سنا ہے سال بدلے گا


میں ٹرین میں بیٹھا تھا اور میرے ساتھ والی نشست خالی تھی، چہرے پر کچھ نیا جان لینے کا تجسس نمایاں تھا۔ اچانک میرے ساتھ والی سیٹ پر روشنی کی کرن میرے ساتھ والی نشست پر براجمان ہو گئی۔ پہلے پہل تو میں اپنی کم معرفت کی وجہ سے اسے نہ پہچان سکا مگر کچھ احساس ضرور ہوا کہ کوئی راہ دکھانے والی ذات میرے ساتھ والی نشست پر براجمان ہے۔ اس احساس نے میرے تیور بدل دیے تھے جس کا احساس روشنی کی کرن کو خوب تھا۔ میں نے ہمت باندھی اور حلق کو صاف کرتے ہوئے کہا ”ہیلو“ جواب میں اس نے بھی ”ہیلو“ بول دیا۔ مجھ میں ہمت بڑھی اور میں نے اپنا تعارف بڑے جوش و خروش سے کروایا۔ اس نے جواباً کوئی تعریفی جملہ تو نہ کہا مگر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ”ہوں“ کہہ دیا۔

پھر کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی اور اسی اثناء میں میرا اسٹیشن آ گیا اور میں نے الوداعی جملہ بولا ”نائس ٹو سی یو! ہیپی نیو ایئر“ ابھی یہ جملہ مکمل کیا تھا کہ اس نے میری طرف انتہائی حیرت سے دیکھا اور میرے ساتھ بس سے اتری اور سوال کیا ”کافی لینا پسند کرو گے؟“ پہلے تو اس کے رسپانس پر میں حیران کھڑا تھا اور اس کے ساتھ اگلی آفر سنی تو میں چونک گیا اور لڑکھڑاتی آواز میں بولا ”ج ج جی ک ک کیوں ن نہیں؟“

ساتھ ہی ایک کیفے تھا ہم ادھر کو چل دیے۔ اب میرے اوسان بحال ہو رہے تھے اور ایک کالے رنگ کی کافی میرے سامنے موجود تھی۔ اب سکوت کو کرن نے توڑا اور پوچھا ”معلوم ہے کہ یہ خالص کافی ہے؟“ میں نے اثبات میں سر ہلایا، پھر اس نے دوبارہ کہا ”بس اسی لیے کڑوی ہے“ ۔

اب ماحول بدل چکا تھا میں خوشگوار محسوس کر رہا تھا نہ جانے کیا تھا کہ لگ رہا تھا شاید آج میں کچھ پا لوں گا مگر کیا پاؤں گا اس کا علم نہیں تھا۔ اس نے کہا ”سفید لباس کے ساتھ سرخ انگوٹھی پہنی ہے پیاری لگ رہی ہے“ ۔ میں نے اظہار تشکر کیا۔

اب اس نے باقاعدہ گفتگو کا آغاز کر دیا تھا، ”کفایت نیا سال آ گیا ہے مبارک ہو“ میں نے پھر اظہار تشکر کیا۔ پھر اس نے گفتگو شروع کی ”کفایت دنیا میں ہزاروں قبیلے اور سینکڑوں مذاہب پائے جاتے ہیں اس کے ساتھ ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کسی مذہب کا قائل نہیں“ جی آپ درست فرما رہے ہیں۔ پھر اس نے کہا کہ ”اگر تم مسلمان ہو تو اسلام کہتا ہے کہ اس شخص نے اپنا وہ دن ضائع کیا جو کہ پچھلے سے بہتر نہ ہو، اسلام یہ بھی کہتا ہے ایک مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا اور اگر تم مسیح کے پیرو ہو تو ہو تو سنو انجیل مقدس کہتی ہے کہ آپ جو کچھ بھی کریں، اس پر پورے دل سے کام کریں، جیسا کہ رب کے لیے کام کرتے ہیں، نہ کہ انسانی آقاؤں کے لیے، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کو انعام کے طور پر رب کی طرف سے وراثت ملے گی۔

یہ آقا مسیح ہے جس کی آپ خدمت کر رہے ہیں، اور اگر تو نے موسیٰؑ پر ایمان رکھا تو تجھ پر یہ حکم صادر آتا ہے کہ جو لوگ خداوند میں امید رکھتے ہیں وہ اپنی طاقت کو تازہ کریں گے۔ وہ عقاب کی طرح پروں پر اڑیں گے۔ وہ دوڑیں گے اور تھکیں گے نہیں، وہ چلیں گے اور بے ہوش نہیں ہوں گے، اگر تو نے ہندو کو اپنا مذہب چنا تو پھر یہ بھی ذہن نشین کر لے تیرا مذہب کہتا ہے کہ بہترین آدمی ہمیشہ آگے چلتا ہے اور دوسرے اس کی پیروی کرتے ہیں، لہذا آپ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ آپ آگے چل رہے ہیں یا پیچھے، اگر تو بدھ کا پیرو بن گیا تو سن بدھ کا اس پر ایمان تھا کہ عمل اس طرح کرنا چاہیے کہ آئندہ پشیمانی نہ ہو۔ ایسے کام کریں جس پر آپ کو بعد میں پچھتاوا نہ ہو اور اگر تو خدا پر یقین نہیں رکھتا اور سائنس کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیتا ہے تو سن تیری ذمہ داری سائنسی بنیادوں پر یہ ہے کہ انسان کی ترقی کے لیے قدم بڑھا“

میں اس کی گفتگو سن کر آبدیدہ بھی تھا اور شرمساری بھی محسوس کر رہا تھا۔ ان سب باتوں کا جواب میں کیا دیتا! فقط اتنا کہہ سکا ”جی درست فرمایا“ ۔ اب کرن گویا ہوئی تو ایک ہی سوال کیا ”کیا تم نے گزرے سال میں ان باتوں کو مدنظر رکھا کہ جو تمھارے رہبر تمھیں نصیحت کر گئے؟ اگر نہیں تو تم نے خود پر بھی ظلم کیا اور اپنے رہبر پر بھی!“ اس کے بعد لمحے بھر کے لیے سکوت چھا گیا۔

اس بار پھر کرن نے سکوت توڑا اور کہا سنو ”میں راہ دکھانے کے لیے موجود ہوں، میں بلا تفریق اجالا کرتی ہوں، میں ہمیشہ جگمگاتی ہوں کہ تم مجھ سے فائدہ لے سکو مگر افسوس کہ تمھیں میری طرف رجوع کرنا اچھا نہیں لگتا۔ میں نے ہمیشہ خود کو نچھاور کیا مگر تم نے میری قدر نہ جانی۔ سنو صرف میں ہی نہیں بلکہ میرے ساتھ میری ساتھی آواز بھی موجود ہے مگر تم بہرے ہو جو سنتے نہیں اگر سن سکتے تو اس کو ابھی تک پہچان لیتے“ میں نے جب یہ جانا کہ آواز بھی ادھر موجود ہے اور میں پہچان نہیں پایا تو شرمندہ ہوا اور شرمسار لہجے میں کہا کہ ”معذرت خواہ ہوں کہ پہچان نہیں پایا“ ۔

اب کرن نے پھر پلٹ کر جواب دیا کہ ”مسئلہ نہیں ہے“ ۔ اس کے بعد کرن نے آواز کو اشارہ کیا تو آواز نے گفتگو شروع کی ”کفایت میں تم کو یاد دہانی کرواتی ہوں کہ وقت گزر رہا ہے کچھ کر لو، میں صرف تمھارے لیے گھڑی کی ٹک ٹک بن جاتی ہوں، کبھی بادل کی گرج بن جاتی ہوں، کبھی ٹرین کی سیٹی بن جاتی ہوں حتیٰ کہ کبھی تو میں تمھیں بند کمرے میں سنائی دیتی ہوں کہ شاید تم غور کر لو مگر نہیں معلوم کہ تم میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟“

اس کے بعد پھر سے خاموشی چھائی اور ہم کافی پینے لگے، میں نے سکوت توڑا ”ابھی آپ مجھے کوئی نصیحت کریں گی؟“ تو کرن گویا ہوئی ”بس آج کے بعد مجھے نیا سال مبارک اس وقت بولنا جب تم نے گزرے لمحات میں انصاف کیا ہو، ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہو، انسان کی سہولت کے لیے کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہو، جب تم نے چاند پر رہنے کی خواہش کو زمین کے باسیوں پر ترجیح نہ دی ہو، جب تم نے لائن میں کھڑے کسی غریب کا حق نہ مارا ہو، مختصر یہ کہ جب تم نے پہلے سے بہتر کام سرانجام دے لیا ہو تو فکر نہ کرنا میں تمھیں مبارک دینے خود آؤں گی ورنہ فقط یہ لائن یہ یاد رکھ پاؤ گے

پیمانے پھر وہی ہوں گے، سنا ہے سال بدلے گا!

Facebook Comments HS