کیا سردیوں کا موسم آپ کے لیے اداسی کا موسم بن جاتا ہے؟


بعض لوگوں سے آپ برسوں ملتے رہتے ہیں لیکن وہ اجنبی ہی رہتے ہیں اور بعض شخصیات سے آپ چند گھنٹوں کی ملاقات کے بعد دوستی کا رشتہ جوڑ لیتے ہیں۔ کینیڈا کے مغربی صوبے برتش کولمبیا کے شہر سری میں جب میری ملاقات شہزاد خان سے ہوئی تو مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ صاحب ذوق انسان ہیں انہیں درجنوں شعرا کے بیسیوں اشعار یاد ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ دیار غیر میں رہتے ہوئے بھی ریڈیو کا ایک ہردلعزیز اردو پروگرام نشر کرتے ہیں جس میں وہ مختلف شخصیات سے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اپنے سامعین کے علم اور تجربے میں اضافہ کرتے ہیں۔

جب ہماری مختصر ملاقات ختم ہونے لگی تو انہوں نے مجھے اپنے ریڈیو پروگرام میں دعوت دی۔ اور آج ہمارا
۔ کرسمس۔ موسم سرما۔ اور اداسی۔
کے موضوع پر ریڈیو کی لہروں پر مکالمہ ہوا۔
میں نے شہزاد خان سے کہا کہ جہاں کرسمس کا تہوار ان لوگوں کے لیے خوشی کا موقع ہے جو
اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیوں کے چند دن گزارتے ہیں
۔ اپنے گھر میں چراغاں کرتے ہیں
۔ بچوں کے ساتھ مل کر کرسمس کا درخت خریدتے اور سجاتے ہیں
اور ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں

وہیں یہ موسم ان لوگوں کو اداس کر دیتا ہے جو اکیلے رہتے ہیں اور احساس تنہائی کے کرب سے گزرتے ہیں۔ یہ ان بزرگوں کے لیے بھی تکلیف دہ موقع ہے جو سارا سال اپنے عزیز و اقارب سے دور رہتے ہیں۔ انہیں یوں لگتا ہے جیسے ان کے عزیز انہیں بھول چکے ہوں لیکن پھر وہ سال میں ایک دن اپنے احساس ندامت کو مٹانے کے لیے ملنے آ جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بزرگ کے بارے میں میں نے ایک نظم لکھی تھی جو حاضر خدمت ہے

کرسمس ڈنر
اک حسیں شام تھی کرسمس کی
شہر میں ہر طرف چراغاں تھا
رنگ و نکہت کی ایک بارش تھی
ایسی رنگینیوں کے جھرمٹ میں
چند افراد اک گھرانے کے
کچھ تحائف کے ساتھ میز کے گرد
منتظر تھے کسی کی آمد کے
اور پھر خاندان کا بوڑھا شخص
لڑکھڑاتے ہوئے سہارے سے
اپنے بچوں کے پاس آ پہنچا
اس نے لیکن عجب حقارت سے
سب تحائف کو روند ڈالا تھا
سرخی مے سے جلتی آنکھوں سے
چند آنسو امڈ کے آئے تھے
اس نے پھر لڑکھڑاتے لفظوں سے
دل میں جو بات تھی وہ کہہ ڈالی
میری بچو! مرے جگر گوشو
سال بھر مجھ سے دور رہتے ہو
پھر کرسمس پہ تحفے دیتے ہو
جانے کن بستیوں کے باسی ہو
کیسی خوش فہمیوں میں زندہ ہو
میرا جس شہر میں بسیرا ہے
اس میں تنہائیوں کا ڈیرا ہے
ہر نفس پر یہ ہو رہا ہے عیاں
خاندان کب کے مر چکے ہیں یہاں
خاندانوں کے پھر بھی ماتم کا
کس قدر اہتمام ہوتا ہے
ان کی مرقد پہ اب چراغاں بھی
سال میں ایک شام ہوتا ہے
یہ وہی شام ہے کرسمس کی
میں کہ اس شام کی اذیت کو
گھول کر پی گیا شرابوں میں
تم خدا کے لیے نہ آیا کرو
میری بیکل اداس شاموں میں
۔ ۔ ۔

میں نے شہزاد خان کے سامعین کو یہ بھی بتایا کہ پچھلی چند دہائیوں میں شمالی امریکہ میں ایک نئے نفسیاتی مسئلے کی تشخیص ہوئی ہے جس کا نام

SAD….SEASONAL AFFECTIVE DISORDER
اس مسئلے کا شکار مریض سردیوں میں اداس ہو جاتے ہیں۔
دن کا چھوٹا ہونا
سورج کی روشنی کا کم ہونا
چاروں طرف تاریکی کا پھیلنا
انہیں غمزدہ کر دیتا ہے۔

میرے کلینک میں تین ایسے مریض ہیں جو اس نفسیاتی مسئلے کا شکار ہیں۔ وہ تین طریقوں سے اپنے اس مسئلے کا علاج کرتے ہیں۔

پہلی مریضہ نے ایک سورج کی مصنوعی روشنی کا لیمپ خرید رکھا ہے۔ وہ سردیوں کے موسم میں ہفتے میں تین دن اس لیمپ کے آگے بیٹھتی ہے جس سے اس کی اداسی کم ہو جاتی ہے۔

دوسرا مریض سال کے آٹھ ماہ کوئی دوا نہیں کھاتا لیکن نومبر سے مارچ تک ہر روز ڈپریشن کی دوا کھاتا ہے اس سے اس کی اداسی کم ہو جاتی ہے۔

تیسرا مریض مالدار ہے وہ ہر سال جنوری کے مہینے میں جب اس کی اداسی بڑھنے لگتی ہے جنوب کے کسی ملک میں دو ہفتوں کی چھٹی پر چلا جاتا ہے اور غسل آفتابی سے محظوظ ہوتا ہے۔ دو ہفتے سورج کی روشنی میں نہانے سے وہ بہتر محسوس کرتا ہے۔

مغرب میں بسنے والے بہت سے مشرقی مہاجر چونکہ اس نفسیاتی مسئلے سے واقف نہیں اس لیے وہ نہ تو اس کی تشخیص کرتے ہیں اور نہ ہی اس کا علاج کرواتے ہیں۔

میں نے شہزاد خان کے ریڈیو پروگرام کے سامعین کو مشورہ دیا کہ اگر وہ موسم سرما کی اداسی کا شکار ہیں تو اس کے لیے طبی مشورہ کریں اور اس کا علاج کروائیں کیونکہ یہ ایسا نفسیاتی مسئلہ جس کا علاج ممکن ہے۔

شہزاد خان نے جب مجھ سے خوشی کا راز پوچھا تو میں نے انہیں خوشی کے دو راز بتائے
PASSION AND COMPASSION

وہ لوگ جن کا کوئی مشغلہ ہو اور وہ کوئی کام ذوق و شوق سے کریں اور ہفتے میں چند گھنٹے خدمت خلق کریں تو وہ خوش رہتے ہیں۔

دوسروں کو خوش کرنے سے انسان خود بھی خوش رہتا ہے۔

خدمت خلق کے لیے نہ سائیکالوجی میں ماسٹرز کی نہ ہی سوشل ورک میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کی ضرورت ہے اس کے لیے فقط ہمدرد دل اور چند گھنٹوں کی فراغت کی ضرورت ہے۔

شہزاد خان نے مجھے پروگرام کے بعد فون کر کے بتایا کہ ان کے سامعین میں سے ایک مسلمان ایک ہندو اور ایک سردار جی نے فون کر کے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایک معلوماتی پروگرام نشر کیا۔

شہزاد خان صاحب نے مجھ سے اگلے پروگرام کا وعدہ بھی لے لیا۔
دیکھیں ہم اگلے ماہ کس نفسیاتی مسئلے پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
۔ ۔ ۔

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 681 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments