گھمنڈی
چادر میں چھپی ہوئی عورت کی آنکھیں اور چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ ایک خوبصورت اور نازک سی عورت ہے۔ مجھے یقین نہیں آیا کہ اس عورت نے قتل کیا ہے۔ یہ کیسے قتل کر سکتی ہے، وہ بھی کسی مرد کو ۔ اس کا شوہر اپنے دو بچوں کے ساتھ اسے جیل میں ملنے آیا تھا۔ دونوں بچوں کی عمر چار پانچ سالوں سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اس نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا، اتنی مامتا، اتنا پیار میں نے کبھی بھی کسی عورت کے چہرے پر نہیں دیکھا تھا۔ وہ ان دونوں بچوں نے اپنی ماں کو ایک طرح سے جکڑا ہوا تھا ماں کا پیار اور بچوں کی محبت کی اس تصویر نے میرا دل بوجھل کر دیا، یہ سوچ کر میرے آنسو نکل آئے کہ ان کو تھوڑی دیر میں جدا ہونا ہو گا۔
اس کی کہانی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں شروع ہوئی تھی جہاں ابھی تک زمیندار، سردار اور مسجد کے مولوی ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ وہی فیصلہ کرتے ہیں کہ لوگ کیسے زندگی گزاریں گے، کیسے رہیں گے، ان کے گھروں کے فیصلے گھر والے نہیں کرتے بلکہ وہ کرتے ہیں جو سب کچھ کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ کیونکہ سرکار ان
کی ہوتی ہے، وہ پولیس کو چلاتے ہیں، فوج ان کی حفاظت کرتی ہے، عدالت انہیں آزاد کر دیتی ہے۔ کہنے کو ملک آزاد ہو چکا ہے، یہاں جمہوریت بھی ہے، آئین بھی ہے مگر غریب نہ آزاد ہیں اور نہ ہی ان کے لیے کوئی آئین ہے اور نہ ہی قانون ان کا ساتھ دیتا ہے وہ شہر میں ہوں یا گاؤں میں، وہ کسان ہوں یا مزدور، ذلت ان کی قسمت ہے، غربت ان کا اثاثہ ہے، ان کے ساتھ کوئی بھی کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔ یہی ان کا مقدر ہے یہی ان کا نصیب بھی یہ صدیوں سے اس دھرتی پر رہ رہے ہیں ذلتوں کے مارے لوگ۔
وہ گاؤں سے تھوڑا دور چھوٹے سے اسکول میں پڑھنے جاتی تھی، اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیتوں کو پھلانگتے ہوئے، پرندوں کو اڑاتے ہوئے، پھولوں کو چنتے ہوئے، تتلیوں کو پکڑتے ہوئے، زندگی کتنی حسین تھی۔ غریب کسانوں کی اور ان کے بچوں کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے۔ سادہ مگر پرسکون صبر و قرار کے ساتھ جب تک وہ کسی طاقتور کے سامنے سے گزرتے نہیں ہیں۔ جب تک سر جھکا کر چلتے ہیں اپنا حق نہیں مانگتے، ان جونکوں سے جو ان کا ہی خون چوس چوس کر پروان چڑھتے ہیں۔
فاطمہ کی زندگی بھی مزے سے چل رہی تھی کہ ایک دن زمیندار کے بیٹے نے اسے دیکھ لیا تھا۔ آٹھویں کلاس میں پڑھنے والی چھوٹی سی بچی کو پتہ بھی نہیں ہوتا ہے کہ زمیندار اور زمیندار کے بیٹے میں کیا طاقت ہوتی ہے۔ وہ مالک ہوتے ہیں اپنے کھیت، مزدوروں کے، مزاروں کے، اپنے ہاری کے۔ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں، انہیں سب کچھ کرنے کی آزادی بھی ہوتی ہے۔ ان سے کوئی پوچھتا نہیں ہے، کوئی پوچھ سکتا نہیں ہے۔ بے چاری فاطمہ کو بھی یہ بات نہیں پتہ تھی۔
ایک دن وہ اسکول سے واپس آ رہی تھی کہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلتے کودتے ہوئے کہ اصغر سامنے آ گیا اور آ کر اسے پکڑا اور پکڑ کر بھینچ لیا تھا اپنے مضبوط بازوؤں میں۔ اس کی سہیلیاں ڈر کر رک گئی تھیں۔ اس نے اس کے گالوں اور ہونٹوں کو زبردستی چومنے کی کوشش کی مگر فاطمہ نے بڑی ہمت اور بڑے زور سے اس کے پیٹ پر اپنے پیروں سے حملہ کیا تھا اور زمین پر گر گئی تھی اور وہ بھی گر گیا تھا۔ اس نے اسی وقت اس کے منہ پر تھوک بھی دیا تھا۔
اصغر اٹھ کر اس کی طرف آیا اور اس کے منہ پر زوردار تھپڑ مارا تھا۔
گھمنڈی میں تیرا دماغ درست کردوں گا۔ دوسری لڑکیوں نے شور مچانا شروع کر دیا تھا۔ اصغر بہت تیزی سے بھاگتا ہوا اس پگڈنڈی سے اتر کر اپنے کھیتوں کی طرف چلا گیا تھا۔
لڑکیوں نے مل کر یہی فیصلہ کیا کہ وہ اپنے گھروں میں نہیں بتائیں گی کیونکہ اگر وہ بتائیں گی تو ان کا اسکول چھوٹ جائے گا۔ وہ ساری کی ساری لڑکیاں اسکول نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں۔ کوئی بھی خاندان زمیندار اور اس کے بیٹے سے جھگڑا نہیں کرے گا، کوئی بھی بچیوں پر یقین نہیں کرے گا، شاید یہی غلطی تھی جس کا خمیازہ فاطمہ کو بھگتنا پڑا۔
اصغر باضابطہ طور پر فاطمہ کا پیچھا کرنے لگا۔ اسکول سے آتے ہوئے، کبھی آگے کبھی پیچھے کبھی اسکوٹر پر تو کبھی سائیکل پر ۔ شروع شروع میں تو فاطمہ اس سے گھبرائی اور ڈرتی رہی مگر ایک دن اس نے اپنی سہیلیوں کے سامنے اسے بہت برا بھلا کہا۔ اصغر نے بھی اسے گالیاں دیں مگر نہ جانے کیسے اس آٹھویں جماعت کی چھوٹی سی بچی میں اتنی ہمت آ گئی تھی کہ وہ اصغر کو وہ سب کچھ کہہ بیٹھی جو اسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔ یہ اس کی دوسری غلطی تھی۔ اس نے اس سے ٹکرانے کی کوشش کی تھی۔
دوسری لڑکیوں کی موجودگی میں اصغر کچھ زیادہ نہ کہہ سکا اور نہ کر سکا لیکن یہ ضرور کہا کہ میں تمہارا سارا گھمنڈ توڑ دوں گا گھمنڈی۔ تو سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو ۔ ساری زندگی پچھتائے گی تو مجھے جانتی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ
اس وقت بھی فاطمہ نے اپنے گھر والوں کو کچھ نہیں بتایا، اسی خوف سے کہ اسکول چھوٹ جائے گا۔ اسے ہی برا بھلا کہا جائے گا۔ ہمارے سماج میں یہی ہوتا ہے۔ مائیں اپنے بچیوں کو یہی سکھاتی ہیں، وہ ایسے ہی پروان چڑھائی ہیں، انہیں اسی طرح سے بڑا کیا جاتا ہے۔ خاندان کا ڈر، سماج کا ڈر، شوہر کا ڈر، یہی ان کی زندگی ہوتی ہے۔ وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا ذکر نہیں کرتی ہیں، انہیں یہی سکھایا جاتا ہے خاموش رہنے کی تلقین، برداشت کرنے کی عادت۔ یہ اس کی تیسری غلطی تھی۔
پھر اس نے اس کا گھمنڈ توڑ دیا۔ یہ سب کچھ بہت جلدی ہوا تھا۔ اپنے تین دوستوں کے ساتھ اسکول سے واپسی میں ندی کے فوراً بعد جہاں اس کی زمین شروع ہوتی تھی جھپٹا مار کر اسے اٹھا کر لے گئے تھے وہ لوگ اور جھاڑیوں میں پکڑ کر اصغر نے اس کا بلاتکار کیا تھا۔ اس کی چھاتیوں کو نوچا تھا، اس کے منہ پر تھوکا تھا۔ اس کے جسم کو بھنبھوڑا تھا۔ اس نے اسے ہر طرح سے پامال کیا تھا اور اس کے دوست دیکھ دیکھ کر ہنستے رہے تھے
جا گھمنڈی اپنے باپ کو جا کر بتانا یہ سب کچھ میں نے کیا ہے۔
یہ سب کچھ ہونے کے بعد اس نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ بالکل خاموش ہو گئی تھی، چند سہیلیوں کے علاوہ کسی کو نہیں پتہ چلا کہ فاطمہ کو کیا ہو گیا ہے، سوائے اس کی ماں کے جس نے اس وقت چین کا سانس لیا تھا جب فاطمہ کی ماہواری نہیں رکی تھی۔ لیکن وہ گھر پر ہی رک گئی تھی۔ سہیلیوں، ماں باپ، بھائی بہنوں سبھوں کے کہنے کے باوجود اس نے اسکول کا رخ نہیں کیا۔ اس کا چہرہ اداس تھا لیکن دل میں جو غصہ تھا وہ کسی پر عیاں نہیں ہوا۔
وہ صبح سے شام تک اپنی ماں کے ساتھ کام کرتی رہی تھی، کھانا پکانا، صفائی کرنا، بھینس کا دودھ نکالنا، اپلے بنانا، کپڑے دھونا، اس نے اپنی ماں کا سارا کام سنبھال لیا تھا۔ کام کاج نمٹانے کے بعد وہ اکیلے اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے نہ جانے کیا سوچتی رہتی تھی۔ اس کی ماں کو لگا تھا کہ جیسے وہ یکایک بڑی ہو گئی ہے۔
عجیب بات یہ ہوئی تھی کہ اصغر بھی گاؤں چھوڑ کر شہر چلا گیا تھا۔ لاہور جہاں ان لوگوں کی کوٹھیاں تھیں۔ کہتے ہیں کہ اس کے زمیندار باپ کو پتہ چل گیا تھا کہ اس نے فاطمہ کے ساتھ کیا کیا ہے۔ گاؤں، دیہاتوں میں بعض لوگوں سے کچھ نہیں چھپا ہوتا ہے۔ زمیندار بھی ایسا ہی آدمی تھا۔ سمجھدار اور سیانا۔ اس نے تیاری کرلی تھی کہ اگر بات باہر آئی تو مسجد کے مولوی سے لے کر گاؤں کے جرگے تک ہر ایک نے وہی فیصلہ کرنا ہے جو وہ چاہے گا۔
وہ ایک بڑا زمیندار تھا۔ کی کئی ایکڑوں کا مالک۔ اس کا باپ بھی زمیندار تھا اور اس کا دادا بھی زمیندار۔ اس علاقے کے قانون وہ بناتے تھے، حکومت گورے کی تھی تو بھی کالوں کی آئی تو پھر بھی۔ سارے سیاستدان لوگوں کو دھوکہ دیتے رہے، کسانوں کو بہلاتے رہے کہ جب گورے چلے جائیں گے تو سب اچھا ہو جائے گا، انصاف ہو گا، غربت کا خاتمہ ہو گا، بچے اسکول جائیں گے مگر کچھ نہیں ہوا، نئے دستور وہی پرانے والے تھے۔ موہن جو ڈرو سے بھی پہلے کے جس میں غریب کے لیے کچھ نہیں تھا نہ مقام نہ ٹھکانہ۔
فاطمہ نے ماں کو قسم دے دی تھی اور خود خاموش ہو گئی تھی کہ ایسے میں اس کا رشتہ آ گیا ایک پولیس والے کا گاؤں کی مسجد کے امام کے توسط سے کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ اس رشتے کے پیچھے زمیندار ہے۔ زمیندار، سردار، جاگیردار، مولوی، امام سیانے ہوتے ہیں، انہیں پتہ ہوتا ہے کہ نظام کیسے چلاتے ہیں، مالکوں کو کیسے بچاتے ہیں۔ کبھی دھونس سے، کبھی ظلم سے اور کبھی سازش سے۔
فاطمہ کی شادی ہو گئی، جیسے غریب ماں باپ کے بچیوں کی شادی ہوجاتی ہے، کبھی خاموشی کے ساتھ، کبھی مجبوری سے، کبھی سازش سے۔
فاطمہ شادی کر کے اپنے شوہر کے گھر چلی گئی تھی۔ گاؤں میں کسی کو پتہ بھی نہیں تھا کہ کیا ہو چکا تھا۔ لوگ تو بھول جاتے ہیں، اس کی سہیلیاں بھی بھول گئی تھیں۔
اس کے شوہر اور بچوں کے جانے کے بعد میں اس سے ملنے چلا گیا تھا۔ جیل کا ڈاکٹر کسی سے کبھی بھی کسی بھی وقت ملنے جاسکتا ہے۔ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ آئی تھی۔ کیسی ہو تم، میں نے سوال کیا تھا۔
میں ٹھیک ہوں ڈاکٹر۔ اس نے اداس لہجے میں کہا تھا۔
