کیا نیو ائر نائٹ منانے والے مسلمان لعنتی اور اور گمراہ ہیں؟


ہم قادر مطلق کی چونکہ چنیدہ اور محبوب ترین مخلوق ہیں، اسی منفرد و خاص استحقاق کی وجہ سے ہمارے اپنے کوڈ آف ورلڈ یا لونگ ہیں جن کی پیروی کرنا دنیا کے تمام انسانوں پر لازم ہے، بھلے ان کا تعلق جس مرضی فلسفے یا فکر سے ہو کوئی فرق نہیں پڑتا، بس ہماری پیروی لازم ہے اور جو بھی رو گردانی کرے گا یا اختلاف کرنے کی جرات کرے گا وہ لعنتی، گمراہ، جہنمی، زندیق، سنکی، الحادی یا پاگل کہلائے گا۔

اپنی انفرادیت کو فوقیت دینے والا یا اپنے اندر کے حقیقی سچ کو سیلیبریٹ کرنے والا ذلیل و رسوا تو ہو سکتا ہے عزت دار کہلائے جانے کا مستحق قطعی طور نہیں ہو سکتا۔

چونکہ ہمارا فلسفہ حیات ابدی و حتمی ہے اور قیامت تک کے لیے نافذ العمل رہے گا، اس پر آنکھ اور دماغ بند کر کے عمل تو کیا جا سکتا ہے لیکن انحراف کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔

سوچتا ہوں کہ کیا سچ کو واقعی اتنے پہروں یا پہرے داروں کی ضرورت ہوتی ہے جو دنیا بھر کے مختلف انسانوں کو زبردستی اپنے ”دائرہ سچ“ میں داخل کرنے پر مجبور کریں؟

کیا سچ کو داروغوں کی ضرورت ہوتی ہے؟
کیا سچ جبری بندوبست کے سائے میں اپنی رعنائیت و خوبصورتی کو برقرار رکھ سکتا ہے؟
ایقان و ایمانیات تو ضرور حتمی ہو سکتے ہیں لیکن سچ تو حتمی نہیں ہو سکتا نا!

شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک کوئی بھی سچ پر اپنی اجارہ داری قائم نہیں کر پایا، یہ اپنی نوعیت اور ساخت میں تمام تر دائروں سے ماوراء ہوتا ہے۔

جس کسی نے بھی رعونت یا اپنے وقتی سے مفاد کے لیے زبردستی سچ کو اپنے اپنے دائرہ فکر میں داخل کرنے کے بعد مہان یا چنیدہ بننے کی کوشش کی ہے وقت نے انہیں دیر سے سہی لیکن ننگا ضرور کیا ہے اور ان کے چہروں پر چڑھے پر سونا ماسک کے اندر چھپے غیر حقیقی چہروں اور حقائق کو بے نقاب کیا ہے۔ سچائی کے ان تمام استعاروں جن کی بدولت ہمارا ”آج“ روشن ہوا ہے کی انسانیت ہمیشہ مقروض رہے گی۔

گلیلیو نے جس سچ کی بنیاد رکھی وہ کوپرنیکس اور برونو کی فکر کا مظہر یا تسلسل تھا، جس نے صدیوں کے برائے نام آفاقی تصورات پر درجنوں سوالات اٹھا دیے تھے۔

کوپر نیکس تو بیچارہ اپنے سچ کو جس کے مطابق ” زمین کائنات کا مرکز اور حرکت پذیر ہے اور سورج ساکن ہے“ اپنے اندر ہی دفن کر کے خاموشی سے چل بسا تھا لیکن اسی تسلسل کو آگے بڑھانے والے برونو کو اپنی جان کی قربانی دینا پڑی جسے اس وقت کے داروغوں نے زندہ جلا دیا تھا۔

زمانہ اس کی عظمت کا معترف ہوا اور اسے آج بھی ”مار ٹائر فار سائنس“ یا سائنس کے شہید کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، ان شخصیات کا حسن یہ تھا کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے سچ کا داروغہ بننے کی کوشش نہیں کی اور نا ہی لٹھ اٹھا کے زمانے کے پیچھے دوڑے، اپنے سچ کو با ثبوت دنیا کے سامنے رکھا اور عاجزی و انکساری کے ساتھ انسانیت کے نام کر دیا۔

ہاں ان داروغوں پر سوالیہ نشان آج بھی موجود ہے جنہوں نے ان کے سچ کو گنجائش دینے کی بجائے اپنے سچ کو مسلط کرتے ہوئے ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے، بالکل اسی طرح سے ان پر بھی سوالیہ نشان کی تلوار ہمیشہ لٹکی رہے گی جو 21 ویں صدی میں بھی اسی رسم جہالت کو نبھا رہے ہیں اور دنیا کو اپنے حساب سے چلانا چاہتے ہیں۔

اس بات سے بے خبر کہ ہماری وقعت و اہمیت دنیا بھر میں کیا ہے؟
انسانی ورثے میں ہمارا کنٹریبیوشن کیا ہے؟
ہمارے گلف کے مسلمان اور ریاستیں دنیا کو کس نظر سے دیکھ رہی ہیں؟
کیا وہ بھی ہماری طرح اپنے رویوں میں اتنے ہی متشدد یا تنگ نظر ہیں جتنے ہم؟

مقام افسوس ہے کہ ہمیں آج بھی جمعۃ المبارک کے خطبات میں حسب سابق یہی سننے کو ملا ہے ” نیو ائر نائٹ منانے والے مسلمان لعنتی اور گمراہ ہیں“ امید تھی کہ اس بار شاید سننے کو کچھ نیا ملے گا مگر نہیں وہی رونا دھونا کہ فلاں تہوار حرام اور فلاں فلسفہ جھوٹا۔ مطلب ہم خوشی کے تمام برانڈز کو حرام قرار دے چکے، سوچا کہ وہ فہرست دیکھ ہی لی جائے جو ہم پر حرام ہے آپ بھی ملاحظہ فرما لیں۔

نیو ائر نائٹ منانا۔
کرسمس منانا۔
ویلنٹائن ڈے منانا۔
گانا بجانا کرنا، سننا اور لطف اندوز ہونا۔
کاغذ پر آرٹ کے طور پر خیالی عکس بنانا۔
شیزان بوتل پینا اور میکڈونلڈ کا پیزا و برگر کھانا۔
سالگرہ سیلیبریٹ کرنا۔
شادی بیاہ پر ناچ گانا اور چراغاں کرنا۔
قہقہہ لگا کے ہنسنا اور دوسروں کو ہنسانا۔
رقص و سرور کی محفل سجانا۔ خواتین سے گفتگو کرنا۔
شعر و شاعری کا شغف رکھنا۔

حرام و ممنوعات کی فہرست تو بہت لمبی ہے چند ایک کا تذکرہ کافی ہے، ہم تو فقط یہ جاننا چاہتے ہیں کہ خوشی کو کیسے منانا چاہیے؟

اگر خوشی کو خوشی کے طریقے سے سیلیبریٹ نہیں کر سکتے تو سنجیدگی سے کریں؟ خوشی اور سنجیدگی کا بھلا کیا سمبندھ ہوا؟

تو پھر سیلیبریشن کا کوئی دوسرا طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟ دنیا بھر کے انسانوں کو ایک ہی پروٹوکول یا پیٹرن کے تحت خوشیاں منانے پر کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے؟

اگر آپ ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی نظر میں ہمارے علاوہ سب گمراہ ہیں تو پھر انہی گمراہ لوگوں کے بنائے ہوئے گیجٹس بارے کیا خیال ہے جن سے سب سے زیادہ ہم لوگ ہی مستفید ہو رہے ہیں؟

مثلاً
فیس بک۔
انسٹاگرام۔
یوٹیوب۔
چیٹ جی پی ٹی۔
سنیپ چیٹ۔
واٹس ایپ۔
اور درجنوں دوسری ایپس کے متعلق کیا خیال ہے؟
کیا یہ ذرائع بھی حرام ہیں اور ان کا استعمال کرنے والے مسلمان لعنتی اور گمراہ ہیں؟

اگر کفار کے تہوار و طریقے، رہن سہن، یا ہر وہ شے حرام ہے جن میں کسی بھی طرح سے ان کی جھلک یا مشابہت ٹپکے تو پھر ان کی عطا کردہ سہولیات کیسے جائز ہو سکتی ہیں؟ جنہیں استعمال کیے بغیر آپ کا جینا تک محال ہو سکتا ہے، انہی گیجٹس کے سہارے تو بہت سارے صاحبان جبہ و دستار یوٹیوب کے گولڈن و سلور بٹن کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اسی کے ذریعے سے ماہانہ کروڑوں کما رہے ہیں۔

آپ کی لش پش، ٹیپ ٹاپ، چمک دھمک اور وقعت و اہمیت بھی انہی کی وجہ سے ہے جو آپ کی نظروں میں گمراہ اور جہنم کا ایندھن ہیں، سوچتا ہوں اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آپ کو دنیا میں کون جانتا یا آپ کی کیا داستان ہوتی؟

اگر ہم کافروں کی دی ہوئی نعمتوں سے مستفید نہ ہو رہے ہوتے تو ہم آج کی دنیا میں کیسے لگتے؟
ہماری عبادت گاہیں، گھر اور بازار کس قسم کا منظر پیش کرتے؟
ذرا چھٹی ساتویں صدی کے تصور کو ذہن میں رکھ کر سوچیے؟

آپ کے حساب سے تو پھر ہر وہ تبدیلی حرام تصور ہوگی جن کی بدولت انسانیت کی مشکلات میں نمایاں کمی اور طرز زندگی میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں؟

تو پھر کیا ہم دنیا میں مشکلات پیدا کرنے آئے ہیں؟
یا دنیا کو محض یہ بتانے آئے ہیں کہ حرام و حلال اور جائز وناجائز کیا ہے؟
مطلب لمحہ موجود میں ہماری افادیت آ خر کیا ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments