچھا رشتہ دیکھا ہے۔ سو مربعے زمین ہے نوکر چاکر بہت بڑا بنگلہ ہے۔ عمر بھی زینت کے مطابق ٹھیک ہے۔“
”اچھا، پھر کب آئیں گے وہ لوگ؟“ زینت کی والدہ نے اسے ہزار کا نوٹ دیتے ہوئے کہا تھا۔
”ان کو تو بہت جلدی ہے۔ جہیز کی انھیں ضرورت نہیں ہے۔ چٹ منگنی پٹ بیاہ کر دیں گے۔ زینت بہت خوش رہے گی“ رشتہ کروانے والی نے کہا تھا۔
کچھ دن بعد رشتہ کروانے والی آئی اور کہا تھا: ”آج وہ لوگ آئیں گے۔“ زینت کو اب کسی بھی رشتے میں دلچسپی نہ تھی۔ وہ اپنی والدہ کو منع کر رہی تھی لیکن والدہ کے اصرار پر زینت تیار ہو گئی۔ وہ بہت حسین تو تھی۔ لڑکے کی بہن اور کچھ اور خواتین آئیں تھیں۔ زینت چائے لے کر آئی تو خواتین اسے دیکھتے ہی رہیں کہ لڑکے کے مقابلے میں زینت زیادہ حسین تھی۔ لڑکے کی بہن فوراً بولی ”ہمیں یہ رشتہ منظور ہے۔“
زینت کی والدہ نے ان کے ساتھ ایک اٹھارہ سالہ لڑکی بھی دیکھی۔ والدہ نے پوچھا ”یہ لڑکی لڑکے کی کیا لگتی ہے۔“ بہن نے فوراً جواب دیا تھا: ”یہ اس لڑکے کی بیٹی ہے جس کے لیے رشتہ لینے آئے ہیں۔“ زینت کی والدہ کے تو ہوش ہی اڑ گئے گویا سکتے میں آ گئی۔ زینت بھی یہ سن کر حواس باختہ ہو گئی اور اس نے تہیہ کر لیا کہ اب سے یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ والدہ نے زینت کو بلایا اور اس کی طرف دیکھ کر رونے لگی اور کہا تھا:
”میری شہزادی زینت مجھے معاف کر دو میں تیرا نصیب نہیں لکھ سکی۔“
”بے بے بس کر جائیں۔ اب یہاں کوئی میرے رشتے کے لیے نہیں آئے گا۔ میرے نصیب اور قسمت کو خاندان کی اناؤں کی دیمک لگ گئی ہے۔ اگر رشتہ کرنا ہوتا تو شرائط کم رکھتے ہیں۔ ہر چیز نہیں ملتی۔“ زینت نے کہا تھا۔
زینت چوباری سے اتر کر گھر میں آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کلامی بولنے لگی: ”واہ رے جوانی اور حسن! تیرا تو کوئی بھی قدردان نہ بن سکا۔“ اشک اس کی آنکھوں کی پتلیوں پر تیرنے لگے۔
وقت گزرتا گیا زینت کے سب بھائی بیاہے گئے ان کے بچے بھی ہو گئے۔ زینت کے تمام حسن کو وقت کی دیمک چاٹ چکی تھی وقت سے بہت پہلے جیسے بوڑھی ہو چکی ہو۔
گرمی کی شدت کا خیال زینت کو آج بھی ہوا کے جھونکے کی تلاش میں چوباری تک پہنچا دیتا ہے۔ چوباری کی بیرونی کھڑکی کھولتی ہے تو ہوا کا پہلا جھونکا آتا ہے تو زینت کے چہرے پر وہی گرد آ پڑتی ہے۔ زینت اپنے چہرے پر ہاتھ مار کر اور پاؤں دیکھ کر خود سے پوچھتی ہے کہ ”ہمارے سماج میں خاندانی انائیں اور اونچ نیچ کی سوچ کی دیمک کب تک حسین اور معصوم لڑکیوں کی زندگیاں چاٹتی رہے گی؟“


