ماہ فروری میں الیکشن کا انعقاد اور سرد علاقوں کے مسائل


الیکشن کمیشن کی جانب سے 8 فروری کے دن عام انتخابات کے اعلان کے بعد یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بلوچستان کے سرد علاقوں میں ٹرن آؤٹ انتہائی کم ہی رہ سکتا ہے۔

اگرچہ بلوچستان میں ہمیشہ ٹرن آؤٹ کم ہی رہا ہے۔ چونکہ بلوچستان پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔ دور دراز پہاڑوں کے رہنے والے اکثر ووٹ جیسے حق رائے دہی سے محروم رہتے یا محروم رکھے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ دشوار ترین راستے، آ گا ہی کی کمی بلکہ اور شناختی کارڈ تک کی عدم موجودگی کو بھی گردانا جاتا ہے۔ بہرکیف ان تمام عوامل ہر۔ الیکشن میں رہتے ہیں تاہم اس بار موسم سرما میں الیکشن کا انعقاد ٹرن آؤٹ پر زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کا ٹرن آؤٹ 58.3 فیصد سندھ 47۔ 6 کے پی کے 45.5 فیصد جبکہ بلوچستان اسمبلی کا ٹرن آؤٹ 45.3 فیصد رہا جو کہ تمام صوبوں سے کم ٹرن آؤٹ تھا۔ جبکہ گزشتہ دو عام انتخابات کو اگر دیکھا جائے تو وہ مئی اور جون میں ہو گئے ہیں جو کہ سرد علاقوں کے لیے موزوں موسم ہوتا ہے۔

چمن، پشین، لورالائی، قلات اور سوراب میں تین ماہ دسمبر، جنوری، فروری کو تو گھروں سے باہر نکلنا ہی مشکل بن جاتا ہے چہ جائیکہ کہ کوئی الیکشن مہم چلا سکیں یا پھر پہاڑی علاقوں کے لوگ ووٹ دینے آ سکیں، ان علاقوں میں گزشتہ سال ماہ فروری کو برف باری بھی ہوئی اور منفی دو تین اور چار تک درجہ حرارت پہنچی

اس کے علاوہ موسم میں بلوچستان کے بہت سے لوگ کراچی اور اندرون سندھ کا رخ کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، اور مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری کا بھی بیان آیا تھا کہ 8 فروری میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سخت سردی ہوتی ہے۔ ان کے ووٹ بینک متاثر ہوں گے۔

کراچی گلشن معمار میں رہائش پذیر میر نواب مینگل کا آبائی علاقہ سوراب ہے۔ ان کے مطابق وہ اور ان کے آٹھ سو کے قریب عزیز و اقارب کراچی میں ہیں۔ ہر الیکشن میں ہم مل کر انتظامات کرتے ہیں اور ووٹ دینے کے لیے آبائی علاقہ کا رخ کرتے ہیں، ہم عزیز و اقارب مختلف سوچ کے حامل اور الگ پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ووٹ جیسے فریضہ کے لیے ایک ساتھ بڑے اہتمام کے ساتھ جاتے ہیں، مگر ہمارا آبائی علاقہ ان شہروں میں شمار ہوتا ہے کہ جہاں سردی کی بنا معمولات زندگی جام رہتا ہے، ہم تو سردیوں میں آبادی علاقے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس بار الیکشن سردیوں میں انعقاد ہمیں ووٹ جیسے قومی فریضہ سے محروم کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے جب سابق ایم این اے قلات مولانا محمود شاہ سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ماہ فروری میں قلات میں سخت سردی ہوتی ہے تو قلات میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلاتا ہے۔ عام طور پر فروری میں منفی چار پانچ کو پہنچ جاتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں فروری کا میں درجہ حرارت منفی تین تک پہنچ گئی تھی۔ اس لیے قلات، خضدار، مستونگ، سوراب میں موسم سرما کی تعطیلات دسمبر سے مارچ ہوتی ہیں جس کے بعد لوگ کراچی و دیگر گرم شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق پانچ سے لاکھ لوگ سردیوں میں چلے جاتے ہیں۔ باقی ماندہ لوگ گھروں سے باہر سے بھی نہیں نکلتے اسی صورتحال میں ووٹرز کو نکالنا انتہائی مشکل امر ہو گا۔

خضدار سٹی سے منتخب سابق ایم پی اے میر یونس عزیز زہری کا کہنا تھا کہ خضدار میں بھی کافی سردی ہوتی ہے۔ ماہ فروری میں آندھی اور تیز ہوائیں بھی چلتی ہیں۔

دس لاکھ آبادی پر مشتمل لوگوں میں سے اکثر سندھ، کراچی، تربت چلے جاتے ہیں۔
سردی کی وجہ سے ہمارے ووٹ بینک شدید متاثر ہوں گے۔

خضدار پی بی 20 وڈھ سے منتخب سابق ایم پی اے میر اکبر مینگل کا کہنا ہے کہ اس بار پارٹی کی جانب سے بی پی 20 سے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کے کاغذات نامزدگی جمع ہوئے ہیں۔ ہمارا حلقہ اکثر وہ علاقے ہیں جہاں چارو طرف پہاڑیاں ہی پہاڑیاں ہیں جہاں سردی کی شدت بہ نسبت شہر کے زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان علاقوں کے ہمارے ووٹرز کے لیے مشکلات زیادہ ہوں گے۔

ہم چاہتے ہیں کہ ٹرن آؤٹ زیادہ رہے، ہر ایک رائے دہی میں شامل ہو تاکہ واضح ہو جائے کہ عوام کی بھاری اکثریت کس کے ساتھ ہیں اور بلوچستان کے عوام کس پارٹی اور کس منشور کو پسند کرتے ہیں یہ الیکشن کے دن ووٹرز کی رائے سے معلوم ہو سکے گا لہذا اس کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری سطح پر انتظامات ہو تاکہ دشوار ترین علاقوں کے لوگ اس عمل میں شریک ہو سکے اگر وسیع پیمانے انتظام نہیں ہوا تو سردی کی بنا ووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہوں گے۔ اگرچہ ہم اپنے طور پر کوشاں ہیں کہ اس دن سواریوں کا انتظام کریں کہ اپنے اپنے لوگوں کو الیکشن کے عمل میں حصہ دار بنائیں لیکن مقامی انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ سردی سمیت دیگر عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے اقدامات کریں۔

ڈپٹی کمشنر خضدار، محمد عارف زرکون کا کہنا تھا کہ سردی کے پیش نظر پولنگ اسٹیشنز بڑھا رہے ہیں اور کوشش ہے کہ ہر علاقہ میں آبادی کے درمیان پولنگ اسٹیشن ہوتا کہ سردی میں ووٹ دینے کی دقت نہ ہو۔

Facebook Comments HS