بلاول کا لاہور سے انتخاب لڑنا اور نون لیگ کا اضطراب


جیسے جیسے انتخابات کی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے نون لیگ کا فشار خون بھی انتہائی حدود کو چھوتا جا رہا ہے۔ انتخابی رن ابھی تک سرد نظر آ رہا ہے، سوائے پاکستان پیپلز پارٹی کے کوئی سیاسی جماعت عوام سے رابطے میں نہیں ہے۔ تحریک انصاف کو انتخابات لڑنے کے لیے موافق سہولیات اور میدان میسر ہی نہیں ہے۔ ان کے اکثر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو چکے ہیں یا پھر جو باقی بچے ہیں انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے انتخابات سے دور رکھا جا رہا ہے۔

یقیناً تحریک انصاف اور اس کی قیادت 9 مئی کو ہونے والے گھناونے واقعات میں ملوث ہے۔ مگر جو لوگ ان الزامات کے تحت پکڑے گئے، جن کے خلاف پکے ثبوت ہیں انہیں اب تک سزائیں مل جانی چاہیے تھیں تاکہ عوام میں ریاست کی جانبداری پہ سوالات نہ پیدا ہوتے نہ ہی تحریک انصاف کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کا کارروائیوں کا تاثر پیدا ہوتا اور نہ ہی میاں نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی کسی ڈیل کے تاثر کو تقویت ملتی۔

انتخابی شیڈول مرحلہ وار مکمل ہو رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے تگڑے امیدوار میدان میں اتارنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہیں۔ اس میدان میں کئی جماعتوں کے سربراہان اور دیگر اہم پارٹی رہنما بھی اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں انتخابی رن کے لیے تیار ہیں۔ میان نواز شریف نے لاہور اور مانسہرہ سے انتخابات لڑنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں جبکہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی ہر حلقے سے مسترد ہو چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے لاڑکانہ کے دو حلقوں اور لاہور کے ایک حلقے این اے 127 سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

ابھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے اپنے امیدار کے حتمی اعلان، الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرنے کے مراحل باقی ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی پارٹی لاہور کے رہنماؤں اور کارکنان میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے لاہور کے حلقہ این اے 127 سے انتخاب لڑنے کے اعلان نے جیسے لاہور میں کئی دہائیوں سے کوما میں پڑی پیپلز پارٹی میں زندگی کی رمق پیدا کردی ہے۔ بلاول صاحب کی جانب سے پارٹی کے پرانے اور انتہائی سرگرم اور نظریاتی جیالوں سے ملنے ان کے گھروں میں جانا، ان سے منقطع رابطے بحال کرنے کے اقدامات نے بھی کارکنوں میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا اور کارکنان وقت سے پہلے ہی ان کی انتخابی مہم بڑے زور و شور سے شروع کیے ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی قیادت پچھلے کچھ عرصے سے لاہور خصوصاً سینٹرل پنجاب پہ نظریں گاڑے ہوئے ہے، کیونکہ لاہور میں پیپلز پارٹی کا جنم ہوا اور وہیں پیپلز پارٹی ہمیشہ بھاری اکثریت سے کامیاب بھی ہوتی رہی۔ مگر تنظیمی خامیوں اور پنجاب میں مسلسل اقتدار سے دوری سمیت کئی عوامل تھے جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی لاہور سمیت سینٹرل پنجاب میں اپنا عوامی اثر و رسوخ اور ووٹ بینک گنوا بیٹھی تھی۔ اس بار پارٹی قیادت نے فیصلہ کیا کہ لاہور میں کیمپ کر کے پارٹی کو سینٹرل پنجاب اور لاہور میں ایک بار پھر متحرک کر کے اپنا کھویا سیاسی مقام حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے لیے چیئرمین بلاول بھٹو کو لاہور کے کسی بھی روایتی حلقہ سے انتخاب لڑنا پڑے گا، نتائج سے قطع نظر پنجاب میں اپنے بھرپور سیاسی کردار اور وجود کا اپنے روایتی ووٹ بینک کا ثبوت دینا پڑے گا۔

