379 جاپانی مسافر جلتے جہاز سے زندہ کیسے نکل آئے؟


کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر بالکل سامنے موت نظر آ رہی ہو تو آپ کیا کریں گے؟ اس موقع پر آپ صرف چیخیں چلائیں گے، بالکل منجمد ہو کر رہ جائیں گے یا دماغ استعمال کر کے بچنے کی کوئی ترکیب بھی نکالیں گے؟ اگر آپ ایسی صورت حال سے ابھی تک نہیں گزرے تو خدا کا شکر ادا کریں لیکن یاد رکھیں کہ ایسے موقع پر ہوش و حواس قائم رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے اور برا وقت تو ویسے بھی بتا کر نہیں آتا۔

ایک مرتبہ پرواز سے واپسی پر رات کے وقت کمپنی کی وین میں گھر جاتے ہوئے ایک تیز رفتار کار نے وین کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ ہماری وین گھومتی ہوئی سڑک کے اس پار پہنچ گئی جہاں ایک گھر زیر تعمیر تھا اور اس عمارت میں سے نکلے سریے ہماری راہ دیکھ رہے تھے۔ ڈرائیور مشاق تھا، بجائے ہاتھ پاؤں چھوڑ دینے کے اس نے وین کو قابو کرنے کی کوشش جاری رکھی اور حفاظتی بند ہم نے باندھ رکھے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ کچھ فاصلے پر وین رک گئی اور ہم سریوں سے بغل گیر ہونے سے بچ گئے۔ ایسے موقع پر تربیت کام آئی اور ہم وین سے فوراً باہر نکل آئے۔ ڈرائیور کی حاضر دماغی نے سب کو بچا لیا۔

کسی طرح کی بھی ہنگامی صورت حال میں خود کیسے بچنا ہے اور ساتھ میں دوسروں کو کیسے بچانا ہے، یہ دنیا کے تمام فضائی میزبانوں کی تربیت کا بنیادی سبق اور مقصد ہوتا ہے۔ تمام تربیتی مراحل میں سب سے زیادہ اہم اور مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب کسی بھی جہاز کے صرف 50 فیصد دروازوں سے ( مکمل بھرے ہوئے جہاز کے ) تمام مسافروں کو 90 سیکنڈ کے اندر جہاز سے باہر نکالنا ہوتا ہے۔

اس مرحلے کا بہترین مظاہرہ 2 جنوری کو دیکھنے میں آیا جب جاپان ائر لائن کے جلتے ہوئے طیارے سے تمام 379 مسافروں کو فضائی عملے نے با حفاظت باہر نکال لیا۔ صرف کچھ مسافر زخمی ہوئے لیکن ان کو لگنے والی چوٹیں جان لیوا نہیں تھیں۔ جاپان ائر لائن کے فضائی عملے کی جانب سے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا یہ بہترین مظاہرہ تھا اور ایوی ایشن کی دنیا میں اسے ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔

2 جنوری کو ٹوکیو شہر کے ہانیدا ہوائی اڈے پر لینڈ کرتے ہوئے جاپان ائر لائن کا مسافر بردار ائر بس اے۔ 350 طیارہ رن وے پر کھڑے کوسٹ گارڈ کے طیارے کے ساتھ ٹکرا گیا جو امدادی سامان لے کر روانہ ہونے والا تھا۔ ایسا کیوں ہوا، اس کی تحقیق جاری ہے لیکن جہاز کے کپتان نے کمال مہارت سے جہاز کو قابو کیا اور فضائی عملے نے مسافروں کو جہاز سے نکلنے میں مدد کی۔

جان بچانے کے اس عمل میں جتنا کردار فضائی عملے کا ہوتا ہے، تقریباً اتنی ہی ذمہ داری جہاز میں بیٹھے ہوئے مسافروں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس پرواز پر پیدا ہونے والی ہنگامی صورت حال کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ آپ جاپانی لوگوں کا صبر اور عملے پر اعتماد دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی چیخ و پکار نہیں مچ رہی اور لوگ جہاز کے رک جانے اور اس کے بعد عملے کے احکامات کے منتظر ہیں۔

سب سے بڑی بات جس پر بہ طور سابقہ فضائی میزبان مجھے شدید حیرت ہوئی کہ کسی مسافر نے اپنے سامان کو ہاتھ لگانا تو کیا سامان رکھنے والے بالائی خانوں تک کو نہیں کھولا۔ ہنگامی صورت حال میں مسافروں کا سامان انہی کی جان بچانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ سامان ساتھ لے جانے کی صورت میں جہاز کے دروازے سے منسلک ربڑ کی سلائیڈ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور وہ پھٹ بھی سکتی ہے۔ ایسی صورت میں مسافروں کی جان بچانے کا عمل سست ہو جاتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

مجھے گزشتہ رات یہ سوچ سوچ کر نیند نہیں آئی کہ خاکم بدہن اگر یہ ہنگامی حالات جاپان کے بجائے کسی دیسی ائر لائن میں پیدا ہو جاتے تو کیا ہوتا۔ لوگ سامان نکالنے کی کوشش کرتے۔ جہاز کی راہداری میں بیگ اور بریف کیس پھنسے ہوتے۔ عملہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا کہ سامان چھوڑ دیں اور اس دروازے سے باہر نکلیں لیکن ان کی کون سنتا؟ کیا ہمارے مسافر وہ سامان چھوڑ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے جسے وہ جان سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں؟

ان سوالوں کا جواب تو آپ بھی جانتے ہیں لیکن میں جاپانی عوام کے صبر و تحمل اور خاص کر ان کی تربیت بہ حیثیت قوم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے بھگدڑ مچانے کے بجائے سکون سے کام لیا اور تمام مسافروں کی جان بچ گئی۔ پس ثابت ہوا جہاز پر ہنگامی صورت حال پیدا ہو جانے پر اپنے جہاز کے عملے پر یقین رکھیں۔ فضائی عملہ اصل میں آپ کو بریانیاں کھلانے کے لیے نہیں بلکہ آپ کی حفاظت اور مشکل وقت میں آپ کی جان بچانے کے لیے موجود ہوتا ہے۔

خاور جمال

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

خاور جمال

خاور جمال پیشے کے اعتبار سے فضائی میزبان ہیں اور اپنی ائیر لائن کے بارے میں کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کوئی بات کرے تو لڑنے بھڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں

khawar-jamal has 40 posts and counting.See all posts by khawar-jamal

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments