شرپسندی سے مظلومیت کا سفر
9 اور 10 مئی کی منظم بغاوت کے وقت پوری تحریک انصاف ملک بھر میں ایسے سڑکوں پر اودھم مچا رہی تھی جیسے وہ پے در پے دشمن کے قلعے فتح کر رہی ہے۔ جناح ہاؤس لاہور کو جلانا ہو، پشاور میں ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ جلانا ہو یا راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے گیٹ پر حملہ ہو، ہر طرف ملک میں آگ لگادی گئی۔ یہ معمول کی کوئی گرفتار پر عوامی ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک منظم بغاوت کی ناکام کوشش تھی جس کو سیکیورٹی اداروں نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں ناکام بنایا۔
پلان تو بڑے پیمانے پر لاشوں کا تھا لیکن فوج نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پلان کو ناکام بنایا پھر جیسے ہی پولیس ان شرپسندوں کو پکڑنے کے لئے متحرک ہوئی تو انسانی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ملک گیر سطح پر ایسے ہی مہم چلی جیسے ملک گیر آگ لگائی گئی۔ انقلاب جب دم توڑ گیا تو انسانی ہمدردی کا ہتھیار استعمال کرنے کا حربہ استعمال کیا گیا۔ کل تک جو جماعت برسراقتدار تھی جس کو ملک کی سب سے زیادہ فکر تھی جو دن رات ایک پیج ایک پیج کا دم بھرتے نہیں تھکتی تھی وہی جماعت ملک کو جلانے اور ایک پیج کو چیر پھاڑ کردینے کے دھر پر ہو گئی۔
پوری دنیا میں واحد اسلامی ایٹمی قوت کا تماشا بنا کر رکھ دیا گیا۔ دنیا کو میسج دیا گیا کہ پاکستان کی فوج کمزور ہے اس پر جو چاہیے حملہ آور ہو سکتا ہے۔ دو دن پوری دنیا نے دیکھا کیسے ایک جماعت کے کارندے سیاست کے لبادے میں بلوائیوں اور شرپسندوں کے روپ دھارے دفاعی تنصیبات کو نذر آتش کر رہے ہیں۔ یہ ٹولہ پوری دنیا میں واحد ٹولہ ہو گا جس نے اپنے ہی شہداء کا تمسخر اڑایا اور ان کی یادگاروں کو جلایا۔ شہداء کے لواحقین اور معصوم بچوں کی سسکیوں اور آہو کی آوازیں اگلے تین ماہ تک قوم نے سنی۔
جن ماؤں کے بیٹے، بہنوں کے بھائی اور بیوگان کے سر کے تاج مختلف جنگوں اور دہشتگردی کی جنگ میں شہید ہوئے ایک لمحے کے لئے سوچیں ان سب کے دلوں پر اس وقت کیا گزر رہی ہوگی جبکہ ان کے اپنے ہی ملک میں ان کے پیاروں کی بے حرمتی کی گئی۔ ان کے پیاروں کی بے حرمتی اس شخص نے کروائی جس نے ارض پاک کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا۔ اس شخص سے قبل کئی وزرا اعظم جیلوں میں گئے اور اقتدار سے نکالے گئے لیکن ان کی جماعتوں کے کارکنوں اور مداحوں نے شہداء کی بے حرمتی نہیں کی۔
یہ انوکھا لاڈلہ تھا جس کو سب کو جیلوں میں بھی ڈالنا تھا لیکن خود جیل کے نام سے بھی ڈرتا تھا۔ جو دوسروں کو پھانسی دینے کے منصوبے بنا رہا تھا خود گرفتاری سے بھی ڈر رہا تھا۔ اس قدر بے لگام تھا کہ اپنے ہر سیاسی مخالف کا نام تضحیک آمیز انداز سے لیتا تھا جن فوجی جرنیلوں کے دم پر اقتدار میں آیا انہی کو میر جعفر، جانور جیسے القابات بھی دیے۔ اس کے ہر مخالف نے بڑی بردباری اور تحمل سے اس کی چرب زبانی کو برداشت کیا۔
9 مئی کے واقعات میں ملوث جتنے بھی اس کے حواری ملوث تھے وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے ان کو غلط فہمی تھی کہ بڑی عدالت میں ان کا حامی بندہ بیٹھا اس نے ان کو ریلیف دیا بھی لیکن جیسے ہی وہ گیا منظرنامہ تبدیل ہو گیا۔ ایک طرف آپ ملک جلائیں اور شہداء کا تمسخر اڑائیں پھر اسی ملک میں الیکشن لڑنے کے بھی خواب دیکھیں ایسا دنیا کے کسی مہذب ملک میں نہیں ہوتا۔ آپ کو عدالتیں، الیکشن کمیشن یا دیگر ادارے بھول سکتے ہیں شہداء کی مائیں نہیں بھول سکتی جن کے بیٹوں کا تمسخر تم نے سربازار اڑایا اور ان کی یادگاروں کو جلایا۔
آج ایک بار پھر انسانی ہمدردی کا کارڈ کھیل کر رہے ہیں ہمیں الیکشن لڑنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔ کیا آپ کو شہداء کے لواحقین نے کہا تھا ہمارے پیاروں کی بے حرمتی کریں پھر ہمارے پاس ہمدردیاں حاصل کرنے بھی آئیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ایک طرف آپ اپنے ہی ملک کی فوج کو بدنام کریں پھر اسی فوج پر کیچڑ اچھالیں کہ وہ ہمارے راستے میں دیوار بن رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران جس پروفیشنل انداز میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، جنرل ندیم انجم اور میجر جنرل فیصل نصیر نے اپنے فرائض سرانجام دیے اس کی مثال ملکی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے کیونکہ ایک مخصوص جماعت اور اس کے بیرون ملک بیٹھے حامیوں نے جس انداز میں ان تینوں اہم شخصیات کے خلاف گھٹیا مہم چلائی ایسا تو ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی نہیں کرتا نہ ہی ایسی جرات کرتا۔
اس جماعت کے بیرون ملک بیٹھے جن یوٹیوبروں نے اودھم مچا رکھا ہے ہر روز فوج کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرتے ہیں، من گھڑت خبریں پھیلاتے تاکہ عوام میں سنسنی پھیلا سکیں پھر بڑی دیدہ دلیری سے ان کی سرپرست جماعت یہ بھی کہتی ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں جبکہ ان کا پورا سوشل میڈیا ان شرپسندوں کا سپورٹر ہے۔ جس نے جو بیجا ہے اس نے وہ لازمی کاٹنا ہے چاہے آج کاٹے یا کل کاٹے۔ کیونکہ وہ برداشت کرتے ہیں معاف نہیں کرتے۔ ایسے نہیں ہو سکتا آپ شہداء کا تمسخرائیں ان کے خلاف دنیا بھر میں مہم چلائیں پھر انہی سے اچھے کی امید رکھیں۔ یہ ان کا صبر ہے جو ابھی تک تختہ دار پر نہیں لٹکا رہے کیونکہ وہ تو اس بھی دریغ نہیں کرتے۔ ایسا تو ہرگز نہیں ہو سکتا آپ ایک ہی وقت میں شرپسند بھی بنیں، بلوائی بھی بنیں اور مظلوم بھی بنیں اور وہ اس کو سچ بھی مان لیں۔


