کیا سب گول چکر کا کھیل ہے؟
انسانوں کی تو عادت ہے، کسی کے کار کو کام نہ ماننا۔ تارے توڑ لاؤ، نہیں مانیں گے۔ کچھ بھی چمتکار کرو، سازش سے جوڑ دیں گے۔ انسانی تاریخ کے ان گنت واقعات ہیں جن کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ گھڑی کی سوئیاں چلتی رہتی ہیں، بعد میں تو شاید ایقان ہو ہی جاتا ہے۔
سنتے آئے ہیں، پڑھا بھی ہے، غور بھی کیا ہے۔ مگر جس سائنس کو ہم نے کانسپٹ سمجھ کر پڑھنے کی پوری سعی کی، بیچ منجدھار میں اس کے اپنے قوانین اور ضوابط آ گئے۔ وہ کیسے؟ آپ تحیر میں گئے ہوں گے۔ سائنس سے کہاں غلطی ہو گئی۔ نیوٹن کی سہیلی اور گلیلیو کی سہاگن ’فزکس‘ نے تو میں نہیں مانت کہا۔ کنزرویٹو فورسز کا اصول ہے کہ ” دائرے میں ہونے والا کوئی کام، کام ہی نہیں ہے۔“
حالانکہ گول چکر میں بھاگ کر کسرت کی کثرت کی وجہ نازک اندام کی توڑ پھوڑ جہاں بندے کا بھرکس نکال دیتی ہے، وہاں صلہ یہ ملتا ہے کہ تم تو ویلے رہے۔ یہ ستم تو سائنس نے ڈھایا اور کیا کچھ نہیں کیا۔ (یہ وضاحت صرف اس لئے کہ سائنس کے متوالے مجھ پر مقدمہ نہ کر دیں۔ )
سب کچھ جہاں گول ہو، وہاں پر ہاتھ کچھ نہیں آ تا۔ کبھی نکلو صبح کی سیر پر جہاں سے شروعات لیتے ہو اس مقام پر پورا چکر کاٹ کر آ جانا، بیشک ٹریک کا راستہ میلوں پر محیط ہی کیوں نہ ہو۔ اگر جانچنے والا تمہیں، افتتاحی موڑ پر دیکھے گا تو کبھی نہیں مانے گا کہ تم پورا دائرہ گھوم آئے ہو۔
اچھا ٹھیک۔
آ گے سنو! زمین کے بارے میں تو سنا ہو گا، یہ بھی گول ہے یا بیضوی ہے۔ اگر یقین نہیں آ تا، کسی ایک سمت میں سفر شروع کرو اور چلتے جاؤ، دوبارہ وہیں نہ پہنچ جاؤ تو پھر ویکھ لینا۔ یہ بھی سائنس، اسی کی شاخ، وہی جغرافیہ کہتی ہے۔
یہ سب گول مول کے چکر ہیں۔ جس کی وجہ سے یہاں فول بھی ہوتے ہیں اور ہم لوگ فول بھی بن جاتے ہیں۔
اچھا تیقن پیدا نہیں کر سکے نا۔ مانتا ہوں، میری بات میں کجی رہی۔ جو آپ کو مطمئن نہیں کر سکا۔ گھڑی اور وقت پر تو اعتبار ہے نا!
کہیں ایسا نہ ہو گھڑی کی ٹک ٹک چلن پر بھی تشکیک ہو۔ ہر بڑے بندے سے سن رکھا ہے، گھڑی کی رفتار بہت تیز ہے۔ عربی میں تو کہا گیا، ”الوقت سیف قاطع“ ۔ اب میں فلسفہ تھوڑی نہ بیان کر رہا ہوں۔ اس سب میں حقیقت ہے، جس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
مگر یہ حقیقت ان سوئیوں کے سامنے بے بس ہے۔ پتا ہے کیوں دغا کھا جاتی ہے یہ حقیقت سوئیوں سے؟
اب تک نہیں سمجھے!
پھر وہی تکرار کرنی پڑتی ہے۔ ”یہاں بھی گول چکر ہے، جو ان سوئیوں کو چکرا رہا ہے۔“
سب کو اپنے پیچھے بھگاتا ہے۔ لیکن یہ سب وہی، اسی جگہ، کوئی منٹ بعد ، کوئی گھنٹے بعد اور کوئی دن بعد وہی آ جاتی ہیں۔
فرض کر لیں۔ ان کو اگر سیدھا آ گے چلنا ہوتا، تو ہم وقت کی رفتار بھی دیکھ لیتے، میری تو خوشی سی مارے باچھیں تک کھل جاتی، لو بھئی! میں تو وقت کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ اگر یہ سب ہونا ہوتا تو پھر آپ کو چکر کس نے دینا تھا؟
سمجھے نا!
’گول چکر نے‘ ۔
جہاں سب گول ہے، سب دائرے کے اسیر ہیں۔ کوئی کسی کا خدا نہیں، جہاں سب کا خدا بس ایک ہے۔ وہاں پر ہم اپنے سفینے کا نا خدا تو خود بن سکتے ہیں نا۔ پھر کیوں نہیں بنتے، ریخت کیوں مقدر بن جاتی ہے۔ بار بار وہیں پر اٹکنا۔ ہم، تم سب گول چکر ہیں، اور زندگی گول بھنور ہے۔ اسی طرح گول چکر، گول بھنور میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔
یہاں پر ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ گھڑی کی سوئیوں کا اختیار ہمیں نہیں تھا۔ پر اپنی زندگی کے مختار کل تو ہم ہی ہیں نا۔ پچکاری کر دیں اس کی۔ سب کچھ کھول دیں اور گول کو ایک سیدھ میں بنتے جائیں۔ پھر تو کام سہل ہے، اب زینہ بہ زینہ آ گے بڑھیں۔ پھر یہاں ہماری اپنی ایک سائنس ہوگی۔ وہ جس پر تجربہ اور مشاہدہ ہم نے کیا۔ وہ جو گول چکر تھا اس کو سیدھا کر کے اسی کو چکر دے دیا۔
پھر ہم اپنی تعمیری صلاحیت پر نازاں ہوں گے ۔ وہ گول چکر جس کو وقت جھٹلا نہیں سکا تھا۔ ہم نے پچھاڑ دیا۔ جس ’وقت کی شناوری‘ کا عینی شاہد ہم نہیں بن سکے تھے۔ اب وہ لمحہ آن پہنچا ہے کہ ہم تیر رہے ہیں اور وقت دیکھ رہا ہے۔ ہماری چاہ تھی وقت کو تیرتے دیکھنا، اب ہم سیدھا تیر رہے ہیں، وقت دیکھ رہا ہے۔
ہے نا گول چکر؟
کیا واقعی ایسا ہو گا۔ رجائیت مجھے یہ امید دلاتی ہے۔ ضرور ہو گا ایسا، مگر اس دائرے کے خود ساختہ شکنجے کو توڑنا پڑے گا۔ ہم توڑ لیں گے، پھر سب کو اپنے اپنے گول چکروں میں بندھا پڑا دیکھ لیں گے۔ جو سب کچھ کر سکنے کے باوجود بھی کچھ نہیں کر سکے ہیں۔
اس کو دیکھ کر کنزرویٹو فورسز کا سارا گول چکر سمجھ میں آ جائے گا۔ مگر اپنی زندگی کی کنزرویٹو سوچ (کچھ نہ کر سکنے کا ذہنی بوجھ) کو کیسے بدلنا پڑے گا؟ جو اس کو بدل لیتا ہے وہ پھر آ زاد ہو جاتا ہے۔ ہم نے بدل لیا اور ہم آزاد ہو گئے۔
سائنسدان تو کنزرویٹو فورسز کو جھٹلا نہیں سکتے، اس لئے گول چکر کے محتاج ہیں۔ مگر اپنی کنزرویٹو سوچ کو صرف بدل ہی نہیں نابود بھی ہم کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہم تو اپنی ذات کے لیے سائنسدان بننا پسند کریں گے۔ ہمیں کیا پڑی ایسی سائنس کی جو ہمیں گول چکر میں گھماتی رہے۔ چکر دیتی رہے۔ اشرف ہم ہیں، اعلیٰ ہم ہیں، ارفع بھی ہم، ہم کیوں زماں و مکاں کے قیود سے باہر نہ نکلیں؟
آ خر کیوں نہیں؟



Mashaa Allah Usama Bhai Bohot khoob