حرمین شریفین میں چند روز
کافی سالوں سے تمنا تھی کہ اللہ تعالٰی اور اس کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور حاضری دی جائے۔
منظوری کا بڑی بے تابی سے انتظار تھا۔ یہ بھی خواہش تھی کہ یہ حاضری والد صاحب کے ساتھ دی جائے تاہم ان کی صحت اور تین اکتوبر 2023 ء کو ان کے وصال کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔
موسم سرما کی تعطیلات کی وجہ سے یہ حاضری 25 دسمبر 2023 ء تا یکم جنوری 2024 ء کے دوران تقریباً ایک ہفتے کے لیے نصیب ہوئی۔
25 دسمبر کو رات 11 بج کر 20 منٹ پر ائر سیال کی فلائٹ تھی۔ لہذا تین گھنٹے قبل ہی لاہور ائرپورٹ پر پہنچ گئے۔ اہل خانہ، بچوں اور برادر پروفیسر احمد غزالی نے علامہ اقبال لاہور ائرپورٹ پر نیک خواہشات کے ساتھ الوداع کیا۔ یہیں ائرپورٹ پر احرام باندھا۔ جہاز میں سفر تلبیہ یعنی لبیک اللہم لبیک کا ورد کرتے گزرا۔ یہ سفر خاصا آرام دہ تھا۔ نماز فجر جدہ ائرپورٹ پہ ہی ادا ہوئی۔ جدہ ائرپورٹ سے سیدھا جب مکہ پہنچے تو جلدی سے سامان اپنے ہوٹل کیسوا ٹاور کے کمرے میں رکھا۔ وضو تازہ کیا اور فوری خدا کے حضور حاضری کے لیے بذریعہ شٹل سروس ہوٹل سے نکل پڑے۔ تھوڑی دیر بعد ہی حرم میں پہنچ گئے۔
مطاف کی جانب جاتے ہوئے حرم کی طرف اترنے والی سیڑھیوں سے جونہی کعبے پر پہلی نظر پڑی تو فوراً رک گیا اور اللہ کے حضور نظر جھکائے اور ہاتھ باندھے ملک و قوم، اہلخانہ اور دوستوں کے لیے جو حافظے میں دعائیں یاد تھیں سب کر ڈالیں۔ خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ سات چکر لگائے۔ دو نفل پڑھے۔ آب زمزم پیا اور پھر صفا و مروہ سعی کے لیے چلے گئے۔ اگرچہ کافی رش تھا لیکن اللہ کا بڑا خصوصی کرم ہوا اور طواف اور سعی جلد مکمل ہو گئے۔ بال کٹوائے۔ حرم میں وضو کیا۔ نماز ظہر، عصر، مغرب اور عشاء وہیں حرم ادا کیں۔
یوں عمرہ اور نمازوں کے بعد پھر دوبارہ ہوٹل میں واپسی ہوئی اور رات کا کھانا وہیں موجود پاکستانی ہوٹل میں کھایا۔ مکہ میں پاکستانی ہوٹل کافی تعداد میں موجود ہیں۔ ریٹ اور ذائقہ بھی مناسب ہے۔
پھر اگلے دن نماز تہجد اور فجر حرم میں ادا کیں۔ عمرہ کا ارادہ تھا لہذا مسجد عائشہ پہنچ کر احرام باندھا۔ دو نفل نماز ادا کیے اور واپس حرم آ کر عمرہ مکمل کیا۔
اب دو دن مکہ میں قیام کے بعد مدینہ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ مدینے کا سفر بھی کافی آرام دہ بس میں تھا۔
مدینے پہنچ کر سامان ہوٹل المکرم المحبوبہ کے کمرے میں رکھا اور سلام کے لیے مسجد نبوی روانہ ہو گئے جو پیدل ہوٹل سے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر تھی۔
جون ہی مسجد نبوی میں داخل ہوتے ہوئے نظر سبز گنبد اور روضہ رسول پر پڑی تو وہیں نظریں جھکا کے کھڑے ہو گئے اور ہاتھ بند باندھ کر جو دعائیں یاد آئیں سب عرض کر دیں۔
روضے پہ حاضری دی، درود شریف پڑھا۔ نماز ظہر ادا کی اور نماز عشاء تک وہیں رہے۔
اگلے دن جمعہ تھا۔ صبح صبح نماز تہجد اور فجر وہیں مسجد نبوی میں ادا کیں اور پھر واپس ہوٹل آ گئے۔ غسل کیا اور نماز جمعہ کے لئے مسجد نبوی روانہ ہو گئے۔
جمعہ کا دن تھا۔ مسجد میں جگہ آسانی سے مل گئی۔ عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی وہیں مسجد نبوی میں پڑھیں اور پھر ہوٹل واپس آ گئے۔
اگلے دن نماز تہجد، فجر اور ظہر بھی مسجد نبوی میں ادا کیں۔ پھر واپسی کی اجازت چاہی۔
اس کے بعد اب مکہ واپسی تھی۔
راستے میں میقات کے مقام پر احرام باندھا۔ جب مکہ پہنچے تو رات کا ایک بج چکا تھا۔ لیکن کعبہ کا طواف اب بھی جاری تھا۔ اس دوران عمرہ ادا کیا اور اللہ کا اتنا کرم ہوا کہ حجر اسود کو دو تین دفعہ مس کرنے اور بوسہ دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔
اتوار چونکہ آخری دن تھا اس لیے ہوٹل جانے کی بجائے وہیں حرم میں قیام کیا۔ ہلکی سی آنکھ لگنے کے بعد نماز تہجد ادا کی۔ نماز فجر بھی حرم میں ادا کی اور پھر مسجد عائشہ احرام باندھنے اور عمرہ کی نیت کے لیے چلے گئے۔
یہ خدا کا فضل تھا کہ میں نے آخری روز تین عمرے ادا کیے ۔
چونکہ یہ آخری دن تھا اور جتنی بھی عبادت کر لی جاتی، جتنے بھی طواف کر لیے جاتے، یہ کم تھے۔ آخری روز خدا نے تین عمرے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ صرف اس کا کرم تھا ورنہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی۔
نماز عشاء کے بعد اجازت لی اور پھر واپس ہوٹل آ کر سامان پیک کیا اور جدہ ائرپورٹ روانہ ہو گئے۔ فلائٹ بر وقت تھی اور مقررہ وقت سے پہلے ہی ہم لاہور علامہ اقبال ائرپورٹ پر اتر گئے جہاں برادر خورد جناب ارشاد احمد جگر صاحب الیکشن ڈیوٹی کے باوجود میرے منتظر تھے۔
یوں حرمین شریفین کا یہ مختصر سفر سعادت تمام ہوا۔ تاہم اس کی یادیں ابھی تک دل میں موجود ہیں۔ اب بھی نظروں کے سامنے کعبہ اور روضہ مبارک نہیں ہٹ رہا اور مسلسل آنکھوں میں سما گیا ہے۔
یہ حاضری برکتوں اور رحمتوں سے بھرپور تھی۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے بہت کرم کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سب دعائیں، تمنائیں اور عبادات قبول فرمائے۔ آمین۔
حرم پاک اور روضہ رسول خدا پر لکھے گئے چند اشعار آپ کی خدمت میں پیش ہیں ؛
سر زمین مقدس سے التجا
کرم کر مولا میرے ملک و مکاں کی حالت پر
میرے عزیز وطن، میرے پاکستان کی حالت پر
برسوں بیت گئے ہیں بدحالی دیکھے
آنکھیں ترس گئی ہیں خوشحالی دیکھے
یہ ملک بنا ہے تیرے نام کی خاطر
رحم کر مولا خیر الانعام کی خاطر
یہ التجا ہے میری تیری سرزمین مقدس سے
میرے ملک و قوم کو کر خوشحال خزینہ اقدس سے
کر ہمیں نا شادوں کو تو شاد مولا
تیرا مکہ و مدینہ رہے آباد مولا