تمہارے بچے بہت خوبصورت ہیں۔ مجھے بہت اچھا لگا انہیں تمہارے ساتھ دیکھ کر وہ سب بہت خوش تھے، مجھے بھی خوشی ہوئی۔ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
میرا آدمی میرے بچے سب ہی اچھے ہیں۔ اس نے اسی لہجے میں جواب دیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں تاروں جیسی جھلملاہٹ کودی تھی۔
میں ڈاکٹر ہوں یہاں پر کوئی تکلیف کوئی بیماری ہو تو مجھے بتانا۔ میں نے دوبارہ سے کہا تھا۔
نہیں ڈاکٹر کوئی تکلیف نہیں ہے، سب اچھا ہے جیسا جیل میں ہونا چاہیے مجھے کوئی بیماری نہیں ہے۔ بس بچے یاد آتے ہیں لیکن کوئی بات نہیں میرا آدمی اچھا آدمی ہے، وہ ان کا خیال رکھے گا۔ اس نے آہستہ آہستہ میرے جواب میں کہا تھا۔
میں جیلر کو کہہ دوں گا جب بھی تمہارے بچے آئیں گے تمہیں زیادہ وقت دیا جائے گا، جیلر اچھا آدمی ہے۔ میں نے اسے یقین دہانی کرائی تھی۔
سر قتل کا مقدمہ ہے آپ جانتے ہیں اب زندگی شاید جیل میں ہی گزارنی پڑ جائے یا پھر پھانسی کے پھندے سے لٹکنا پڑے۔ اس نے بڑے سکون سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
میں نے اسے حیرت سے دیکھا قتل کے ملزم اور وہ بھی ایک عورت کو ، میں نے کبھی بھی اتنا پرسکون نہیں دیکھا تھا۔ اس وقت وہ مجھے بہت اچھی لگی تھی۔ میں دل ہی دل میں اس کی خوداعتمادی اور بات کرنے کے انداز سے بہت متاثر ہوا تھا۔ تم نے قتل کیوں کیا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی۔ میں یہ سوال کرنے سے اپنے آپ کو نہیں روک سکا تھا۔
یہ تو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ میں اسے بھولی نہیں تھی۔ نہ وہ دن جب اس نے میرا بلاد کار کیا تھا اور نہ اس کا جملہ ”گھمنڈ نکال دوں گا گھمنڈی اپنے باپ کو کہنا یہ میں نے کیا ہے، یہ سب کچھ“ یہ سب کچھ، یہ کہہ کر اس نے میرے منہ پر تھوک دیا تھا۔ اس کا وہ لفظ میرے دماغ سے نہیں نکلا، اس کے تھوک کے چھینٹے میرے چہرے پر جم گئے۔
اس نے مجھے گھمنڈی کہا تھا، صحیح کہا تھا، اس نے اسی لہجے میں میری طرف دیکھتے ہوئے دوبارہ جواب دیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر ایک اطمینان کا بادل سا چھا گیا تھا۔
اس دن اس کے شوہر نے اسے بتایا تھا کہ گھر پر مہمان آرہے ہیں۔ وہ جلدی میں ہوں گے، چائے شائے پی کے جائیں گے۔ اس نے مہمان کے آنے سے پہلے ساری تیاری کرلی تھی۔ سموسے، چھولے، دہی بڑے، پکوڑے بنا کر تیار کر لیے تھے۔ پھر مہمان بھی آ گئے تھے۔ مہمان کے آنے کے بعد اس نے دروازے کی جھری سے دیکھا تو پھر اس کے اختیار میں کچھ نہیں رہا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں گئی، الماری سے شوہر کی گولیاں بھری ہوئی پستول نکالی اور دروازہ کھول کر اس کے سینے میں تین گولیاں اتار دی تھیں۔ اس کا شوہر دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔ اصغر سن چہرے سے اسے دیکھتا ہوا زمین پر گر گیا تھا۔
وہ اس کے قریب گئی، زور سے پکارا تھا ”پہچان لیا مجھے میں ہوں وہی ہوں گھمنڈی۔“ یہ کہہ کر اس نے میری طرف دیکھا تھا پھر بولی تھی۔ ڈاکٹر صاحب دیکھ لو میرے چہرے پر جما ہوا تھوک بھی بہہ گیا ہے۔


