ڈاکٹر سہیل زبیری: کائنات کے رازوں کا متلاشی سائنسدان
میری خوش قسمتی رہی ہے کہ مجھے چھوٹی عمر میں ہی بڑے لوگ ملے، جنہوں نے مجھے زندگی اور کائنات کو دیکھنے کے لیے بڑا سوچنے کی ترغیب دی۔ زندگی کے سفر میں، زندگی کے مقصد کی تلاش میں چند ایسے نایاب ہیرے ملے، جنہوں نے زندگی کے مقصد کو بامقصد بنا دیا۔ اسی سفر میں معروف ماہر نفسیات اور مصنف ڈاکٹر خالد سہیل بھی میرے لیے ایک دریافت تھے، جن کی بدولت علم کا ایک نیا کارواں ملا اور اسی کارواں میں سے سائنسی علوم اور کائنات کے راز کو جاننے والے ڈاکٹر سہیل زبیری ملے۔ ڈاکٹر سہیل زبیری، ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی، امریکہ کے شعبہ طبیعیات اور فلکیات کے ممتاز پروفیسر ہیں اور کوانٹم آپٹکس میں ہیپ منرلین چیئر کے افتتاحی ہولڈر ہیں۔
جن کی زندگی کی کہانی، سائنسی علوم بالخصوص فزکس میں ان کا کام عالمی سطح پرایک کارنامہ ہے۔ گزشتہ دنوں ان کا ماسٹر ٹی وی پر امریکہ سے آن لائن انٹرویو کیا، جو ان کی زندگی کی کہانی، تعلیمی سفر اور فزکس کے لیے جدوجہد پر مشتمل ہے۔ اس انٹرویو میں ایک دلچسپ امر پاکستان کے نظام تعلیم میں تبدیلی، جدت اور تربیت کا عمل ہے۔
ڈاکٹر سہیل زبیری کی پیدائش 19 اکتوبر 1952 کو پشاور میں ہوئی۔ ڈاکٹر سہیل زبیری نے ایڈورڈز کالج پشاور میں تعلیم حاصل کی، 1971 میں پشاور یونیورسٹی سے فزکس اور ریاضی میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ انہیں پشاور یونیورسٹی نے ان کی ڈگری کے ساتھ گولڈ میڈل سے نوازا تھا۔ انہوں نے 1974 میں قائد اعظم یونیورسٹی سے طبیعیات میں ایم ایس سی اور 1978 میں پروفیسر ایمل وولف کی رہنمائی میں یونیورسٹی آف روچسٹر سے فزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
پروفیسر سہیل زبیری کو ہوازہونگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں چانگ جیانگ ممتاز چیئر سے نوازا گیا۔ یہ چینی حکومت کا کسی یونیورسٹی کے پروفیسر کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے اور شاذ و نادر ہی کسی غیر چینی کو دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کوانٹم کمپیوٹنگ، لیزر فزکس اور کوانٹم آپٹکس کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے نظریاتی طبیعیات سے متعلق تحقیقی مسائل کی وسیع اقسام پر متعدد کتابیں اور 400 سے زیادہ تحقیقی مقالے تصنیف کیے ۔ ان کے تحقیقی کام کو فزکس کی دنیا نے بڑے پیمانے پر تسلیم کیا ہے اور بہت سے بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے جولائی 2022 کے دوران کیسپر کالج کوانٹم سائنس کیمپ میں لیڈ لیکچرر کے طور پر بھی حصہ لیا۔
ان کے تحقیقی موضوعات بہت وسیع ہیں اور انہوں نے کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم انفارمیٹکس، کوانٹم انٹینگلمنٹ اور سب ویو لینتھ ایٹم لوکلائزیشن کے لیے کوانٹم آپٹیکل ایپلی کیشنز پر مقالے لکھے ہیں۔ ابھی حال ہی میں، ڈاکٹر سہیل زبیری نے اپنی زیادہ تر کوششیں کوانٹم مائیکروسکوپی اور کوانٹم لیتھوگرافی میں تحقیق پر مرکوز کی ہیں، جن میں سے کچھ غیر معمولی ہیں۔ مثال کے طور پر ، کلاسیکی روشنی کے ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے ذیلی طول موج کی لتھوگرافی پر ان کے مقالے بہت پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے حالیہ فزیکل ریویو لیٹرز کا فزیکل ریویو فوکس کے ساتھ ساتھ نیچر کے نیوز آف دی ویک سیکشن میں بھی جائزہ لیا گیا۔ ان کے ایک اور حالیہ فزیکل ریویو لیٹرز کو سائنس نے ایک نیوز ریلیز کے طور پر منتخب کیا تھا جس کا عنوان تھا ”سکڑتے ہوئے ٹرانزسٹروں کی حد کو شکست دینے کا ایک نیا طریقہ“
ان کی فزکس اور تعلیم کے میدان میں اعلیٰ خدمات کی بدولت حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز ( 1993 ) اور ہلال امتیاز ( 2000 ) سے بھی نوازا ہے۔
ڈاکٹر سہیل زبیری کی اعلیٰ تعلیمی، سائنسی اور تحقیقی خدمات کے عوض انہیں مندرجہ ذیل ایوارڈز اور اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔
عبدالسلام ایوارڈ ( 1986 ) ،
چانگ جیانگ ممتاز چیئر پروفیسر، ہسٹ، چین ( 2017 )
ولیس ای لیمب ایوارڈ برائے لیزر سائنس اور کوانٹم آپٹکس ( 2014 )
جارج بش ایکسیلنس ایوارڈ برائے بین الاقوامی تحقیق ( 2011 )
ہمبولٹ سینئر سائنٹسٹ ریسرچ ایوارڈ ( 2007 )
ایران کے صدر کی طرف سے خوارزمی انٹرنیشنل ایوارڈ ( 2001 )
اسلامی ممالک کی تنظیم کی طرف سے ایوارڈ برائے طبیعیات ( 1991 )
گولڈ میڈل، پاکستان اکیڈمی آف سائنسز ( 1989 )
فیلو امریکن فزیکل سوسائٹی ( 2006 )
فیلو پاکستان اکیڈمی آف سائنسز ( 1995 )
فیلو آپٹیکل سوسائٹی آف امریکہ ( 1988 )
زندگی کے سفر کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ایک چیز جس کا میں دعویٰ کر سکتا ہوں وہ یہ کہ میں نے ثابت کیا کہ پاکستان میں ریسرچ کی جا سکتی ہے، بلکہ اچھی کوالٹی کی ریسرچ کی جا سکتی ہے اور ایسے سٹوڈنٹس تیار کیے جا سکتے ہیں جیسے آپ امریکہ، یا یورپ میں تیار کر سکتے ہیں۔ تو اس لحاظ سے میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں۔
ڈاکٹر سہیل زبیری کہتے ہیں کہ زندگی کے ابتدائی تعلیمی دور پر جب میں نظر ڈالتا ہوں تو ایک فیصلہ ایسا تھا جس نے میری باقی پوری زندگی کو بہت متاثر کیا اس وقت عام رواج یہ تھا کہ اگر ایف ایس سی میں بہت اچھے نمبر آ جائیں تو آپ یا انجینیئر بنتے تھے یا ڈاکٹر۔ یہ روایت میرے خیال میں ابھی تک بھی موجود ہے۔ اس رواج کے برعکس میں نے اسکول میں ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ایک سائنسدان بننا چاہتا ہوں، میں یونیورسٹی پروفیسر بننا چاہتا ہوں۔
یہ راستہ آسان نہیں تھا۔ اس وقت پاکستان میں پی ایچ ڈی کی ٹریڈیشنز موجود نہیں تھیں۔ جب میں نے ایم ایس سی کی، اس وقت پاکستان میں کہیں پر بھی پی ایچ ڈی کرنے کا کوئی موقع نہیں تھا، نتیجہ یہ تھا کہ مجھے کسی بھی طرح اس حد تک پرفارم کرنا تھا کہ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے کے لئے اسکالرشپ حاصل کر سکوں۔ یہ میری خوش نصیبی رہی کہ میرا تعلیمی ریکارڈ کافی بہتر رہا جس کی بدولت مجھے امریکہ سے پی ایچ ڈی کر نے کا موقع ملا۔ یہ میرے ابتدائی سفر کی کہانی رہی۔
اپنے ابتدائی تعلیمی رجحان اور گھریلو ماحول کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر سہیل زبیری نے بتایا کہ بچپن سے ہی ریاضی میرا پسندیدہ مضمون تھا۔ لیکن میں نے ہمیشہ ریاضی کو مختلف سائنسی مسائل کو حل کرنے کے ایک کے ذریعے کے طور پر دیکھا۔ اس کے برعکس فزکس ایسا مضمون تھا جو ان قوانین کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جن کے تحت کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ اسکول کے دنوں سے میری خواہش تھی کہ میں کوانٹم میکینکس کے قوانین اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کو سمجھ سکوں۔
مجھے ایک پروفیسر کی زندگی بہت پسند تھی جو ایسی ہوتی ہے جیسے ایک شاعر کی زندگی یا ایک ادیب کی زندگی یا ایک مصور کی زندگی، جس میں انسان اپنے اہداف خود متعین کرتا ہے اور پھر اس لحاظ سے آگے بڑھتا ہے۔ ایسی زندگی تخلیقی لمحات سے پر ہوتی ہے۔ یہ وہ عوامل تھے جنہوں نے مجھے فزکس کی طرف مائل کیا۔
جہاں تک فیملی کا تعلق ہے۔ میری ایک بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ مجھے فیملی کی طرف سے بہت سپورٹ رہی ہے۔ جب ساٹھ کی دہائی میں میں اپنی زندگی کے بارے میں غیر روایتی فیصلے کر رہا تھا، میرے والدین میرے ساتھ کھڑے تھے۔
میرے والدین تعلیم یافتہ تھے۔ میری والدہ نے علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کیا تھا۔ انہوں نے مجھے اپنی زندگی کے اہم فیصلوں کا فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا۔
مجھے اس کم عمری میں بھی یہ احساس تھا کہ کہ مواقع مجھے خود سے تلاش کرنے ہوں گے اور یہ اتنا آسان نہیں ہو گا کہ میں باہر جا کر پی ایچ ڈی کر سکوں۔
میرے والدین کا کہنا تھا کہ فیصلہ تو میں نے کرنا ہے، اور وہ صرف اپنے تجربات کی روشنی میں معاونت کر سکتے ہیں اور رائے دے سکتے ہیں۔ اور یہ میری بڑی خوش قسمتی ہے کہ راستے کھلتے چلے گئے اور جو خواب میں نے دیکھے تھے میں نے اپنی زندگی تقریباً ویسی ہی گزاری۔
پاکستان میں اپنی ریسرچ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان میں کم از کم اپنی ذات کو مطمئن کرنے کی حد تک یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں مسئلہ نہ پیسوں کا ہے اور نہ ہی وسائل کا ہے اور نہ یہ ہے کہ ہمارے اسٹوڈنٹس نالائق ہیں۔ اصل اہمیت لیڈرشپ کی صلاحیت ہے جو اس چیز کا نام ہے کہ آپ کے پاس جو ریسورسز موجود ہیں ان سے آپ بہترین رزلٹ کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔
نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ
میں خود کو ان خوش نصیب انسانوں میں تصور کرتا ہوں کہ جن کو تقریباً اسی قسم کی زندگی ملی جس کا میں نے خواب دیکھا تھا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ میں نے خواب دیکھا تھا اور یہی چیز میں نوجوانوں سے بھی کہنا چاہوں گا کہ آپ بھی خواب دیکھیں۔ آپ بھی زندگی کے لئے اپنا ایک ٹارگٹ مقرر کریں کہ آپ کو پہاڑ کی اس چوٹی تک جانا ہے۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کو کہاں جانا ہے، آپ کی نظر اوپر ہونی چاہیے پہاڑ کی چوٹی کی طرف۔
لیکن یہ بھی آپ کے ذہن میں ہونا چاہیے کہ پہاڑ کی چوٹی تک راستہ کبھی بھی آسان، سادہ اور سیدھا نہیں ہوتا، سیڑھیاں نہیں بنی ہوتیں وہاں تو پتھریلی زمین ہوتی ہے اور خاردار قسم کے پودے ہوتے ہیں کبھی آپ کو ایک طرف جانا ہوتا ہے تو کبھی دوسری طرف۔ کبھی آپ کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، پھر کبھی آپ کو آگے بڑھنا ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی منزل تک بھی نہیں پہنچ پاتے لیکن آپ اپنے ابتدائی مقام سے بہت آگے تک تو چلے جاتے ہیں۔
اسی سفر کا نام کامیابی ہے۔


