نواب اکبر خان بگٹی: سیاست اور شخصیت


کل تک وہ غدار ملک آج اس کی تصویر پاکستان سیکرٹریٹ میں؟
کل تک وہ غدار ملک آج اس کے نام کی ریل گاڑی چلتی ہے؟
کل تک وہ غدار ملک آج اس کے نام پر کرکٹ سٹیڈیم؟
کل تک وہ غدار ملک آج اس کی یاد میں مختلف شاہراہ بنائے جا رہے ہیں؟

سچی بات تو یہ ہے کہ آج سے چند سال پہلے تک میں بھی اپنی کم علمی کی وجہ سے ان کو اتنا اچھا نہیں سمجھتا تھا۔ مگر جب سے میں نے سیاست کا گہرائی میں جاکر مطالعہ شروع کیا۔ مجھے پتہ لگا کہ اس کو شہد کر کے ہمیں ایک عظیم رہنما سے محروم کیا گیا۔ مطالعہ کی وجہ سے میرے ذہن میں ان کے شخصیت کا گہرا اثر ہوا۔ اور آج کی اس تحریر کا بھی وجہ وہ میرا مطالعہ ہے جس میں پچھلے چند سالوں سے کر رہا ہوں۔

نواب اکبر خان بگٹی کا مکمل نام نواب شہباز خان بگٹی تھا جو 12 جولائی 1927 کو بارکاں میں پیدا ہوئے۔ ایچیسن اور اکسفورڈ جیسے بڑے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ پاکستان میں پہلی دفعہ ہونے والی پبلک سروس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ مگر بیوروکریسی کی بجائے سیاست میں زیادہ دلچسپی ہونے کی وجہ سے سیاست کو ترجیح دی۔

برصغیر کی آزادی وقت قائداعظم کے ساتھ رہے اور قیام پاکستان کے بعد پہلے بلوچ سردار تھے جس نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1950 ء کو ایجنٹ بنے اور پھر گورنر جنرل کونسل کے رکن بنے اور بعد میں گورنر جنرل کے میشر بنے۔

ملک فیروز خان نون کی کابینہ میں بحیثیت نائب وزیر دفاع شامل رہے۔

مگر ایوب خان کے دور میں سختیاں جیلیں۔ ایوب نے انہیں اپنے قبیلے کے کسی بگٹی کے قتل کے الزام میں ان کو گرفتار کر کے سزا دلوائی۔ بعد میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پشتون راہنما گل محمد جوگیزی نے ایوب خان سے اکبر خان کو سزا معاف کر کے رہا کرنے کی اپیل کی اور ایوب خان نے ان کی سزا معاف کر دی۔

1973 کو۔ ایک سال سے بھی کم عرصے کے لئے بلوچستان کے گورنر بنے۔ 1988 ء میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ بنے مگر ادھر بھی کچھ زیادہ دیر نہیں رہے سکے۔

متعدد بار اپوزیشن میں رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اردو بولنے سے بائیکاٹ کر دیا۔ اسمبلی میں بلوچی اور انگریزی زبان میں تقاریر کرتا رہا۔

سیاست، ادب، ثقافت، موسیقی، نشان بازی اور کھیلوں میں کرکٹ سے بہت لاگو تھا۔ ڈیرہ بگٹی میں اپنے کھیلنے کے لئے کرکٹ گراؤنڈ بنوایا جو آج بھی قائم ہے۔

وہ سیاست کی بے رحم دنیا میں بہادری سے کھڑا رہا۔ اپنے مختلف ادوار میں ناقص تعمیراتی کاموں کو، افسران کی نا اہلی اور کرپشن کو بالکل برداشت نہیں کرتے تھے۔

ایک دفعہ کسی ٹھیکیدار نے سڑک پر ناقص تارکول لگایا۔ نواب صاحب خود چیک کرنے آئے اور پیر سے تارکول کو رگڑ کر ٹھیکیدار کو طیش میں آ کر بولتا ہے ”آپ میرے آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہو؟“ ۔

آج سے چند سال پہلے، پہلی دفعہ مجھے نواب صاحب کے گھر کی اندرونی منظر دیکھنا کو ملا۔ میں سب سے پہلے ان کی لائبریری کی طرف لپکا کیونکہ یہ میری دیرینہ خواہشات میں سے ایک خواہش تھی۔ ادھر جاکر خالی کتابوں کی شیلفوں کو دیکھ کر بڑا دکھ ہوا۔ لائبریری میں ایک تہ خانہ بھی تھا جس میں نواب صاحب، دنیا سے بے خبر ہو کر مطالعہ میں مشغول ہوتے تھے۔ اس دن میرے ذہن میں کئی سوالات اٹھائے کہ اتنے زیادہ وسیع سوچ کے مالک، غدار ملک کسے ہو سکتا ہے۔

میں اپنے سوالات کو لے کر شام کو گھر لوٹا۔ اور اپنی گھر کی لائیبریری میں ان کے زندگی کے بارے میں لکھی ہوئی کتاب ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر مجھے کچھ نہیں ملا۔ اتفاقاً اگلے ہفتے کوئٹہ جانا پڑا ادھر جاکر پہلا کام اس کا دائیں بازو، اور ساتھی میر پیر محمد سے ملاقات کئی۔ اس سے ڈھیر ساری دلچسپ واقعات سننے کو ملے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments