بات


ساری بات میں بات ہی یہی ہے کہ کوئی بات ہی نہیں۔ اگر کوئی بات ہوتی تو اب تک سامنے آ گئی ہوتی۔ جو بغل میں سے چھریاں نکال کر سامنے آ جائیں، وہ بات کرنے والے رہے ہی نہیں۔ یہ جو منہ ہلا رہے ہیں اور اچھل رہے ہیں، بات نہیں کر رہے صرف بلوا کر رہے ہیں۔ ان کی مجبوری کو سمجھیں تو بات کی گرہ کھل جائے گی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ بندہ شاہ کا مصاحب ہو اور کچھ بولنے کی کوشش نہ کرے۔ لیکن آپ گھبرائیں نہیں، نہ ان سے کوئی بات ہو سکے گی اور نہ ان کی بات بن سکے گی۔ بات ان کی سمجھ میں تو تب آئے گی جب یہ مائل بہ سخن ہوں گے ۔ اگر یہ پھبتیاں کستے ہوئے فرشی سلامیاں بھر بھر کر گھنا گھنا باجتے رہیں گے تو کیا خاک فلک نشیں ہوں گے ۔

جو بات منے کی ماں میں ہے، وہ کائنات کی کسی ناکتخدا میں نہیں۔ ایک آگ کا دریا ہے، تیرنے کی اجازت نہیں اور ڈوبنے کی بھی اجازت نہیں۔ مجال ہے کہ حیاتی میں ایک بار بھی کبھی بحث کی نوبت بھی آئی ہو۔ آپ کہیں گے کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی۔ معاملہ یہ ہے کہ جب بھی ہمارے لب وا ہوتے ہیں تو وہ پہلے ہی سمجھ جاتی ہیں کہ کون سے لفظ ہمارے دہن سے پھوٹنے والے ہیں۔ ناکردہ خاموش سوالوں کے جواب انہیں یوں عطا ہوتے ہیں جیسے افق پر سے پرندے آ کر سروں پر بیٹھ جائیں۔

جب کبھی قسمت سے کہیں جانا ہو تو نہ جانے انہیں کیسے خبر ہو جاتی ہے اور وہ وقت رخصت سے بہت پہلے ہی حرکات و سکنات کی جانچ پڑتال ایسے شروع کر دیتی ہیں جیسے انہوں نے وہ سارے رقعے پڑھ رکھے ہیں جو مجھے کبھی موصول ہی نہیں ہوئے۔ جو میں تھوڑا لجا کر پوچھ بیٹھوں کہ میری جان آپ پر قربان، آخر بات کیا ہے، یہ آپ مجھے جلاد کی طرح کیوں دیکھ رہی ہیں تو ایسی بات کہہ دینے میں ان کا ثانی نہیں کہ ہم جہاں جا رہے ہوں گے ، وہ سب بھول کر ان کی آنکھوں میں ڈوب جائیں گے۔

بات ہی کچھ ایسی ہے کہ ناگوار محسوس ہوگی مگر کہے دیتا ہوں کہ آمد کو جامد کرنا محال ہے۔ آج عالم استغراق میں انکشاف ہوا کہ ہم نے تو زیست، تمیز اور تہذیب کا تہبند سنبھالنے میں گزار دی اور بے پیرہن لوگ دین اور دنیا کی دستار پہنے ان بلندیوں کو پہنچ گئے جہاں کشف و کرامات کے بھی پر جلتے ہیں۔ تمام عمر یہی ہدایت ملی کہ شیخ چلی کے خیالی پلاؤ سے گریز کرنا ہے۔ یہی بتایا گیا تھا کہ ہمارا تو کوئی رہبر ایسا نہیں تھا جس کے ہاتھ میں تلوار اور بات میں تیر نہ ہوں۔

زمانے نے ایسا پلٹا کھایا ہے کہ اب جس کے سر پر سینگ نہیں ہوتے، اب وہ بھی رہنما ہے۔ ہر الٹے سیدھے خواب دیکھنے والا ”آنٹریپرینور“ کہلاتا ہے اور سب خیالی پلاؤ ”ای کامرس“ پر بک رہے ہیں۔ کڑکڑاتے نوٹوں کی جگہ کرپٹوکرنسی نے لے لی ہے۔ کلاسیکی رقص سکھانے والے تفسیر پڑھا رہے ہیں اور زلف تراش اور خیاط سیاست کے داؤ پیچ آزما رہے ہیں۔ سودا کرانے کے ماہر سوداگر اور دوائے دل بیچنے والے خود سودا ہو گئے۔ گلوکار ساہوکار ہو گئے اور مصور اور مفکر ابھی بھی کاکوں سے اور فاقوں سے کھیلتے جا رہے ہیں۔ وہ جو رئیس تھے یا کبیر تھے، مدبر تھے یا مشیر تھے، سب دیکھا کیے ہیں کہ غضب خدا کا ، مشکل سے ایک زندگی ملی تھی اور وہ بھی ملا اور ملامت کی نظر ہو گئی۔ وہ مارا! پتہ نہیں کیا بات تھی جو کہنا چاہتا تھا اور پتہ نہیں کیوں وہ بات کہاں سے کدھر نکل گئی۔

خدا کا لاکھ شکر کہ بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اگر بات بڑھ جاتی تو چاچے کی چاچی سے چائے کی چینک کے چٹخ جانے پر چوں چاں ہو جاتی، گوالے گامے کی گائے کا دودھ گڈویوں میں گن گن کر گھاس کے گڈوں پر گرا دیتے اور شاعروں کو شروع دن سے ہی خلاف شرع شرارتیں کرنے کی شرمندگی پر شیر و شکر ہونا پڑتا۔ ندیدے اور ناراض نادانوں کو ندامت کے نوخیز نشانات کو نئے سرے سے نمودار کرنا پڑتا، لاری پر لاہور سے لاڑے لانے والے لمبی لمبی للکاریاں مارتے ہوئے لوازمات کی جانب نہ لپکتے اور جملہ جہاں گردوں کو جاہلوں کی طرح جان اور جناب کی جستجو میں جوتیاں اور جرمانے نہ جھیلنے پڑتے۔

کہنے کی بات کو کہہ دینے کی کرامات ہر کسی کی کتاب میں کہاں لکھی ہوتی ہے۔ بھانت بھانت کے بھیدی بھس کی بھری بھینسوں کی طرح بھاں بھاں کرنے سے پہلے کسی کے بھرم کا تو خیال رکھتے اور کام کی بات یہ ہے کہ کار جہاں میں کمال وہی کر پاتا ہے جو کرم کتابی کی کارستانیوں پر کڑھتا رہتا ہے مگر بات کو آگے نہیں بڑھنے دیتا۔

قصہ کوتاہ یہ کہ جس کو مگس اور پروانے میں فرق کا معلوم نہ ہو، اس سے کیا بات کی جائے۔ مکھن لگانے میں اور محبت میں صرف طریقہ کار ہی نہیں بلکہ آلہ کار اور انجام کار بھی مختلف ہوتے ہیں۔ انہیں کون بتائے کہ چکنی چپڑی باتیں کرنے والے دونوں جہانوں کی نعمتوں کے حقدار ہو سکتے ہیں اور محبت کے مسافر جو گندم کھا کر نکالے گئے تھے، ”آب جو “ پی کر پھر جہنم داخل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ گلزار ایک کارزار ہے جہاں فائدہ شہد کی مکھی کی طرح گل تازہ کا جوس پینے میں ہے نہ کہ خس و خار سے الجھ کر بے پر و بال ہونے میں۔

کیا کسی نے لوگوں کو کبھی بھڑ کے چھتوں میں ہاتھ ڈالتے دیکھا ہے؟ انسان اگر کوئی ہو گا تو ہمیشہ وہیں بات کرے گا جہاں سے اسے سماعتوں کی امید ہو گی۔ انسان کے کسی جذبے کی اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں جب تک کہ اس کو زبان نہ مل جائے۔ یہ علیحدہ بات کہ زبان عطا ہوتے ہی انسان یہ بھرپور کوشش کرتا ہے کہ حیوانوں کی قدر و قیمت میں اضافہ کر سکے۔ نطق تمام عمر مصروف عمل رہ کر صرف ایک کام کی بات کر ڈالے تو یوں سمجھیں کہ یہی وہ بات تھی جو کائنات تھی۔

Facebook Comments HS

مختار پارس

مختار پارس انشائیہ اور مزاح لکھتے ہیں

mukhtar-paras has 7 posts and counting.See all posts by mukhtar-paras