سنہ 2024 پٹرولیم پر امریکی بالادستی کے خاتمے کا سال ہو سکتا ہے
سال 2023 میں 20 فیصد ایسے معاہدے دیکھے گئے جس سے پٹروڈالر کو خطرے لاحق ہوا اور دنیا کی دیگر ممالک کی کرنسی کو اہمیت ملی، اب سال 2024 کا آغاز ہے اور پٹروڈالر بالادستی کا امسال خاتمہ ہو سکتا ہے۔ ہم نے عالمی حالات، واقعات، معاہدات اور حال و مستقبل کا بغور جائزہ کیا تو محسوس کیا کہ اب دنیا کے نہ صرف فیصلے امریکہ سے نہیں ہو رہے بلکہ تجارت بھی اب امریکی کرنسی کے چنگل سے آزاد ہو رہی ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق تیل کی بڑی کمپنیاں اور قدرتی تیل کے برآمد کنندگان امریکی ڈالر کے بغیر بھی خرید و فروخت کر رہے ہیں، تیل کے 20 % حصص کی تجارت امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں ہوئی، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2023 میں، امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں 12 بڑے تجارتی سودے ہوئے، جبکہ 2022 میں صرف 7 سودے امریکی ڈالر کے بغیر ممکن ہوئے تھے۔
اگر صرف 20 فیصد کے تناسب سے ہی امریکی ڈالر کے مقابلے میں دیگر کرنسی میں تجارت ہو تو 40 فیصد تجارت امریکی ڈالر کے چنگل سے آزاد ہوگی، لیکن میں اس سے بہت زیادہ دیکھ رہا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ 2024 میں کئی ایسے معاہدات اور عالمی تبدیلیاں سامنے آئیں گی جس کے بعد پٹروڈالر کو ہم ماضی کا قصہ سمجھنا شروع ہوجائیں گی۔ اس میں سب سے زیادہ اثر اندازی برکس کی ہوگی جس میں اب کئی مزید ممالک شامل ہونے جا رہے ہیں، امریکی مبصرین برکس کو پٹروڈالر کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔
پٹروڈالر کے لئے خطرہ۔ برکس
برکس ممالک میں برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں جو مجموعی طور پر 45 فیصد تیل کے ذخائر کا کنٹرول رکھتے ہیں، برکس ممالک میں روس، ہندوستان اور چین نے سب سے پہلے پٹروڈالر سے بغاوت کی ہے، ہم ذیل میں ان معاہدات کا ذکر کریں گے لیکن سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ برکس کا حجم بڑھنے والا ہے، اب برکس محض ان پانچ ممالک پر محیط نہیں ہو گا بلکہ سال 2024 کے آغاز میں دیگر ممالک برکس کا حصہ بنیں گے۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، ایران، ایتھوپیا، مصر، متحدہ عرب امارات جنوری 2024 میں ہی برکس کا باقاعدہ حصہ بنیں گے، جبکہ 2 جنوری کو اس رپورٹ کے عین مطابق ایران اور سعودی عرب برکس کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں، یوں برکس ممالک دنیا کے 80 فیصد تیل کے ذخائر کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ ارجنٹائن نے بھی برکس کا حصہ بننے پر پہلے آمادگی ظاہر کی لیکن بعد ازاں انکاری ہو گیا، جبکہ پاکستان نے بھی برکس کا حصہ بننے کے لئے باقاعدہ درخواست دے رکھی ہے۔
برکس سے متعلق عالمی اداروں کی خبروں سے کچھ اقتباس پڑھیں گے تو آپ کو اس کی اہمیت کا انداز ہو گا۔
٭ الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برکس ممالک کی طاقت بڑھنے کا امکان ہے جو عالمی نظام کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر کے رکھ دے گا، برکس ایک عالمی نظام کے بجائے طاقت کو تقسیم کرنے کے فارمولے پر کام کر رہا ہے۔ تاہم اس سے مغرب کے ساتھ تناؤ میں اضافہ ہو گا، دیکھنا یہ ہے کہ برکس اپنے ساتھ جڑے ہوئے ممالک کی ترجیحات اور مفادات کے تحفظ کے ساتھ اسے کیسے یقینی بناتا ہے۔ (یہ رپورٹ 22 اگست 2023 میں شائع ہوئی ہے )
٭ اٹلانٹک کونسل کی ایک رپورٹ جس کو عنوان دیا گیا کہ ”آہستہ آہستہ کر کے برکس ملٹی پولر دنیا بنا رہا ہے“ میں کہا گیا کہ برکس ڈالر کا دنیا سے غلبہ ختم کر رہا ہے، برکس کا ایجنڈا ہے کہ دنیا کسی ایک طاقت کے ساتھ نہیں بلکہ طاقت کی تقسیم کے ساتھ بہتر انداز سے چل سکتی ہے۔ طاقتوں کے مختلف مراکز بننے سے امریکی ڈالر کی حکمرانی کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ یہی ایک وجہ ہے امریکہ اب عالمی پابندیوں میں نرمی لانے پر غور کر رہا ہے تاکہ ڈالر کی گرتی ساکھ اور حکمرانی و بالادستی کو ختم ہونے سے روکا جا سکے۔ (یہ رپورٹ 23 اگست 2023 میں شائع ہوئی ہے )
