فوزیہ بانڈے، باوقار خاتون، عظیم معلمہ

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہے جو اپنی ایک ہی ملاقات میں اپنی شخصیت کا ایسا تاثر چھوڑتی ہیں کہ بندہ عمر بھر نہیں بھول سکتا، چند روز قبل بیگم نے ناشتہ کے دوران بتایا کہ میڈم فوزیہ بانڈے انتقال کر گئی ہیں، منہ میں نوالہ ڈالنے والا ہی تھا کہ ہاتھ رک گیا، اچانک انتقال کی خبر سن کر دھچکہ لگا، پوچھا کیا ہوا ان کو، تو بیگم نے بتایا ان کو کینسر ہو گیا تھا، بہت دکھ ہوا باقی سارا دن میڈم فوزیہ بانڈے کی یادیں آنکھوں کے سامنے رہیں اور آنسو بھی آ گئے، دل سے ان کے لئے مغفرت کی دعائیں نکلتیں رہیں، اللہ تعالی اپنے پیارے حبیب حضرت محمد کے صدقے میں میڈم فوزیہ بانڈے کو جنت الفردوس میں جگہ دے، آمین، میری طرح ان کی کولیگز نے بھی ان کے لئے یقیناً دعائے مغفرت کی کیونکہ وہ خاتون بہت اعلی اخلاق کی مالکہ تھیں
یہ 2009۔ 10ئی کی بات ہے بیگم بیکن ہاؤس جوہر ٹاؤن کیمپس میں لوئر پرائمری برانچ میں ٹیچر کی جاب کرتی تھیں، کبھی کبھی بیٹیوں کے سپورٹس ڈے یا اس طرح کی کسی ایونٹ پر جانا ہوتا تھا اور میڈم فوزیہ بانڈے سے ملاقات بھی ہوتی، تقریب کے بعد چائے بھی سب اکٹھے پیتے، عمر میں بڑی تھیں اس لئے ان کا تجربہ بھی مجھ سے زیادہ تھا، خوبصورت انداز گفتگو تھا، ایک ایک لفظ سلجھا ہوا اور نپا تلا بولتی تھیں، زیادہ بولتی نہیں تھیں، کبھی ملاقات کے دوران سکول کی آیا یا کوئی ماتحت معلمہ دفتر آتیں تو انتہائی توجہ سے اس کی بات سنتیں اور دھیمی اور محبت بھرے الفاظ میں اس کو ہدایات دیتیں، ان کی اس بات نے مجھے بہت متاثر کیا کیونکہ اپنی نجی ملازمت اور دیگر دفاتر میں دیکھا کہ ادارے کا سب سے بڑا افسر ماتحتوں خاص طور پر درجہ سوئم کے ملازمین کے ساتھ بدتمیزی اور فرعونیت کے انداز میں گفتگو کرنے کو ہی افسری سمجھتے ہیں
دسمبر کا مہینہ تھا ایک دن بیگم نے بتایا کہ میڈیم سکول میں سٹاف ممبرز اور ان کی فیملیز کے ساتھ بون فائر کرنے کا پروگرام بنا رہی ہیں، کیا آپ چلیں گے، صحافت ایسا نامراد پیشہ ہے جس میں نیوز روم کے صحافیوں کی راتیں طوائف کی طرح جاگ کر گزارتی ہیں اور دن کو سونا ہوتا ہے، اپنی فیملیز، دوست احباب کے بہت سے پروگرام صرف اس وجہ سے چھوڑنے پڑتے تھے کہ تمام پروگرام رات کو ہوتے تھے اور ہم نے رات کو ڈیوٹی کرنا ہوتی ہے، اس وجہ کہیں ضروری ہوتا تو بیگم کو یہ فرض ادا کرنا پڑتا ہے، صحافت کی دنیا میں چھٹیاں برائے نام ہوتی ہیں جس میں صحافیوں نے جینا مرنا بھگتانا ہوتا ہے کیونکہ ایک دن کی چھٹی زیادہ ہو جائے تو فوراً تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے
میں نے کہا کہ بون فائر تو رات کو ہی ہوتا ہے تو پھر مجھے آفس سے چھٹی لینا پڑے گی، تو بیگم اصرار کرنے لگیں کہ آپ ایک چھٹی کر لیں، میں نے پوچھا بون فائر کے لئے تمام سٹاف کنٹری بیوشن کتنا کر رہی ہیں تو بیگم نے جواب دیا کہ زیادہ خرچہ میڈم خود کر رہی ہیں، بیگم کی بات سن کر حیران ہوا کہ اتنی پرخلوص ہیڈ جو اپنے سٹاف کی اتنی زیادہ کیئر کرتی ہیں کیونکہ میڈیا میں جب انکریمنٹ لگتی ہے تو ہم کارکن چند سو روپے فی کارکن اکٹھے کر کے اپنے افسران کو ٹریٹ دیتے ہیں تاکہ افسروں کی خوش آمد کی جا سکے، بیگم کی بات سن کر میڈم فوزیہ بانڈے کی قدر دل میں اور بڑھ گئی
جب میں نے ہاں کردی تو بیگم بہت خوش ہوئی اور اگلے روز بون فائر کے لئے نئے سوٹ کی فرمائش کر ڈالی، بولیں، کل سوٹ کی شاپنگ کے لئے جاؤں گی، ابھی چار پانچ دن ہیں درزی سوٹ کی سلائی کردے گا پھر مجھ سے سوٹ کے بارے میں مشورہ کرنے لگیں، میں نے بیگم سے کہا کہ آپ لوگوں نے میڈم فوزیہ بانڈے سے کچھ نہیں سیکھا، بیگم نے پوچھا وہ کیسے؟ تو جواب دیا کہ ان سے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں وہ ہمیشہ انتہائی سادہ اور باوقار کپڑے پہنتی ہیں کبھی بھی یہ گمان نہیں ہوا کہ یہ سوٹ پانچ، چھ ہزار روپے کا ہو گا (یہ اس دور کے پانچ، چھ ہزار کی بات کر رہا ہوں ) کبھی ان کو میک اپ میں نہیں دیکھا پھر بھی ان کی شخصیت بہت باوقار اور با عظمت لگتی ہے جس پر بیگم خفگی کا اظہار کر کے اٹھ کر چلی گئیں
بون فائر والے دن شام سات بجے فیملی سمیت سکول پہنچ گیا، وقفے وقفے سے دیگر فیملیز بھی آنے لگیں، بیکن ہاؤس کے سکول بہت وسیع ہوتے ہیں، لان میں بہت خوبصورت انتظامات کیے گئے تھے، لائٹنگ کی گئی تھی، بڑی بڑی سرچ لائٹس بھی لگائی گئی تھیں، سکول میں داخل ہوتے ہی میڈم نے گیٹ پر اپنے تمام سٹاف ممبر کی فیملیز کو خوش آمدید کہا جس سے میری حیرت میں مزید اضافہ ہو گیا کہ ایلیٹ کلاس کی خاتون سادہ اور منکسر مزاج بھی ہو سکتی ہے
وہی ہوا بون فائر میں تمام عملہ کی خواتین اور مرد انتہائی مہنگی کپڑے پہن کر آئے اور میڈم فوزیہ بانڈے حسب روایت سادہ اور پروقار لباس میں سب کا استقبال کر رہی تھیں، بون فائر کا اعلی انتظام کیا گیا تھا، اعلی معیار اور بہترین بار کیو تھا، سکول کے دو میوزک ٹیچر تھے جنہوں نے میوزک کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا انہوں نے ایک معروف گلوکار (نام یاد نہیں آ رہا) جو پی ٹی وی پر اکثر پرفارم کرتے تھے کو بھی مدعو کیا ہوا تھا، ان کی آواز نے ماحول کو اور بھی خوبصورت بنا دیا، کھانا کھانے کے بعد گاجر کا حلوہ اور کشمیری چائے بھی پیش کی گئی اس طرح یہ بون فائر یادگار بن گیا
تقریب کے اختتام پر میڈم فوزیہ بانڈے نے انتہائی مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ابتداء کر دی ہے، مجھ (میڈم فوزیہ بانڈے ) سے لے کر ہمارے سکول کی آیاؤں تک ہم سب ایک فیملی ہیں، بیکن ہاؤس فیملی، ہم نہ صرف خوشی بلکہ سب کے دکھ میں شریک ہوں گے، بون فائر کا مقصد یہی تھا کہ ہم ایک فیملی کی طرح پیار محبت سے رہیں، زندگی میں بہت کارپوریٹ پروگرام دیکھے جہاں سی ای او کا خطاب متکبرانہ ہوتا تھا، میڈم کی اپنے سٹاف کے ساتھ محبت دیکھ کر رات گھر آ کر سوچنے لگا کاش ایسے لوگ ہر ادارے کو ملیں جس سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور ترقی بھی کرتے ہیں، سٹاف کے علاوہ مرحومہ طلبہ و طالبات کا بھی بہت خیال رکھتیں، ہر بچے کے بارے میں معلومات رکھتیں اور ان کے والدین سے بچے کے ایشو پر بات کر کے ان کو حل کرنے میں مدد دیتیں
گرمیوں میں جنوبی پنجاب کے دوست محبت کا بھرپور اظہار کرتے ہیں اور درجنوں آم کی پٹیاں بھیج دیتے ہیں، گرمیاں آئیں تو بیگم نے کہا میڈم اتنی اچھی ہیں کہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ پرنسپل ہیں، ایک فیملی کی طرح سب کا بہت خیال رکھتی ہیں، ان کو آم کھلانے بنتے ہیں، میں فوراً کہا کہ اتوار کو ان کے گھر چلتے ہیں، ہم اتوار کو میڈم کے گھر ٹیک سوسائٹی پہنچے، گھر کے گیٹ میں داخل ہوئے تو احساس ہوا کہ اس گھر کی خاتون بہت سلیقہ مند ہیں، ڈیڑھ کنال کے گھر کے لان سے ہی اندازہ ہو گیا، میڈم نے ویلکم کہا اور ڈرائنگ روم لے گئیں، ان کا ڈرائنگ روم دیکھ بھی ان کی شخصیت سے مزید متاثر ہوا، دیواروں پر لگی پینٹنگز اور ڈیکوریش پیس ان کے اعلی ذوق کی بھرپور عکاسی کر رہے تھے
وقت گزرتا گیا، بچے لوئر پرائمری سے اپر پرائمری اور پھر او لیول کے سکول سے فارغ ہو کر کالج اور یونیورسٹی پہنچ گئے ہیں مگر میڈم فوزیہ بانڈے کے بعد بیکن ہاؤس اور ان کی ٹیچرز کو ان جیسی پرنسپل نہ ملی، خیر بیگم اب بیکن ہاؤس سکول چھوڑ چکی ہیں مگر افسوس جس ادارے کی اعلی روایات تھیں وہاں ایسے لوگ ان سیٹوں پر بیٹھ گئے جن میں فرعونیت اتنی بھری ہوئی ہے کہ وہ خود کو سکول کی مالک سمجھتی ہیں، جوہر ٹاؤن کیمپس میں دو سال قبل ایک ایسی خواتین کو پرنسپل اور کوآرڈینیٹر لگا دیا گیا جنہوں نے ہر قابل ٹیچر کو سکول سے نکلوا دیا، دو سال میں تقریباً درجن سے زائد ٹیچرز جو پندرہ، سولہ سالوں سے کام کر رہی تھیں ان کو معمولی معمولی جواز بنا کر سکول فارغ کرا دیا گیا
اللہ عزت اور عہدے دے تو ظرف والوں لوگوں کو دے، کم ظرف لوگ تو فرعون بن جاتے ہیں، جن کو دوسری کی قابلیت چبھتی ہے اور بلاوجہ ان کے دشمن بن جاتے ہیں، بیگم سکول کی خبریں سناتی ہیں تو دکھ ہوتا ہے کہ میڈم فوزیہ بانڈے نے قابل ٹیچرز اکٹھی کر کے جو گلدستہ بنایا تھا وہ وقت کے فرعونوں نے توڑ پھوڑ دیا، بیگم کے دور کی کولیگز سے جب بھی بات ہوتی ہیں تو وہ صرف میڈم فوزیہ بانڈے کو یاد کرتی ہے، ان کے انتقال پر ان کی کولیگز اس طرح غمزدہ ہیں جیسے ان کی فیملی میں کوئی انتقال ہو گیا ہو، فوزیہ بانڈے کی شاگرد بھی ان کو یاد کرتی ہیں، اخلاق اچھا ہو تو انسان مر کر زندہ رہتا ہے، اللہ تعالی فوزیہ بانڈے کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، آمین

