علیسہ کارسن، ”اس بازار“ کے لونڈے لپاڑے اور سوشل میڈیا
یہ سوشل میڈیا تو جھوٹ کا کارخانہ بن چکا۔ چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے لوگوں کو چونکانے، خوف میں مبتلا کرنے اور ان کی نیندیں اجاڑنے کا یہ دھندا کہیں رکتا دکھائی نہیں دیتا۔ ریاست کی کوتاہ نظری اور بے حسی کی حدیں تو مدت ہوئی عرش معلیٰ کو چھونے لگیں۔ میڈیا سوشل ہو، الیکٹرانک یا پرنٹ، ریاستی احتساب کی آنکھ سیاسی اور ادارہ جاتی مفادات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔
گزشتہ شب، سونے سے ذرا پہلے، ایک گروپ میں ملنے والی ”خبر“ نے دل دہلا کے رکھ دیا۔ خوف اور کرب کی ایک لہر تھی جو گویا پورے بدن میں دوڑ گئی۔ امریکہ کی آرکنساس یونیورسٹی میں خلابازی کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی طالبہ علیسہ کارسن کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس نے مریخ پہ جانے والے ایک ایسے یک رکنی مشن پر جانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی زمیں پہ واپسی مشن کے پروگرام میں شامل نہیں۔ خلابازی کے فن سے دلچسپی رکھنے والے علیسہ کے نام اور کام سے آگاہ ہیں۔ 22 سالہ علیسہ کا اگرچہ ناسا (NASA) سے کوئی باقاعدہ تعلق نہیں لیکن اسے ناسا کے تمام 14 سپیس کیمپوں میں شرکت کرنے والے پہلے فرد ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ جب اس نے اس طرح کے پہلے سپیس کیمپ کا دورہ کیا تو اس کی عمر صرف سات برس تھی۔ وہ دنیا بھر میں ”غیر سرکاری زیر تربیت خلاباز“ کے طور پر معروف ہے۔ ابلاغیات اور تشہیر کی دنیا میں اسے خلابازی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔
اردو کے اساتذہ کی تحریروں میں ”خبر وحشت اثر“ کی ترکیب پڑھ رکھی تھی مگر یہ خبر کیسی ہوتی ہے، اس کے اسرار سے رات آگاہی ہوئی۔ نوجوان، آرزو سے بھر پور اور زندگی کی امنگ سے دہکتا ہوا علیسہ کا بھرپور چہرہ، رات بھر سوتے جاگتے ذہن کی سکرین پر ابھرتا ڈوبتا رہا۔ بد بخت خبر باف اگر یہیں رک جاتا تو شاید دیدہ و دل کا یہ عالم نہ ہوتا۔ پروفیشن کے ساتھ علیسہ کے عشق کو داد دینے کے بعد پوسٹ میں یہ تبصرہ بھی ضروری خیال کیا گیا کہ ”یہ یک طرفہ سفر ہو گا مطلب یہ محترمہ واپس نہیں آ سکیں گی اور مریخ پر مختصر سی ریسرچ کے بعد یہ وہیں مر جائے گی۔ یہ نہ تو شادی کرے گی اور نہ ہی کوئی اور امور زندگی انجام دے سکیں گی اور یہ سب انہوں نے اپنی مرضی سے رضاکارانہ طور پر انجام دینا ہے۔“ مرے کو مارے شاہ مدار۔ چنانچہ تین بیٹیوں کے باپ پر جو گزرنا چاہیے تھی، گزری۔
صبح ناشتے سے پہلے خبر کی توثیق کے لئے گوگل کے بحر بے کراں میں تلاش کا جال ڈالا۔ خبر درست نہیں تھی۔ نہ ناسا نے ایسا کوئی مشن تشکیل دیا جس کے مسافروں نے واپس نہ آنے کے لئے خلا کا سفر کرنا تھا اور نہ ہی علیسہ کی طرف سے ایسے کسی مشن پر روانگی کا اعلان کیا گیا ہے۔ رنج زدہ طبیعت کا اب غصے سے برا حال تھا۔ اس طرح کی کسی پوسٹ یا میسج پر گلہ گزاری کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ صاحب یہ تحریر ہماری تھوڑی ہے، شکوہ کرنا ہے تو اس کے مصنف سے کیجئے، ہم نے تو اسے فارورڈ کیا ہے بس۔ یعنی ہمیں تو ”ننھا قاصد“ سمجھ کر معصوم ہی گردانیے۔ جی چاہا کہ کہانی کار کی نشاندہی ہو جائے تو اس کی خدمت میں گفتنی و ناگفتنی دشنام کا تحریری نذرانہ پیش کروں۔ مگر یہ سوشل میڈیا۔ یہ تو ایسا جنگل ہے جس میں گھائل ہونے والے راہی کے لئے یہ تعین کرنا ہی ممکن نہیں کہ تیر کس سمت سے آیا اور اسے چلانے والا کون ہے۔ گالی کس کو دی جائے اور گو شمالی کے لئے مجرم کہاں تلاش کیا جائے۔ اس جولاں گاہ میں کسی تحریر (اب اس کے ساتھ تصویر بھی شامل سمجھیے) کے اور چھور کی کرید ایسے ہی ہے جیسے کوئی ستم ظریف ”اس بازار“ میں جنم لینے اور پرورش پانے والے لونڈے لپاڑوں کے حسب نسب کی تحقیق کے سفر پہ نکل پڑے۔
علیسہ کے بارے میں اس بے پر کی خبر نے تو فوری رد عمل کا ایک بہانہ فراہم کر دیا ورنہ اس طرح کی فریب کاریاں تو سوشل میڈیا پر روزمرہ بن چکی ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس حمام میں وہ تقدس مآب ہستیاں بھی پیرہن کے تکلف سے بے نیاز نظر آتی ہیں، جنہیں ابلاغ کی دنیا میں اعتبار کی سند سمجھا جاتا ہے۔ ان سے کوئی پوچھے کہ صاحب آپ کے زیر تصرف سوشل میڈیا کے مشمولات میں وہ تمام آلودگیاں اور جعل سازیاں کیسے راہ پا جاتی ہیں جنہیں آپ اپنے ہی نیوز چینلز اور اخبارات کے لئے روا نہیں سمجھتے۔ مگر کون پوچھے اور کیا پوچھے کہ ان میں سے بہت تو اس دور سے اصحاب سبت کی یہ رسم نباہ رہے ہیں جب ابلاغ کی دنیا کو پرنٹ میڈیا کی راجدھانی تصور کیا جاتا تھا۔ مجال کہ کبھی شام یا دوپہر کو شائع ہونے اپنے اخبارات میں شہ سرخی کے طور پر چھپنے والی خبر کو انہوں نے اپنے ہی باقاعدہ روزناموں میں آخری صفحے پر بھی جگہ دینے کی حماقت کی ہو۔
ریاست سے کسی مثبت کردار کی توقع، جیسا کہ اوپر عرض کر چکا، عبث ہے۔ سیاستدان اور علما اس ناقہ بے مہار کو لگام ڈالنے کی کسی کوشش کی حمایت کیوں کرنے لگے۔ وہ تو، الا ماشا اللہ، خود سوشل میڈیا پر کذب و ریا کے خام مال سے چلنے والے اس کارخانے کے منافع خوروں میں شامل ہیں۔ سوشل میڈیا کی اس غارت گری سے بچنے کی ایک ہی صورت نظر میں آتی ہے کہ اس میڈیا کا قاری اور ناظر اپنے کان اور آنکھ ہی نہیں سوچ اور ذہن کی تمام کھڑکیاں بھی کھلی رکھے۔ اہل غرض کی طول کلامی میں عرض مدعا کے سراغ کی مہارت پیدا کرے، سچ اور جھوٹ کی تمیز کرنا سیکھے۔ خوشنما لفظوں کے پیرہن میں ملبوس مسخ شدہ حقائق کی اصلیت تک رسائی کا ہنر حاصل کرے، جعلی اور اصلی کی پہچان میں سہل پسندی کی بجائے دماغ سے مدد طلبی کی زحمت اٹھانے کے لئے تیار رہے اور سب سے اہم یہ کہ اس میڈیا پر ملنے والی ہر اطلاع کو خبر سمجھنے کی بجائے اس کے سیاق و سباق اور اطلاع کنندہ کے خفی اور جلی مقاصد پر نگاہ رکھنا نہ بھولے۔ پرکھوں سے ایک مقولہ سن رکھا ہے کہ مشتری ہوشیار باش۔ مقصود یہ کہ دکاندار کی دیانت پر اکتفا کرے کی بجائے، سودا خریدتے ہوئے، مشتری یعنی گاہک کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں۔ سو، سوشل میڈیا کے بازار کے خریداروں کے لئے اس کم سواد کی طرف سے حرف آخر، یہی کہ مشتری ہشیار باش بلکہ صد ہزار بار ہشیار باش۔ ورنہ بقول شاعر
مقتل سے بچ نکلنے کی ہر اک راہ بند ہے



