نیو یارک یاترا


امریکہ اور کینیڈا جانا کبھی ہمارا خواب ہوا کرتا تھا۔ لیکن پاکستان میں رہتے ہوئے مڈل کلاس طبقے کے لئے ایسا سپنا دیکھنا بھی شجر ممنوعہ ہے۔ اور ہم جیسے لوگوں کے ایسی خواہشات یا تو خواب ہی رہتی ہیں یا پھر اس وقت پوری ہوتی ہیں جب ان سے لطف اٹھانے کا وقت گزر گیا ہوتا ہے۔ میں شاید مڈل کلاس کے ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں، جس نے جو چاہا اسے مل گیا۔ کینیڈا آ کر سیٹل ہو جانے کے بعد امریکہ دیکھنا اب کچھ زیادہ مشکل نہیں دکھائی دیتا۔

یہاں سے چند گھنٹوں کے زمینی سفر کے بعد آپ امریکہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ کینیڈا آنے کے بعد سے لے کر اب تک کے گیارہ برسوں میں میں کہیں بھی تو نہیں گیا۔ امریکہ میں موجود میرے محترم لکھاری اور شاعر دوست جناب حسن مجتبیٰ صاحب اور جناب طاہر چوہدری صاحب کی دعوت پر میں نے اس سال دسمبر کی چھٹیوں میں نیو یارک جانے کا پروگرام بنا لیا۔ ان کے علاوہ میرے شہر گجرات سے تعلق رکھنے والے اور بھی کافی دوست احباب امریکہ میں مقیم ہیں جن سے ملاقات کا اشتیاق اور تمنا تھی۔

پہلا پڑاؤ۔ بفلو سٹی

کرسمس ڈے پر ٹورانٹو شہر سے صبح سویرے وڈے شیشوں والی بس میں سوار ہوا اور براستہ نیاگرا فالز امریکہ میں داخل ہو گیا۔ نیاگرا کے پل کو پار کرتے ہی امریکن امیگریشن بلڈنگ میں جاکر کا ؤنٹرز کے پاس لائن بنا کر کھڑے ہو گئے۔ امیگریشن افسر نے چند سوال کیے اور پاسپورٹ کو سکین کر کے مجھے لوٹا دیا۔ میں ایک طرف جا کر غور سے اپنے پاسپورٹ کو الٹ پلٹ دیکھتا رہ گیا لیکن مجھے کہیں بھی امریکی امیگریشن کی مہر نہ دکھائی دی۔

بعد میں کسی نے بتایا کہ کینیڈین اور امیرکن ایک دوجے کے پاسپورٹ کو صرف سکین کرتے ہیں مہر نہیں لگاتے۔ خیر دوبارہ بس میں بیٹھ گئے اور پھر طویل سفر شروع ہو گیا۔ سرحد کے اس پار امریکہ کا پہلا شہر بفلو ہے جو کہ نیو یارک سٹیٹ میں ہی آتا ہے۔ میں نام کی وجہ سے اس شہر کو یہاں کے مقامی گجروں کا شہر ہی سمجھتا رہا لیکن جب میں نے اس کا آرکیٹیکچر دیکھا، خوبصورت تاریخی اور بلند و بالا عمارات کو دیکھ کر ششدر رہ گیا اور اپنی خود ساختہ گجر چھاپ کو اس شہر کے چہرے سے ہٹا دیا۔

بفلو کے ائر پورٹ کے پاس بس نے ہمیں ڈراپ کر دیا اور پھر ہمیں بتایا گیا کہ بفلو ڈاؤن ٹاؤن یعنی شہر کے مرکز میں اس بس کا اڈہ ہے وہاں ہمیں جا کر اگلی بس لینا ہوگی۔ دوسری بس پر سوار ہوئے اور اب دوسرا بڑا سٹاپ بی منگٹن شہر کا تھا جس نے کوئی چار گھنٹے کے سفر کے بعد آنا تھا۔ خیر یہ منزل بھی آئی اور گزر گئی اور ہماری بس اب تیزی سے دنیا کے دارالحکومت نیویارک شہر کی جانب رواں دواں تھی۔

نیویارک شہر

نیویارک ایک شہر نہیں بلکہ ریاست ہے اور ہر ریاست کا اپنا مزاج، اپنا لہجہ، اپنی ثقافت، اور اپنا اثاثہ ہوتا ہے جو اس کو دوسرے علاقوں سے منفرد کرتا ہے۔ یہ شہر افسانوی حیثیت رکھتا ہے، یہ دنیا کے تمام میٹروپولیٹن شہروں کا بابا آدم کہلاتا ہے۔ امریکہ کا سب سے بڑا شہر ہونے کا اعزاز بھی نیو یارک کے پاس ہی ہے، دنیا کی ساری اور امریکی معیشت کا مرکز ہونے کے ناتے گلوبل اکانومی کا مرکز وال سٹریٹ جنرل بھی اسی شہر کے مین ہٹن میں واقع ہے۔

میڈیا، فیشن، ٹیکنالوجی، فلم سبھی کچھ تو سمویا ہوا ہے اس شہر میں، باقی کیا رہ جاتا ہے؟ نیویارک میں آپ کو قدیم ترین تاریخ کے گوشے بھی ملیں گے اور جدید ترین کلچر کے رجحانات بھی یہیں سے نکلتے اور پوری دنیا میں چھا جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے لیڈران اور ان کی سیاست بھی اسی شہر میں سے ہوکے گزرتی ہے۔ نیو یارک کے پانچ بڑے علاقے یا حصے ہیں جن کی اپنی اپنی شناخت، کردار اور پہچان ہے۔ ان میں مین ہٹن، بروکلین، کوئینز، برونکس اور سٹیٹ آئی لینڈ شامل ہیں۔

نیویارک متعدد مشہور تاریخی مقامات کا گڑھ ہے جن میں آزادی کا مجسمہ، ٹائم اسکوائر، سینٹرل پارک، بروکلین کا پل اور اقوام متحدہ کا ہیڈ کوارٹر قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ مین ہٹن کے علاقے میں براڈ وے اپنے مشہور زمانہ تاریخی تھیٹرز، پروڈکشنز، عجائب گھروں میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ، میوزیم آف ماڈرن آرٹ اور نیچرل ہسٹری میوزیم کی وجہ سے مشہور ہے۔ نیویارک میں اعلیٰ تعلیمی ادارے، کولمبیا یونیورسٹی، نیو یارک یونیورسٹی وغیرہ نمایاں ہیں۔

ہماری بس شہر کی حدود میں داخل ہوئی تو مسلسل دو گھنٹے تک چلتی گئی تب جا کے کہیں اندرون شہر جسے مڈ ٹاؤن کہتے ہیں وہ مقام آیا۔ بس کے اڈے پر اترتے ہی رات کے پہلے پہر کی تازہ ہوا میں سانس لیا تو ایک ٹھنڈا سا احساس بدن کو چھو گیا۔ میں نے حسن مجتبیٰ صاحب کو ٹیکسٹ کیا تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ سب وے ٹرین لے کر کوئینز کی جانب جیکسن ہائٹس کے سٹاپ پر اتر جاؤں۔ میں اجنبی شہر کے ٹرین سسٹم میں داخل ہوا تو یہ ایک الگ دنیا نظر آئی۔

ٹورونٹو شہر کے سب وے سسٹم کا عادی ہونے کے ناتے میں آسانی سے پوچھتا ہوا اپنی مطلوبہ ٹرین تک پہنچ گیا۔ انڈر گراؤنڈ ریلوے نظام تو ٹورونٹو میں بھی سو سال سے زیادہ پرانا ہے لیکن نیو یارک کا تو تاریخی لحاظ سے الگ ہی مقام ہے۔ یہ 1904 میں افتتاح سے لے کر اب تک کامیابی سے چل رہا ہے۔ دنیا کے قدیم ترین ریلوے نظام کا اعزاز بھی اسی شہر کے پاس ہے جس کے 472 سٹیشن چالو حالت میں ہیں۔ ٹورونٹو کے دو منزلہ سب وے کے مقابلے میں نیویارک چھ سات منزلہ ہے جس میں اوپر نیچے ٹرینیں چلتی ہیں۔

سٹیشن سے باہر نکلا تو جیکسن ہائٹس کا دیسی منظر میرا منتظر تھا، میرے سامنے انڈین اور بنگالی لوگوں کی دکانیں، خوانچے اور سٹال موجود تھے۔ ہندی بنگالی اردو پنجابی سبھی الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ جگہ جگہ پان کی پیک لہو رنگ بوچھاڑ کے ساتھ دیواروں اور فرش کو خون آلود رنگ سے گندا کر رہی تھی۔ ایسے بدنما مناظر سب وے کی سیڑھیوں، دیواروں اور باہر دکانوں کے ارد گرد جابجا دکھائی دیے۔ جیکسن ہائٹس کو میں نے جیرالڈ سٹریٹ ٹورونٹو کے جیسا ہی پایا، ویسی ہی دیسی فوڈز، ریستوران، پان شاپس، دیسی میوزک، ملبوسات اور جوتوں کی دکانیں۔

میں بٹ بٹ سارے منظر دیکھ رہا تھا کہ میرے کانوں میں حسن بھائی کی آواز سنائی دی۔ ہم وہیں سڑک پر بغل گیر ہو گئے اور پھر وہ مجھے ساتھ لے کر یہ کہہ کر چل پڑے کہ! پاشا جی چلو پہلے روٹی ٹکر کھا لیں۔ ڈیرہ ریسٹورانٹ یہاں کا مقبول عام کھابہ سینٹر ہے جس کے ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ ہمیں ایک کونے میں کھڑا کر کے ویٹر نے انتظار کرنے کو کہا اور پھر ایک فیملی کے اٹھتے ہی ہمیں بٹھایا گیا۔ کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ باہر نکلے اور حسن بھائی نے اوبر کال کرلی، ہم سب گاڑی میں بیٹھ کر فاریسٹ ہل کی جانب روانہ ہوئے جہاں پر ڈان اخبار کے بیورو چیف جناب مسعود حیدر صاحب کا اپارٹمنٹ تھا۔

یہ نیویارک شہر کا پوش ایریا ہے جہاں پر یہودی کمیونٹی کے زیادہ تر گھر ہیں، بلکہ اسی گلی میں مجھے یہودیوں کی مذہبی عبادت گاہ سینی گاگ بھی دکھائی دیا۔ مسعود حیدر صاحب بہت سینئر صحافی ہیں اور عمر رسیدہ بھی ہیں، گھر میں اکیلے رہتے ہیں، اب کتابیں پڑھنا اور ٹی وی دیکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ حسن مجتبیٰ صاحب نے میری رہائش کا بندوبست یہیں کیا تھا۔ سینئر صحافی طاہر چوہدری صاحب کو بھی میں نے نیو یارک پہنچتے ہی اطلاع دے دی تھی اور انہوں نے اگلے ہی روز Taste of Lahore نامی ریسٹورانٹ پر میرے اعزاز میں ایک ادبی تقریب اور نہایت ہی شاندار ڈنر کا اہتمام کیا ہوا تھا۔

ٹائم اسکوائر

رات بہت سکون سے نیند آئی، صبح ہوتے ہی حسن بھائی تشریف لے آئے اور ہم دونوں گھر سے نکل کر فاریسٹ ہل کی گلیوں میں پیدل چلتے ہوئے مین سٹریٹ تک پہنچے اور ایک کافی شاپ میں بیٹھ کر گرما گرم کافی سے لطف اندوز ہونے لگے۔ باہر ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی جس نے گرم کافی کی بھاپ اور حسن بھائی کی ادبی گفتگو نے ماحول کو گرما دیا۔ کافی کے بعد ہم نے سب وے ٹرین پکڑ کر اور ٹائم اسکوائر کی جانب روانگی لی۔ سب وے سے باہر نکلتے ہی باہر 8 ویں ایونیو پر رنگ برنگ لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دیتا ہے، مین ہٹن کا یہ پر ہجوم علاقہ اس شہر کا فنانشل حب بھی کہلاتا ہے۔

نیو یارک ٹائمز اخبار کی بلند قامت عمارت جس کے نام پر ٹائم اسکوائر کا نام رکھا گیا ہے۔ 1851 میں اپنی اشاعت کا آغاز کرنے والا اخبار آج اس جدید دور میں ساڑھے نو ملین آن لائن سبسکرائبر کے ساتھ سر فہرست ہے۔ اخبار کی بلڈنگ سے اگلے موڑ پر ٹائم اسکوائر کی طرف جانے والی سڑک پر پیدل چلتے ہوئے یک دم پیر ٹھٹھک گئے، مادام تساؤ میوزیم کا سائن بورڈ دیکھا اور اس کے داخلی گیٹ پر لگی امیدواروں کی لمبی ترین بل کھاتی ہوئی، یو ٹرن لے کر دوہری تہری قطار کو دیکھ کر میرے تو حوصلے جواب دے گئے۔

اگر میں لائن میں کھڑا ہوتا ہوں تو شاید کل کسی وقت میری باری بھی آ سکتی تھی۔ ہم نمائش میں گیٹ پر رکھے مسٹر راک کے مجسمے کے ساتھ اپنی ویڈیو بنا کر آگے بڑھ گئے۔ آگے ٹائم اسکوائر کا پر شکوہ نظارہ آنکھوں کے سامنے تھا، جو کہ نگاہوں کو حیراں اور مسخر کر دینے والا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں کسی جگہ پر انسانوں کا اتنا بڑا اکٹھ بہت کم دیکھا تھا۔

ٹائم اسکوائر سے پہلے میں نے ٹورانٹو شہر کا ڈنڈاس اسکوائر ہی دیکھ رکھا تھا، جو کہ Yonge & Dundas Streets کے سنگم پر واقع ہے، یہیں پہ میں نے ایک بار بیٹ مین فلم کی شوٹنگ دیکھی تھی۔ لیکن اس کا کسی طور پر مقابلہ ٹائم اسکوائر سے نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ جگہ ایک جن کے مقابلے میں کسی بہت بڑے دیو کی مانند ہے۔ جس کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہر طرف فلک بوس عمارتیں، دیو قامت رنگ برنگے سائن بورڈ، نیون سائن کی جگمگاتی روشنیاں، یوں دکھتا ہے جیسے کوئی گاؤں کا سیدھا سادا آدمی کوہ قاف کے دیس میں اچانک پہنچ جائے اور اس طلسم ہوشربا کو حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔

میں اور حسن مجتبیٰ صاحب دونوں اپنے اپنے کیمرے کا پیٹ بھرنے میں لگ گئے اور ان پر لطف اور یادگار لمحات کو جب اپنے اپنے فون میں قید کر چکے تو یاد آیا کہ آج شام چھ بجے تو ہمیں سینئر صحافی طاہر چوہدری صاحب کی جانب سے اہتمام کیے گئے ادبی اکٹھ میں پہنچنا ہے، Taste of Lahore نیویارک میں دیسی اور خصوصاً پاکستانی کھانوں کے حوالے سے اپنی علیحدہ شناخت رکھتا ہے اور شاید اسی وجہ سے اس جگہ کا انتخاب کیا گیا تھا۔

آج کی محفل کے میزبان سینئر صحافی طاہر چوہدری صاحب نے اس تقریب کو یاد گار بنانے کے لئے گجرات شہر کے مشہور اخبار روزنامہ جذبہ کے ہمارے پرانے ساتھیوں کو بھی مدعو کر رکھا تھا۔ ان میں شہباز چوہدری، اسلام الرحمٰن فوٹو گرافر، ان کے علاوہ گجرات کے مشہور معروف آرٹ ڈائریکٹر زاہد شہباز صاحب جو کہ اب نیویارک سے ’پاک وطن‘ کے نام سے اردو اخبار نکالتے ہیں، وہ بھی تشریف لائے۔ بی بی سی لندن اور اب وائس آف امریکہ کے کالم نگار و تجزیہ نگار، اور شاعر جناب حسن مجتبیٰ جی، پاکستان فلم انڈسٹری کے مایہ ناز اداکار اور ولن جناب بابر بٹ صاحب، جناب سلمان بٹ صاحب، معروف افسانہ نگار، آرٹسٹ، اور فلم ساز جناب ممتاز حسین صاحب کی موجودگی نے محفل کو چار چاند لگا دیے۔

میں نے اس تقریب میں اپنی کچھ پنجابی کی نظمیں پیش کیں، ممتاز حسین اور حسن مجتبیٰ صاحب نے بھی اپنی اپنی مقبول نظمیں سنائیں۔ علاوہ ازیں اپنی لکھی ہوئی کتابیں شرکاء میں تقسیم کیں۔ یہ محفل رات گئے تک جاری رہی، ہم سب نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر الوداع کہا اور اپنے اپنے آشیانوں کی طرف چل دیے۔ اسی ریسٹورانٹ پر ہال میں دوسرے کونے پر بنگالی بھائی بھی کثیر تعداد میں بیٹھے ڈنر کر رے تھے اور ان کی باتوں کی گونج بھی سنائی دے رہی تھی۔

میں نے کہا! یہاں ہم اس میز پر پاکستانی زاویے سے بنگلہ دیش اور مجیب الرحمٰن کے بارے میں اردو پنجابی میں باتیں کر رہے ہیں اور شاید ادھر بنگالیوں کی میز پر پاکستان کے بارے میں بنگالی نقطۂ نظر سے بحث چل رہی ہو۔ میری اس بات پر سبھی نے ایک قہقہہ لگایا۔ سلمان بٹ صاحب جو کہ پاکستان میں جا کر بلال لاشاری کی فلم مولا جٹ کے معیار کی پروڈکشن بنانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ ٹیلنٹ بھی تلاش کر رہے ہیں نیز انہوں نے اس نئی فلم کے لئے اپنے لکھے ہوئے جاندار قسم کے مکالمے بھی سنائے۔

یونہی ہنستے باتیں کرتے محفل تمام ہوئی۔ اور تمام شرکاء باہر نکل کر فوٹو گرافر اسلام الرحمٰن صاحب کی گاڑی کی طرف آئے جس کی نمبر پلیٹ گجرات کے نام کے سپیلنگ کے ساتھ جگمگا رہی تھی۔ ایسی خصوصی نمبر پلیٹ کے لئے آپ کو علیحدہ سے زیادہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ گاڑی کے نمبر کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بنایا گیا اور پھر محفل تمام ہوئی۔ لیکن کل کی شام کے لئے ایک عشائیے کی دعوت کا جناب سلمان بٹ صاحب کی طرف سے اعلان کر دیا گیا۔

آخری دن کی مصروفیات

کل کے دن سینئر صحافی طاہر چوہدری صاحب کے ساتھ پاکستان کے عظیم مزاح نگار پطرس بخاری صاحب کی قبر پر جا کر فاتحہ پڑھنے کا مختص کر رکھا تھا لیکن جب رات گئے گھر پہنچے تو مسعود حیدر صاحب کے ساتھ ہونے والے حادثے کی خبر ملی۔ وہ شام کو باہر ٹہلنے کے لئے گلی میں نکلے تو کوئی اندھا گاڑی والا ان کو ہٹ کر کے چلا گیا، کار کا ٹائر ان کے دائیں پاؤں کو کچلتا ہوا گزر گیا اور وہ سڑک پر اپنے ہینڈ واکر سمیت گر پڑے۔ لیکن وہ سٹریٹ کیمرے میں آ گئے اور فوراً وہاں ایمبولینس پہنچ گئی انہیں اٹھا کے ہسپتال لے جایا گیا۔

حسن صاحب مجھے گھر چھوڑ کر ہسپتال کی جانب بھاگے اور صبح تک ان کے ساتھ رہے۔ وہ انہیں ڈسچارج کروا کر گھر لے آئے اب ان کی بیٹی اپنی فیملی کے ساتھ اپنے پاپا کی نگہداشت کے لئے آ گئی تو میں نے حسن صاحب کے ساتھ مشاورت سے مسعود صاحب سے اجازت لی اور پھر میں اپنے بیگ کے ساتھ دوبارہ ڈاؤن ٹاؤن پہنچ گیا۔ پطرس بخاری کی مرقد پر جانے کا پروگرام بارش زدہ موسم کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا اور میں نے ہلکی ہلکی بارش کی کن من کے دوران اپنا وقت مزید سیر سپاٹے میں گزارا، شام کو مجھے شیرازی ہوٹل پہنچنا تھا۔

لیکن اس سے پہلے میں نے اپنا واپسی کا ٹکٹ بھی آن لائن کنفرم کروا لیا، کیونکہ مجھے ٹورانٹو آفس سے بلاوے آرہے تھے اور میرا فوٹو سٹوڈیو تین دن سے بند تھا۔ بابر بٹ صاحب جو کہ پاکستانی پنجابی سینما کے مقبول و معروف اداکار اور سید نور کی مشہور زمانہ فلم ’چوڑیاں‘ کے ولن بھی ہیں، مجھے ٹرین کے سٹیشن پر ریسیو کرنے کے لئے ہاتھ میں چھتری تھامے کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے ساتھ لیا اور ہم زاہد شہباز جی اور سلمان بٹ صاحب کے آنے تک رک گئے۔

یہ چار رکنی قافلہ شیرازی ریسٹورانٹ کی جانب روانہ ہوا، یہاں آ کر پتہ چلا کہ اس سے زیادہ پیک ڈائننگ ہال شاید ہی کسی اور دیسی ریسٹورانٹ کا ہو۔ جلد ہی طاہر چوہدری صاحب بھی سید احمد بخاری صاحب کے ہمراہ پہنچ گئے۔ شاندار اور ذائقے دار کھانے ہمارے بیٹھتے ہی آنا شروع ہو گئے۔ ہر چیز لاجواب اور مزیدار تھی۔ یہیں ہمیں بابر بٹ صاحب نے اپنے فن اداکاری کا کچھ نمونہ دکھایا اور پورے تاثرات کے ساتھ فلمی مکالمے بول کر ہم سب کی داد سمیٹی۔

ان کا تعلق وزیر آباد شہر سے ہے اور یہ سات بھائی ہیں۔ اس شاندار عشائیے کے بعد ہم لوگ ریسٹورانٹ سے باہر نکلے اور گلے مل کر رخصت ہونے لگے۔ جب میں نے بتایا کہ آج کی رات بارہ بجے میں واپس جا رہا ہوں تو شہباز شاہ جی اور سلمان بٹ صاحب اصرار کرنے لگے کہ آئیں ہمارے گھر ٹھہریں اور نیو ائر نائٹ دیکھ کر جائیں۔ لیکن مجھے واپس آنا تو تھا اور پھر دوبارہ جلد آنے کا وعدہ کر کے رخصت لی۔

واپسی

مجھے سینئر صحافی طاہر چوہدری صاحب بس کے اڈے تک ڈراپ کرنے آئے اور راستے میں اس ٹھنڈے اور بھیگے موسم میں گرما گرم کافی کے ساتھ ان سے خاص گپ شپ بھی ہوئی۔ انہوں نے میرا ایک انٹرویو بھی ریکارڈ کر لیا۔ اڈے پر ہمارے پہنچنے تک بس چلنے میں ابھی پندرہ بیس منٹ باقی تھے۔ ڈرائیور نے میرا ٹکٹ فون پر سے سکین کیا اور مجھے میری سیٹ تک رہنمائی کی۔ چوہدری صاحب کو میں نے الوداع کہا اور وہ میری بس کے چلنے تک وہیں اپنی گاڑی میں بیٹھے دیکھتے رہے۔

گاڑی کے چلنے کے ساتھ ہی مسافر نیند کی وادیوں میں وادیوں میں کھونے لگے۔ جب میری آنکھ کھلی تو ہم کینیڈا کے سرحدی شہر بفلو میں پہنچ چکے تھے جہاں پر ہمیں بس بدلنا تھی، ڈرائیور سب کو اترنے کا کہہ رہا تھا۔ دوسری گاڑی میں بیٹھے اور ٹھیک ڈیڑھ گھنٹے بعد ہم کینیڈین بارڈر پر موجود امیگریشن بلڈنگ کے سامنے کھڑے تھے۔ وہاں پر رسمی کارروائی کے بعد ہم دوبارہ بس میں بیٹھے، نیاگرا فالز والا پل کراس کیا اور کینیڈا کی حدود میں داخل ہوتے ہی دل کو قرار سا آ گیا۔ یوں ہماری نیو یارک یاترا اختتام کو پہنچی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments