انسان، معراج انسانیت اور ہم


اللہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اس دنیا میں بھیجا۔ اسے عقل و فہم سے نوازا تا کہ یہ اس کائنات کے رازوں کو مسخر کرتے ہوئے اپنے رب کو پہچانے اور نہ صرف ایک دوسرے سے پیار و محبت کرتے ہوئے زندگی بسر کریں بلکہ چرند و پرند کے ساتھ بھی احسن سلوک کرتے ہوئے زیست بسر کریں۔ حیوان ناطق ہونے کے ناتے انسان جس طرح نوازا گیا وہیں اس پر بھاری ذمہ بھی ڈالی گئی کہ وہ بحیثیت انسان انسانیت کی معراج کو پہنچے۔

یہ ایک ایسی خاصیت جو اسے دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنے میں ممیز کرتی ہے۔ ایک ایسی صلاحیت جو اسے انفرادی و اجتماعی سطح پر معاشرہ میں نمایاں کرتی ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے ہر دور میں مفکروں نے کوشش کی اور اپنی رائے سے بنی نوع انسان کو انسانیت کی راہ دکھانے کی کوشش کی۔ جن میں یونانی مفکر ارسطو نے انسان کو حیوان ناطق کہتے ہوئے انسانی صلاحیتوں میں اس کے معاشرتی رابطوں اور عقل کو اہمیت دی۔

جب کہ آگسٹن نے انسانی تعلقات میں اللہ کے ساتھ تعلق و محبت کو مسیحی مذہب کے پیرائے میں بیان کرنے کی کوشش کی جس میں اس رشتے کو انسانیت قرار دیا۔ جرمن فلسفہ دان کانٹ نے انسانیت کو عقل و اخلاقیات کے زیور میں چھپے مقصد حیات کو دیکھا۔ اشتراکیت نظریے کے تحت کال مارکس نے انسانیت کو اجتماعی چیلنجز و تقابلہ کے ساتھ جڑا دیکھا۔ جس میں انسانی کمال و ترقی کے لئے اجتماعی تبدیلی کو ضرورت جانا۔ فرانس کے فلسفہ دان سارٹر کے نزدیک انسان کی انسانیت آزادی، انفرادی اور ذاتی تلاش میں مصروف اور خود میں متجسس حامل قرار دیا۔ ان تمام مفکروں نے اپنے اپنے دور میں انسانیت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کی۔

بشر کے نزدیک انسانیت ایک ایسی خصوصیت ہے جو اسے دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات بنانے، ایک دوسرے کی مدد کرنے کے علاوہ اچھے اخلاقی اصولوں پر عمل پیرا ہونے پر کاربند قرار دیتی ہے۔ انسان کی صلاحیت معاشرتی اجتماعی و انفرادی طور دونوں پہلوؤں سے نمایاں ہونی چاہیے۔ جس سے دوسروں کے ساتھ باہمی احترام و مدد کے جذبہ پر عمل درآمد ہی انسانیت ہے۔ ورنہ انسان اور حیوان میں فرق نہیں رہتا۔

مذہب اسلام انسانیت کو مختلف پہلوؤں سے دیکھتا ہے۔ جس میں حقوق و ذمہ داریاں ساتھ ساتھ چلتی نظر آتی ہیں۔ مسلم مفکرین کے نزدیک اسلام و انسانیت میں حقوق الانسان، رحمت و مہربانی، عدل و انصاف، امن، مساوات، علم و تعلیم اور خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے۔ اسلام میں انسانیت کے تحت ہر انسان کے عدل، امانت اور انصاف کے حقوق واضح ہیں۔ مذہب اسلام میں باری تعالٰی کی رحمت و مہربانی کے اصول دل کو چھو لینے والے ہیں۔

اور یہی مسلمانوں کو ہر ایک کے ساتھ رحم و محبت کے اظہار کا درس دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ انسانوں کو مذہب اسلام عدل و امن کا پرچارک بھی نظر آتا ہے۔ جس میں معاشرتی، سماجی و سیاسی بلکہ تمام امور کے تعلقات میں انصاف کا پہلو اجاگر کرتا نظر آتا ہے۔ اس آفاقی دین میں سب سے اہم عنصر مساوات کا ہے جس میں تمام بنی نوع انسان کو ایک ہونے کا اہل و برابر قرار دیتا ہے۔ جس میں مذہب، رنگ و نسل اور قومیت کے نام پر کوئی فرق نہیں۔ یہ ہی انسانیت کی معراج ہے۔ اسے آخری نبی نے عملی طور پر کر کے دکھا دیا۔

ذرا ہم انسانیت کو پاکستانی معاشرے کے آئنہ میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں انسانیت کو اخلاقی، معاشرتی اور قومی سطح پر دیکھا جاتا ہے۔ اس مملکت خداداد میں لوگوں کے رہن سہن کے اصول، اخلاقی تربیت، معاشرت کا نظم و ضبط، ضابطہ اخلاق اور اس معاشرے کی روایات اس سلسلے کی کڑیاں ہیں جو اس کی معاشرت کا آئینہ دار ہیں۔ مملکت پاکستان کی احساس مذہب اسلام پر ہے۔ دین کے اصولوں کے مطابق معاشرتی تعلقات قائم کرنے، ایک دوسرے کی مدد، اقلیتوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات و جذبہ اخوت پر ہماری معاشرتی اقدار استوار ہونی چاہیے۔

لیکن کیا ہم ان تمام چیلنجوں سے عہدہ برا ہو رہے ہیں۔ صد افسوس ہماری معاشرت میں کئی ایسے مسائل ہیں جو انسانیت کے نام پر دھبہ ہیں اور یہ اس معاشرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ جن میں سر فہرست تعلیم کی فراہمی میں فرق، اخلاقیات کا جنازہ نکلنا، عدم برداشت، قوانین پر منصفانہ عمل درآمد نہ ہونا، میرٹ کا سر عام قتل، ہر شے میں ملاوٹ، صحت کے سیکٹر کا کاروبار بن جانا، انصاف کا قتل سرعام ہونا، ایک دوسرے کا حق مارنا اور تو اور خوراک و ادویات میں ملاوٹ جیسے مسائل ہمارے آج کے معاشرے کے عکاس ہیں۔

کیا رہتی دنیا کے یہ اصول ہیں۔ مزدوروں و ہاریوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ آئے روز ہاریوں پر ظلم اور عورتوں کی عصمتوں کو تار تار کرنا روز کا شیوہ بن چکا ہے۔ قانون طاقتور کی زر خرید لونڈی بن چکا ہے۔ ہمارے معاشرے کو سدھارنے اور انسانیت کی معراج پانے کے لئے معاشرتی، تعلیم اور معاشی تدابیر و سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے تا کہ اس خداداد مملکت کا ہر شہری اپنی استطاعت کے مطابق اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکے جو اس کے خوابوں کی تعبیر کا پاکستان ہو۔

کسی بھی ملک کا مستقبل کئی عوامل پر مشتمل ہوتا ہے۔ جس میں امن، سیاست، معاش، تعلیم اور معاشرتی طور طریقے نمایاں ہوتے ہیں۔ جو معاشرہ امن کا گوارا ہو گا وہاں ترقی کی شرح نمود نمایاں ہو گی۔ تعلیم انسان کے ذہن کو جلاء بخشتی ہے۔ وہی معاشرہ ترقی کی طرف گامزن ہوتا ہے جہاں تعلیمی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں۔ جب ہمارے ملک کی معیشت اور اس کی بنیادیں مضبوطی پر استوار ہوں گی تو نمایاں ترقی نظر آئے گی۔ ہمارا ملک چند سالوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔

ہمیں مضبوط سیاسی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ صنعت و حرفت کی ترقی میں بھی نمایاں تعلیمی و ٹیکنالوجی ترقی اور ذرائع آمدورفت شامل ہیں۔ ملکی سطح پر ہر ریجنز کی ترقی کے لئے یکساں مواقع میسر کرنا اور موازنہ و معقولیت کے اصولوں پر عمل درآمد کے علاوہ ہم آہنگی کے اصولوں کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ جس سے احساس محرومی کا ازالہ ممکن ہو گا۔ اگر ان تمام عوامل کو نیک نیتی اور ہم آہنگی کے ساتھ لاگو کیا جائے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور ملک مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گا۔ جس میں ہر ایک کی شراکت ہوگی اور ہر کوئی اپنی استطاعت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے ملکی ترقی میں جڑ جائے گا۔

 

Facebook Comments HS