گاؤں میں چھتوں کی دنیا
شادی کے بعد ہم لوگ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گاؤں میں بقیہ خاندان کے ساتھ اپنے آبائی گھر میں رہتے رہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈبل بیڈ اور اٹیچڈ باتھ روم کا رواج گاؤں میں تو کیا ہمارے تو شہر میں بھی نہیں تھا۔ سارا شہر ایک ہی طرز کے نقشہ کے مطابق بنائے گئے بلاکس پر مشتمل تھا۔ یکساں سائز کے ان رہائشی پلاٹوں پر تقریباً ایک ہی طرز کے گھر تعمیر کیے گئے تھے۔ گلی کے رخ پر دو کمرے اور ایک ڈیوڑھی ہوتی تھی۔ ان دونوں کمروں میں سے ایک کمرہ بطور بیٹھک استعمال ہوا کرتا تھا۔
پچھلی پوری دیوار کے ساتھ دو بڑے بڑے رہائشی کمرے تعمیر کیے جاتے اور ڈیوڑھی کے سائیڈ والی دیوار کے ساتھ ایک باورچی خانہ اور ایک غسل خانہ صرف نہانے کے لیے بنایا جاتا تھا۔ وہاں پر کموڈ وغیرہ رکھنے کا رواج بالکل بھی نہیں تھا۔ اس کام کے لیے چھت پر اوپن ائر لیٹرین بنائی جاتی۔ ڈیوڑھی کے اندر سے چھت پر سیڑھیاں وغیرہ چڑھائی جاتیں۔ جہاں سے گزر کر خاکروب چھت پر جا کر اس کی صفائی کیا کرتے تھے۔ شہر میں ہر امیر و غریب کے گھر کی تعمیر اسی ایک ہی نقشہ کے مطابق کی جاتی تھی۔
شہر کے لوگوں کو علیحدہ علیحدہ کمروں کی سہولت میسر تھی۔ خیر سے گاؤں میں تو سبھی لوگوں کے لیے ایک ہی بڑا سا کمرہ ہوتا جس میں افراد خانہ کی چارپائیاں قطار اندر قطار بچھی ہوئی ہوتیں بلکہ بعض اوقات تو اسی کمرے کے ایک کونے میں گھر کے ڈھور ڈنگر بھی تشریف فرما ہوتے۔ اس طرح اس خود کار حرارتی نظام میں ہمہ قسم کی بوئیں سونگھتے ہوئے سارا دن کے کام سے تھکے ہوئے باسی خوب گہری نیند سے لطف اندوز ہوتے اور اکثر صبح کے وقت رات کے دورانیے کے اختصار پر شاکی دکھائی دیا کرتے اور گرمیوں کی راتوں میں گھر کی خواتین صحن میں قطار اندر قطار بچھی ہوئی چارپائیوں پر استراحت فرمایا کرتیں اور گھر کے تمام مرد حضرات یا تو باہر حویلی میں ڈنگڑوں کے ساتھ اور یا گھر کے باہر بیٹھک کے سامنے بنے ہوئے تھڑے پر ایک ہی صف میں لیٹے ہوئے مساوات محمود و ایاز کا مظہر ہوتے۔
گرمیوں میں رات کو سونے کے لیے گھر کی چھت کو ایک بہترین سہولت خیال کیا جاتا تھا۔ یہاں کی دنیا ہی عجیب تھی۔ چھتوں پر دور دور تک چارپائیاں بچھی ہوئی ہوتیں۔ چاندنی راتوں میں تو چاروں اطراف کے مناظر اور اعمال و افعال سے خوب آگاہی رہتی۔ بلکہ اندھیری راتوں میں بھی مسلسل اندھیرے میں رہنے کی وجہ سے چھت کے ان باسیوں کی نظر غیر معمولی طور پر کام کیا کرتی۔ اندھیرے کے باسی اپنے ذاتی معاملات کی بجائے اردگرد کے مکینوں کے افعال و اعمال کا زیادہ خیال کیا کرتے۔
اردگرد سے موصول ہونے والی آہٹوں، آوازوں اور ملگجی سے متحرک سایوں کی مدد سے تشکیل پانے والے مناظر کے مفہوم ہر فرد کے لیے مختلف ہوا کرتے تھے۔ کون سا جوڑا رات کے کس حصے میں چھت سے نیچے صحن میں اتر کر گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے نہانے کے لیے جاتا ہے۔ پڑوسیوں کو یہاں تک معلوم ہوتا کہ مرد ہینڈ پمپ کی مدد سے پہلے اپنی خاتون کو نہلاتا ہے اور پھر خود نہاتا ہے۔ خاتون اس معاملے میں اس کی کوئی مدد نہیں کرتی۔ کون سا جوڑا سحری کے وقت نیچے اتر جاتا ہے۔ کیونکہ مرد نے کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے جانا ہوتا ہے۔ کس کا سر درد کرتا ہے۔ کس کے پیٹ میں درد ہے۔ کسے باری کا بخار آتا ہے اور کس کی ویسے ہی باری ہے۔
ایک بار یوں ہوا کہ آدھی رات کے بعد اچانک ہی بہت تیز آندھی آ گئی۔ ایک نیا شادی شدہ جوڑا بھی چھت کمیونٹی کا معزز رکن تھا۔ آندھی کا پہلا ہی تیز جھونکا وہاں پر موجود تمام فالتو کپڑے اڑا کر کہیں دور لے گیا۔ جب ان کی آنکھ کھلی تو ان کے نیچے چارپائی پر بچھا ہوا صرف کھیس اور ایک تکیہ موجود تھا۔ باقی تمام ملبوسات و کپڑا جات آندھی کی نذر ہو چکے تھے۔ اب نیچے سے گھر والے پکار رہے ہیں کہ جلدی سے اترو طوفان آ یا ہوا ہے۔
ان کا خیال تھا کہ وہ ابھی تک سوئے ہوئے ہیں لیکن ان کا مسئلہ تھا کہ نیچے کیسے اتریں۔ لوگ دو ہیں اور جسم ڈھانپنے کے لیے کھیس صرف ایک ہے۔ آخر کار مرد اس کھیس کو جسم کے گرد لپیٹ کر نیچے آیا اور نیچے سے خاتون کے کپڑے لے کر دوبارہ چھت پر آیا اور اسے پہنا کر اسے بھی نیچے لے کر آیا۔ اب اس اچانک آندھی اور اس سے پیش آنے والے مسائل مختلف لوگوں کے لیے مختلف تھے۔ ہر ایک کو اس معاملے میں مختلف مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑا لیکن اس کے باوجود اس جوڑے کے ساتھ ہونے والی واردات سے چھت کمیونٹی کا ہر باسی نہ صرف جملہ جزئیات و تفصیلات کے ساتھ واقف تھا بلکہ شام تک یہ وقوعہ سارے گاؤں میں زبان زد عام تھا۔
ہماری شادی کے تین چار ماہ گزرنے کے بعد ہی لوگوں نے ہم سے استفسار شروع کر دیا کہ بچہ کب آ رہا ہے۔ تمہیں پہلی پریگننسی شادی کے تقریباً ایک سال بعد ہوئی۔ یہ ایک سال کا دورانیہ تمہارے لیے شاید زندگی کا مشکل ترین دورانیہ تھا۔ ہر آنے جانے اور ملنے ملانے والی خاتون کے پاس صرف یہی سوال ہوتا۔ جس کا جواب کسی کے پاس موجود نہیں تھے۔ کیونکہ تم اپنے والدین کی شادی کے دس سال بعد پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھیں۔ اس لیے تمہارے ذہن کے کسی نہ کسی خانے میں یہ خدشہ بھی موجود تھا۔
بہرحال گزرتے ہوئے وقت کا ہر لمحہ اور ہر دن تمہارے لیے مزید پریشان کن اور تکلیف دہ ہو رہا تھا۔ بلکہ اب تو مجھے بھی اس کمی کا احساس ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اوپر سے ہر ملنے جلنے والا پہلا سوال ہی یہ کرتا اور جواب دیتے وقت ہمارا رویہ خواہ مخواہ ہی معذرت خواہانہ سا ہو جاتا۔ جیسے کہ قصور وار صرف ہم ہی ہوں۔ بہرحال شادی کے تقریباً ایک سال کے بعد قدرت کی طرف سے ہمیں یہ خوشخبری ملی۔ اس وقت تمہاری خوشی کا عالم دیدنی تھا۔ پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے تھے۔ سو گوار سی اور اداسی کی جگہ مسرت و شادمانی کی فراوانی نے لے لی تھی۔ والدین کے لیے ان کا بچہ قدرت کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس کا احساس اس کی آمد سے قبل ہی والدین کو بخوبی ہو جاتا ہے۔