٭ ایک اور نشریاتی ادارے واچر گرو نے 11 دسمبر 2023 کو امریکی معاشی تجزیہ کاروں کے ریفرنس کے ساتھ لکھا کہ آنے والی برکس کرنسی بین الاقوامی منڈیوں میں امریکی ڈالر کو گرا سکتی ہے۔ جب برکس کرنسی شروع کی جائے گی تو امریکی ڈالر کی موت واقع ہو جائے گی۔
٭ ٹائمر آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برکس گروپ اپنی رکنیت کو وسیع کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے اثر و رسوخ میں بیک وقت توسیع ہو رہی ہے۔ یہ گلوبل ساؤتھ کی نمائندہ آواز کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے۔ یکم جنوری 2024 کو پانچ بڑے ممالک ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور ایتھوپیا باضابطہ طور پر اس بلاک میں شامل ہوں گے۔ اس سے قبل، برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل تھے۔ نومبر میں، پاکستان نے برکس گروپ میں رکنیت کے لیے باضابطہ طور پر درخواست دی۔ مزید برآں، دیگر ممالک جو بلاک میں شامل ہونے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں ان میں نائیجیریا، ترکی، میکسیکو اور عراق شامل ہیں۔
٭ ٓٓپاکستانی ادارے ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ میں لکھا گیا کہ ”امریکہ کو خدشہ ہے کہ برکس کو حریف چین کی طرف سے عالمی نظام کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ برکس میں، امریکی حکمت عملی کے ماہرین اب گلوبل ساؤتھ کے ممکنہ حریف اتحاد کو دیکھتے ہیں جو عالمی نظام کو از سر نو تشکیل دینے اور دنیا میں مغربی جغرافیائی سیاسی مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی خواہش سے متحرک ہے۔
٭ براون پولیٹکل ریویوز نے ایک رپورٹ کو ”ڈالر کے لئے سیاہ دنوں“ سے معنون کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ اگر سعودی عرب برکس میں شامل ہو جاتا ہے اور برکس کے زیر اہتمام نئی کرنسی میں تیل برآمد کرنا شروع کر دیتا ہے، تو عالمی کرنسی کے طور پر امریکی ڈالر کا کردار کمزور ہو جائے گا۔ 1970 کی دہائی کے معاہدے سے نصف صدی بعد ، سعودی عرب پہلے کے مقابلے میں امریکہ پر بہت کم انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ تیل کے معاہدے نے طویل عرصے سے سعودی عرب کو امریکی مفادات کے ساتھ جوڑ دیا ہے، حالیہ سفارتی تنازعات، جو صحافی جمال خاشقجی کے ہائی پروفائل قتل سے بڑھے ہیں، نے اس شراکت داری کو نقصان پہنچایا ہے۔ ریاستہائے متحدہ کے ساتھ تعلقات کی اس ٹھنڈک نے سعودی عرب کو دیگر عالمی شراکتیں تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے، یہاں تک کہ حال ہی میں چینی کرنسی، یوآن کے بدلے چین کو تیل فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس سے پیٹرو ڈالر کی قدر میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔
٭ تحقیقاتی ادارے فاربز نے مختلف معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ حالیہ مہینوں میں کیے گئے معاہدوں سے یہ قیاس آرائیاں ہوئی ہیں کہ جیسے جیسے تیل کی منڈیوں میں ترقی ہوتی جا رہی ہے، پیٹرو ڈالر اپنا اثر کھو رہا ہے۔ (یہ رپورٹ 2 اپریل 2023 میں شائع ہوئی
٭ مارکیٹ انسائیڈر کی ایک رپورٹ میں وائٹ ہاؤس کے سابق ماہر اقتصادیات جو سلیوان کا حوالہ دے کر لکھا گیا کہ ڈالر کو BRICS ممالک کی طرف سے بڑھتے ہوئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بلاک کے بڑھتے ہوئے سائز اور عالمی تجارت پر اثر و رسوخ کی بدولت پیٹروڈالر اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا۔
٭ فارن پالیسی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ برکس ممالک بین الاقوامی تجارت میں امریکی ڈالر کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک کرنسی تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس طرح کی کرنسی ممکنہ طور پر عالمی تجارتی منڈیوں کے اوپر اور غالب ریزرو کرنسی کے طور پر ڈالر کو گرا سکتی ہے۔
ڈالر کے بغیر عالمی تجارت کے معاہدات
سال 2023 میں ایسے سینکڑوں آرٹیکلز اور رپورٹس سے یہ واضح ہے کہ امریکی اور مغربی مبصرین برکس کو امریکی ڈالر کی موت قرار دے رہے ہیں اور پٹرولیم پر امریکی بالادستی اور گرفت کے خاتمے کی نوید سنا رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے تجارتی ماہرین بھی اس جانب بغور دیکھ رہے ہیں، تاہم ایشیا کے میڈیا پر مغربی حکمرانی کی بدولت ابھی تک وہ یہ حقیقت ماننے سے انکاری ہیں کہ دنیا سے امریکی گرفت کمزور ہو جائے گی۔ اب ہم عالمی معاہدات پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں جس سے آپ کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ کیسے پیٹروڈالر بالادستی کا خاتمہ ہو رہا ہے اور مستقبل میں کیا ہونے جا رہا ہے۔
٭ 28 مارچ 2023 کو ، برازیل اور چین نے اپنی اپنی کرنسیوں کا استعمال کرتے ہوئے مستقبل کے تمام تجارتی لین دین کے لیے ایک معاہدے کا اعلان کیا۔ چین برازیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
٭ 28 مارچ 2023 کو فرانسیسی تیل کمپنی ٹوٹل انرجی نے اعلان کیا کہ اس نے چینی یوآن کو بطور کرنسی استعمال کرتے ہوئے چینی تیل کمپنی CNOOC سے مائع قدرتی گیس (LNG) کی اپنی پہلی خریداری مکمل کی۔
٭ اپریل 2023 میں روسی سینیٹ میں دیے گئے دستاویزات کے مطابق بتایا گیا کہ روس اور چین کے درمیان 80 فیصد سے زیادہ تجارتی معاہدے اب روسی روبل اور چینی یوآن میں کیے جاتے ہیں۔
٭ جون 2023 میں پاکستانی نے روسی آئل کی کھیپ کی قیمت چینی یوآن میں ادا کی۔
٭ جولائی 2023 میں بھارت نے متحدہ عرب امارات سے تجارت لوکل کرنسی میں کرنے پر اتفاق کیا۔ جبکہ دسمبر 2023 میں ہی بھارت نے تیل کی برآمدگی کی پہلی ادائیگی ڈالر کے بجائے روپے میں کی۔
٭ ستمبر 2023 میں سعودی عرب اور بھارت کے درمیان لوکل کرنسی میں تجارت کرنے کے لئے مذاکرات کا آغاز ہوا۔
٭ اکتوبر 2023 میں بھارت اور تنزانیہ کے درمیان لوکل کرنسی میں تجارت پر معاہدہ طے پایا۔
٭ دسمبر 2023 میں ایران اور روس نے تجارت کو لوکل کرنسی میں کرنے پر اتفاق کیا، سال 2024 میں دونوں ممالک کی تجارت کا آغاز لوکل کرنسی میں ہی ہو گا۔
٭ دسمبر 2023 میں ہی طے پایا کہ روس اور بھارت سال 2024 میں 40 بلین ڈالر کی تجارت لوکل کرنسی میں سرانجام دیں گے۔
٭ پیپلز بینک آف چائنا اور سعودی سینٹرل بینک نے حال ہی میں 50 بلین یوآن ($ 6.93 بلین) یا 26 بلین سعودی ریال مالیت کے مقامی کرنسی کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
کچھ اہم قابل ذکر معاہدات کے علاوہ بھی کئی ممالک اب لوکل کرنسی میں تجارت پر غور کر رہے ہیں۔ جس وجہ سے ڈالر کے اثر و رسوخ میں واضح کمی ہوئی ہے اور میں یہ تجزیہ باآسانی پیش کر سکتا ہوں کہ ڈالر کی حکمرانی کے دن گنے جا چکے ہیں۔ پٹرول کی دنیا میں سعودی عرب اور ایران مالامال ہیں لہذا دونوں کے تعلقات میں بہتری بھی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔
ایران سعودی عرب تعلقات
ایران کے سعودی عرب سے تعلقات بہتر ہونا بھی امریکی مفاد کے لئے ایک بڑا دھچکا تھا، حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان روابط میں اضافہ دیکھنے کو ملا اور موقف میں نرمی دیکھنے کو ملی ہے۔ عالمی پابندیوں کا شکار ایران اس وقت ایشیا کے بڑے کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ حال ہی میں ایران نے عراق کے ساتھ اہم معاہدہ کیا ہے جس میں ایران عراق میں آئل ریفائنریز لگانے میں عراقی حکومت کی معاونت کرے گا، اس معاہدے سے بھی امریکی مفادات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ دنیا اب یونی پولر سے ملٹی پولر میں بدل رہی ہے۔ دنیا میں طاقت کے ایک مرکز نے جہاں تباہی کی وہیں پر طاقت کے ایک مرکز نے انسانوں کا استحصال بھی جاری رکھا، عالمی مفادات کے پیش نظر لگائی گئی پابندیوں نے کئی ممالک کی معیشت کو روند ڈالا، امریکہ کے اپنے مفادات کی بھینٹ کئی ریاستیں اور ان کی عوام چڑھ گئی۔ یہی وجہ ہے دنیا نے اب سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ سال 2024 دنیا پر امریکی ڈالر کی حکمرانی کے خاتمے کا سال ہو سکتا ہے۔


