بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر


اگر آپ کسی ایسے ہوائی جہاز میں سوار ہوں جس کا پائلٹ مے نوشی میں مبتلا ہو تو آپ کی کیفیت کیا ہوگی؟ ظاہر ہے آپ سمیت جہاز میں سوار عملے اور مسافروں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ اسی طرح آپ کی ہارٹ سرجری ایک خمار آلود ’ہارٹ سرجن‘ کر رہا ہو تو اس صورت میں بھی آپ کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ یہی مثال شراب کے خمار میں مبتلا ہو کر خود اپنی کار چلانے پر بھی صادق آتی ہے۔ مگر کیا اس میں قصور شراب کی بوتل کا ہے یا غیر مناسب استعمال کا ؟ شراب کے نامناسب استعمال کی وجہ سے دنیا میں ایک سال میں قریب 28 لاکھ لوگ لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ اس سے قطع نظر 2021 ء کے ایک سروے کے مطابق اس وقت دنیا میں اس کی تجارت کا حجم 1624 ارب ڈالر سالانہ ہے۔

قدیم زمانے سے یہ ریت چلی آ رہی ہے کہ انسان فصل کاشت کر کے جب محفوظ کر لیتا تھا تو خوشی سے جھوم جاتا تھا۔ اگرچہ کچھ جشن موسم کے اعتبار سے بھی منعقد ہفتے تھے مگر زیادہ تر میلے ٹھیلے اور تہوار فصل کی کاشت کے بعد منعقد ہوتے ہیں۔ جیسے ہولی، دیوالی، بسنت اور نو روز وغیرہ۔ نفسیاتی طور پر انسان کو خوش ہونے کے لیے دنیاوی تفکرات سے عارضی طور پر چھٹکارا پانے کی ضرورت ہر وقت رہی ہے۔ شاید شراب کے استعمال کی یہی وجہ رہی ہو کہ یہ عارضی طور پر مزاج کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔

تاریخ قدیم کے مطابق خمیر کی دریافت قدیم چین میں پیلے دریا کی وادی (ییلو ریور ویلی) میں 10000 ہزار سال قبل مسیح میں ہوئی۔ چینی ماہرین آثار قدیمہ نے 6600۔ 7000 قبل مسیح کے مٹی سے بنائے گئے شراب نوشی کے ظروف دریافت کیے ہیں۔ دنیا کی عظیم تہذیبیں جن میں قدیم چین، میسو پوٹیمیا، قدیم مصر اور قدیم ہندوستان شامل ہیں، کے ادوار میں شراب کشید کی جاتی تھی اور استعمال کی جاتی تھی۔ مگر عام طور پر یہ مشغلہ سلاطین، جنگی ہیروز یا اہل ثروت امراء تک محدود تھا۔

پھر اس مشروب نے ارتقائی منازل طے کیں اور موجودہ دور میں دنیا کی چند بڑی صنعتوں میں شامل اور ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہے۔ اگر الکوحل کی مقدار کے تناسب سے شراب کی خانہ بندی کی جائے تو اس کو چار خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ الکوحل کی ادویات، سرجری سے قبل جزوی طور پرسن اور مکمل طور پر بے ہوش کرنے اور صفائی وغیرہ میں استعمال اپنی جگہ افادیت رکھتا ہے۔

قابل ذکر مذاہب کی بات کریں تو بدھ مت میں شراب نوشی کے ساتھ ہر نشہ آور شے کے استعمال کی ممانعت ہے۔ جین مت، ہندومت سکھ ازم اور اسلام میں شراب نوشی قطعاً ممنوع ہے عیسائیت میں خاص مواقع پر ایک جام پی لینے کی اجازت ہے مگر یہودیت میں شراب نوشی کی ممانعت تو نہیں لیکن کثرت استعمال پر پابندی ہے۔ تاریخی طور پر اسلام میں شراب نوشی پر ان لوگوں کو مدنظر رکھ کر لگائی گئی تھی جو شراب نوشی کے آداب سے واقف نہیں تھے اور پی کر غل غپاڑہ اور دنگا فساد کرتے تھے۔ جب انسان نے آداب مے نوشی سیکھ لیے اور قوانین بنا لیے تو میری نظر میں اس پر بھی اجتہاد کی ضرورت ہے۔

اگر اقوام عالم کی سائنسی ترقی، معاشی خوشحالی اور سماجی دیانتداری کے معیار ات کا جائزہ لیا جائے تو وہ اقوام جہاں شراب نوشی کی اجازت ہے وہ فہرست میں ان اقوام سے بلند ہیں جہاں پر شراب نوشی پر پابندی ہے۔ (یہ موازنہ پیش کر کے میرا مقصد قارئین کو شراب نوشی کی ترغیب دینا نہیں ہے۔ بلکہ کچھ غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے۔) مگر یہ اقوام جن کی اکثریت یورپ، جنوبی امریکہ، شمالی امریکہ۔ ایشیاء اور آسٹریلیا میں بستی ہے، جنھوں نے شراب نوشی کی اجازت دے رکھی ہے اس کے ساتھ قوانین کا ایک پیکج بھی دے رکھا ہے۔

مثال کے طور پر کینیڈا میں سر عام یعنی راہ چلتے، پبلک پارکس میں اور گاڑی میں شراب نوشی پر پابندی ہے۔ حتیٰ کہ آپ بند دروازوں کے اندر اور میخانے کے علاوہ شراب نوشی نہیں کر ہی نہیں سکتے۔ ان ممالک میں ایک خاص عمر سے کم عمر کے افراد شراب خرید بھی نہیں سکتے۔ اسی طرح شراب پی کر گاڑی چلانے پر سخت سے سخت سزا ہے۔ چین جہاں دنیا کی سب سے پہلی شراب بنائی گئی تھی۔ اس نے بھی شراب نوشی کے حوالے سے مفصل قوانین بنا رکھے ہیں۔

تخلیقی کام اور شراب نوشی کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کے عظیم اذہان متوازن مے نوش تھے۔ ان ادیبوں، شاعروں، اداکاروں، سائنسدانوں اور سیاست دانوں کی ایک طویل فہرست ہے جو اس مضمون میں نہیں سما سکتی مگر چیدہ چیدہ افراد کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ جن میں : سکندر اعظم (یونانی سپہ سالار) ، اسٹیفن کنگ (امریکی ناول نگار) ، آلڈرن ( امریکی خلاباز)، ارنسٹ ہیمنگ وے (نوبل انعام یافتہ ادیب) ، چارلس ڈکنز (ادیب) اور ژان پال سارتر (عظیم ادیب اور فلسفی شامل ہیں۔ ابراہم لنکن امریکہ کے صدر بننے سے قبل ایک میخانے کے مالک تھے۔ وہ متوازن مے نوش تھے۔ اس حوالے سے ان کا ایک مشہور قول ہے کہ ”شراب نوشی کا تعلق کسی بری شے کا استعمال نہیں بلکہ ایک اچھی شے کا برے طریقے سے استعمال ہے۔“

بر صغیر پاک و ہند کے تناظر میں انیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر اسداللہ خاں غالؔب مے نوش تھے۔ بلکہ یاران نکتہ داں نے ان کو مرزا نوشہ کا نام بھی دے رکھا تھا۔ بلکہ ان کے نزدیک صاف، سچی اور کھری گفتگو کرنے کے لیے جو مطلوبہ بے خودی درکار ہوتی ہے وہ مے نوشی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مرزا کے بقول :

ہر چند ہو مشاہدہ ٔ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

مگر ایسا بھی نہیں کہ وہ مے کی طرف رغبت کو درست اور حق بجانب گردانتے ہوں۔ شاید اسی لیے ایک غزل میں یہاں تک کہہ گئے :

؎ یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
مگر وہ شراب نوشی میں کنجوسی کو بھی پسند نہیں کرتے تھے :
کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں
یہ سوئے ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں

برصغیر کے ایک اور عظیم شاعر فیض احمد فیضؔ شراب کے رسیا تو تھے مگر کبھی بھی اس کو اپنی کمزوری یا عادت نہ بنایا۔ ان کی ایک مشہور غزل کا شعر ہے :

آئے کچھ ابر اور کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے

عمر خیام کی رباعیات کی طرح عبدالحمید عدؔم کی شاعری بھی مے نوشی سے بھر پور ہے۔ بلکہ وہ تو یہاں تک کہہ گئے :

 کون ہے جس نے مے نہیں چکھی کون جھوٹی قسم اٹھاتا ہے
میکدے سے جو بچ نکلتا ہے تیری آنکھوں میں ڈوب جاتا ہے

برصغیر میں باقی دنیا کی طرح شراب نوشی کوئی انہونی بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔ پاکستان کے بننے کے بعد بھی دو ڈھائی دہائیوں تک یہ باقی مشروبات کی طرح ایک عام مشروب تھا بری بحری اور فضائی افواج کے پرانے میسز میں آج بھی وہ بار موجود جہاں سے شراب پیش کی جاتی تھی اور ڈنر نائٹس میں پاکستان کے نام کا ٹوسٹ ہوتا تھا۔ پاکستانی قوم کی بد قسمتی ملاحظہ ہو کہ شراب نوشی پر پابندی ایک ایسے وزیراعظم نے لگائی جو اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتا تھا اور خود مے نوش تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ اقدام ملا پریشر کے تحت ستر کی دہائی میں اٹھایا۔ اس ضمن میں حبیب جالؔب نے کہا تھا :

 بہت کم ظرف تھا جو کر گیا محفلوں کو ویراں
نہ پوچھو حال یاراں شام کو جب سائے ڈھلتے ہیں

آگے چل کر شراب پر پابندی کا غوغا اس وقت بلند ہوا جب جنرل ضیاءالحق نے پاکستان میں مارشل لاء لگا کر اپنی ’کوڑے مارکہ‘ شریعت نافذ کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ خاص محافل میں وہ خود بھی یہ شوق فرماتے تھے۔ پاکستان میں شراب پر پابندی کی وجہ سے نہ صرف اس کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے۔ بلکہ پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور صارفین کو شدید دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ کیونکہ شراب مافیا بلیک مارکیٹ کے ذریعے اربوں روپے کما رہا ہے۔

شراب پر پابندی نہ ہونے کی صورت میں یہی روپیہ حکومتی خزانے میں جا سکتا تھا۔ مگر ملا کے گلے میں گھنٹی باندھنے کے لیے کوئی سیاسی لیڈر بھی تیار نہیں۔ اگر یہ کام پرویز مشرف جیسا روشن خیال با اختیار آمر نہیں کر سکا تو باقیوں سے کیا امید رکھی جائے؟ پاکستان میں شراب کی کھپت کا اندازہ راولپنڈی میں مری بروری، بلوچستان میں حب، سندھ ڈسٹلری اور کوئٹہ ڈسٹلری کے باہر کھڑے ٹرکوں کی قطاروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ عبیر ابو ذؔری مرحوم نے درست کہا تھا :

پیتے نہیں بنتی ہے تو جاتی کہاں ہے
اٹھتے ہیں میرے ذہن میں سوالات مسلسل

بہت سے مسلم ممالک میں قوانین کے دائرے میں شراب نوشی کی اجازت ہے۔ جیسے ترکی، ملائیشیا، عرب امارات اور قطر۔ جب کہ مصر، شام، لبنان، اردن، مراکش اور تنزانیہ میں شراب نوشی کی سرعام اجازت ہے۔ سعودی عرب ( جہاں سے طلوع اسلام ہوا تھا) نے بحر احمر کے ایک جزیرے پر 500 ارب ڈالر کی لاگت سے صندالہ نامی ایک بین الاقوامی تفریح گاہ تعمیر کی جا رہی ہے جہاں شراب نوشی کی اجازت ہوگی۔ سعودی عرب کے فرماں روا نے شراب پر عائد پابندیاں نرم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

درج بالا بحث کی روشنی میں تجویز ہے کہ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ ترکی اور ملائیشیا اور دیگر اسلامی ممالک کی طرز پر قانون سازی کر کے شراب پر عائد پابندی نرم کرے تاکہ اربوں کا زرمبادلہ بلیک مارکیٹ کی بجائے حکومت کے خزانے میں جائے۔ حاصل شدہ زرمبادلہ سے پاکستان کے شمال میں سیاحت گاہیں تعمیر کی جائیں۔ جہاں سے مزید کثیر زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS