درد آشنا

"امی میں اتنی جلدی کیسے ایڈوانس تنخواہ مانگ سکتی ہوں۔ باس بھی کیا سوچیں گے کہ تین ماہ ٹھیک سے مکمل ہوئے نہیں اور محترمہ ہر ماہ کی یکم سے قبل ہی تنخواہ کا راگ الاپنے کو تیار بیٹھی ہوتی ہیں۔ پھر یہ بھی تو سوچیں کہ میں کون سا کوئی افسر لگ گئی ہوں، ایک معمولی سی بس ہوسٹس ہی تو ہوں” لہجہ میں عجیب سی جھنجھلاہٹ تھی۔ ایک وقفے سے موبائل کال کی دوسری جانب ہونے والی گفتگو کے بعد اپنے یونیفارم میں ملبوس نگینہ یاقوت کی دوبارہ آواز ابھری۔
’ایک تو امی یہ جو آپ ہر بات پر جذباتی ہو جاتی ہیں اس سے میں بہت تنگ ہوں۔ ابو چارپائی کے کیا ہو کر رہ گئے ہیں، آپ بھی دنیا و مافیا سے بے خبر بس انہی کی ہو کر رہ گئی ہیں۔ حتیٰ یہ بھی نہیں خیال کہ جوان بیٹی کس حال میں ہے؟ اگر خیال ہے تو بس۔ نگینہ بیٹا! تمہارے ابو کا چیک اپ، تمہارے ابو کی دوائیں، تمہارے ابو کے میڈیکل ٹیسٹ، ابو کی خوراک۔ میرا شمار تو جیسے کسی کھاتے میں ہی نہیں ہوتا۔‘ آخری جملے ادا کرتے ہوئے رندھی ہوئی آواز سے دکھ کا عنصر واضح ہو رہا تھا۔ مدمقابل سے شاید تسلی و تشفی بہم پہنچائی گئی جو آنکھوں میں ابھرتی نمی پلکوں کی سرحد پار کرنے سے قبل ہی کہیں تحلیل ہو گئی۔
’ٹھیک ہے امی! ابھی فون رکھتی ہوں اور باس سے بات کر کہ بھی دیکھتی ہوں۔ آپ بس دعا کریں کہ سب بہتر ہو جائے۔ اپنا خیال رکھیے گا۔ اللہ حافظ‘ موبائل پر رابطہ منقطع کرتے ہوئے ایک لمبی سی حسرت بھری آہ کھینچ کر نگینہ یاقوت بس ٹریول سروس کی انتظار گاہ سے متصل کمرے میں پڑے صوفے پر تھکے ہوئے انداز میں بیٹھ گئی۔ نظریں سامنے دیوار پر آویزاں گھڑیال پر مرکوز لیکن دماغ کے سمندر میں سوچوں کی طغیانی موجزن تھی۔ وقت کیسے گزرا یا گرد و نواح میں کیا ہو رہا ہے، ان سب سے بے خبر نگینہ یاقوت کے ہوش و حواس تب بحال ہوئے جب ڈرائیور فضل حسین نے ہلکے سے شانہ ہلا کر اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف متوجہ کیا، جس کا مطلب تھا کہ گاڑی کی روانگی میں بس آدھا گھنٹہ باقی ہے۔ بوکھلائے ہوئے انداز میں جلدی سے نگینہ نے خود کو سنبھالا اور جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر چہرے کو تروتازہ کرتے ہوئے مینجر کے کمرے کی راہ لی۔ کمرے میں داخل ہونے سے قبل زبان پر کوئی ذکر تھا جس کا ورد کرتے کرتے اس نے اندر کی راہ لی۔
لگ بھگ دس منٹ دورانیے کے بعد جو کمرے کا دروازہ دوبارہ کھلا تو کچھ دیر قبل کے تروتازہ چہرے پر پریشانی کے سائے واضح لہرا رہے تھے۔ بوجھل قدموں سے گاڑی کا رخ کیا اور متعلقہ بس کے داخلی دروازے پر اپنی ذمہ داری کی ادائیگی شروع کر دی۔ مسافروں کی آمد کے ساتھ ہی چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاتے ہوئے ہر نووارد مسافر کا ٹکٹ دیکھتے ہوئے ’خوش آمدید‘ کہا جا رہا تھا۔
دسمبر کے ان آخری ایام میں نئے سال کی آمد آمد تھی اور بس اسٹیشن پر مسافروں کا ایک ہجوم۔ مسافروں کی آمد کے اسی سلسلے میں ایک 38 سے 40 سالہ مسافر بھی سوار ہوا جو بظاہر اپنے حلیے سے کوئی کاروباری شخصیت معلوم ہوتا تھا۔ معمول کے مطابق نگینہ نے اس کے ہاتھ سے ٹکٹ وصول کرتے ہوئے استقبالیہ کلمات کہے تو جواب میں پرجوش الفاظ سے ’شکریہ‘ کا لفظ سن کر نگینہ یاقوت نے نگاہ اٹھا کر ایک نظر اس مسافر پر ڈالی۔ معمولی شکل و صورت، ہلکے سرمئی رنگ کے پینٹ کوٹ میں ملبوس، ہاتھوں میں ایک اٹیچی کیس تھامے اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ شخص مزید گویا ہوا۔ ’میڈم! آپ پلیز یہ بتا سکتی ہیں کہ ہمارے اس سفر کا دورانیہ کتنا ہو گا؟‘ جواب میں مختصر سا جواب ملا۔ ’سر صرف چار گھنٹے‘ ۔ اس کے ساتھ ہی قدرے پیچھے ہٹ کر ہاتھ کے اشارے سے راستہ دینے کا سا انداز اپناتے ہوئے مسافر کی ایک ایگزیکٹو کلاس نشست کی جانب رہنمائی کی گئی۔
اپنی نشست پر پہنچ کر مسافر نے اٹیچی کیس اوپر سامان رکھنے والی مخصوص جگہ پر رکھا، جیب سے ایک جدید طرز کا فون نکالا اور سکرین پر چند ہندسے درج کرنے کے بعد کان سے لگا لیا۔ جونہی مدمقابل سے کال موصول ہوئی تو گفتگو کی نوعیت سے یہ واضح ہو گیا کہ موصوف کسی کاروباری مقصد کے تحت ہی یہ سفر اختیار کیے ہوئے ہیں۔
کچھ ہی دیر میں تمام نشستوں پر مسافروں کے بیٹھ جانے کے بعد بس روانہ ہوئی تو گاڑی کے مرکزی مائیک سے نگینہ یاقوت کی آواز ابھری۔ مسافروں کو دیے جانے والے اس پیغام میں خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ کچھ ضروری سفری ہدایات تھیں۔ پیغام نشر کرنے کے بعد جونہی نگینہ اپنی مخصوص نشست پر واپس آئی، مسافروں کے زیر استعمال گھنٹی بج اٹھی۔ نگینہ نے مڑ کر پیچھے کی جانب دیکھا تو اسی ایگزیکٹو کلاس نشست کی جانب سے ہاتھ لہراتا ہوا نظر آیا۔
نگینہ نشست کی جانب بڑھی اور اپنے پیشہ وارانہ انداز میں قدرے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ’فرمائیے سر! میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟‘ جواباً مسافر ہاتھ میں پکڑے ہوئے فون اور چارجر کو نگینہ کی جانب بڑھاتے ہوئے گویا ہوا۔ ’تکلیف کے لیے معذرت۔ لیکن موبائل کی بیٹری ختم ہو رہی تھی۔ کچھ ضروری روابط کرنا تھے۔ اگر ممکن ہو تو اتنی چارجنگ کر دیجئے کہ چند ایک کالز کر لوں۔ ‘
نگینہ نے مزید کچھ کہے بغیر دونوں چیزیں پکڑیں اور ڈرائیونگ نشست پر بیٹھے فضل حسین کے قریب ہی موبائل چارج پر لگا دیا۔ فضل حسین ایک سرسری نگاہ نگینہ کی جانب ڈال کر واپس نگاہیں سامنے مرکوز کرتے ہوئے مخاطب ہوا۔ ’نگینہ بیٹا! سب خیریت ہے نا؟ کچھ پریشان معلوم ہوتی ہو۔‘
’خیریت کہاں چچا۔ یہ غم حیات تو لگتا ہے اس زندگی کے ساتھ ہی جان چھوڑے گا۔‘ حسرت و یاس بھری آواز میں نگینہ یاقوت کے جواب نے فضل حسین کے ماتھے پر موجود بڑھتی عمر کی شکنوں میں مزید اضافہ کر دیا مگر لب ساکت ہی رہے۔ شاید جواب میں کچھ کہنے کو تھا ہی نہیں۔
کچھ توقف کے بعد نگینہ نے موبائل کی بیٹری دیکھی تو چارجنگ پلگ سے اتار کر واپس اسی مسافر کو دینے کے لیے بڑھی۔ مسافر نشست کے ساتھ مناسب طریقے سے ٹیک لگائے آنکھیں موند کر آرام کر رہا تھا۔ نگینہ نے ایک اجمالی سے نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی اور گلا صاف کرنے کے سے انداز میں مسافر کو اپنی طرف متوجہ کیا تو مدمقابل مسافر نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ موبائل اور چارجر پکڑتے ہوئے شکریہ ادا کیا گیا۔ نگینہ ابھی واپس اپنی نشست کی جانب بڑھنے کو تھی کہ پیچھے سے قدرے شائستہ انداز میں آواز آئی۔
’آپ برا نا مانیں تو کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ‘
نگینہ پیچھے مڑ کر جھنجھلاہٹ اور حیرانی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ مخاطب ہوئی۔
’جی کہیے! میں سن رہی ہوں۔ ‘
’اگرچہ یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے۔ میری دخل اندازی مناسب نہیں۔ پھر بھی بات یہ ہے کہ روانگی سے قبل جب آپ مینجر صاحب کے کمرے داخل ہوئی تھیں تو اس وقت داخلی دروازے کے ساتھ والے صوفے پر میں بھی بیٹھا تھا۔ غالباً آپ کی نظر نہیں پڑی لیکن آپ دونوں کی گفتگو میں نے سن لی۔‘ لہجہ دھیما اور رازدارانہ بھی تھا تاکہ دیگر مسافر متوجہ نا ہونے پائیں۔ اب کے نگینہ کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا تو مسافر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پیشکش کی۔ ’آپ کے مینجر صاحب میرے ایک عزیز ہیں اور میں خود بھی ایک مینجمنٹ گروپ میں آڈیٹر ہوں۔ اگر میں آپ کی پریشانی کے حل میں کچھ مدد کر سکوں تو مجھے خوشی ہو گی۔‘
’سر! آپ کا بہت بہت شکریہ۔ انشاءاللہ کوئی نا کوئی راہ نکل آئے گی۔ آپ نے احساس کیا، میرے لیے یہی۔‘
نگینہ ابھی اپنی بات مکمل بھی نا کرنے پائی تھی کہ مد مقابل نے کوٹ کی جیب سے ایک بٹوا نکالا اور اس میں سے ایک وزٹنگ کارڈ نگینہ کی جانب بڑھاتے ہوئے گویا ہوا۔
’آپ یہ کارڈ رکھ لیں۔ پھر بھی آئندہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو بلا جھجک رابطہ کر لیجیے گا۔ ‘
نگینہ یاقوت نے جان چھڑانے کی غرض سے ایک دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ ”بہت بہت شکریہ سر“ کے الفاظ ادا کیے اور بغیر دیکھے کارڈ وصول کرتے ہوئے کوٹ کے دائیں جانب والی جیب میں ڈال لیا۔ واپس اپنی نشست پر آ کر نگینہ یاقوت نے کسی گہری سوچ میں غرق ہو کر کھڑکی کی جانب والے شیشے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔
یکایک معلوم نہیں کس خیال کے تحت سیدھے بیٹھ کر کوٹ کی جیب سے موبائل نکالا تو وزیٹنگ کارڈ بھی ہتھیلی اور موبائل کے درمیان آویزاں ہوتے ہوئے باہر نکل آیا۔ موبائل بائیں ہاتھ میں لیا اور دائیں ہاتھ میں کارڈ پکڑ کر ایک سرسری نگاہ کارڈ پر موجود تعارفی الفاظ پر ڈالی، مگر جونہی کارڈ واپس جیب کی جانب ڈالنا چاہا تو کارڈ کی پشت پر نیلی سیاہی سے چند الفاظ نظر آئے۔ جوں جوں اس مختصر سی تحریر کو نظروں ہی نظروں میں پڑھا گیا، آنکھیں حیرت کے اضافے سے کھلتی چلی گئیں۔
چند ساعت سکتے کی سی کیفیت کے بعد کسی فیصلہ کن انداز کے ساتھ کارڈ کو مٹھی میں بھینچتے ہوئے نگینہ یاقوت اٹھ کھڑی ہوئی اور پیچھے مڑ کر اس مسافر کی جانب غصیلی نگاہوں سے دیکھا۔ مسافر نے جب غصہ بھری نظروں کی تپش کو اپنے چہرے پر محسوس کیا تو چور نگاہوں سے باہر کے نظاروں کی جانب دیکھتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس سے قبل کہ نگینہ یاقوت کی جانب سے مزید کچھ رد عمل دیکھنے کو ملتا موبائل پر بجنے والی ٹون نے اسے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔
بے دھیانی کی سی کیفیت میں موبائل کال سننے کے لیے کان سے لگایا گیا تو اچانک چند ثانیے قبل کے غصیلے چہرے کی جگہ پریشانی کے سائے لہرانے لگے۔ نشست کے سرے پر ہاتھ کے سہارے سے آہستہ آہستہ بیٹھتے ہوئے نگینہ یاقوت کی آواز نکلی۔ ’امی ابھی آپ کون سے ہسپتال ہیں؟‘ ہسپتال کا لفظ کچھ ایسے انداز میں ادا کیا گیا کہ ڈرائیور فضل حسین نے بھی یکایک ایک پریشان کن نگاہ نگینہ یاقوت کی جانب موڑی اور ساتھ ہی توجہ دوبارہ راستے کی جانب مرکوز کر دی۔ ”امی آپ اکیلی ہی ابو کو لے کر چل پڑیں، کسی کو ساتھ لے جاتیں۔ خیر آپ پریشان نا ہوں، میں کچھ سوچتی ہوں۔ ’نگینہ یاقوت کی آواز کے بعد موبائل کال پر مدمقابل سے گفتگو جاری تھی، جبکہ ماحول پر کوئی غیر محسوس سا سناٹا تھا۔
خاموشی کے ان چند لمحوں میں نگینہ یاقوت کے دماغ نے اس قدر تیزی سے سفر کیا کہ معلوم نہیں کب آنکھوں کے ساحل پر اشکوں کے ہجوم نے ہر بند توڑ دیا اور آنسوؤں کی ایک ایک لڑی دونوں آنکھوں سے رواں ہو گئی۔ خیالات کا یہ سفر حسرت و یاس لیے یکایک مٹھی میں بھینچے ہوئے کارڈ پر اختتام پذیر ہوا۔
کارڈ کی سلوٹیں ٹھیک کرنے کے بعد بائیں ہاتھ کی پشت سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کارڈ پر لکھی تحریر کو ایک بار پھر بغور پڑھا گیا۔ ماحول پر طاری ان چند لمحوں کے سکوت کو فضل حسین نے ہارن بجا کر توڑا تو نگینہ یاقوت کی ہڑبڑائی ہوئی آواز ابھری۔ ’امی! امی! آپ ڈاکٹر صاحب سے کہیں کہ وہ آپریشن کی تیاری کریں۔ میں۔ میں۔ صبح 9 بجے تک پیسے لے کر ہسپتال پہنچ جاؤں گی۔‘ گاڑی چلاتے ہوئے فضل حسین کی نگاہیں اگرچہ سڑک پر تھیں مگر ذہن اور کان قریب کے ماحول میں ہی ہمہ تن گوش تھے۔
’نہیں امی ابھی رات کو پہنچنا بالکل ممکن نہیں۔ وہ۔ وہ۔ مجھے ایک اور ہوسٹس کی جگہ آج رات ایکسٹرا ڈیوٹی کرنی ہے۔ لیکن صبح میں جلد از جلد آنے کی کوشش کروں گی۔‘ نگینہ یاقوت نے حتیٰ الامکان اپنی رندھی ہوئی آواز کو مدھم رکھنے کی کوشش کی تھی مگر فضل حسین کے ماتھے کے وسط پر اچانک شکنوں کا یکجا ہونا نگینہ یاقوت کی کن اکھیوں کو بہت کچھ واضح کر رہا تھا۔ دسمبر کے اس سرد موسم میں اگرچہ بس کا ہیٹنگ سسٹم عمومی سطح پر تھا لیکن اب نگینہ یاقوت کی جبیں پسینے کے ننھے ننھے قطروں سے تر ہو رہی تھی۔ ’آپ باقی فکر چھوڑیں اور فی الحال بس ابو کا خیال رکھیں۔ صبح ملتے ہیں۔ فی امان اللہ۔‘
اب کے بے دھیانی میں فضل حسین نے بے مقصد زور زور سے ہارن بجایا تو بھی نگینہ یاقوت لاتعلق سا چہرہ لیے ہوا میں گھورنے لگی۔ وہ یہ نہیں جان پائی کہ سفر کے دوران بے احتیاطی کرنے والی دوسری گاڑیوں کو ہارن بجا کر محتاط کیا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کا حادثہ اور نقصان نہ ہونے پائے۔ لیکن شاید۔ فضل حسین نے کبھی اس گاڑی کا سفر نہیں کیا تھا جس کی ڈرائیونگ نشست پر اس وقت نگینہ یاقوت بیٹھی تھی۔

