ضلع کشمور کے بیس ہزار سے زائد اقلیتی برادری سیاسی پارٹیوں سے نالاں


اقلیتی برادری کو آنے والے عام انتخابات میں سیاسی جماعتیں صرف ووٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ پارٹیوں میں شامل سینئرز رہنماؤں کو اقلیتی سمجھ کر انہیں کسی خاص عہدے پر آنا گوارا سمجھتی ہیں، اسی لیے ضلع کی سیاسی، کاروباری ہندو اور باگڑی برادری کے رہنماؤں نے سیاسی جماعتوں سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سندھ میں مقیم ہندو کہتے ہیں کہ بیس سالوں سے ایک ہی سیاسی جماعت اسمبلی کی خصوصی نشست نہیں دی ہے، اگر الیکشن میں حصہ لیتے ہیں، تو ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے یا پھر ملک بدر کیا جاتا ہے، ان کے مطالبات ہیں کہ انہیں اسمبلی کی خصوصی نشست دی جائے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان میں کل رجسٹرڈ ووٹرز 12 کروڑ 21 لاکھ، 96 ہزار 122 ہے۔ اقلیتی ووٹرز کی تعداد 39 لاکھ، 56 ہزار 336۔ جن میں ہندو ووٹرز کی تعداد 2073983 کرسچن ووٹرز کی تعداد 1703288 دیگر اقلیتی ووٹرز 174165 ہے۔

سندھ کے دریا کے کنارے پر واقع ضلع کشمور تین تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ ان تحصیلوں میں کشمور، کندھ کوٹ، اور تحصیل تنگوانی شامل ہے۔

اس ضلع کی آبادی ادارہ شماریات کے مطابق سال 2023 کی ڈیجیٹل سینسز میں 12 لاکھ 33 ہزار 957، اور ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 94 ہزار 642 ہے۔ سب سے زیادہ کاروباری افراد میں ہندو اقلیتوں کا اثر و رسوخ قائم ہے۔

اقلیتوں کے ووٹرز کا تعداد حالیہ مردم شماری اپنی شناخت تنظیم کے رہنما اعظم معراج کی معلومات کے مطابق ضلع کشمور سال 2023 کے مطابق اقلیتوں کے ووٹرز کی اعداد و شمار 23 ہزار 471 ہے۔

اعظم معراج کے مطابق کندھ کوٹ تحصیل میں مسیحی ووٹرز 19، قادیانی 2، ہندو 13793، سکھ 60، بدھ 4 ہیں۔

تحصیل کشمور مسیحی ووٹرز 51، احمدی 5، ہندو 5752، پارسی ایک، سکھ 49، بدھسٹ 8 ہیں۔ تحصیل تنگوانی مسیحی ووٹرز 4، احمدی 2، ہندو 3695، سکھ 15 بدھسٹ 6 ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار تحریک شناخت نے شعیب سڈل کمیشن سے خط و خطابت کر کے حاصل کیے ہیں۔
اس طرح ضلع کشمور میں ہندووں کے ووٹرز کی مجموعی تعداد 23471 ہیں۔

کاروباری سطح میں یہاں زراعت کا بڑا کاروبار ہوتا ہے۔ ہر موسم میں گندم اور چاول کا وسیع کاروبار کے لیے ایشیاء کے دوسری نمبر اناج منڈی کندھ کوٹ میں واقع ہے۔

اناج منڈی کے اکثریت میں بیوپاری ہندو برادری کے ہیں، جہاں سیزن کی موسم میں چاولوں کی خرید فروخت کے لیے چار گودام ہیں۔

اناج منڈی کے صدر سیٹھ نند لال نے بتایا کہ چاول کی سیزن میں ایک گودام کا بیوپاری ایک دن میں دو کروڑ تک خریداری کرتا ہے، اسی طرح چار گودام کے اربوں روپے خریداری کی جاتی ہے۔ نند لال نے کہا کہ سالوں سے یہاں مقیم ہیں۔ ہمیشہ علاقائی عوامی نمائندگان کو ووٹ بھی اور سپورٹ بھی کرتے ہیں۔ مگر کسی پارٹی نے آج تک یہ آفر نہیں دی کہ آپ اقلیتوں کو کسی نشست سے امیدوار کے طور کھڑا کیا جائے۔ ہمیں اقلیتوں کی وجہ سے کم تر محسوس کرایا جاتا ہے۔

رائیس مل کے صدر مرلی داس نے کہا کہ ہندو برادری نے 1980 سے بھٹو صاحب دور حکومت سے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنے سرداروں کو اہمیت دی ہے۔ ان کے رہنماؤں نے ہمیں ہندو کہہ کر پارٹی میں نا شمولیت کے حامل سمجھتے ہیں اور نا ہی کسی خصوصی نشست کے لیے کوئی حکم نامہ جاری کیا ہے۔ یہاں ہمیشہ بجارانی، سندرانی، مزاری گروپس نے راج کیا ہے۔ کیوں کہ وہ اثر رسوخ میں سردار ہیں۔ ہمیں احساس یہ دلاتے ہیں، کہ الیکشن کے دوراں صرف ووٹ دیں۔ اگر کوئی ان کے سامنے کھڑا آ گیا تو پورے خاندان کے لیے شامت آ جائی گی، اس لیے ہم خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

سال الیکشن 2024 میں بھی وہی مورثی سیاست دان امیدوار ہیں۔

الیکشن پروسیجر کے حوالے سے اقلیتوں میں ایک باگڑی برادری بھی ہے۔ باگڑی برادری کا حلقہ این اے 191 اور این اے 192 میں بڑا ووٹ بینک ہے۔

ایڈوکیٹ فقیر گوکل داس باگڑی برادری کا رہنما ہے، انہوں نے کہا کہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کا تحصیل کندھ کوٹ مینارٹی ونگ کا نائب صدر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے سوائے ووٹ کے حصول کے علاوہ اہمیت نہیں دی ہے۔ نا کوئی وعدہ وفا کیا ہے، پھر بھی کیا کریں اگر یہاں رہنا ہے، تو ہمیں انہیں امیدواران کو ووٹ دینا پڑے گا۔ ورنہ یہ لوگ ہمیں شہر تو کیا ملک بدر کرتے ہیں۔

مینارٹیز کے حوالے سے سابقہ صوبائی وزیر اور این اے 192 پیپلز پارٹی کے امیدوار میر شبیر علی خان بجارانی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کیا ہے۔ ماضی میں مندروں کے تحفظات کے حوالے سے سیکیورٹی انتظامات کر کے مندروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ میرے خیال میں پارٹی چیرمین کو اقلیتوں کی خصوصی نشستوں پر غور کرنا چاہیے کیوں کہ یہ بھی ایک ہی ملک کے ہیں۔ ان کا پورا حق بنتا ہے اپنے حقوق کے حصول کے لیے اسمبلیوں کا حصہ بنیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

”ایڈوکیٹ عبدالغنی بجارانی“ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے قومی اسمبلی دس اور آرٹیکل 106 کے تحت صوبوں میں 24 سیٹیں مختص ہیں، جن کی تقسیم کچھ یوں ہے۔

سندھ 9، پنجاب، 8، بلوچستان 3، خیبر پختونخوا 4، سینٹ 4، مختص ہیں۔

سنتوش اگروال کا کہنا ہے کہ ہندو برادری کا اگر کوئی بھی شخص الیکشن میں حصہ لیتا ہے تو اسے یا تو ڈاکووں سے اغوا کروایا جاتا ہے، یا پھر اسے انڈیا جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ضلع کے افسران بھی عوامی نمائندگان کے رکھے ہوتے ہیں۔ ہم اگر کسی سے معاشی صورت حال پر بات کرتے ہیں تو انہیں مختلف طریقوں سے دھمکایا جاتا ہے۔ اغوا کر کے بدامنی پھیلائی جاتی ہے۔ مجبور ہو کر اقلیتی انڈیا ہجرت کر کے چلے گئے ہیں یہی صورت رہی تو ایک دن ہم بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ڈاکٹر میھر چند، سینئیر رہنما پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ میں نے پارٹی کو ہر بار خصوصی نشست کے لیے اپلائی کیا ہے مگر کوئی رنسپانس نہیں مل سکی ہے۔ کشمور سے مکیش چاولا پارٹی کا چہیتا ہونے کے باعث اسی خصوصی سیٹ ملتی رہتی ہے۔ پارٹی نے باقی ورکرز کو کبھی اقلیتوں کے لیے مدھر پارٹی کے ضلع کی نمائندگی بھی دینا گوارا کرتے تو اسمبلی کی سیٹ کیسے دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بھی مختصر ناراضگی کا اظہار کیا۔

ترجمان پیپلز پارٹی سندھ نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی واحد جماعت ہے، جس نے ہمیشہ اقلیتوں کو جنرل نشست کے لیے خواتین زیادہ اہمیت دی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں ایسا ہر گز نہیں ہوا ہے۔ جہاں تک کشمور ضلعی کی بات ہے تو وہاں سے کبھی ایسی کوئی درخواست پارٹی کو موصول نہیں ہوئی ہے۔ وہاں سے مکیش چاولا کو جنرل نشست دی جاتی ہے۔

سیاست میں جتنا میجارٹی کا حق ہے اتنا ہی مینارٹیز کا پورا حق بنتا ہے۔ اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مینارٹیز کی خصوصی نشستوں کے لیے دلچسپی کا اظہار کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS