نیا سال اور ہماری ترجیحات
حسین تاج رضوی نے کہا تھا
ڈھلی جو شام نظر سے اتر گیا سورج
سورج غروب ہونے کا منظر مجھے ہمیشہ سے بہت پسند رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں دو منظر میرے پسندیدہ ترین مناظر ہیں۔ ایک، نیلگوں سمندر کے کنارے بیٹھ کر سورج کو غروب ہوتے دیکھنا اور دوسرا کسی بلند پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر سورج کو ڈوبتے دیکھنا۔ پچھلے چند سالوں سے میرا یہ معمول رہا ہے کہ میں بطور خاص سال کی آخری شام، مارگلہ کے ٹریل پانچ کی بلند ترین چوٹی پر بیٹھ کر گزارتا ہوں جہاں سے میں سال کے آخری سورج کے ڈوبنے کے دلکش نظارے سے خوب محفوظ ہوتا ہوں۔
حسب معمول دو ہزار تئیس کی آخری شام، میں اپنے دوست عابد کے ہمراہ مارگلہ کے خوبصورت ٹریل فائیو پر ہائیکنگ کرتا اسی بلند چوٹی ہر پہنچا۔ مارگلہ کے خوبصورت پہاڑ اور ان کی اوٹ میں ہوتا ہوا سورج، مجھے ماضی کی یادوں میں لے گئے۔ آج سے کم وبیش پندرہ سال پہلے کی وہ خوبصورت شام گزرے کل کی طرح میرے سامنے کھڑی تھی جب پہلی دفعہ یہاں بیٹھ کر سورج کو غروب ہوتے دیکھا تھا اور آج تک اس منظر کے رومانس سے میں باہر نہیں نکل سکا۔
میرا دوست جب اس منظر کو اپنے فون کے کیمرے میں قید کر رہا تھا تو میں دھندلے آسمان کو گھورتا ان سوچوں میں گم تھا کہ ہماری تبدیل ہو چکی ترجیحات اور گوناگوں مصروفیات نے ہمیں فطرت سے کتنا دور کر دیا ہے۔ شب و روز کے یہ ہنگامے ہمیں اتنی مہلت نہیں دیتے کہ ہم کبھی فرصت میں بیٹھ کر اپنے گزرے سال کے شب و روز کا حساب کتاب کریں۔ ہم دو پل رک کر یہ بھی نہیں سوچتے کہ کیا ہم نے یہ سال بھی ان گنت دوسرے سالوں کی طرح ویسے ہی بتا (گزار) دیا یا اس سال ہم نے اپنی زندگیوں میں کوئی مثبت تبدیلی بھی دیکھی؟
ہم ہر سال کے شروع میں بہت سے دعوے کرتے ہیں اور اپنی ڈائریوں کے صفحے کالے کرتے پیں کہ اس سال ہم نے یہ کا مکرنے ہیں لیکن ہم نے کبھی سال کے آخر میں سوچا کہ سال کے پہلے دن جو ڈائری میں لکھا تھا اس میں سے کتنے فیصد کام ہم نے مکمل کیے؟ ہم ایسا نہیں سوچتے بلکہ اگلے سال پھر ڈائری کے ایک نئے صفحے کو زحمت دے رہے ہوتے ہیں۔
میں بھی ہر سال کے شروع میں اپنے لیے بہت سے اہداف مقرر کرتا تھا لیکن ان گزرے سالوں نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ ہمارے مقرر کردہ اہداف پورے نہ ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم جذبات میں آ کر اپنے لیے ایسے اہداف مقرر کر لیتے ہیں جو ہماری مصروف زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس لیے ہمیں ایسے اپنے لیے ایسے اہداف چننے چاہئیں جو ہماری روزمرہ کی مصروفیات کے ساتھ قابل عمل ہوں اور مطابقت رکھتے ہوں۔ جیسے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ میں ہر ماہ دو کتابیں پڑھوں گا تو شاید اس پر عمل کرنا اتنا آسان نہ ہو۔ اسی طرح بہت سارے لوگ ایک غیر مبہم سا ٹارگٹ رکھ لیتے ہیں کہ میں اس سال اپنا وزن کم کروں گا تو اس پر بھی عمل کرنا زرا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ جب ہم ایسی فہرست بنائیں تو اپنے اہداف کو مبہم اور واضح رکھیں اور وہ ہماری مصروفیات کے حساب سے قابل عمل ہوں۔
اب آئیے اس فہرست پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں جو میں نے اس سال کے لیے بنائی ہے۔
میری فہرست میں سب سے اوپر، فطرت کی آغوش میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا ہے۔ فطرت کی محبت سے بڑھ کر کوئی محبت نہیں ہوتی۔ میرا یہ ماننا ہے کہ فطرت کی آغوش میں بیتا ایک ایک پل ہماری زندگیوں پہ انمٹ نقوش چھوڑتا ہے اور ہماری شخصیت پر خوشگوار اثرات مرتب کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسی صحبت میں گزرے پل ہماری عمر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں اس لیے ہمیں اپنے آپ کو پہاڑوں کا عادی بنانا چاہیے۔ ہم جڑواں شہروں کے باسی تو ویسے بھی اپنی خوش فہمی پر جتنا ناز کریں کم ہے کہ ہم آنکھیں کھولتے ہیں تو سامنے مارگلہ کے پہاڑ ہمیں ہر دم اپنی طرف بلاتے نظر آتے ہیں۔
میری فہرست میں دوسرا کرنے والا کام کسی نئی جگہ کی سیر ہوتی ہے۔ چاہے ہم پورے سال میں کسی ایک نئی جگہ پر جائیں لیکن اپنے آپ سے یہ عہد ضرور کریں کہ ہم اپنی سی کوشش کریں گے۔
میری فہرست میں اگلا کام ہے نئی کتابیں پڑھنا۔ میں ایک سال میں کم سے کم چھ کتابیں پڑھنے کا عہد کرتا ہوں اور وہ کتابیں الگ سے اپنی میز پر رکھ لیتا ہوں۔ ایک سال میں چھ کتابیں پڑھنے کا مطلب ہے دو ماہ میں ایک کتاب۔ جو کہ بالکل بھی بڑی بات نہیں ہے اور ایک شدید مصروف بندہ بھی دو ماہ میں ایک کتاب تو پڑھ ہی سکتا ہے۔ تاریخ، ادب، سائنس یا مذہب، غرض آپ کی جس شعبے میں دلچسپی ہے، اس سے متعلق کتابیں پڑھیں۔ کتابیں آپ کے علم میں نہ صرف اضافے کا باعث بنتی ہیں بلکہ آپ کی شخصیت کو بھی نکھارتی ہیں۔ کتابیں پڑھنا اور کتابوں سے محبت کرنا زندہ دل معاشروں کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر آپ کتابیں جمع کرنے کے شوقین ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی آنے والی نسل بھی یقیناً کتابوں سے محبت کرنے والی ہو گی۔ گھر میں بکھری کتابیں آپ کے بچوں کو کتب بینی کی عادت ڈال دیں گی۔
میری فہرست میں اگلی چیز اپنے road rage پر قابو پانا ہے۔ ہمارے بدقسمت معاشرے میں ٹریفک کے قوانین کی پابندی نہ ہونے کے برابر ہے اور میرے جیسے بے شمار حساس لوگ روزانہ اپنے سامنے ان خلاف ورزیوں کو ہوتا دیکھ کر اپنی بے بسی کا ماتم کرتے ہیں۔ اور اندر ہی اندر کڑھتے رہنے سے خود کو بلند فشار خون کی بیماری میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ہمیں یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ ہم اس معاشرے کو سدھار نہیں سکتے اس لیے اپنے خوامخواہ کے road rage کو قابو میں کرنا بھی میری ترجیحات میں شامل ہے۔


