نیا سال کیسا ہو گا، گزشتہ سال 2023 بدترین سال ثابت ہوا
نیا سال 2024 شروع ہو گیا ہے۔ نئے سال میں نئے نئے چیلنجز ہیں، خاص طور پر امن امان کی بحالی، بدامنی، لاقانونیت، قتل و غارت، اغوا برائے تاوان، لینڈ گریبن، بیروزگاری اور بدعنوانی کا خاتمہ شامل ہے۔ نئے سال کی عوام سے امیدیں وابستہ ہیں، جہاں نئے سال کی خوشیاں منائی جاتی ہیں وہیں پر گزشتہ سال کے دکھ، درد، مسائل پریشانیاں بھی بھولی نہیں جاتی ہیں، سال 2023 کا آخری دن 31 دسمبر کئی مسائل، بحران، پریشانیاں، دکھ درد اپنے ساتھ لے گیا، وہیں پر سال 2024 ء کا نیا سورج بھی نئی خوشیاں، محبتیں، پیار، رواداری، آپس میں اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ساتھ امن امان بحال ہو جائے گا۔
دکھی چہرے مسکراتے ہوئے نظر آئیں گے، روتے ہوئے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مجبور مائیں ہنستی مسکراتی رہیں گی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گزشتہ سال 2023 ء میں سندھ میں بدامنی، لاقانونیت، اغوا برائے تاوان، قتل وہ غارت عروج پر رہا۔ خاص طور سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں امن امان کی صورتحال انتہائی خراب رہی۔ ایک ہی وقت 10، 15 لوگوں کو قبائلی دہشتگردی کے نام پر قتل کیا گیا۔ معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
خواتین کو سیاہ کاری کے نام پر قتل کیا گیا۔ سندھ کے تیسرے بڑے سکھر شہر بیچ چوراہے پر 14 اگست کی رات کو سکھر کے سینیئر صحافی کاوش اور کے ٹی این نیوز کے بیورو چیف جان محمد مھر کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سابقہ صوبائی حکومت اور موجودہ نگران حکومت نے مرکزی قاتلوں کو گرفتار نہ کیا۔ اتنا بڑا سانحہ ہونے کے باوجود کوئی خاص نتیجے نہ نکل سکا، جان محمد مھر سے قبل خیرپور کے علاقے احمدپور میں صحافی اصغر کھنڈ کو قتل کر دیا گیا۔
اس سے پہلے 8 ماہ قبل آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے پروفیسر ڈاکٹر اجمل ساوند کو قتل کر دیا گیا، جس کے قاتلوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو سال 2022 کے نسبت 2023 میں جرائم کی وارداتوں اور مقدمات کے اندراج میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سکھر ضلع میں جنوری سے اگست تک ایس ایس پی سنگھار ملک کے دوران قتل اغوا ڈکیتی موٹر سائیکل اور موبائل چوری کی وارداتوں میں اضافہ جبکہ ستمبر سے دسمبر تک ایس ایس پی عرفان سموں کے دوران جرائم میں کمی ریکارڈ کی گئی، سینئر صحافی جان محمد مھر کا قتل بھی شامل ہے۔ پنوعاقل کے علاقے میں پسند کی شادی کے معاملے پر مھر۔ کلھوڑا تکرار دن دیہاڑی درجنوں مسلح ملزمان کا سانگی تھانے کے سامنے سے گزر کر کلھوڑو برادری کے دو افراد کو قتل اور بچی سمیت 3 خواتین کو اغوا کرنے کا معاملہ سال کے بڑے جرائم میں شمار کیا جاتا ہے۔
سال 2023 کے دوران ضلع سکھر کے 27 تھانوں پر 3100 سے زائد مقدمات کا اندراج ہوا، ضلع بھر میں سال 2023 کے دوران 60 افراد قتل کیے گئے جن میں سے 25 افراد کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، ضلع بھر میں سال کے دوران ریپ کے 19 اور گینگ ریپ کے 3 واقعات رپورٹ ہوئے، رواں برس اغوا کے 22 واقعات میں 27 افراد کو اغوا کیا گیا۔ 27 مغویوں کو باحفاظت بازیاب کروانے کے علاوہ 20 افراد کو نسوانی آواز پر اغوا ہونے سے بچایا گیا، سال کے دوران ڈکیتی اور راہزنی کی 70 جبکہ گھروں اور دکانوں سے چوری کی 126 وارداتیں ہوئیں، سال کے دوران 116 موٹرسائیکل اور 15 کار چوری اور 56 شہریوں سے موٹرسائیکل ایک شہری سے کار چھینی گئی، سال 2023 کے دوران 400 سے زائد شہریوں کے موبائل فون چوری ہوئے، پولیس نے کارروائیوں کے دوران 22 کاریں 91 موٹر سائیکلیں 20 دیگر گاڑیاں اور 250 مسروقہ موبائل مالکان کے سپرد کیے۔
گزشتہ سال ہی کشمور کے کچے کے علاقے میں جانو اندھڑ سمیت گینگ کے 9 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا گیا، علاوہ ان کے ساتھی شہزادہ دستی اور سومر شر بھی شامل تھے جنھوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر سنہ 2021 میں رحیم یار خان کے علاقے ماہی چوک میں ایک ہی خاندان کے 9 افراد کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یہ گزشتہ سال کی بڑی کامیابی تھی۔
سندھ پولیس کی رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں گزشتہ سال 2023 ء میں سندھ بھر میں 1785 افراد قتل ہوئے۔ جبکہ اغوا برائے تاوان کے 4 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے، زیاد تر واقعات اتر سندھ سکھر لاڑکانہ ڈویژن میں پیش آئے۔ مجموعی طور پر سندھ بھر میں ریپ/ زنا کے 369، گینگ ریپ کے 29، کیسز ہوئے۔ بد فعلی کے 256 اور کاروکاری کے 145 کیسز رپورٹ ہوئے۔ مجموعی طور پر سندھ پولیس کے پاس ایک لاکھ 9 ہزار 253 کیسز رپورٹ ہوئے۔ سندھ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق رواں برس 15 دسمبر تک صوبے میں قتل کے 1785 کیسز رپورٹ ہوئے۔
ساؤتھ زون کراچی میں قتل کے 141، ایسٹ زون میں 238، ویسٹ زون میں 211، حیدرآباد رینج میں 291، میرپور خاص رینج میں 59، شہید بے نظیر آباد رینج میں 176، سکھر رینج میں 241 اور لاڑکانہ رینج میں قتل کے 428 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سال 2023 میں اغوا کے 3 ہزار 948 اور اغوا برائے تاوان کے 133 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ ساؤتھ میں اغوا برائے تاوان کے 8، ایسٹ زون میں 17، ویسٹ زون میں 15، حیدرآباد رینج میں 9، میرپور خاص رینج میں 1، سکھر رینج میں 29 اور لاڑکانہ رینج میں اغوا برائے تاوان کے 54 کیس رپورٹ ہوئے۔
سندھ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق سال 2023 میں ریپ/ زنا کے 369 کیسز رپورٹ ہوئے، گینگ ریپ کے 29، بد فعلی کے 256 بچوں کے اغوا کے 393 کیسز رپورٹ ہوئے۔ پولیس پر حملوں کے 3 ہزار 601، شہریوں پر حملوں کے 764، اقدام خودکشی کے 18، کاروکاری کے 145، اقدام قتل کے 2 ہزار 593، فسادات کے 3114 کیسز رپورٹ ہوئے۔ سال 2023 میں گاڑیاں چھیننے اور چوری کے 2 ہزار پچانوے، موٹر سائیکل چھیننے اور چوری کے 14 ہزار 571، دیگر گاڑیوں کے چھیننے اور چوری کے 25 ہزار 274 کیسز رپورٹ ہوئے۔
سال 2023 میں سندھ بھر میں ہونے والے ٹریفک حادثات 440۔ افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ سال 2023 میں ہائی وے پر ڈکیتی و راہزنی کے 30، بینک ڈکیتی و راہزنی کے 3، پٹرول پمپس پر ڈکیتی و راہزنی کے 30، گھروں میں ڈکیتی و راہزنی کے 404، دکانوں پر ڈکیتی و راہزنی کے 435، چوری و نقب زنی کے دو 2 ہزار 861، سائیکل چوری کا 1، تار چوری کے 70، جانوروں کی چوری کے 456 جبکہ ڈکیتی و راہزنی کے دیگر واقعات کے پانچ 5 ہزار 9 کیسز رپورٹ ہوئے۔
سال 2023 میں ممنوعہ آرڈیننس کے تحت 12 بارہ ہزار 413، آرمز آرڈیننس کے تحت 10 دس ہزار 505 گیمبلنگ آرڈیننس کے تحت ایک ہزار 304، اسمگلنگ آرڈیننس کے تحت 57، دیگر لوکل اور اسپیشل لاء کے تحت 7 ہزار 375 اور توہین مذہب کے 98 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ دعا ہے کہ 2024 ء سال امن، محبت، پیار، پریم، رواداری، یکجہتی والا سال ثابت ہو گا، جہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی، ہر طرف امن قائم ہو گا اور عام انتخابات 2024 ء صاف شفاف طریقے سے ہوں گے اور کوئی دھاندلی نہیں ہوگی۔ 8 فروری کو صرف پاکستان کو ہی ووٹ ڈالے جائیں گے۔


