جب سائنس مجھ پر فرض ہوا کرتی تھی (حصہ دوم)


اسکول سے ہر سال اچھے بھلے صحت مند طالب علم منوں کے حساب سے فیل ہوتے تھے۔ اور ہم جنہیں خود کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کیا پیپر میں آیا ہے اور ہم نے جواب میں کیا لکھا ہے بڑے آرام و سکون سے کامیاب ہو جاتے تھے۔ لیکن دعائیں استادوں کی ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر لیتے تھے۔ ہم یہ راز بہت پہلے سے ہی سمجھ گئے تھے کہ ایک طالب علم کو سیاسی لیڈروں کی طرح امتحانات کے مشکل ترین وقت میں خاص قسم کی دعاؤں کی ضرورت پوری کرنی چاہیے اور جو ہم کرتے تھے۔

استادوں کی ساگ، دیسی انڈوں، گھی، دودھ اور مکئی کی روٹی سے خوب خدمت کرتے اور بدلے میں بھر بھر کر دعائیں وصول کرتے تھے۔ پیپرز میں حرفوں کو انگور کے گچھوں کی طرح لفظوں میں جوڑ کر کاغذوں پر بکھیرتے چلے جاتے تھے وہ کہتے ہیں نہ الفاظ کبھی ضائع نہیں جاتے لیکن اس پر یقین کامل اسکول کے زمانہ میں ہی ہو گیا تھا۔ کچھ بھی لکیریں پھیر دیں دانا آدمی ہو گا تو خود بخود سمجھ جائے گا۔

جن سے دعائیں نہیں کرواتے تھے یا پھر جن کو خدمت کے عوض دعائیں دینے کی عادت نہیں تھی پیپر کو دیکھنے کے بعد اکثر نیب کی طرح کارروائی ڈالتے ہوئے سوالات کی بوچھاڑ کر دیتے تھے اور پھر خود سے ہی پنجاب پولیس کی طرح خوب خدمت کرتے تھے۔ پنجاب پولیس کی خدمت کا جس نے لطف اٹھایا ہے یا کچھ اس بارے میں معلومات رکھتا ہے صرف وہی شخص ہی اس خوشی کو سمجھ سکتا ہے۔

ہر اسکول سے باہر لکھا سلوگن مار نہیں پیار ایسا کام کرتا ہے جیسے عوام کے لئے سیاسی پارٹیوں کا منشور اور لکھنے کی غرض بھی ایک سی ہوتی ہے اور وہ ہے خانہ پری۔ جبکہ پڑھنے والے جذباتی لوگ فوراً اس چھوٹے سے مذاق کو دل پر ہی لے جاتے ہیں۔

نیب کی کارروائیوں سے بچنے کے لئے ایسے امتحانات کی صبح سویرے اٹھتے ہی فوراً پہلا کام جو سر انجام دیتا وہ یہ کہ کانوں کی اچھی طرح سے صفائی اور دھلائی کرتا کبھی کبھی تو انہیں اچھے سے ٹاکی لگوانے کے لیے سروس پمپ پر بھی لے جاتا تھا تاکہ کوئی بھی کچرا غلطی سے باقی نہ رہے اور یہ سب اس لیے کیا جاتا تھا تاکہ کمرہ امتحان میں کہیں انٹینے کی طرح دور دراز سے سگنل وصول کرنے میں دشواری نہ ہو۔ سائنسی مضامین کرنے کے بعد دماغ جو برائے نام سا ہو کر رہ گیا تھا کمرہ امتحان میں جاتے ہی دماغ کے سارے کے سارے سگنل غائب سے ہو جاتے تھے۔ سائنس کا نام آنے پر سارے کا سارا جسم ہینگ سا ہوجاتا تھا۔ دماغ کی یاداشت کہیں ٹریفک میں جام سی ہو جاتی تھیں اور پیپر ختم ہونے کے بعد کہیں مشکل سے ایک وقت کے بعد اکثر اس کی بحالی ہوتی تھی۔ اب سارا کا سارا دار و مدار ان کانوں پر ہوتا اور یہی ہماری عزت و آبرو کے محافظ اور امین ہوتے تھے۔

سائنسی مضامین کی اس قدر سخت محبت کو اپنے سر پر تاج کی طرح سجائے رکھنے کی وجہ ہمارے ہاں اس سے بڑا مذاق ہو ہی نہیں سکتا کہ میں آرٹس کا طالب علم ہوں۔ اگر آپ ننگے ہو کر آ جائیں اتنا لوگوں کی نظروں میں بے آبرو نہیں ہوں گے جتنا لفظ آرٹس کے کہنے پر ہوتے ہیں۔ آرٹس مضامین بولنے پر پہلا نقشہ جو سامنے والے کے دماغ شریف کی سکرین پر نمودار ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ نامراد نالائق ہی ہو گا تبھی تو آرٹس کر رہا ہے۔

جو منہ شریف سے پہلا گولا چھوڑے گا وہ یہ کہ اس کا تو سکوپ ہی نہیں۔

پھر آپ پر ترس کھاتے ہوئے مفید مفید مشوروں سے آپ کی خاطر تواضع کی جائے گی کیونکہ اکثر تصور یہی کیا جاتا ہے کہ آرٹس مضامین کرنے والے بڑے بھولے بھالے سے لوگ ہوتے ہیں اور کم عقلوں کے امام تبھی تو ایسے مضامین کرتے ہیں جن کا کوئی سکوپ ہی نہیں اور میں اس طرح کی محبت تو برداشت کر سکتا ہوں لیکن یہ مذاق ہرگز نہیں کیونکہ سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں۔

ہماری ضعیف العمر انگریزی اور گلابی اردو کبھی بھی ٹیچروں کو سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اس میں بھلا ہم جیسے مسکینوں کا کیا قصور؟ اس ستم ظریفانہ رویہ پر ہم تو ہم ہمارے کاندھوں پر بیٹھے فرشتے بھی ہمیشہ اشک بہاتے ہوئے پائے جاتے تھے۔ شروع شروع میں رزلٹ آنے پر اپنے نام کو فہرست میں اوپر سے ڈھونڈنے جیسی گستاخی سرزد ہوتی تھی جس سے گردن میں کئی ایک بار موچ بھی آئی لیکن وقت گزرنے کے بعد گردن کو اس تکلیف سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات مل گئی کیونکہ پھر نیچے سے پہلے نمبر پر پہلی نظر پڑتے ہی نام شریف ملنے لگا۔

اردو کے استاد محترم ہمیشہ نمبرز دیتے ہوئے درزیوں کی طرح پیپروں کو فٹے سے ناپ کرتے اور ایک فٹ کے پانچ نمبروں سے نوازتے۔ اوپر سے انگریزی جو ہماری دشمن ہی نہیں مہا دشمن تھی۔ ہمیں انگریزی پڑھانا اندھے کو رنگ دکھانا، بہرے کو موسیقی سنانا، مردہ کو موت کی نیند سے جگانے کی خواہش جیسا تھا۔ ریاضی نام کی عورت نے جو ہمیں زندگی میں رلایا اس کے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوئے ہیں اب نا محرم کا بھلا کیا گلا کرنا۔

کیمسٹری، فزکس اور بائیولوجی کے ٹیچرز جو کلاس کے طالب علموں کو انسانوں سے زیادہ کمپیوٹر یا پھر روبوٹس بنانے کی جد و جہد میں پائے جاتے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں فل سٹاپ نہ ڈالنے پر یا کچھ لفظوں کے چھوٹے سے ہیر پھیر کو کفر سے بڑا گناہ کبیرہ تصور کرتے ہوئے بچوں کو کالا پانی کی سزا سنا دیتے تھے۔ ٹیچروں کا سائنسی مضامین میں صرف اور صرف کومے کی غلطی پر منہ کا رنگ سبزیوں کی طرح لال پیلا سا ہوجاتا تھا۔ اتنا غصہ اور غضب ڈھاتے ہم معصوموں پر جیسے ہم نے کسی آسمانی مسودے کے لفظوں میں شعوری طور پر غلطیاں کی ہوں۔

رٹو طوطے خوب داد وصول کرتے اور سکون دے زندگی گزارتے لیکن شامت ان پر آتی جو تھوڑا بہت امتحانات میں خود کا دماغ چلاتے۔ بس لائق نالائقوں کی صف میں کھڑے ملتے اور نالائق لائق ہونے کے سرٹیفکیٹ لیے پھرتے۔ اس معصومانہ دور میں ہی سمجھ میں آ گیا تھا کہ پاکستان میں اکثریت ایسے لوگوں کا ہی سکوپ ہے جو بغیر دماغ چلائے سب کچھ درست تسلیم کرتے جاتے ہیں اور کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کرتے اور آگے آ کر سیاسیات کی ڈگری پڑھنے کے بعد اس بات پر مہر لگ گئی کہ یہ نظریہ ٹھیک ہی تھا۔

Facebook Comments HS