کیا ’سچ‘ اخلاقی بندشوں سے ماورا ہوتا ہے؟


کسی بھی تصور مسئلے یا قضیے کا تجزیہ کیے بغیر اسے سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انسانی عقل تجزیہ اور ترکیب کے عمل سے گزرے بغیر حقیقی ادراک حاصل نہیں کر سکتی۔ تجزیہ کو ہم یہاں خاص معنوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ تجزیہ کا لغوی مطلب ہوتا ہے چیزوں کو ان کے اجزائے ترکیبی میں بانٹ کر دیکھنا۔ ہر جزو کو بغور دیکھنا۔ چیز کو ہر دو زاویوں سے پرکھا جائے گا، جزوی اور کلی۔ سچ کیا ہوتا ہے؟ حقیقت کیا ہے؟ انسان کی حقائق جاننے کی حد کیا ہے؟ اس بحث میں پڑے بغیر اپنی سہولت کے لیے سچ کو تین اقسام میں بانٹتے ہیں : کائناتی یا آفاقی، سماجی یا عوامی، نجی/ذاتی یا خاندانی۔

یہی وہ پہلی اور دوسری قسم کا سچ ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا بہترین جہاد ہے۔ یہی وہ آفاقی سچ ہے جسے دبانے کے لیے پیغمبر اسلام پر پتھر برسائے گئے اور طرح طرح کے لالچ دیے گئے اور ٓاپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی رکھ دیں تب بھی میں کلمہ حق کہنے سے باز نہ آؤں گا۔ اور بلال حبشی رضی اللہ عنہ نے زبان پر دہکتا کوئلہ رکھ کر احد احد کی صدا دی۔ اسی آفاقی سچ کے اثبات کے لیے سقراط نے ہاتھوں کو لغزش اور لبوں کو جنبش دیے بغیر زہر کا پیالہ منہ سے لگایا۔

سچ بات پہ ملتا ہے ہمیشہ زہر کا پیالہ
گر جینا ہے تو پھر جرات اظہار نہ مانگو

اسی کائناتی سچ کی پاداش میں اطالوی فلسفی اور ماہر فلکیات برونو کو 1600 عیسوی میں ’کیتھولک تحقیقات‘ نے زندہ جلا دیا۔ اس نے کہا تھا کہ ہمارے نظام فلکی کا مرکز زمین نہیں سورج ہے۔ اسی اظہار سچ کی وجہ سے گلیلیو گلیلی کو پابند سلاسل کیا گیا۔ لیکن یہ تمام تر جبر اور تشدد اس آفاقی سچ کا راستہ نہ روک سکے اور تین صدیاں بعد 1939 عیسوی میں پوپ پائیس بارہ کو گلیلیو کو ہیرو آف ریسرچ قرار دینا پڑا۔ یہ ہے وہ سچ جو اخلاقی بندشوں سے ماورا ہوتا ہے بلکہ اسے نہ ماننا ایک بڑے درجے کی بددیانتی و بداخلاقی ہے۔

کیونکہ حقیقت یا سچ کا پہلا مطالبہ ہوتا ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے۔ یہاں یہ بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا، جب گلیلیو کے پادری دوست نے گلیلیو کو مشورہ دیا کہ ”تحقیقات“ کے سامنے اپنے نظریات سے مکر جائے تاکہ جان بخشی ہو۔ مقدمے سے بری ہو جانے کے بعد حاضرین میں سے ایک آدمی نے ملامت کی کہ تم جان جانے کے ڈر سے اپنے دعوے سے پیچھے ہٹ گئے! تو گلیلیو نے ٓانکھ بھینچتے ہوئے آہستہ سے کہا: زمین ابھی بھی گھوم رہی ہے!

اب آتے ہیں سماجی یا عوامی سچ کی طرف۔ کائناتی سچ کی طرح سماجی سچ کی زمین بھی فلسفی، مصلح، ہادی یا پیغمبر کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ جدید دور نے اس میں ادب کے لکھاریوں اور صحافیوں کا اضافہ کر دیا۔ یہاں سماجی سچ کو ’عوامی‘ کا بھی نام دیے جانے سے مراد عوامی عہدے داروں اور نمائندگان کے قبیح کارناموں کو عوام کے سامنے لانا ہے۔ ان کے کالے کرتوتوں اور بدعنوانیوں سے سماج اور شہریوں کو جو نقصان پہنچا، ان کے ان مذموم افعال کو ذاتی یا نجی کا نام دے کر معاف نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ہیں وہ حقائق جنہیں قلم کار یا صحافی سامنے لاتا ہے۔ بدعنوان و نا اہل عہدیداران کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہی ہے وہ عبادت جو مشہور زمانہ یا بدنام زمانہ پانامہ پیپرز میں صحافیوں اور قانون دانوں کے حصے میں آئی۔ یہ ہے جہاد اکبر۔ جہاد بالقلم۔ یہی وہ قلم ہے جو تلوار سے تیز ہوتا ہے۔ ورنہ تلوار کے سایہ میں پرورش پانے والا قلم تو بکاؤ ہوتا ہے۔ وہ قلم تو محض ایک شاخ بریدہ ہے۔ ہندوستانی شاعر اقبال اشعر کا شعر یاد آتا ہے،

وہ جو خواب تھے مرے ذہن میں نہ میں کہہ سکا نہ میں لکھ سکا
کہ زبان ملی تو کٹی ہوئی کہ قلم ملا تو بکا ہوا

یہ دوسری قسم کا سچ بھی اخلاقی قدغنوں سے آزاد ہوتا ہے بلکہ عین اخلاق ہے۔ کیونکہ وہ تھپڑ جو آپ کو راہ راست پر لے آئے اس میٹھے بول سے بہتر ہے جو آپ کو بھٹکا دے۔

اب باری آتی ہے نجی/ذاتی یا خاندانی سچ کی۔ خاندانی سے یہاں مراد ازدواجی لیا جائے۔ یہ جو سچ بولنے کی منقبت میں اتنی تمہید باندھی گئی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ یا میڈیا اس کی تطبیق یا اطلاق سیاست دانوں، مذہبی راہنماؤں یا عام لوگوں کی ذاتی اور ازدواجی زندگی پر کرتے ہیں اور لوگوں کی پرائیویٹ لائف کے حقائق کو پبلک کر کے بضد ہوتے ہیں کہ وہ سچ بول رہے ہیں۔ ہمارے نشر و اشاعت کے اداروں یا میڈیا کو پیشہ ورانہ اخلاقیات یا صحافتی اخلاقیات کا سرے سے کوئی علم نہیں۔ بس سارے شامل باجے ہیں، ایک بجتا ہے تو دوسرا بھی بج اٹھتا ہے۔ ایک بھیڑ چال ہے۔

کیا سچ اخلاقی بندشوں سے ماورا ہوتا ہے؟ عنوان کا خیال حالیہ دنوں میں ایک سابق وزیراعظم کی بیوی کے سابق شوہر کے ٹی وی پر انٹرویو سے آیا۔ اس میں اس نے جو واحیات بکیں انہیں قلم کی زد می لاتے ہوئے کم از کم میرا ضمیر تو مطمئن نہیں۔ ضمیر مطمئن نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان واقعات کی صحت کا اقرار یا انکار کر رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے ذاتی نوعیت کے سچے یا جھوٹے واقعات کو پبلک کرنا کس ضابطہ اخلاق کے تحت آ تا ہے۔

دنیا کا کون سا اخلاقی کوڈ ہے جو اس کی اجازت دیتا ہے؟ گورنمنٹ کالج لاہور میں گریجویشن کی ایک انگریزی کی استاد کہا کرتی تھیں کہ جہاں ہمیں عقلی ہونا چاہیے وہاں ہم جذباتی ہو جاتے ہیں۔ اور جہاں جذبات کی ضرورت ہوتی ہے وہاں عقل کو گھسیڑ دیتے ہیں! بعینہ جہاں یعنی مابعد الطبیعیات یا میٹا فزکس اور علمیات میں متجسس یا شاکی ہونا چاہیے وہاں ہم اعتقادی ہو جاتے ہیں اور اخلاقیات میں جہاں اعتقادی ہونا چاہیے وہاں متجسس ہو جاتے ہیں۔ اس نزاع یا قضیے کو جرمن نژاد امریکی فلسفی نکلولس ریشر نے اپنی کتاب ”میٹافلاسفی“ کے تعارف میں زیر بحث لایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اخلاقی معاملات میں تشکیک بداخلاقی کا فعال ساتھی ہوتی ہے۔

کلام پاک میں بھی ہمیں کائناتی و آفاقی حقیقت یا سچ کے لیے دعوت فکر دی گئی ہے : تدبرون، تعقلون اور تفکرون کے الفاظ میں۔ اور قرآن ہی کہتا ہے کہ تم میں سے اکثر غور نہیں کرتے۔ اور بات جہاں اخلاقی قدروں اور ذاتیات کی ہو تو کتاب خدا ہمیں ان واضح الفاظ میں حکم دیتی ہے

اے ایمان والو بہت زیادہ گمان سے بچو، بے شک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور (پوشیدہ باتوں کی) جستجو نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ (الحجرات: آیت 12)

یہ بات تو تھی ذرائع ابلاغ کے اخلاقی قدروں کو روندنے کی۔ چلیں ذرا اب میڈیا کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔ 15 اگست 2013 کو سکندر نامی ایک شخص کا اسلام آباد میں دو بچوں اور ایک عورت کو یرغمال بنانے کا واقعہ ہوا۔ وہ نیم پاگل ایک مخبوط الحواس آدمی تھا۔ اس واقعے کے مندرجات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ایک عام آدمی اس واقعے سے بخوبی واقف ہے۔ قریبا آٹھ، نو گھنٹے ٹیلی ویژن پر یہ شو چلتا رہا۔ پورا الیکٹرانک میڈیا اسے فل کوریج دیتا رہا۔ اسی دن کوئٹہ سے ایک ٹرک کئی درجن ٹن بارود سے بھرا ہوا پکڑا گیا۔ اور اسی دن لاہور گارڈن ٹاؤن سے القاعدہ کا ایک اغوا برائے تاوان کا نیٹ ورک پکڑا گیا مگر کسی چینل پر یہ خبر نہ آئی۔ اس بات کا مجھے علم پاکستان کے سابق سفیر منیر اکرم کے ڈان میں کالم سے ہوا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ صحافی بھائی اپنی اس طرح کی رپورٹ کے مبنی برحق ہونے پر بہت زور دیتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ان سے واقعہ کے سچ یا جھوٹ ہونے کا نہیں۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کون سا اخلاقی ضابطہ آپ کو یہ کرنے کا حق دیتا ہے؟ لوگوں کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کا حق ٓاپ کو کس نے دیا؟ یہاں ہم آپ کے نام نہاد سچ پر اپنی ذاتیات کو بلی نہیں چڑھا سکتے۔ خدارا عزتوں کو نہ اچھالیں۔

کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ کسی ایک انسان کے ساتھ ہوئی ٹریجڈی، آپ کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ آپ بھی انسان ہیں۔ دشمن مرے تے خوشی نہ کریے! حدیث پاک ہے : من ضحک ضحک، جو ہنسا اس پر ہنسا گیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments