بلوچستان کی شورش: گر مستقبل ہوں تمہارا تو آ کر بچا لو مجھ کو


بلوچستان میں قومی مفاد اور عوام کی فلاح و بہبود کا تقاضا ہے کہ حالات پرامن ہوں تاکہ عام لوگ ’بالخصوص نوجوان طبقہ قومی تعمیر و ترقی کے عمل میں بھرپور حصہ لے۔ گلزار امام شنبے اور سرفراز احمد بنگلزئی پہلے جنگجو کمانڈر نہیں جو ہتھیار پھینک کر مرکزی دھارے میں شامل ہوئے۔ اس سے قبل بھی کئی کمانڈرز، مرکزی دھارے میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود پچھلے کچھ عرصہ میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 برسوں میں سے رواں سال خود کش حملوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تقریباً 29 خود کش حملوں میں سے آدھے حملوں کا نشانہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔

بلوچستان کی شورش کے بارے میں دو متضاد آرا ہیں۔

1۔ موجودہ شورش بیرونی طاقتوں کی آشیرباد پر چل رہی ہے۔ بلوچ نوجوانوں کو ”آزاد بلوچستان“ کا جھانسہ دے کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس رائے کے مطابق موجودہ شورش کے اہداف غیر حقیقی ہیں۔

2۔ بلوچستان میں شورش حقیقی سیاسی مسئلہ ہے، جسے نظرانداز کرنے سے بگاڑ پیدا ہوا ہے اور اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو مزید ابتری کا خدشہ ہے۔ اس رائے کے مطابق بلوچستان کی سیاسی محرومیوں، معاشی استحصال اور جبری گمشدگیوں نے شدت پسندوں کو سیاسی خودمختاری سے علیحدگی پسندی کی طرف دھکیلا ہے۔ ان دونوں آراء میں وزن ہے لیکن حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔ بلوچستان کی پسماندگی سے انکار کیا جاسکتا ہے نہ ہی بیرونی طاقتوں کے کردار سے جنہوں نے مالی و سیاسی معاونت سے بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ان حقائق کو بھی جھٹلایا ممکن نہیں۔

الف۔ بلوچستان میں شدت پسند تنظیمیں متحد ہو کر اپنی پرتشدد صلاحیتوں میں اضافہ کرچکی ہیں۔ مثلاً بلوچ لبریشن آرمی کا مجید بریگیڈ 1970 کی دہائی میں قائم ہوا لیکن اس کی کارروائیاں 2018 سے زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ بی ایل اے کے کمانڈر اسلم اچھو نے اسے دوبارہ منظم کیا۔ چینی قونصل خانہ، پاکستان سٹاک ایکسچینج، پی سی ہوٹل گوادر، چینی انجینیئر اور نوشکی میں فرنٹیئر کور پر حملے جیسے واقعات میں مجید بریگیڈ کے حملہ آوروں نے حصہ لیا۔

ب۔ بلوچستان کی حالیہ شورش ماضی کی شورشوں ( 1977,1973,1969,1963,1959,1953,1948 ) سے زیادہ طویل ہے۔ گزشتہ شورشیں بلوچستان کے چند حصوں تک محدود اور ان میں قبائلیت کا عنصر نمایاں تھا، جبکہ موجودہ شدت پسندی بلوچستان کے تمام علاقوں میں پھیل کر اب پڑھے لکھے متوسط طبقوں میں سرایت کر چکی ہے۔

ج۔ ماضی کی شورشیں سیاسی خودمختاری کے گرد گھومتی تھیں جبکہ حالیہ لہر میں علیحدگی پسندی کا رجحان ہے۔

بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کے علاوہ گزشتہ ایک دہائی میں کئی اور احتجاجی تحریکیں بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ اس کی بڑی مثال گوادر کی ”حق دو تحریک“ ہے۔ حکومت کے لیے قوم پرست اور علیحدگی پسند بلوچ عناصر کے مقابلے میں ان تحاریک کے چیلنج سے نمٹنا زیادہ مشکل ہے، کیونکہ ان میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ گوادر کے بعد یہ رجحان مزید بڑھ گیا ہے۔

حالیہ واقعے میں تربت میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت پر، نومبر کے آخری ہفتے میں بلوچ یکجہتی کونسل نے احتجاجی کال دی تو پورے مکران ڈویژن میں پہیہ جام رہا۔ لواحقین کا مطالبہ تھا کہ ذمہ داران پر قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے اہلکاروں کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا مگر اس پر عملی پیش رفت نہ ہوئی تو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دھرنا دیا گیا۔ بات نہ بنی تو اسلام آباد کا رخ کیا گیا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب مارچ تربت سے چلا تو وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ذمہ داران لانگ مارچ کے شرکاء سے اسی وقت بات چیت کرتے، ان کے جائز مطالبات تسلیم کرتے ہوئے، مسئلے کا پر امن حل نکالتے۔ مگراس سے نامعلوم وجوہ کی بنا پر گریز کیا گیا۔ اسلام آباد میں ضرورت اس امر کی تھی کہ مظاہرین کے ساتھ سنجیدگی سے مذاکرات کیے جاتے مگر پولیس کی بدسلوکی سے واضح ہوا کہ صوبے کے عوام اور حکومت میں فاصلے اور بداعتمادی کی فضا ہے۔ لوگوں گرفتار کیا گیا پھر وفاقی وزراء نے خواتین اور بچوں کی رہائی کی نوید سنائی لیکن میڈیا اور سوشل میڈیا سے سامنے آنے والے حقائق، دعووں کے برعکس تھے۔

لاپتہ افراد کے بارے میں ایک اور نقطۂ نظر کا بھی جائزہ لیا جائے جس کے مطابق ان کے کئی کیسز جعل سازی پر مبنی ہیں۔ ان لوگوں کو بھی لاپتہ قرار دیا جاتا ہے جو کسی ایجنسی ادارے، یا پولیس کی تحویل میں نہیں بلکہ علیحدگی پسندوں کے کیمپوں میں موجود، اہل خانہ سے رابطے میں ہوتے ہیں۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے الزامات کا معاملہ منظم انداز میں 2014 میں اٹھایا گیا، جب بی ایل اے کے قدیر بلوچ نے کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کیا۔ جن کی ”ماما قدیر“ کے نام سے شخصیت سازی کی گئی۔ یہی ”ماما قدیر“ جنوری 2018 میں بھارت میں مودی سے ملا اور آن دی ریکارڈ بتایا کہ اس نے درخواست کی کہ ”بھارت بلوچستان میں جنگ کے لئے اسلحہ دے اور مودی نے اس کی یہ درخواست قبول کرلی ہے۔“

ڈاکٹر دین محمد بلوچ بی ایل ایف کی مرکزی قیادت کا حصہ اور کمانڈر اللہ نذر بلوچ کے قریبی ساتھی ہیں اور اب بھی بھارت آتے جاتے ہیں انہیں بھی لاپتہ کہا جاتا ہے۔ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں مارے جانے والے چاروں دہشت گردوں کے نام لاپتہ افراد میں شامل تھے۔ سوال یہ ہے کہ وہ لاپتہ تھے تو انہوں نے یہ حملہ کیسے کیا۔ اسی حملے کے ایک کردار راشد بلوچ عرف راشد بروہی کے ”لاپتہ“ ہونے پر اس کے لواحقین نے بھی تصویر اٹھا کر انصاف مانگا، حالانکہ وہ فرار ہو کر متحدہ عرب امارات میں تھا، اماراتی انٹیلی جنس نے اسے شارجہ سے گرفتار کیا، اب قانون کا سامنا کر رہا ہے۔

2020 ءمیں ”قائد اعظم یونیورسٹی کے دو طلبہ شاہ داد بلوچ اور احسان بلوچ کو لاپتہ قرار دے کر طوفان بپا کیا گیا اور بی ایل اے نے یہ اعلان بھی کیا کہ یہ قلات اور خاران میں مارے جا چکے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں اسلام آباد میں بی ایس او (بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ) کے طلباء سے بھرتیوں اور غیر ملکی ہینڈلرز سے رابطوں کے مشن پر تھے۔ اس کی اور بھی کئی مثالیں ہیں۔

حالیہ لانگ مارچ کو مولا بخش بالاچ کی موت کے حوالے سے ہے، جن کا تعلق بی ایل اے سے تھا، 20 نومبر کو اس سے 5 کلو بارودی مواد پکڑا گیا، 21 نومبر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ تفتیش کے دوران ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا کہ بی ایل اے نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا تا کہ زبان نہ کھولے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق حالات و واقعات کی اصل تصویر سامنے نہیں لائی جاتی۔ بہرحال مسئلہ موجود نہ ہوتا تو بدامنی روز افزوں نہ ہوتی۔

بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے جس میں سالہا سال کے بگاڑ نے سکیورٹی مسائل کی شکل اختیار کرلی ہے۔ جب تک سکیورٹی حکمت عملی کو ایک جامع سیاسی ڈھانچے کے نیچے لا کر سیاسی عمل شروع نہیں کیا جاتا، تنازع میں مزید بگاڑ ہی پیدا ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں ایسے سیاسی عمل کا آغاز کیا جائے جس میں بلوچستان کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈرز میں اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

بلا شبہ علیحدگی پسندوں کے سیکورٹی اداروں اور پنجاب کے غریب مزدوروں کو نشانہ بنانے کے عمل کی تائید نہیں کی جا سکتی، لیکن جائز شکایات اور مطالبات کا حل نکالنا ضروری ہے۔ جو لوگ سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ شورش زدہ علاقوں میں طاقت کا استعمال سیاسی حکمت عملی کا مکمل نہیں، جزوی حصہ ہوتا ہے، جو پر تشدد کارروائیوں کے سد باب کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جبکہ سیاسی حکمت عملی سے پرامن جدوجہد کو راستہ دیا جاتا ہے تاکہ مذاکرات سے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ دہشت گردی کے خلاف حکومت کی موجودہ حکمت عملی ناکام ہے۔ اس پر فوری نظر ثانی کی جائے، قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔ کیونکہ طاقت کو علاج گردانا گیا تو کہیں خاکم بدہن مشرقی پاکستان جیسی صورت حال نہ پیدا ہو جائے :

میں کہیں علاج کے ہاتھوں نہ مر جاؤں اے امیر شہر
گر مستقبل ہوں تمہارا تو آ کر بچا لو مجھ کو۔

Facebook Comments HS