”بھیگتی آنکھ کا دکھ“ از ڈاکٹر عائشہ ظفر:چند تاثرات
ڈاکٹر عائشہ ظفر معاصر اردو شاعری بالخصوص اردو غزل میں ایک اہم اور خوشگوار اضافہ ہے۔ ان کا اولین شعری مجموعہ ”بھیگتی آنکھ کا دکھ“ حال ہی میں شائع ہوا۔ ان کی شعری کائنات میں حیران کن حد تک تازہ کاری نظر آتی ہے۔ وہ اپنی قوت متخیلہ جو شعری دنیا تخلیق کرتی ہیں وہ رومانویت کے خوش رنگ پھولوں اور خوشبوؤں میں بسی ہے۔ عائشہ ظفر جواں جذبات، سریلے نغمات اور نازک خیالات کی شاعرہ ہیں۔ ان کی شاعری کا نیوکلیئس محبت ہے۔ وہ محبت جو اس کائنات کا اصل ہے۔ اسی رومان پرور فضا سے وہ اپنی شعری وجود کی مشاطگی کرتی ہیں۔
؎خوشبو سی پھیلتی گئی چاروں طرف مرے اک پھول میرے پاس جو رکھ کے گیا ہے تو
؎میری نظموں میں رنگ اور خوشبو تیری چاہت کے استعارے تھے
؎تمہی نے کرنا ہے سمت میری کا اب تعین میں ایک ناؤ ہوں اور تم میرا بادباں ہو
محبت کے اس سفر میں انھیں کڑی دھوپ کا سامنا رہا، جس سے یہ رومان پرور شاعرہ درد آشنا ہوئیں۔ یہاں ان کی شاعری پروین شاکر کی نوائے رفتہ کی بازگشت لگتی ہے۔ اس مجموعے میں کئی اشعار خالص پروین شاکر کے رنگ اور آہنگ کے ہیں شاید اس کی وجہ دونوں شاعرات کی شخصیات کا اشتراک ہو۔ عائشہ ظفر بھی پروین شاکر کی طرح تعلیم یافتہ، باصلاحیت، روشن خیال اور خودمختار خاتون ہیں جو اپنی ذات کا اثبات چاہتی ہیں :
؎ہم رہے ساتھ ساتھ یوں اکثر جیسے دریا کے دو کنارے تھے
؎عمر اس کو سمجھ لیا میں نے جو مجھے اک گھڑی نہیں سمجھا
؎ہیں اپنے اپنے وصف پہ قائم کہ آج تک پیمانہ ٹوٹ کر بھی کبھی پیالہ نہیں ہوا
؎تتلیاں محو رقص ہیں لیکن دیکھ پاتے تو جانتے تم بھی
عظیم سدھارتھ کی عظیم سچائی ”تمام دکھ ہے“ عائشہ ظفر کی ”بھیگتی آنکھ کا دکھ“ میں مجسم دکھائی دیتی ہے۔ اس دکھ کا سب سے بڑا محرک ان کی حساسیت ہے جو پورے کلام پر بادل جیسے چھائی ہے۔ یہی حساسیت انہیں ہر لحظہ دیدہ پرنم رکھتی ہے۔ ان کی شاعری میں دکھ کئی دھاروں کی صورت ملتے ہیں۔ ذات کے دکھ، اپنوں کے دکھ، اپنوں سے وابستہ توقعات کے دکھ، سماج کے دکھ اور یہ تمام دھارے ایک بڑے کائناتی دکھ کے دھارے میں شامل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان تمام دکھوں کے باوجود وہ نا امید ہر گز نہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں اور لبوں پر دل آویز مسکراہٹ ہے :
؎آنکھ نم لب پہ اک تبسم ہے میری بس اتنی سی کہانی ہے
؎خود سے بجھا نہ دیجیے امید کے چراغ ابھرے گا جو ستارہ، سحر دیکھنا بھی ہے
”بھیگتی آنکھ کے دکھ“ میں ایک دکھ عورت ذات کا دکھ بھی ہے انھیں مرد اساس معاشرے میں روایات کی بیڑیوں میں قید، خواتین کی کمتر سماجی حیثیت اور زبوں حالی کا دکھ بھی ہے۔ لیکن وہ روایتی عورت کی طرح کمزور ہرگز نہیں ہیں، ان کے ہاں انا اور خود داری ہیں وہ اپنی شرطوں پر بازی کھیلنا چاہتی ہیں۔ وہ اپنی زندگی نام نہاد مصلحت کی نذر نہیں کرنا چاہتی، وہ رد چاہتی ہیں ان تمام روایات اور ہر اس حاکمیت کا جو انہیں محض محکوم بنا دے، ان کے ہاں مزاحمت کی دبی دبی چنگاریاں رقصاں ہیں جو بھڑکنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔
؎گو کہ عورت ہوں مگر اتنی بھی کمزور نہیں مجھ کو آنچل کی حفاظت کا ہنر آتا ہے
؎کاٹ دیتے وہ میرے ہاتھوں کو یہ بھی ممکن تھا ہونٹ سل جاتے
؎میں ڈر رہی ہوں کہیں کاٹ دیں نہ میرا سر قبیلے بھر کی امامت ہے جن کے کاندھوں پر
کامیاب خواتین کو ہمارے معاشرے میں جس طرح دیکھا جاتا ہے اس کی عکاسی ملاحظہ ہو:
؎ملی ہے جب سے منزل، اس کو، اپنی زندگی میں سبھی کی بد نظر، کردار پر، اس کے اٹھی ہے
ان کی شاعری ان کے گہرے سماجی شعور کی بھی غماز ہے۔ وہ دو رنگے اور اوور کوٹ پہنے انسانوں کی مکاری اور عیاری کو ہدف تنقید بناتی ہیں :
؎لوگ آتے بھی رہے پوچھنے احوال مرے میٹھی باتیں جو یہ کرتے ہیں ریاکاری ہے
؎تن کے اجلے لیکن من کے میلے لوگ کیسے کیسے ہوتے ہیں، دنیا کے لوگ
؎ہائے مکر و فریب کی دنیا میرے دل سے نکل گئی دنیا
؎ضرورت ہے کسی قائد کی اب تو یہاں ہر فرد کا اپنا دھڑا ہے
لوک دانش انسان کے صدیوں کے تجربات، مشاہدات اور تجزیات کا نچوڑ اور انسان کی مشترک میراث ہے جو ادب میں مختلف طریقوں سے اظہار پاتی ہے۔ عائشہ ظفر کی کے شعری گلدستے میں لوک دانش کا گل سر سبد بھی نظر آتا ہے :
؎دھوکہ دے کر پیار نہ پا ایسی جیت کو ہار سمجھ
؎لازم ہے، دل کا آئینہ، شفاف ہی رہے باطن کے نور سے تو، اسے رکھ، اجال کر
عائشہ ظفر کی شاعری میں حیران کن سادہ کاری ہے جسے سہل ممتنع سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کے چھوٹی بحر میں جذبات کا اظہار بہت عمدگی سے ملتا ہے۔ چھوٹی بحر میں تخلیقی اظہار بڑی بحر کی نسبت مشکل خیال کیا جاتا ہے لیکن عائشہ ظفر کے ہاں یہ اظہار کمال روانی سے ملتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں :
؎ایک ایسا جہاں بھی ہے جس میں زندگی عارضی نہیں ہوتی
؎وصل تو لوگ لے گئے سارا اور میں نے اٹھائی تنہائی
؎زندگی میرا انتخاب نہیں یہ مرے انتخاب جیسی ہے
؎تو اگرچہ مجھے بھلا بیٹھا میں نے تجھ کو نہیں بھلایا ہے
عائشہ ظفر کی شاعری ایک تلاش کی داستان ہے، وہ ایک ایسے جہاں کی متلاشی ہیں جہاں جذبات نے برفیلی سفید چادر نہ اوڑھی ہو، جہاں دھند کے پار روشنی ہو، جہاں الفاظ کے معانی ست رنگے نہ ہوں، جہاں پانیوں میں کنول کھلتے ہوں، جہاں لوگ مکھوٹے بغیر ایک دوسرے سے ملتے ہوں۔ عائشہ ظفر کی شاعری امکانات سے بھرپور ہے۔ ابھی تو ان کے شعری سفر کا پہلا پڑاؤ ہے تاہم ان میں ایک پختہ تخلیق کار کی شبیہ دیکھی جا سکتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر ان کو اس روشنی کا بھی ادراک ہے جس سے بہت سے نئے تخلیق کار بے بہرہ ہیں۔ اس تازہ دم شاعرہ کے زور قلم میں اضافے کے لیے دعاگو۔


