تحریک انصاف کا الیکشن لڑنے کا حق، سیاسی تربیت اور رواداری


سیاست بنا سیاسی تربیت کے عموماً المیہ ہی ثابت ہوتی ہے۔ بے شک ہم جتنے بھی موروثی سیاست کے خلاف ہوں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سیاسی خاندانی بیک گراؤنڈ کا سیاست دان کے مزاج پر گہرا اثر ضرور ہوتا ہے۔ آج تک جتنے بھی پیراشوٹر سیاست میں آئے ہیں ان سب نے سیاسی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً ایک جیسی ہی غلطیاں کی ہیں اور ایک ہی جیسا انجام پایا ہے تا آنکہ کہ انہیں عقل آ گئی یا وہ سیاست سے ہی آؤٹ ہو گئے۔

مجھے کہے بغیر چارہ نہیں کہ جب کبھی حکومت میں کوئی پیراشوٹر آتا ہے تو تشدد آتا ہے خواہ وہ ایوب ہو، ضیاء ہو یا مشرف جیسے ڈکٹیٹر ہوں یا بلاول کے نانا ہوں، مریم کے بابا ہوں یا پھر قاسم کے ابا۔ جرنیلوں کو تو رواداری کی ضرورت نہیں ہوتی اور طاقت ہی ان کا ہتھیار ہوتی ہے۔ جب کہ سیاست رواداری کی طاقت سے چلتی ہے۔ جب تک ان سیاستدانوں کو تلخ تجربات اور حوادث کچھ سکھا پاتے ہیں اور یہ آپس میں رواداری کی بات کرنے لگتے ہیں تو اتنی دیر میں دور سے کرپشن کرپشن اور اسلام اسلام کے نعرے لگاتا اور منہ سے جھاگ اڑاتا کوئی نئے ماڈل کا مسیحا آن وارد ہوتا ہے اور پھر ساری سیاسی رواداری طاقتوروں کے اس تجربے کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔

مثال کے طور پر اس وقت ملک میں تشدد اور جبر کا جو عالم ہے اس کی اگر جڑیں ناپی جائیں تو وہ تمام جڑیں میثاق جمہوریت کے بعد 2018 کی عدم رواداری کی زمین بنا کر بوئی گئی تھیں اور بونے والے آج وہی فصل کاٹ رہے ہیں اور دوسرے پھر وہی کانٹوں کے بیج دوبارہ بو کر پھول اگانے کے خواب دیکھنے میں لگے ہوئے ہیں۔

جب تک سیاست دان ہی سیاستدانوں کی طاقت نہیں بنیں گے تب تک یہی سلسلہ دراز ہوتا رہے گا۔ امپائر کی کبھی انگلی اٹھے گی اور کبھی اس کی بندوق اور کبھی وہ پوری کی پوری پارٹی ہی اٹھا لے گا اور باقی سب خاموش رہیں گے۔ پانامہ کے 400 ناموں میں سے ”سنگل آؤٹ“ کرنے کی پالیسی پر جو خاموشی اختیار کی گئی تھی آج ”آل آؤٹ“ کرنے کی پالیسی پر بھی وہی خاموشی طاری ہے مگر پھر بھی کچھ سیاسی چہرے بہرحال موجود ہیں جو خاموشی توڑ کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جب تربیت آتی ہے تو رواداری آتی ہے۔ جب اور زیادہ تربیت آتی ہے تو اور زیادہ رواداری آتی ہے۔ سیاست کا یہی پیغام بھی ہے اور ضرورت بھی۔

بلاول بھٹو اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق کو موجودہ حالات میں بہرحال اس بات کا کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے تحریک انصاف کے انتخاب لڑنے کے حق کی علی الاعلان سپورٹ کر کے حق بات کی ہے اور بہترین سیاسی تربیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کو بھی چاہیے کہ وہ ماضی کی نون لیگ کے ساتھ کی گئی ناروائیوں پر اپنی روا رکھی گئی خاموشی پر معذرت کر کے انتقاماً خاموش رہنے والی جماعتوں کو بھی اخلاقی جواز مہیا کرے کہ وہ بظاہر انصافیوں سے ہونے والی اس نا انصافی کے خلاف آواز اٹھا سکیں اور ملک حقیقی معنوں میں ایک جمہوری الیکشن کی طرف جا سکے ورنہ طاقت کے زعم میں بوئے گئے خواہش کے کانٹے کبھی پھول بن کر نہیں مہک سکیں گے۔

Facebook Comments HS