ابھی باقاعدہ انتخابی مہم شروع ہی نہیں ہوئی، سوائے پیپلز پارٹی کے کسی بڑی سیاسی جماعت نے سنجیدگی سے انتخابات کی تیاریاں شروع ہی نہیں کیں۔ مگر لاہور کے حلقہ این اے 127 میں تو لگتا ہے کہ جیسے آج یا کل انتخابی دنگل ہونے والا ہے۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں نے گلی گلی محلہ محلہ عوام پیپلز پارٹی کے ناراض و مایوس گھر بیٹھے کارکنان و ہمدردوں کو واپس سیاسی میدان میں اتارنے کی مہم بڑے زور و شور کے ساتھ شروع کی ہوئی ہے۔

پارٹی کارکنان کی اس مہم کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ مسلم لیگ نون کے حلقوں میں اضطراب میں شدت آتی جا رہی ہے۔ ایک تو میاں صاحب پہ تاحیات نا اہلی کا داغ ہے کہ مٹنے کا نام نہیں لے رہا جس کی وجہ سے نون لیگ کے کیمپ میں ابھی تک انتخابی گہما گہمی نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف انہیں جہانگیر ترین، اور ق لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملات میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔ تیسری طرف ان کی جماعت میں ٹکٹوں کے معاملے پر بھی شدید اختلافات موجود ہیں جو ان کے لیے خاصی پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں، اوپر سے تحریک انصاف کی سینٹرل پنجاب میں عوامی پذیرائی ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

مسلم لیگ نون کو ایک طرف قیدی عمران خان کا چیلنج درپیش ہے تو دوسری طرف بلاول کی جارحانہ عوامی سیاست نے انہیں مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، یہی فرسٹریشن ہے جس کا اظہار این اے 127 سے نون لیگ کے متوقع امیدوار عطا تارڑ نے اپنی تقریر میں کیا جب انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے یہ کہا کہ “ان کی جرات کیسے ہوئی لاہور سے انتخابات لڑنے کی، لاہور میاں نواز شریف کا ہے۔” جبکہ خواجہ سعد رفیق نے طعنہ زنی کرتے ہوئے حسب سابق سندھ کو تباہ حال بتایا، کراچی کی زبون حالی کا ذکر کیا جبکہ کراچی سمیت سندھ بھر میں پیپلز پارٹی نے جو کام کیے ہیں وہ پچھلے سات آٹھ سالوں سے پاکستان کے کسی صوبے میں نہیں ہوئے۔

چیئرمین بلاول بھٹو کا لاہور سے انتخاب لڑنا اور مسلم لیگ نون کی جانب سے پیپلز پارٹی قیادت کے خلاف انتہائی سنگین الزامات اور نازیبا اشتعال انگیز زبان کا استعمال نہ صرف میاں صاحب کی جانب سے میثاق جمہوریت کی نفی ہے بلکہ ان کی بوکھلا ہٹ اور جعلی مصنوعی مقبولیت کا ثبوت بھی ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے اپنی نفرت انگیز صوبائی عصبیت پہ مبنی سیاست سے ایک بار پھر 90 کی دہائی کی سیاست کی تلخ یادیں تازہ کردی ہیں مگر وہ یہ بھول گئے ہیں کہ اب جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ عوامی پذیرائی حاصل کرنے کے بجائے نون لیگ کی متعصبانہ سیاست کے تابوت میں کیل ٹھونکنے کا سبب بنے گا۔ نون لیگ کی قیادت و رہنماؤں اور سوشل میڈیا پر ان کے کارکنوں کی جانب سے پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف نفرت انگیز مہم، خود نون لیگ کی مصنوعی مقبولیت اور کامیابی کے دعووں کی قلعی کھول رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کا بڑھتا اضطراب اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ نون لیگ بروقت انتخابات نہیں چاہتی۔ مسلم لیگ نون جن طاقتوں سے ڈیل کا تاثر دے کر انتخابی رن میں اترنا چاہتی ہے وہ تاثر خود نون لیگ کے لیے بدنامی اور عوامی نفرت کا باعث بن رہا ہے۔

8 فروری کے انتخابات کی گہماگہمی ابھی تک نظر نہیں آ رہی انتخابات کے انعقاد پر اب بھی شکوک و شبہات کے بادل منڈلا رہے ہیں ایسے میں اگر تحریک انصاف کو ٹیکنیکلی انتخابی میدان سے باہر کر دیا جاتا ہے، تو یہ انتخابات اپنے انعقاد سے پہلے ہی متنازع ہو جائیں گے اور پاکستان اس وقت جن سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے وہ اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ متنازع انتخابات کے نتیجے میں کوئی ایسی حکومت برسر اقتدار آئے جسے پہلے ہی دن سے سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments