الوداع 2023
ڈرتے دل سے 2023 کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ اس سال پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ہر غیر قانونی، غیر انسانی اور غیر جمہوری حربے کو استعمال کیا گیا۔ پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما عمران خان کو 9 مئی کو ہائی کورٹ نے جس غیر اخلاقی، غیر قانونی طریقے سے گرفتار کیا، سیاسی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پھر 9 مئی پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی ورکروں کے پر امن احتجاجی مظاہروں پر تشدد کیا گیا۔
ملک بھر میں 51 سیاسی ورکروں کو شہید کیا گیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ جبر و بربریت کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ ملک بھر میں تحریک انصاف کے رہنماؤں، ورکروں اور شیداؤں کو ظلم و زیادتی سے گرفتار کیا گیا۔ 103 بے گناہ رہنماؤں اور ورکروں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات درج کیے گئے۔ جس کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ آف پاکستان نے چند دن پہلے قانونی قرار دیا۔ حالانکہ ملک میں سول عدالتیں موجود ہیں۔ نام نہاد جمہوری حکومت موجود ہے۔ لیکن پھر بھی تحریک انصاف کے ورکروں کو فوجی عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جو کہ ملک کے نظام قانون کے لیے جگ ہنسائی کا ذریعے بن گیا ہے۔
دنیا کے کسی بھی جمہوری نظام میں فوجی عدالتوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ زور زبردستی سے تحریک انصاف کے ورکروں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ پریس کانفرنسز کے ذریعے تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو پارٹی چھوڑنے پر جس طرح مجبور کیا گیا، شاید دنیا کی تاریخ میں اس طرح کی مثال ملے۔
30 دسمبر کو جس طرح پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کیا گیا، جس طرح پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا نشان زبردستی چھینا گیا۔ جس طرح عمران خان کو زبردستی جیل میں رکھا گیا۔ اس سال پاکستان میں بدترین آمریت اور فاشزم قائم رہی۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہی۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اظہار رائے آزادی پر غیر علانیہ طور پر پابندی رہی۔ بقول شاعر
خوف ایسا ہے کہ کوئی شخص کچھ کہتا نہیں
جانے کس طوفان کے سب منتظر ہیں
خیر پاکستانی قوم گزشتہ 76 سالوں سے غیر جمہوری طاقتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ نئے تجربات اور نئے کھلواڑ سے متعارف ہوتے رہتے ہیں۔ سیاسی، قانونی، جمہوری اور پارلیمانی طور پر 2023 مایوس کن سال رہا۔ بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بدترین سال کے طور پر یاد رہے گا۔ سیاست کے ہر شعبہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خصوصاً معاشی نظام اور معاشرتی اقدار۔ معاشی طور پر پاکستان عملاً ڈیفالٹ ہو چکا ہے۔
جس طرح دسمبر 1970 صبح یہ یقین دہانیاں کرائی گئی کہ ”ڈھاکہ کنٹرول میں ہے“ اچانک شام کو بی بی سی اردو سروس سے قوم کو پتہ چلا کہ ڈھاکہ بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ ایک دفعہ پھر ہمیں یہ جھوٹی تسلیاں دی جا رہی ہے کہ ملک معاشی طور پر مستحکم ہے۔ لیکن عملاً ہم ڈیفالٹ کرچکے ہے۔ اور کسی بھی وقت اعلان ہونا باقی ہے۔ معاشرتی طور پر پوری قوم ذہنی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے
کیسے ماہ و سال گزرے
اب نہ کچھ بھی یاد ہے
صرف ہیں دھندلے نقوش
یا بصارت کی کمی ہے
کچھ نظر آتا نہیں
بس کتابوں اور فلموں میں رہی
اک بصیرت کی تلاش
کچھ نہ کچھ روٹی کی بھی تھی جستجو
2023 غریبوں کے لئے کوئی اچھی خبر نہ لا سکا۔ غریب آج بھی دو وقت کی روٹی کے لیے ترستا ہے۔ آج بھی غریب کے بچے کو تعلیم میسر نہیں۔ 24 ملین سے زائد بچے اور بچیاں سکول نہیں جا رہے ہیں۔ آج بھی ہسپتالوں میں غریب کو ضروری ادویات تک میسر نہیں۔ آج بھی ملک میں پٹواری نظام کمپیوٹرائزڈ نہ ہوسکا۔ 2022 میں بے روزگاری سے مجبور ہو کر 9 لاکھ سے زائد پاکستانی ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ 2023 میں 22 ہزار بچے خوراک کی کمی کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔
معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2023 میں خوراک کی مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ملک کے ہر شعبہ زندگی میں تنزلی ریکارڈ کی گئی۔ انسانی ترقی میں ہم نے کوئی ترقی نہیں کی۔ بلکہ مذہبی منافرت میں بھی 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی سطح پر درج بندیوں میں کوئی قابل ذکر ترقی نہیں ہوئی بلکہ الٹا تنزلی کے شکار رہے۔ ان تمام ناکامیوں کے ساتھ 2023 کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ اللہ کریں 2024 کا سورج خوشیاں لے کر طلوع ہو۔ اللہ کریں کہ 8 فروری کو ایسی حکومت آئے جو پاکستان کو متحد، خوشحال اور بیرونی غلامی سے بچائے۔


