بلوچستان کی کہانی ( قسط سوم) اکبر بگٹی کا قتل


صدر ضیا نے اپنی غیر آئینی حکومت کے استحکام کے لیے بلوچ سرداروں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف کامیاب جہاد کے لیے پرامن اور مستحکم بلوچستان ضروری تھا۔ چنانچہ 1980 کی دہائی میں بلوچ سرداروں کی معاونت کے ساتھ شعوری طور پر ریاستی نگرانی میں جہاد پروجیکٹ شروع کیا گیا۔ مختلف بلوچ سردار جہاد میں مختلف وجوہات کی بنیاد پر شریک ہوئے۔ جیسے افغان اشرافیہ سے پرانے تعلقات، ریاست اور اداروں کی وفاداری۔ کچھ جہاد کے نام پر ملنے والی رقم جبکہ کچھ کو بلوچستان پر سوویت یونین کے قبضے کی کہانی سنا کر آمادہ کیا گیا۔

جہاد میں شامل ہونے والے قبائلی بلوچ مجاہدین کی تربیت کے لیے منظم ٹریننگ سینٹر قائم کیے گئے۔ افغانستان میں زخمی ہونے والے مجاہدین کو بلوچستان کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہمی۔ امریکہ نے 2001 میں طالبان کو کچلنے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تو بلوچستان افغان گروپ کا دوسرا گھر بن گیا۔ کوئٹہ طالبان قیادت کی نام نہاد ”کوئٹہ شوریٰ“ کا گڑھ بن گیا۔ افغان طالبان 2021 میں ملک سے امریکی انخلاء کے بعد افغانستان واپس چلے گئے۔

صدر ضیا نے بلوچستان کے لوگوں کے لیے اسمگلنگ کو ایک فورمل ذریعے معاش قرار دے کر ریاستی سرپرستی مہیا کی۔ یہ پالیسی ملکی معیشت کے اربوں ڈالر کے نقصان کا باعث بنی۔ ریاستیں اپنے لوگوں کو فنی تعلیم و ہنر فراہم کر کے اگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرتی ہیں نہ کہ غیر قانونی ذرائع۔ سمگلنگ کے اس کاروبار میں منشیات اور اسلحہ سر فہرست تھا جس سے سرداروں نے بھی خوب مال سمیٹا۔

افغان جہاد کے نام پر کی گئی اسلامائزیشن اسلحے کی سمگلنگ صدر ضیاء الحق کے انتقال اور سوویت افواج کے انخلاء کے بعد جہادی گروہوں کو اسٹریٹجک فوائد کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کیے جانے کے لیے مجاہدین کی بلوچستان میں آباد کاری کی گئی۔ درحقیقت، جہادی تنظیموں کی حمایت پاکستانی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کی بنیاد بن گئی۔ یوں بلوچستان مسلسل دہشت گردی کی اگ میں جلنے لگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز نے لشکر جھنگوی کو کوئٹہ منتقل ہونے کی تحریک فراہم کی، جس کے ہزارہ برادری کے لیے افسوسناک نتائج تھے۔

2003 ء پرویز مشرف نے ضلع ڈیرہ بگٹی کے شہر سوئی میں چھاؤنی کی تعمیر کا حکم دیا تو بلوچ اور پختون قوم پرست جماعتوں نے مخالفت کی۔ یہ اکبر بگٹی اور جنرل مشرف کے درمیان کشیدگی کی پہلی وجہ بنی۔ بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں مزید فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کے خلاف قرارداد منظور کی تو پرویز مشرف نے کوئٹہ کے دورے کے دوران یہ تسلیم کیا کہ ماضی میں بلوچستان کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں اور وہ ان زیادتیوں پر مانگتے ہیں۔

2005 ء سوئی میں مقیم ڈاکٹر شازیہ خالد کے ساتھ ریپ کے واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کو سردار اکبر بگٹی نے اپنی عزت و ناموس پر حملہ قرار دیا فوج کے ایک کیپٹن پر لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کا الزام عائد ہوا جو ثابت نہ ہو سکا اور یوں ان کا علاقہ ایک مرتبہ پھر تصادم کی لپیٹ میں آ گیا۔ یہ واقعہ دو اور تین جنوری کی درمیانی شب سوئی ہسپتال کے ایریا میں پیش آیا جس کے کچھ دنوں بعد سوئی میں نا معلوم افراد نے سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے۔ دونوں جانب سے فائرنگ میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

اس کے بعد 17 مارچ 2005 کو بگٹی قبائلیوں اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے مابین جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں نواب اکبر بگٹی کے مطابق خواتین اور بچوں سمیت ستر سے زیادہ بے گناہ شہری ہلاک ہوئے۔ سرکاری سطح پر ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں ہوئی۔ سترہ مارچ کے واقعے کی ایک وجہ لیڈی ڈاکٹر کا ریپ بتایا گیا۔

اس واقعے کے بعد مسلم لیگ ق کے قائدین چوہدری شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین نے نواب اکبر بگٹی سے مذاکرات کرنے کے لیے ڈیرہ بگٹی کا دورہ کیا۔ جس کے نتیجے میں ایف سی اور بگٹی مسلح قبائلیوں نے ایک دوسرے کے مد مقابل قائم کیے گئے مورچے خالی کر دیے۔

اس دوران نواب اکبر بگٹی مسلسل یہی کہتے رہے کہ حکومت ایک بڑی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے بلوچ قوم پرست جماعتوں کو متحد ہو کر ایک جماعت بنانے کی دعوت دی لیکن بلوچ قوم پرست جماعتوں نے اس طرف کوئی توجہ دی۔

اس دوران مشاہد حسین کی سربراہی میں وفاقی سطح پر بلوچستان کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی جس کا مقصد آئین کے تحت صوبوں کو خود مختاری دینے کے صوبے میں جاری حالیہ کشیدگی کا خاتمہ تھا۔ لیکن بلوچ جماعتوں کے اراکین نے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کر لی کہ یہ کمیٹی کچھ بہتر نہیں کر سکتی۔

دسمبر 2005 میں پرویز مشرف کے کوہلو کے دورے کے دوران راکٹ داغے گئے تو کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد فرنٹیئر کور کے ایک ہیلی کاپٹر پر مبینہ طور پر فائرنگ کے نتیجے میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور اور ان کے نائب زخمی ہوئے۔ فوجی آپریشن سے صوبے کے حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تو نواب اکبر بگٹی ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑوں پر چلے گئے۔

حکومت نے نواب اکبر بگٹی کے مخالفین کلپر اور مسوری قبیلے کے لوگوں کو دوبارہ ڈیرہ بگٹی بلا کر آباد کیا جنہوں نے چوبیس اگست کو ایک جرگے میں سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ جس روز جرگہ منعقد ہوا اس دن مسلح بگٹی قبائلیوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں میں شدید حملے کیے ہیں اور بعض مقامات پر جھڑپوں میں سیکیورٹی فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے۔ آخر کار چھبیس اگست کو یہ اطلاع ملی کہ نواب اکبر بگٹی ایک حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ چند روز بعد جب سردار اکبر بگٹی کی لاش بازیاب ہوئی تو حکومت نے اسے ایک صندوق میں بند کر کے سپرد خاک کر دیا۔

Facebook Comments HS

One thought on “بلوچستان کی کہانی ( قسط سوم) اکبر بگٹی کا قتل

  • 27/08/2024 at 1:33 صبح
    Permalink

    پاکستانی قوانین کی رو سے ریپ یا کسی ایسے قبیح فعل کی شکار خاتون کا نام اور تصویر حتی الامکان شائع نہیں کی جاتی بے آج بھی سوئی کے سانحہ کا شکار لیڈی ڈاکٹر کا نام اگر نہ لکھا جاتا تو کوئی قیامت نہیں آجاتی۔ اور لکھ ہی دیا تھا تو بے گناہ کیپٹن کا بھی نام لکھ دیتے۔

    متعدد باتیں ادھورا سچ اور محض قیاس پر مبنی ہیں۔

    اکبر بگتی کی لاش دس بارہ اور لوگوں کے ساتھ غار میں بارودی اسلحہ پھٹنے سے ہوئی تھی۔ کئی دن بعد جب ملبے سے لاشیں نکالی گئیں تو اس میں دیکھنے یا دکھانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا اس لئے طویل القامت شخص کی لاش علامتی طور پر ہی دی گئی تھی۔

Comments are closed.