دو ہزار چوبیس کے انتخابات کا ”لاڈلا“
قدیم اساتذہ میں سے کسی ماہر انشاء پرداز نے ایک شاہکار نثر پارہ تخلیق کیا۔ وہ تھا درجنوں مضامین کا ایک مضمون۔ یہ مضمون خاص طور پر کمزور طالب علموں کو املا کرا دیا جاتا تھا۔ معمولی سے رد و بدل کے بعد اسے سوالیہ پرچہ کے مطابق ڈھال کر ممتحن کے حضور پیش کر دیا جاتا۔ یہ انگریزی میں بھی ترجمہ ہوا۔ یہ ابھی بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے اور اکثر طلبہ کے لیے کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں۔ مضمون کا اردو میں عنوان ہے ”میرا بہترین۔“ اور انگریزی میں ”مائی بیسٹ۔“ اس عنوان کے تحت اپنے ممدوح کی تعریف کے پل باندھے جاتے ہیں۔ پانچ وقت کا نمازی، محنتی، کامیاب اور نجانے کیا کیا صفات جناب ممدوح کی ذات سے متہم کی جاتی ہیں۔ یہ ممدوح والد، والدہ، دوست، استاد یا کوئی بھی پسندیدہ شخصیت ہو سکتی ہے۔ تاہم طلبہ کو ایک اہم نصیحت یہ بھی کی جاتی ہے کہ اگر ”میرے والد صاحب“ کے عنوان سے مضمون لکھنا پڑ جائے تو خاص دھیان رکھیے گا۔ یہ نہ ہو کہ لکھ بیٹھو کہ ”یوں تو میرے کئی والد ہیں مگر مسٹر علی میرے بہترین والد ہیں۔“
وطن عزیز کا سیاہ سفید دیکھنے والوں نے بھی اسی قبیل کا ایک شہ پارہ تخلیق کر رکھا ہے : ”ہمارا بہترین لاڈلا“ ، چند سال بعد لاڈلا بدل جاتا ہے۔ لاڈلے کے فضائل و مناقب زبان زد عام کیے جاتے ہیں۔ اسے ملک کی ضرورت باور کرایا جاتا ہے۔ بس وہ ہی محب وطن ٹھہرتا ہے۔ معاندین و مخالفین مملکت خداداد کے لیے سیکورٹی رسک قرار پاتے ہیں۔ لاڈلے کو اقتدار سپرد کرنے کے لیے تمام جتن کیے جاتے ہیں۔ خاص پارٹی کا ٹکٹ لینے کے لیے امیدواروں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ معتوب پارٹیوں کے ٹکٹس واپس کرائے جاتے ہیں۔ پروجیکٹ کی کامیابی میں حائل بڑی رکاوٹوں کو عدلیہ اور قومی احتساب بیورو کے ذریعہ سے دور کیا جاتا ہے۔ گستاخوں کو سزا دینے کے لیے یہ ادارے بھی اپنے کندھے خوشی خوشی پیش کرتے ہیں۔
2018 کے الیکشن کے لیے لاڈلا ایک کھلاڑی تھا جسے 1992 میں کرکٹ کا جام جہانی اٹھانے والی قومی ٹیم کا کپتان ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ عوامی مقبولیت کو بھانپتے ہوئے اسے متبادل سیاسی قوت بنانے کا کام کم و بیش دو عشروں سے جاری تھا۔ 2002 کے انتخابات میں پہلی بار پارلیمان کا رکن منتخب ہوا۔ وزرات عظمیٰ کا تاج سر پر سجانے کے لیے آمر وقت کے ارد گرد منڈلانا بار آور ثابت نہ ہوا اور بلوچستان کے ظفر اللہ جمالی نے اقتدار سنبھال لیا۔
مقتدرہ کی مہربانیوں سے البتہ 2013 میں سیاسی خانہ بدوشوں نے عمران خان کی اقتدا میں صف بندی شروع کردی اور یوں ایک صوبے کی حکومت اور مرکز میں قابل ذکر نشستیں تحریک انصاف کو مل گئیں۔ پھر کینیڈا والے کزن کے ساتھ مل کر تحریک شروع کی۔ وزیر اعظم نواز شریف حسب سابق بڑے لوگوں کے ساتھ ان بن کے نتیجہ میں پانامہ و اقامہ کی آڑ میں اقتدار سے بے دخل کیے گئے۔ شاہد خاقان عباسی باقی ماندہ مدت کے لیے وزیراعظم بنا دیے گئے۔
الیکشن 2018 کا وقت آیا تو نواز شریف غدار، انڈیا کا ایجنٹ، ملک کے لیے سیکورٹی رسک اور نہ جانے کیا کیا قرار پایا۔ عمران خان محب وطن اور امید کی آخری کرن ٹھہرا۔ پروجیکٹ عمران کی کامیابی کے لیے بھر پور جد و جہد کی گئی۔ مسلم لیگ کے ٹکٹ ہولڈرز سے پارٹی کے انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لینا مشکل بنا دیا گیا۔ ٹکٹ واپس کرائے گئے، رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا گیا، پری پول دھاندلی کے ریکارڈ قائم کیے گئے۔ انتخابات ہوئے تو لاڈلے کھلاڑی کی پارٹی کو صرف خیبر پختونخوا میں فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوئی۔ مرکز اور پنجاب میں بعد از انتخابات بندوبستی جوڑ توڑ کے نتیجے میں خان صاحب مرکز اور عثمان بزدار پنجاب میں اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے میں کامیاب ہوئے۔
بطور وزیر اعظم عمران خان کو بڑے گھر کا تاریخی ساتھ میسر رہا۔ کسی ملامت کی پروا کیے بغیر ہر نازک موڑ پر تحریک انصاف کو در پیش چیلنجز سے بچایا جاتا رہا۔ سینیٹ کے معرکے ہوں یا بجٹ پاس کرانے کے لیے ووٹوں کی ضرورت، خان صاحب سے بھر پور تعاون کیا گیا۔ یہ تو خان صاحب کی نرگسیت اور خود پسندی تھی جس نے انہیں اپنے محسنوں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ قمر جاوید نے کمر سے ہاتھ کیا اٹھایا، موصوف کی حکومت گر گئی۔ غیض و غضب کے ہاتھوں مجبور خان صاحب اور ان کے پیروکاروں نے ملکی اداروں کے خلاف وہ پروپیگنڈا کیا کہ الامان و الحفیظ۔ خان صاحب کے نئے بیانیے کو عوام نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ نئے بیانیے کی اثر پذیری پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں ظاہر ہوئی اور عمران سے منحرف اراکین بری طرح پٹ گئے۔ مقبولیت کی یہ لہر اب تک باقی ہے۔
اب 2024 کے انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے۔ ہمارا بہترین لاڈلا کے مضمون سے خان صاحب کا نام اک نئے نام سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نو مئی کے واقعات نے تحریک انصاف کو غدار اور ملک دشمن باور کرانے کا موقع فراہم کیا۔ کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کے باوجود عوامی حمایت کھونے کے ڈر سے سیاسی خانہ بدوش اطاعت سے روگردانی کے مرتکب ہوئے تو اس بار کچھ زیادہ ہی محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ کاغذات نامزدگی چھیننے، امیدواروں کے اغوا اور بڑے پیمانے پر کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے موجودہ لاڈلے کی اعانت کے لیے مزید کیا کچھ کرنا باقی ہے۔



دیکھتے ہیں اور کیا کیا ناز برداریاں کی جاتی ہیں نئے لاڈلے کے لیے!!