سال نو مبارک
واہ واہ، سبحان االلہ! دو سو سال کا عرصہ گزر گیا مگر آج بھی یہ شعر تروتازہ ہے اور سال نو کے موقع پر اہل دل کو امید کا پیغام دیتا ہے :
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
ہمارے ایک دوست جو فیض کے مداح ہیں، ان کا اصرار ہے کہ یہ شعر فیض کا ہے۔ ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ مان کر نہ دیے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ فیض کی غزل کا مقطع ہے اس میں ان کا تخلص استعمال ہوا ہے۔ ہم کہ ٹھہرے غالب کے طرف دار، بحث پر اتر آئے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ اس سے پہلے کہ ہماری چونچ اور ان کی دم گم ہو جاتی دونوں نے سخن فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر اتفاق کیا کہ یہ شعر غالب کا ہے نہ فیض کا، یہ برہمن کا ہے اور ایک بات طے ہے کہ عشاق کو بتوں سے فیض ملے نہ ملے لیکن بتوں کو فیض ضرور ملتا ہے چناں چہ شہر میں ہر سال ”فیض میلہ“ منعقد ہوتا ہے۔
ہم باقاعدہ شاعر تو نہیں لیکن گاہے گاہے فکر سخن میں سر کھپاتے رہتے ہیں۔ اس موضوع پر ہم نے بھی طبع آزمائی کی ہے مگر ہماری نظم کو وہ ستائش نہ مل سکی جس کی یہ حق دار تھی۔ صرف ان چند شاعر دوستوں نے نظم کی پذیرائی کی جن کے فکرو فن کے بارے میں خاکسار نے مبسوط مقالے رقم کیے تھے۔ حق تو یہ ہے کہ ایسے حق پرستوں اور سخن شناسوں کے دم قدم سے گلشن شعر کا کاروبار چل رہا ہے اور بازار سخن میں رونق ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے نئے سال کی خوشی میں جو اتفاق سے ”لیپ کا سال“ بھی ہے، ہم اہل ذوق کے لیے اپنی نظم یہاں نقل کر دیں (نقل نظم، نظم نباشد! )
دسمبر کی آخری شب کو
بوڑھے نجومی نے چشمہ اتارا
جنتری کو طاق پر رکھا
اور سرد لہجے میں گویا ہوا
اہل دل کے لیے
سال نو سخت کڑا ہے
تقویم میں
ہجر کا ایک اور دن آن پڑا ہے
یہ نظم سن کر ایک دوست تو اتنا ہنسے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ داد دینے کا یہ طریقہ ہمیشہ کچھ عجیب سا لگا۔
سال نو، لیپ کا سال ہے۔ لیپ کے سال میں فروری کے مہینے میں ایک دن اضافی ہوتا ہے جس کا براہ راست نقصان سرکاری ملازمین کو ہوتا ہے کہ انہیں ایک دن مفت کام کرنا پڑتا ہے۔ لیپ کے دن (29 فروری) سے بعض بہت دل چسپ روایات منسوب ہیں۔ مثال کے طور پر اس روز کوئی دوشیزہ بھی کسی جوان رعنا کو ”دعوت نکاح“ دے سکتی ہے کہ یہ عین ثواب کا کام ہے۔ قبل ازیں یہ فریضہ صرف مرد ہی انجام دیتے تھے مگر چند صدیوں پہلے، ایک زن فرنگی نے یہ طرح دگر ڈالی۔
آئرلینڈ کی برگیڈ نامی ایک راہبہ نے وقت کے پادری پیٹرک سے دعوت نکاح کا حق نسواں طلب کیا جسے پس و پیش کے بعد تسلیم کر لیا گیا مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ یہ حرکت صرف لیپ کے روز کریں گی۔ اجازت ملتے ہی اس عفیفہ نے، اسی اجازت دہندہ سے شادی کی درخواست کر دی۔ اس نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں۔ ترنت انکار کر دیا مگر تالیف قلب کے لیے اسے ایک خلعت ریشمیں عطا کی۔ تب سے یہ رسم چلی ہے کہ مرد منکر، متاثرہ خاتون کو خلعت ریشمیں عنایت کرتا ہے یا ایک درجن دستانے تحفے کے طور پر پیش کرتا ہے کہ عوض معاوضہ گلہ ندارد۔
نئے سال کی آمد ہے۔ ہم ہر سال تعمیر کردار اور تکمیل ذات کے لیے نت نئے ارادے باندھتے ہیں۔ ابھی ہم ان پر عمل درآمد کا سوچ ہی رہے ہوتے ہیں کہ وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس بار پھر ہم نے ایک نئے عزم کے ساتھ ایک ’فہرست آرزو‘ مرتب کی ہے۔ یہاں ’نئے سال کی قرارداد‘ کے نکات درج کیے جا رہے ہیں :
1۔ اس سال ہم پہلے دو تین مہینوں ہی میں یہ یاد کر لیں گے کہ یہ 2023ء نہیں، 2024ء ہے اور کاغذات پر دست خط کے ساتھ درست تاریخ تحریر کریں گے۔
2۔ وقت کی قدر کریں گے اور سوشل میڈیا پر زیادہ وقت ضائع نہیں کریں گے۔ جوں ہی فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سے فارغ ہوں گے، تعمیری سرگرمیوں میں وقت صرف کریں گے۔
3۔ اس سال ورزش کو اپنا معمول بنائیں گے۔ مہینے میں کم از کم ایک بار ضرور جم جائیں گے۔ اس کے علاوہ ورزش کے لیے موبائل کو صرف انگوٹھے سے استعمال کرنے کے بجائے دیگر انگلیوں کو بھی کام میں لائیں گے۔
4۔ سبزیاں کھانے میں دل چسپی لیں گے اور برگر میں سلاد کا سالم پتا کھایا کریں گے۔
5۔ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں گے، خاص طور پر چائے اور کافی کی صورت میں۔
6۔ اس برس مطالعے کی جانب خصوصی توجہ دیں گے اور ہر ہفتے کسی نہ کسی نئی کتاب کا ایک صفحہ ضرور پڑھیں گے۔
7۔ اس سال اپنی ذات میں صبر، تحمل اور برداشت کے اوصاف پیدا کریں گے اور وائی فائی بند ہو جانے کی صورت میں پانچ منٹ تک کسی قسم کی بے چینی یا ناراضی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔
8۔ امور خانہ میں دل چسپی لیں گے اور انڈا تلنے اور ابالنے کی ترکیب سیکھیں گے۔
9۔ اس سال رات کو آٹھ گھنٹے کی نیند پوری کریں گے اور جوں ہی ’ارطغرل‘ اور ’گیم آف تھرونز‘ کے سیزن ختم ہوں گے، رات کو بارہ بجے سو جایا کریں گے۔
10۔ ایک زبردست داستان گو بنیں گے اور دفتر میں روزانہ اپنے افسر کو باعث تاخیر کی نئی کہانی سنائیں گے۔ روز اک تازہ بہانہ، نئی ترکیب کے ساتھ!
اگرچہ ہر سال ہماری ”قرارداد“ ناکام ہو جاتی ہے مگر امید کرتے ہیں کہ اس بار قرارداد کے تمام نکات پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب رہیں گے کیوں کہ اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔

